جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں کے احوال سے اندازہ ہوتا ہے کہ ادارہ سازی، عصری تعلیم، ملکی معیشت میں شمولیت اور سماجی خدمت ہی وہ راستے ہیں جو اکیسویں صدی میں وقار اور برابری کی ضمانت دے سکتے ہیں۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
ہندوستان کی 213ملین مسلم آبادی میں تقریباً 60 فیصدشمالی صوبوں یعنی اترپردیش، بہار، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال اور آسام میں آباد ہے۔
ان کی کسمپرسی، افلاس اور ہندو قوم پرستوں اور حکومت کی طرف سے ان پر ہورہے مظالم کی خبریں تو آئے دن میڈیا اور دیگر ذرائع سے مشتہر ہوتی ہی رہتی ہیں۔
میں بھی اپنے کالموں کے ذریعے کئی بار ان کو ضبط تحریر میں لاچکا ہوں۔ مگر کئی احباب نے شکوہ کیا ہے کہ 40فیصد مسلم آبادی جو ہندوستان کے جنوبی صوبوں یعنی تلنگانہ، آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالا اور تامل ناڈو میں مقیم ہیں، کو میں نظر انداز کرتا آیا ہوں۔
یہ سچ ہے کہ جنوبی ہندوستان کے مسلمان خاصے ترقی یافتہ اور شمالی ہندوستان کے اپنے ہم مذہبوں کے مقابلے سماجی و سیاسی اعتبار سے بہتر پوزیشن میں ہیں۔ انہوں نے تعلیم معیشت عملی منصوبہ بندی، وسائل اور اجتماعی تنظیم نو میں ایک مقام پیدا کیا ہے۔
شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ دیگر صوبوں کے برعکس کیرالا میں 1947 کے بعد مسلم لیگ تحلیل نہیں ہوئی، بلکہ انڈین یونین مسلم لیگ کی شکل میں مسلمانوں کو سیاسی طور پر بے اختیار ہونے نہیں دیا۔
اسی طرح پڑوس کے صوبہ میں سقوط حیدر آباد کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین یعنی اے آئی ایم آئی ایم نے اپنی سیاسی حیثیت برقرار رکھی او ر قیادت کرتے ہوئے حکومتوں سے اشتراک کے وقت شرائط طے کرتے ہوئے، مسلمانوں کو سیاسی و سماجی حقوق دلوائے۔
شمالی ہندوستان میں مسلمانوں نے اپنے سارے انڈے سیکولر پارٹیوں خصوصاً کانگریس اور بعد میں علاقائی پارٹیوں کی ٹوکری میں ڈال دیے، جنہوں نے ان کو سماجی و اقتصادی طور پربااختیار بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔
ایک اور وجہ یہ بھی ہے کہ جنوب میں کرناٹک کے علاوہ دیگر صوبوں میں ابھی ہندو قوم پرستوں کو پاؤں جمانے کا موقع نہیں ملا ہے۔
جنوبی ہندوستان کے جید صحافی مقبول احمد سراج کے مطابق، سر سید احمد خان نے انیسویں صدی کے اواخر میں مسلمانوں کو جس راستے کی طرف متوجہ کیا تھا، یعنی جدید تعلیم کے ذریعے اجتماعی نجات کا راستہ ممکن ہے، جنوبی ہندوستان کے مسلمانوں نے اس کو من و عن اپنایا۔تلنگانہ کیرالا، تامل ناڈو اور کرناٹک میں مسلمانوں نے جدید تعلیمی ادارے قائم کیے، جو آج ان کے سماجی اور معاشی استحکام کی بنیاد بن چکے ہیں۔حیدر آباد کی عثمانیہ یونیورسٹی اور دکن میڈیکل کالج و یونیورسٹی اہم ادارے ہیں۔
مقبول سراج کا کہنا تھا کہ 1905 میں مدراس کے قلب میں مسلمانوں کا پہلا تعلیمی ادارہ ‘محمڈن کالج’ قائم ہوا جو آج ‘قائدملت کالج فار وومنس’کہلاتا ہے۔یہ مدراس یعنی چنئی شہر کا خواتین کا سب سے بڑا کالج ہے۔ مدراس سے دو سو کلومیٹر مغرب وانمباڑی ایک چھوٹا سا شہر ہے مگر وہاں کے روشن خیال مسلم تاجروں نے 1919 میں اسلامیہ کالج کی بنیاد رکھی جو اب اپنی زندگی کے 107 برس مکمل کر چکا ہے۔
تامل ناڈو میں مسلمانوں کے تقریباً 35 ڈگری اور پوسٹ گریجویٹ کالجز، دو یونیورسٹیاں، 20 انجینئرنگ کالج، کئی پالی ٹکنک اور ایم بی اے کے ادارے موجود ہیں، جبکہ ریاست کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب محض 5.6 فیصد ہے، اور تناسب کے لحاظ سے وہ عیسائیوں سے بھی کم ہیں۔
مقبول احمد سراج، جو بنگلور سے شائع ہونے والے انگریزی روزنامہ نیوز ٹریل کے ایسوسی ایٹ ایڈیٹر ہیں کا مزید کہنا تھا کہ شاید ہی کسی کو علم ہوگا کہ تامل ناڈو کے شہر ناگرکوئل میں واقع نورالاسلام یونیورسٹی کے اسپیس انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ نے 23 جون 2017 کوخلا میں اپنا سیٹلائٹ داغا تھا۔
ہندوستان کی خلائی ریسرچ ایجنسی انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن نے اس کو خلا میں پہنچانے میں مدد تو ضرور کی،مگر اس کا ڈیزائن،سافٹ ویر وغیرہ سب اسی یونیورسٹی سے وابستہ سائنسدانوں نے تیار کیا تھا۔ پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے تیار کیا گیا یہ سیٹلائٹ زرعی معلومات جمع کرتا ہے اور اعلیٰ تعلیم و تحقیق کے لیے مدد کرتا ہے۔
اسی طرح پڑوسی کرناٹک کی کل 55یونیورسٹیوں میں پانچ مسلمانوں کی قائم کردہ ہے۔ صوبائی دارالحکومت بنگلور میں ڈاکٹر ممتاز احمد خان نے 1964 میں پہلا مسلم کالج ‘الامین کالج’قائم کیا تھا۔
آج الامین سوسائٹی کے تحت تقریباً 200 ادارے چلتے ہیں جن میں دو انجینئرنگ کالج، تقریباً 100 ہائی اسکول، کئی پالی ٹیکنک، ایم بی اے اور فارمیسی کے انسٹی ٹیوٹس شامل ہیں۔ بنگلور شہر میں مسلمانوں کے کوئی 550 ہائی اسکول ہیں، جن میں تقریباً 50 ایسے اسکول بھی ہیں جہاں طلبہ اور اساتذہ کی 60 فیصد تعداد غیر مسلموں پر مشتمل ہے۔
یہ تکثیری تعلیمی منظرنامہ سماجی ہم آہنگی اور شہری زندگی میں اعتماد کی ایک عملی شکل ہے۔
بنگلور شہر جس کو ہندوستان کی سائنسی راجدھانی بھی کہا جاتا ہے، میں مسلم انڈسٹریلسٹ ایسوسی ایشن کے تحت تقریباً 600 صنعتی یونٹس رجسٹرڈ ہیں۔
شہر کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی ایک مسلم صنعت کار کی ملکیت ہے، اور شہر کے قلب میں واقع فیشن ایبل شاپنگ پلازہ یوبی سیٹی بھی اسی کمپنی کی ملکیت میں شامل ہے۔ شہر کے ایک اور تاجر نے کرنسی میوزیم قائم کیا ہے، جو ہندوستان میں اپنی نوعیت کا واحد میوزیم بتایا جاتا ہے۔
بنگلور کی مہنگی ترین کثیر منزلہ عمارت کے ٹاپ فلور پر ایک مسلم خاتون نے آرٹ میوزیم ترتیب دیا ہے۔ 1990 کے لبرلائزیشن دور کے بعد بنگلور کی آبادی 45 لاکھ سے بڑھ کر اب ڈیڑھ کروڑ ہو چکی ہے۔ اس مدت میں نئی کالونیوں کی تعمیر میں مسلم ملکیت کی تعمیراتی کمپنیوں کا حصہ خاصا نمایاں رہا۔اس لیے گجرات اور بمبئی کے مقابلے میں یہاں مسلمانوں کو مکان و دکان فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے میں سخت امتیاز نظر نہیں آتا۔
ان ریاستوں میں ابتداء ہی سے مسلمانوں نے اپنے بینک بھی قائم کیے ہوئے ہیں۔ تقریباً ہر ضلع میں مسلم کوآپریٹو بینک دیکھے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے بعض سو برس سے زائد قدیم ہیں۔ کارپوریشن بینک، جو 2020 تک ملک کے 14 بڑے شیڈولڈ بینکوں میں شامل تھا، 1906 میں شہر اُڈپی میں ایک مسلمان تاجر خان بہادر حاجی عبداللہ حاجی قاسم صاحب بہادر نے قائم کیا تھا۔ اسے 1980 میں نیشنلائز کیا گیا اور 2020 میں یونین بینک آف انڈیا میں ضم کر دیا گیا۔
ان کی یاد میں اُڈپی میں حاجی عبداللہ میموریل میوزیم کا افتتاح چند برس قبل عمل میں آیا۔سراج صاحب کے بقول بنگلور میں کوئی 625 سپر مارکیٹس ہیں، جن میں سے تقریباً 500 ملیالی مسلمانوں کی ملکیت میں چلتی ہیں۔ 1991 میں شہر میں فرقہ وارانہ تشدد کے دوران ایک مسلم ملکیت سپر مارکیٹ میں لوٹ مار کا واقعہ ہوا۔ اس کالونی کے غیر مسلم مکینوں کو اس کا اس قدر رنج ہوا کہ انہوں نے چندہ جمع کر کے اس مسلم تاجر کو سپر مارکیٹ کی بحالی کے لیے سرمایہ فراہم کیا۔
یہ واقعہ محض ایک انسانی مثال نہیں، بلکہ سماجی اعتماد کے اس ڈھانچے کی علامت ہے جو مشترکہ شہری مفادات کے گرد بنتا ہے۔جنوب میں کرناٹک واحد ایسی ریاست ہے جہاں ماضی میں کئی بار ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت سازی کر چکی ہے۔
مگر اسی صوبہ میں کووڈ-19 وبا کے دوران مسلم این جی او ‘مرسی مشن’نے ہزاروں یومیہ اجرت پر زندگی گزارنے والے مزدوروں کے لیے تقریباً 20 کمیونٹی کچن قائم کیے اور ہزاروں نادار خاندانوں تک تقریباً 14 کروڑ روپے کے راشن بیگز تقسیم کیے۔ جب ہندوستان کی دیگر علاقوں میں لاکھوں مزدوروں کو وطن واپس پہنچانے کے لیے محکمہ ریلویز نے 330 ٹرینیں چلائیں جو نارتھ ایسٹ اور دیگر ریاستوں تک جاتی تھیں، تو مرسی مشن کی کارکردگی دیکھتے ہوئے حکومت نے مزدوروں کو فوڈ بیگز دینے کا ٹھیکہ اسی تنظیم کو دیا۔
بنگلور کے کئی فیشن ایبل سپر مارکیٹس اور شاپنگ مالز میں پنج وقتہ نماز کی ادائیگی کے لیے مسلم تعمیراتی کمپنیوں نے ایئرکنڈیشن مصلے بنائے ہیں۔ریاست کے ایک سابق وزیر عزیز سیٹھ نے ریاست کے جنوبی حصے کے کئی شہروں میں بیڑی مزدوروں کے لیے ہاؤسنگ کالونیاں بنوائیں، جن میں میسور کی ہزار مکانوں والی اور منڈیا کی دس ہزار مکانوں والی کالونی قابلِ ذکر ہے۔ ان میں ہندو، مسلمان اور عیسائی بلا امتیاز رہائش پذیر ہیں۔
مگر اس سماجی رتبہ کے باوجود کرناٹک میں مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی آبادی کے تناسب سے کم ملتی ہے۔ کرناٹک میں ووکالیگا فرقہ جن کا تناسب 11 فیصد ہے اور لنگایت فرقہ جن کا تناسب 14 فیصد ہے، ریاستی اسمبلی میں اپنے تناسب سے تقریباً دوگنی نمائندگی رکھتے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی 12 فیصد کے قریب ہے مگر وہ اس سطح کی نمائندگی حاصل نہیں کر پاتے۔
انتہائی جنوبی صوبہ کیرالا میں مسلمانوں کی جڑیں تاریخ، سماجی ساخت، سیاسی شعور اور تعلیم کے مسلسل فروغ میں پیوست ہیں۔ چند سال قبل مجھے چند صحافیوں کے ساتھ کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے ساتھ سفر کا موقع ملا تھا۔ غیر رسمی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں برطانوی پارلیامانی جمہوریت کی روح اگر کہیں پوری طرح رواں دواں ہے تو وہ ہندوستان کی انتہائی جنوبی ساحلی ریاست کیرالا ہے۔
ان کے مطابق دیگر علاقوں میں اس نظام کو استحصالی طبقات نے آلودہ کر دیا ہے، کہیں خاندانی راج غالب ہے اور کہیں دولت مندوں اور صنعت کاروں کے زیر اثر اسمبلیاں بنتی بگڑتی ہیں۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیرالا واحد صوبہ ہے جہاں کانگریسی لیڈر دہلی کی طرف دوڑ نہیں لگاتے بلکہ اپنے مسائل خود حل کرتے ہیں، پارٹی عہدوں تک یورپی طرز پر پرائمری کے انتخابات کے ذریعے پہنچتے ہیں اور ہائی کمان کے بجائے عوام اور کارکنوں کے سامنے جواب دہ رہتے ہیں۔
برصغیر کی پہلی مسجد بھی اسی ریاست میں 632ء میں مالابار کے راجہ چیرامن پیرومل نے کوڈنگالور میں تعمیر کروائی۔سندھ کے بجائے اگر کیرالا کو باب الاسلام کہا جائے، تو غلط نہ ہوگا۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق ریاست میں ہندو 56 فیصد، مسلمان 25 فیصد اور عیسائی 19 فیصد ہیں۔ مسلم آبادی کے تناسب کے لحاظ سے یہ ریاست جموں و کشمیر اور آسام کے بعد تیسرے نمبر پر آتی ہے۔
سیاسی اعتبار سے کیرالا کے مسلمان آزادی کے بعد ہی ایک واضح شناخت رکھتے ہیں۔ اس طاقت کا سرچشمہ انڈین یونین مسلم لیگ رہی، جس کا احیاء تقسیم کے بعد یہیں سے ہوا۔ مولوی محمد اسماعیل اور ابراہیم سلیمان سیٹھ اس کے روحِ رواں تھے۔
کیرالا میں مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد منظم سیاسی جماعت ہونے کا اعزاز حاصل ہے اور اس ایک لیڈر سی ایچ محمد کویا مختصر عرصے کے لیے ریاست کے وزیر اعلیٰ بھی رہے ہیں۔ 140 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ کے عموماً 15 سے 22 ارکان منتخب ہوتے رہے ہیں۔ موجودہ اسمبلی میں اس کے 15 اراکین ہیں۔
غالباً کیرالا واحد ریاست ہے جہاں مسلمانوں کا اپنا مضبوط میڈیا بھی موجود ہے۔ ملیالی زبان میں شائع ہونے والا روزنامہ مادھیہ مم ریاست کے بڑے اخبارات میں شمار ہوتا ہے اور خلیجی ممالک سے بھی اس کے ایڈیشن شائع ہوتے ہیں۔ ٹی وی کے شعبے میں بھی مسلمانوں کی موجودگی نمایاں ہے۔
اگرچہ مسلمانوں کی مادری زبان ملیالی ہے، مگر عربی کے ساتھ ساتھ اردو سے ان کا تہذیبی رشتہ قائم ہے، جو انہیں ملک بھر کے مسلمانوں سے جوڑتا ہے۔
ریاست میں مسلم ڈگری کالجز کی تعداد 150 سے زائد ہے۔ پچھلے تیس برسوں میں انجینئرنگ اور میڈیکل کالجز کی تعداد درجنوں تک پہنچ چکی ہے۔ کیرالا کا پہلا انجینئرنگ کالج 1956 میں ایک مسلم تاجر تھنگل کنجو مصلیار نے قائم کیا، جنہیں ان کی تجارتی کامیابیوں کی بنا پر کشیو کنگ کہا جاتا تھا۔ اس کالج کا افتتاح صدرمملکت ڈاکٹر راجندر پرساد کے ہاتھوں ہوا اور بعد ازاں یہ ریاست کا سب سے بڑا انجینئرنگ کالج بن گیا۔
معاشی سطح پر بھی کیرالا کے مسلمان نمایاں ہیں۔ خلیجی ممالک میں کامیاب ہونے والے متعدد مسلم تاجروں نے ہندوستان میں بھاری سرمایہ کاری کی۔
لولو مالز کے مالک یوسف علی، تعمیراتی شعبے میں گلفار محمد علی اور زیورات کے میدان میں مالابار گولڈ جیسے ادارے اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جن کے سینکڑوں آؤٹ لیٹس دنیا بھر میں پھیلے ہیں۔
شاید اس پوری بحث کا ماحاصل یہی ہے کہ ادارہ سازی، عصری تعلیم، ملکی معیشت میں شمولیت اور سماجی خدمت ہی وہ راستے ہیں جو اکیسویں صدی میں وقار اور برابری کی ضمانت دے سکتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ اگر ساتھ میں سیاسی قوت نہ ہو، تو اس کو برقرار رکھنا ممکن نہیں ہوتا ہے۔
مگر مقبول احمد سراج کے مطابق مسلمانوں کو اپنی ذہنیت کو جدید بنانا ہوگا، کیونکہ اکیسویں صدی کے تقاضے اکیسویں صدی کی قیادت اور اسی کے مطابق حل چاہتے ہیں۔