دہلی: پولیس نے جنرل نرونے کی کتاب کی پی ڈی ایف کاپی ’لیک کیے جانے‘ کے معاملے میں تحقیقات شروع کی

دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب 'فور اسٹارز آف ڈیسٹنی' کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کے سرکولیشن کے معاملے میں جانچ شروع کی ہے۔ پولیس نے بتایا کہ اس مبینہ لیک کی گہرائی سے جانچ کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

پس منظر میں جنرل ایم ایم نرونے کی خودنوشت کے ٹائپ سیٹ کا اسکرین شاٹ ، جس میں کتاب اور جنرل نرونے کے لیے دیے گئے ‘بلرب’ (تقریظ) بھی نظر آ رہے  ہیں۔ پیش منظر، تحقیقات کے تحت علاقے کو گھیرنے کے لیے دہلی پولیس کے ذریعے استعمال کی گئی بیریکیڈنگ ٹیپ۔ (فوٹو: پی ٹی آئی اور اسپیشل ارینجمنٹ)

نئی دہلی: دہلی پولیس نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی ‘غیرمطبوعہ’ کتاب’فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کی پی ڈی ایف کاپی کےسرکولیشن کے معاملے میں باقاعدہ جانچ شروع کی ہے۔

ہندوستاں ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، پولیس کا کہنا ہے کہ یہ سافٹ کاپی کتاب کے پبلشرپینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کے ذریعےتیار کیا گیا ٹائپ سیٹ ایڈیشن معلوم ہوتی ہے۔

اخبار کے مطابق، پولیس کے ایک ترجمان نے کہا،’دہلی پولیس نے مختلف آن لائن سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور نیوز فورم پر دستیاب اس جانکاری کا نوٹس لیا ہے ،جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کتاب فور اسٹارز آف ڈیسٹنی کی پری-پرنٹ کاپی تقسیم کی جا رہی ہے۔’

ترجمان نے مزید کہا،’اب تک منظور نہیں کیے گئےکسی پبلشنگ مواد کی اس مبینہ لیک/ خلاف ورزی کی گہرائی سے تحقیقات کے لیے اسپیشل سیل میں معاملہ درج کیا گیا ہے اور تفتیش شروع کی گئی ہے۔ تاہم، پولیس ترجمان اور میڈیا رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا ہےکہ اس معاملے میں قانون کی کن دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔

دی کارواں میگزین میں شائع ایک مضمون میں 2020 کے مشرقی لداخ سرحدی بحران کے دوران سیاسی اور عسکری فیصلوں کی تفصیلات دیےجانے کے بعد، جو جنرل نرونے کی کتاب پر مبنی تھی، یہ کتاب اس ماہ سرخیوں میں آ گئی تھی۔ اس کے بعد جب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں کے حوالے سے اس غیر مطبوعہ کتاب کے ایک حصے کا ذکر کرنے کی کوشش کی، تو حکومت کے اراکین اور اسپیکر نے انہیں روک دیا۔

اس کے بعد کتاب کی پی ڈی ایف کاپی وہاٹس ایپ اور دیگر آن لائن میسجنگ پلیٹ فارمز پرشیئر ہونے لگی،خصوصی طور پر ریٹائرڈ اور ان -سروس فوجی اہلکاروں  کے درمیان ۔

جنوری 2024 میں دی وائر کو بھیجے گئے ایک ای میل میں پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا کی پبلشر ملی ایشوریہ نے کہا تھا ،’ہم اپنی تمام کتابوں کا محتاط جائزہ لیتے ہیں تاکہ مواد کے معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس عمل کی وجہ سے پبلشنگ کی ٹائم لائن متاثر ہو سکتی ہے۔ادارتی عمل کے تحت، ہم جنرل ایم ایم نرونے کی کتاب  2024 میں شائع کرنے والے ہیں اور اس ٹائم لائن کو پورا کرنے کی سمت میں  کام کر رہے ہیں۔’

اب پبلشر نے ایک بیان جاری کر تے ہوئے لیک سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ حالاں کہ ٹائپ اسکرپٹ کی حقیقت سے انکار نہیں کیا گیا ہے۔ بیان میں پینگوئن نے واضح کیا کہ کتاب اب تک شائع نہیں ہوئی  ہےاور نہ ہی اسے عوامی طور پر دستیاب کرایاگیا ہے۔ لیکن بیان میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 2023 میں کن اداروں یا افراد کو یہ کتاب دی گئی تھی، چاہے وہ بلرب (تقریظ)کے لیے ہوں یا پروموشن اور میڈیا کوریج کے لیے۔

منظوری حاصل کرنا پبلشرکا کام: جنرل نرونے

اکتوبر 2025 میں ہماچل پردیش کے کسولی لٹریچر فیسٹیول میں جب جنرل نرونے سے کتاب کی صورتحال کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا،’میرا کام کتاب لکھنا اور اسے پبلشرز کو سپردکرنا تھا۔ منظوری حاصل کرنا پبلشر کا کام ہے، جسے انہوں نے وزارت دفاع کو سونپ دیا ہے اور یہ ابھی جائزہ کے عمل میں ہے۔’ان کے مطابق، اس وقت تک کتاب ‘ایک سال سے زائد عرصے سے’ جائزہ  کے عمل میں تھی ۔

انہوں نے مزید کہا،’اب یہ میرے ہاتھ میں نہیں ہے، میرے لیے فالو اپ کرنا ممکن نہیں ہے۔ گیند ناشر اور وزارت دفاع کے کورٹ میں ہے۔ لیکن مجھے کتاب لکھنے میں بہت مزہ آیا، اچھا ہو یا برا، یہی سچ ہے۔ منظوری دینا وزارت دفاع کا کام ہے، جب  وہ مناسب سمجھیں ۔’

انہوں نے ناظرین کے سامنے یہ بھی تصدیق کی کہ کتاب کا مواد انہی  کا لکھا ہوا ہے۔ اس سے قبل،جنوری 2024 میں کتاب کی آخری ریلیز کی تاریخ کے بارے میں پوچھے جانے پرانہوں نے دی وائر کو کہا تھا کہ یہ سوال ‘پبلشرز سے پوچھیے۔’

پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے 2023 کے اواخر میں پری-آرڈر اور پروموشن کے دوران بتایا تھا کہ کتاب اپریل 2024 میں شائع کی جانی تھی۔ یہ امیزون انڈیا اور فلپ کارٹ پر پری -آرڈر کے لیے دستیاب تھی، لیکن کچھ ہفتوں بعد پلیٹ فارمز نے صارفین کو پیسے واپس کر دیے تھے۔ اس ہفتے کے شروع تک لسٹنگ میں لکھا تھا،’فی الحال دستیاب نہیں ہے۔’ ہمیں نہیں پتہ کہ یہ مواد دوبارہ اسٹاک میں آئے گا یا نہیں۔’

ای-کامرس سائٹس پر کتاب کی تفصیلات میں بتایا گیا  تھاکہ اس میں 448 صفحات ہیں۔ تفصیلات میں لکھا گیا تھا، ‘سکم میں ایک نوجوان افسر کے طور پر چینیوں سے پہلی مڈبھیڑ سے لے کر آرمی چیف کے طور پر  گلوان میں ان سے نمٹنے تک، ایل سی پر روزانہ ہونے والی گولہ باری سے لے کر پاکستان کے ساتھ جنگ ​​بندی کو نافذ کرنے تک، جنرل نرونے ہمیں چار دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط اپنے فوجی کیریئر کے سفر پر لے جاتے ہیں، جس میں انہوں نے ملک کے ہر گوشے میں خدمات انجام دیں۔’

کتاب کا آئی ایس بی این (انٹرنیشنل اسٹینڈرڈ بک نمبر) 9780670099757 ہے۔ آئی ایس بی این 13 ہندسوں کا ایک منفرد نمبر ہے، جو ہر کتاب کو منفرد شناخت  عطاکرتا ہے اور اسے قومی آئی ایس بی این ایجنسیاں جاری کرتی ہیں ہے۔ آئی ایس بی این-13والی ہر کتاب بکس ان  پرنٹ، ورلڈ کیٹ اور گوگل بکس جیسے عالمی ڈیٹا بیس میں درج ہوتی ہے، ایک بار جاری ہونے کے بعدآئی ایس بی این مستقل طور پر اس کتاب کے مخصوص ایڈیشن اور فارمیٹ سے منسلک ہو جاتا ہے۔

راجہ موہن، نتن گوکھلے اور جنرل وی پی ملک کا لکھا ہوا بلرب

حکومتی رکاوٹوں سے پہلےکتاب کو معاصر ہندوستان پر ایک سرفہرست جنرل کا اہم فوجی کام مانا جا رہا تھا۔ کتاب کے لیے دفاعی صحافی نتن گوکھلے، اسٹریٹجک ماہر سی راجہ موہن، سابق آرمی چیف جنرل وی پی ملک، ماہر تعلیم انیت مکھرجی اور کانگریس کے رکن پارلیامنٹ ششی تھرور نے  تقریظ تحریرکی تھی۔

عام طور پر، بلرب یا تقریظ کو کتاب کے مخطوطہ کو حتمی شکل دینے اوراسے تقریظ لکھنے والوں کو دستیاب کرائے جانے کے بعدتائیدی رائےسمجھا جاتا ہے۔

جنرل ملک نے لکھا، ‘مشرقی لداخ میں ہندوستان اور چین کے تصادم سے پہلے اور بعد کے واقعات، خاص طور پر وادی گلوان واقعہ (آپریشن سنو لیپرڈ) سے متعلق  ان کی تفصیلات انتہائی معلوماتی اور دلچسپ ہے۔’

راجہ موہن نے کہا کہ ‘2020 کے گلوان بحران اور حالیہ دفاعی اصلاحات پر جنرل نرونے کی گہری بحث ہندوستان کی دفاعی اور قومی سلامتی کی پالیسیوں میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے بصیرت افروز ہے۔’

گوکھلے نے لکھا کہ ‘جنرل نرونے نے اپنے اعلیٰ ترین عہدے (2020-22) کی مدت کارکے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے، جو بنیادی طور پر لداخ سرحدی بحران اور کووڈ سے نمٹنےمیں گزرا۔’

وہیں تھرور نے اسے ‘ہر نسل کے قارئین کے لیے ایک ضروری کتاب’ بتایا تھا۔

وزارت دفاع سے منظوری کا انتظار

دسمبر 2023 میں پی ٹی آئی نے اس کتاب کے اقتباسات پر مبنی خبریں شائع کی تھیں، جو آن لائن دستیاب تھیں۔ نہ تو مصنف اور نہ ہی حکومت نے ابھی تک ان اقتباسات کی صداقت سے انکار کیا ہے۔

ہندوستان ٹائمز کے مطابق ،اس کے بعد وزارت دفاع نے جنرل نرونے اور پبلشر کوکتاب کی اشاعت سے پہلے منظوری کے لیے جمع کرنے کو کہا تھا۔ اخبار نے بتایا کہ فوج نے کتاب میں اٹھائے گئے مسائل پر اپنے تبصرے درج کرتے ہوئے اسے حتمی فیصلے کے لیے وزارت دفاع کو بھیج دیا  تھا۔ تاہم، وزارت دفاع نے اب تک منظوری کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔

دی انڈین ایکسپریس کی آر ٹی آئی پر مبنی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2020 اور 2024 کے درمیان وزارت دفاع کو بھیجی  گئی 35 کتابوں میں سے جنرل نرونے کی کتاب واحد مخطوطہ ہے، جس کی منظوری ابھی تک زیر التوا ہے۔

حکومت کی طرف سے کتاب کے مندرجات پر بحث کرنے سے انکار کی وجہ سے ‘ فور اسٹارز آف ڈیسٹنی ‘طویل عرصے سے عوامی اور سیاسی بحث کے مرکز میں ہے۔ تاہم یہ بات ناقابل تردید ہے کہ کتاب سرکاری طور پر فروخت نہ ہونے کے باوجود نہ مصنف اور نہ ہی پبلشر نے اس کے مندرجات کی تردید کی ہے۔ اگرچہ کتاب کی طبعی کاپیاں اسٹورز پر دستیاب نہیں ہیں ،لیکن آرمی چیف کے انکشافات کی ’سچائی‘ پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا ہے۔

فی الحال ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ چھپا کرپیمانے پر پڑھی جا رہی ہے، مگر باضابطہ طور پر اس کا وجود تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔