حال ہی میں اتراکھنڈ کے کوٹ دوار میں ایک مسلمان دکاندار کو دکان کا نام تبدیل کرنے کے لیے ہندوتوا کے حامیوں کی جانب سے ہراساں کیا جا رہا تھا، جس کے خلاف دیپک کمار نامی شخص نے احتجاج کیا تھا۔ اس کے بعد دائیں بازو کے لوگ بڑی تعداد میں دیپک کے جم پراحتجاج کرنے پہنچے تھے۔ اب پولیس نے دیپک کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔

دیپک کمار (تصویر بہ شکریہ: سوشل میڈیا)
نئی دہلی: اتراکھنڈ پولیس نے دیپک کمار اور وجئے راوت کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ ان دونوں نے 26 جنوری کو کوٹ دوار میں دائیں بازو کے گروپوں کے کارکنوں کی جانب سے ایک بزرگ مسلمان دکاندار کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے اور دکان کا نام تبدیل کرنے کے مطالبے پر مداخلت کی تھی۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، پولیس نے ‘بابا اسکول ڈریس اینڈ میچنگ سینٹر’ چلانے والے مسلمان دکاندار احمد وکیل کی شکایت پر دو نامزد اور کچھ نامعلوم افراد کے خلاف بھی ایف آئی آر درج کی ہے۔
الزامات میں غیر مجاز مداخلت، عوامی امن کی خلاف ورزی پر اکسانے کے ارادے سے جان بوجھ کر توہین کرنا، مجرمانہ دھمکیاں دینا اورچوٹ پہنچانا شامل ہیں۔
معاملے میں تین ایف آئی آر درج
مسلم دکاندار کی حمایت کرنے پر دیپک کمار اور وجئے راوت کے خلاف اپنا غصہ ظاہر کرنے کے لیے 31 جنوری کو قومی شاہراہ کو بلاک کرنے کے لیے دائیں بازو کے گروپوں کے نامعلوم اراکین کے خلاف امن کی خلاف ورزی کے لیے ایک اور ایف آئی آر درج کی گئی۔
پولیس نے بتایا کہ تینوں ایف آئی آر سنیچر (31 جنوری 2026) کی شام درج کی گئی ہیں۔
پوڑی گڑھوال کے پولیس سپرنٹنڈنٹ سرویش پنوار نے اتوار (1 فروری 2026) کو اخبار کو بتایا کہ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے رکن گورو کشیپ اور بجرنگ دل کے رکن کمل پال کی شکایت کے بعد دیپک کمار اور وجئے راوت کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ان پر مجرمانہ دھمکیاں دینے، جان بوجھ کر چوٹ پہنچانے، فسادات اور امن کی خلاف ورزی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
سرویش پنوار نے مزید کہا، ‘شکایت کنندگان نے الزام لگایا ہے کہ دیپک کمار اور وجئے راوت نامی دو افراد نے ان پر جان سے مارنے کے ارادے سے حملہ کیا۔
انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ ان کے پیسے، گھڑیاں اور فون چھین لیے گئے اور انہیں ڈرانے دھمکانے کے لیے ذات کونشانہ بناتے ہوئے گالیاں دی گئیں۔ شکایت کنندگان نے دعویٰ کیا کہ وہ گھر گھر جا کر بیداری مہم کے تحت جائے وقوعہ پر گئے تھے۔
وہیں، دیپک نے انتظامیہ پر ‘یکطرفہ رویہ’ اپنانے کا الزام لگایا ہے۔
بی بی سی کے ساتھ بات چیت میں دیپک کمار نے کہا کہ دہرادون سے بجرنگ دل کے تقریباً 150 کارکن کوٹ دوار پہنچے اور سیدھے ان کے جم پر آکر نعرہ لگانے لگے اور ہنگامہ کرنے لگے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس دوران ان کے ساتھ غیر مہذب سلوک کیا گیا اور ان کے خاندان کے لیے نازیبا کلمات کہے گئے۔ انتظامیہ پر یکطرفہ رویہ اپنانے کا الزام لگاتے ہوئے دیپک نے کہا،’مجھے وہاں سے ہٹا دیا گیا، لیکن وہ لوگ چار سے پانچ گھنٹے تک مسلسل ہنگامہ کرتے رہے۔’
معاملہ کیسے شروع ہوا؟
دراصل، یوم جمہوریہ کے موقع پر 26 جنوری کو وی ایچ پی اور بجرنگ دل کے کارکنوں نے مبینہ طور پر احمد وکیل کے سامنے ان کی دکان کے نام پر اعتراض کیا اور ان سے اسے تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس پر پاس ہی میں جم چلانے والے دیپک کمار اور وجئے راوت دکاندار کی حمایت کرتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔
سوشل میڈیا پر سامنے آئے واقعہ کے ایک مبینہ ویڈیو میں جب ہجوم نے ان کا نام پوچھا تو دیپک کمار نے جواب دیا، ‘میں محمد دیپک ہوں۔’
اس کے بعد معاملے نے طول پکڑ لیا اور سنیچر کو دائیں بازو کے گروپ کے کارکنوں کی بڑی تعداد جم کے باہر احتجاج کرنے پہنچ گئی۔
پولیس کے مطابق، دائیں بازو کے گروپوں کے کارکنوں نے کوٹ دوار میں دیپک کمار اور وجئے راوت کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے اور مارچ نکالے۔ انہوں نے ایک قومی شاہراہ بھی بلاک کر دی، جس سے ٹریفک میں خلل پڑا۔
پولیس نے بتایا کہ 30 سے 40 نامعلوم افراد کے خلاف امن و امان اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی میں خلل ڈالنے کے الزام میں مقدمہ بھی درج کیا گیا ہے۔
دریں اثنا، دیپک کمار نے کہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے ان کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج کی ہے، جبکہ ‘ مسلمان دکاندار کے ساتھ بدتمیزی کرنے والے آزاد گھوم رہے ہیں۔’
‘ثبوتوں کی جانچ ‘
اس واقعہ کے بارے میں ایک سینئر پولیس افسر نے کہا کہ تمام معاملات کی قانون کے مطابق تفتیش کی جارہی ہے اور جو بھی قصوروار پایا گیا اسے بخشا نہیں جائے گا۔
اہلکار نے کہا، ‘ہم ویڈیو فوٹیج سمیت تمام دستیاب شواہد کی جانچ کر رہے ہیں، اور اس میں ملوث افراد کے بیانات لے رہے ہیں۔قانونی بنیادوں پرسختی سے کارروائی کی جائے گی۔’
دیپک کے خلاف ایف آئی آر پر سوال
وہیں، اس واقعہ کے سلسلے میں سول سوسائٹی کے ارکان اور عوام مسلمان دکاندار کی مدد کرنے والے دیپک اور وجئے کے خلاف مقدمہ درج کرنے پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو شہریوں کو دھمکیوں سے بچانے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔
دریں اثنا پولیس نے مزید بدامنی کو روکنے کے لیے کوٹ دوار کے حساس علاقوں میں اہلکاروں کی تعیناتی بڑھا دی ہے۔ حکام نے عوام سے امن برقرار رکھنے اور سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ معلومات پھیلانے سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔
اس دوران لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ لکھ کر دیپک کمار کی تعریف کی ہے۔
انہوں نے لکھا،’دیپک آئین اور انسانیت کے لیے لڑ رہے ہیں – اس آئین کے لیے جسے بی جے پی اور سنگھ پریوار ہر دن روندنے کی سازش کررہے ہیں۔ وہ نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کی زندہ علامت ہیں، اور یہی چیز اقتدار کو سب سے زیادہ تکلیف دیتی ہے۔’
راہل گاندھی نے مزید کہا کہ سنگھ پریوار جان بوجھ کر ملک میں معاشی اور سماجی زہر پھیلا رہا ہے، تاکہ ہندوستان منقسم رہے اور کچھ لوگ ڈر کے سہارے راج کرتے رہیں۔
اپوزیشن لیڈر نے الزام لگایا کہ اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت ان سماج دشمن طاقتوں کی کھل کر حمایت کر رہی ہے جو عام شہریوں کو ڈرانے اور ہراساں کرنے میں مصروف ہیں۔
उत्तराखंड के दीपक भारत के हीरो हैं।
दीपक संविधान और इंसानियत के लिए लड़ रहे हैं – उस संविधान के लिए जिसे BJP और संघ परिवार रोज़ रौंदने की साज़िश कर रहे हैं।
वे नफ़रत के बाज़ार में मोहब्बत की दुकान का जीवित प्रतीक हैं और यही बात सत्ता को सबसे ज़्यादा चुभती है।
संघ परिवार… pic.twitter.com/c1D4VHV5XO
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) February 1, 2026
اس سلسلے میں اتراکھنڈ پردیش کانگریس کے سینئر نائب صدر سوریہ کانت دھسمانا نے بھی ریاستی بی جے پی حکومت سے دیپک کو فوراً سیکورٹی فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے اتراکھنڈ کے چیف سکریٹری آنند وردھن سے فون پر بات کی اور ریاست میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اور’سناتن دھرم’ کے نام پر شر پسند عناصر کے ذریعہ کیے گئے پرتشدد واقعات پورے ملک میں اتراکھنڈ کی شبیہ کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
غور طلب ہے کہ حال ہی میں اتراکھنڈ سے کشمیری شال فروشوں کو ہراساں کرنے اور ان کے ساتھ مار پیٹ کی خبریں سامنے آئی ہیں ۔ حالیہ دنوں میں اتراکھنڈ فرقہ وارانہ حملوں کے گڑھ کے طور پر ابھرا ہے، جہاں دائیں بازو کے گروہوں کی جانب سے اکثر اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی خبریں سرخیوں میں رہتی ہیں۔