رام جنم بھومی اور بابری مسجد کے سچ کو پیش کرتی ایک غیر معمولی کتاب

بک ریویو: شیتلا سنگھ کی یہ کتاب ایودھیا تنازعے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ، فرقہ پرستی کے عروج اور اس کے عروج میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے اور6دسمبر1992 کو بابری مسجد کی شہادت کی مکمل تفصیلات اور اڈوانی ، اومابھارتی اینڈ کمپنی کے ہر ’قصور‘ کو ہم تک پہنچادیتی ہے… یہ کتاب پڑھنی چاہئے ، سب کو پڑھنی چاہئے تاکہ وہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا ’سچ‘ جان سکیں…

بک ریویو: شیتلا سنگھ کی یہ کتاب ایودھیا تنازعے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ، فرقہ پرستی کے عروج اور اس کے عروج میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے اور6دسمبر1992 کو بابری مسجد کی شہادت  کی مکمل تفصیلات اور اڈوانی ، اومابھارتی اینڈ کمپنی کے ہر ’قصور‘ کو ہم تک پہنچادیتی ہے… یہ کتاب پڑھنی چاہئے ، سب کو پڑھنی چاہئے تاکہ وہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا ’سچ‘ جان سکیں…

SheetlaSingh_Pharos

رام جنم بھومی بابری مسجد کا سچ-فیض آباد کے بزرگ صحافی، اخبار’ جن مورچہ‘ کے مدیر اعلیٰ شیتلا سنگھ کی اس کتاب کے آخری صفحات 9 نومبر کو اس وقت ختم کئے جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رنجن گگوئی بابری مسجد کی زمین رام  مندر کے لئے سونپنے کا فیصلہ سنارہے تھے  ۔میں نہیں جانتا کہ شیتلا سنگھ نے جب عدالتی فیصلہ سناہوگا تو ان کا ردعمل کیا رہا ہوگا،لیکن  قیاس کرسکتا ہوں کہ انہیں بھی اس فیصلے پر اسی قدر افسوس ہوا ہوگا جس قدر افسوس ان سب کو ہوا ہے جو ایودھیا کے مندر/ مسجد تنازعے کو خوش اسلوبی ، بھائی چارہ اور باہمی یگانگت سے سلجھانے کے لئے کوشاں تھے  ،جیسے کہ خود شیتلا سنگھ ۔ شیتلا سنگھ ایودھیا تنازعے کے حل کے لئے گزشتہ تین چار دہائیوں سے سرگرم افراد میں سے ایک ہیں۔

ان کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے  کہ وہ آج بھی’بابری مسجد رام جنم بھومی وواد (تنازعہ) سمادھان (حل) سمیتی’کے کنوینر اور’رامائن میلاسمیتی ایودھیا’کے جنرل سکریٹری ہیں ۔ایک صحافی، فیض آباد کے شہری اور  مذکورہ کمیٹیوں کے اہم ذمے دار کی حیثیت سے انہوں نے وہ سب دیکھا اور سنا ہے جو عام ہندوستانی شہریوں کی پہنچ سے باہر رہا ہے ۔ کانگریس کا ’ غیر سیکولر چہرہ‘ آر ایس ایس کی فرقہ پرستی کا عروج، اور مسجد اور مندر کے نام پر ’ سودے بازی‘…اور اپنی اس کتاب میں انہوں نے سارے حقائق پیش کرکے گزشتہ تین سے چار دہائیوں سے مسجد/مندر کے نام پر کھیلے جارہے گھناؤنے کھیل کے سارے کرداروں کے چہروں کو بے نقاب کرنے کے ساتھ  اس سچ کو بھی اجاگر کیا ہے کہ ایودھیا کے شہری ، سادھو اور سنت بابری مسجد کا انہدام  نہیں چاہتے تھے ۔

کتاب چھ ابواب میں منقسم ہے ۔ پہلا باب ’ بھئے پرگٹ گوپالا‘کے عنوان سے ہے ۔ یہ باب ’بھگوائیوں‘ کے اس ’جھوٹ‘ کو کہ بابری مسجد کے صحن میں 22-23ستمبر 1949ء کی درمیانی شب بھگوان رام  پرکٹ (ظاہر) ہوئے تھے ، ایمانداری کے ساتھ رد کرتا ہے ۔ شیتلا سنگھ تحریر کرتے ہیں کہ ؛

کانسٹبل نمبر7(ماتاپرساد)نے تھانہ اجودھیا ضلع فیض آباد میں جو تفصیلات سب انسپکٹر رام دیو دوبے تھانہ انچارج کو بتائیں اور جسے ہیڈمحرر پرمیشورسنگھ نے لکھ کر تصدیق کی ، ان کے مطابق 22-23 دسمبر کی رات میں فسادیوں کی ایک بھیڑ نے بابری مسجد میں گھس کر مسجد کو ناپاک کرتے ہوئے وہاں رام للا کی مورتی رکھ دی تھی۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ دفعہ 487،295 اور147 تعزیرات ہند (انڈین پینل کوڈ)کے تحت درج یہ مقدمہ آئندہ 70 برسوں تک حکومت ہند کو اذیت دے گا اور ہندوستانی آئین میں نہاں سیکولرزم جیسی اقدار کے لئے خطرہ بنا رہے گا ۔

‘‘ شیتلاسنگھ ان ’ دیومالائی کہانیوں‘ کا بھی ذکر کرتے ہیں جو بھگوان رام کے پرکٹ ہونے سے متعلق ہیں ۔ایک  کہانی  یہ بُنی گئی کہ مورتی کے پرکٹ ہونے کا نظارہ ایک مسلم کانسٹبل نے دیکھا تھا لیکن جب تحقیقات کی گئی توپتہ چلا کہ وہاں بھیجے گئے پولیس والوں میں کوئی مسلم کانسٹبل تھا ہی نہیں !ابوالبرکات نام کا ہیڈ کانسٹبل تھا اور پولیس مینول کے مطابق ہیڈ  کانسٹبل ’گارڈ کا کمانڈر ہوتا ہے اور کوئی کمانڈر ، سنتری کی ڈیوٹی پر نہیں رہتا‘۔ شیتلا سنگھ نے تمام شواہد اورحقائق کی بنیاد پر یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ؛’

’تمام دستیاب حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مورتی رکھے جانے کے بعد اگلے 24 گھنٹوں تک ایودھیا میں نہ تو بہت زیادہ کشیدگی تھی اور نہ ہی مسجد کے آس پاس اتنی بھیڑ تھی کہ اگر انتظامیہ دل سے چاہتی تو مورتیاں نہ ہٹاپاتی ۔’

اس کا سیدھا مطلب یہ  ہے کہ پولیس اور انتظامیہ مورتیاں ہٹانا نہیں چاہتی تھی۔ شیتلا سنگھ نے مزید ایک ایسی بات لکھی ہے جو  شایدبابری مسجد زمین کے تعلق سے سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کا ’جواز‘ بنی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں؛

‘مقدمے کے فریقوں میں سرکار بنام جنم بھومی (بابری مسجد) لکھا گیا یعنی کاغذات میں مسجد کے بجائے اس مقام کو مندر کی شکل دینے کی ابتدا اسی زمانے میں ہوگئی تھی۔’ وہ بتاتے ہیں کہ چارج شیٹ سے اس حقیقت کو غائب کردیا گیا کہ ‘ بھیڑ نے بابری مسجد کے کمپاؤنڈ میں لگے تالوں کو توڑ کر نیز سیڑھی کے ذریعے دیوار کود کر مسجد کے اندر گھس کر شری رام کی مورتی ر کھ دی اور دیواروں پر اندروباہر سیتارام جی وغیرہ گیروے وپیلے رنگ سے لکھ دیا ۔’ چارج شیٹ کی عبارت بدل کر لکھا گیا؛’ملزموں نے پرانا مندر سمجھ کر اس میں مورتی رکھ دی۔’ اس عبارت کے نتیجے میں مقدمے کی نوعیت ہی بدل گئی۔ 22-23دسمبر 1949ء کی شب بابری مسجد میں مورتی رکھی گئی اور 29دسمبر کو بابری مسجد کو قرق کرلیا گیا ۔اور اس میں مورتی کے بھوگ( کھانے) ، راگ (گانے) آرتی اور انتظامات کے لئےبابوپریادت کا تقرر کردگیا گیا ۔ اس کے بعد اس مقام پر مسلمانوں کے آنے جانے پر بھی پابندی لگادی تھی۔

شیتلاسنگھ نے ایودھیا تنازعے میں کانگریس کے متعصبانہ چہرے کو مکمل طور پر اجاگر کیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں؛

‘فیض آباد انتخابی حلقے میں1948ء میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں بھی مندر کا مسئلہ کانگریس کی مقامی قیادت نے خاص طور پر اٹھایا۔’ آچاریہ نریندر دیو نے سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کیا تھا، وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی رائے تھی کہ کانگریس آچاریہ جی کے خلاف امیدوار نہ کھڑا کرے مگر کانگریس کے پالیسی سازوں  ، جن میں پنڈت گووند ولبھ پنت  پیش پیش تھے اور ان کے معاون لال بہادر شاستری نے ، بابا راگھوداس نامی سادھو کو کانگریسی امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا ۔ اس  وقت ایودھیا کے الیکشن میں جو بینر اور پوسٹر لگے ان میں آچاریہ جی اور بابارگھوداس کی انتخابی جنگ کو’رام -راون کی جنگ‘ قرار دیاگیا ۔ آچاریہ جی کو ’ناستک‘ کہا گیا ۔ پنڈت گوبند ولبھ پنت نے اس وقت اپنی تقریر میں مسئلہ کشمیر ،کو بھی اٹھایا تھا اور حیدر آباد کا بھی ذکر کیا تھا ،  انہوں نے فارسی رسم الخط کی بھی مخالفت کی تھی ۔اور آج جو بات ملک کے وزیر داخلہ امت شاہ کہہ رہے ہیں اس وقت کانگریسی قائد پرشوتم داس ٹنڈن نے کہی تھی کہ ملک کی ’ ایک بھاشا اور ایک سنسکرتی‘ ہوگی… انتخابی مہم کے دوران ’ ایودھیا کی  عزت بچاؤ‘ کے نعرے والی ٹوپیاں بھی بنی تھیں اور یوپی کا نام ’ آریہ ورت‘طے کیا گیا تھا۔ ایک جلسہ میں کہا گیا تھا کہ’ترکوں نے رام مندر گراکر مسجد بنادی ہمیں وہ مندر واپس چاہیئے ۔’

شیتلا سنگھ لکھتے ہیں کہ ؛

‘جواہر لال نہرو ملک کے وزیراعظم ضرور تھے مگر ریاستوں میں موجود اس وقت کی قیادت کافی مضبوط تھی۔ وزیراعظم (پنڈت نہرو) کے ذریعے باربار لکھے جانے (کہ مسجد سے مورتی ہٹائی جائے)کے باوجود پنت جی نے ایسا کچھ نہیں کیا ، وہ اس فکر کے حامی تھی کہ اگر کانگریس سرکار مسجد میں رکھی ہوئی مورتیوں کو ہٹائے گی تو اکثریتی ہندو طبقہ اس سے ناراض ہوگا اور انتخابی سیاست میں کانگریس کو اس سے نقصان پہنچے گا ۔’

 آج  کی کانگریس پنت کی فکر پر ہی چلتی نظر آرہی ہے ۔شیتلا سنگھ نے آگے ایودھیا تنازعے میں  اندرا گاندھی ، راجیوگاندھی ،بوٹا سنگھ اور ویربہادر ،ملائم سنگھ یادو، چندر شیکھر، اشوک سنگھل ، آر ایس ایس سرسنگھ چالک بالا صاحب دیورس وغیرہ کے کردار پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ ’انہدام کی منصوبہ بندی‘ کے عنوان والے باب میں بابری مسجد کی شہادت کی پوری تفصیل کے ساتھ اس وقت کے وزیراعظم نرسمہا راؤ کا ، جو سارے واقعے میں مرکزی کردار  رکھتے ہیں ، اور اڈوانی وکلیان سنگھ کا خاص ذکر کیا گیا ہے ۔وہ بتاتے ہیں کہ وشوہندوپریشد23 مارچ 1983ء تک ’ایودھیا تنازعے‘سے پوری طرح بے خبر تھی پر مذکورہ تاریخ کو ایک ’ ہندو سمیلن‘ میں کٹر‘ کانگریسی داؤدیال کھنہ نے رام جنم بھومی ایودھیا، کرشن جنم بھومی متھرا اور کاشی وشوناتھ مندر  کو آزاد کرانے کا مطالبہ کیا ، اس کے بعد وی ایچ پی متحرک ہوئی اور ایودھیا تنازعے نے افسوسناک صورت اختیار کرلی ۔ کھنہ اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی سے بھی ملے تھے ۔ شیتلا سنگھ ایک دلچسپ انکشاف کرتے ہیں کہ ؛

‘ پرم ہنس راج نے ایک روزباتوں ہی باتوں میں کہا کہ جب وی ایچ پی کا نمائندہ وفد ملنے گیا تھا تب اندرا گاندھی نے کہا تھا کہ’ جمہوریت میں بغیر تحریک کے کوئی فیصلہ نہیں ہوسکتا ۔’ اس لئے ہم لوگوں نے اس سلسلے میں تحریک چلانے کا فیصلہ کیا ہے ، اندراجی نے ہم لوگوں سے نومبر 1984ء میں پھر ملاقات  کے لئے کہا ہے ۔’

راجیوگاندھی کا ذکر کرتے ہوئے شیتلا سنگھ لکھتے ہیں کہ پہلے تو انہوں نے یوپی کے وزیراعلیٰ ویربہادر سنگھ کے ذریعے، مسلمانوں کو ناراض کئے بغیر، رام مندر کی تعمیر کا منصوبہ بنایا اور ویربہادر سنگھ جب وزیراعلیٰ کے عہدے سے ہٹائے گئے  تومرکزی وزیر داخلہ بوٹا سنگھ اور یوپی کے اس وقت کےوزیراعلیٰ نارائن دت تیواری نے وی ایچ پی کے لیڈروں سے رابطہ کرکے ایک سمجھوتہ  کیا ۔  اس سمجھوتے کو حکومت اپنی جیت مان رہی تھی جبکہ وی ایچ پی اسے اپنی جیت سمجھ رہی تھی ، اس کے نتیجے میں وی ایچ پی کے حوصلے اور بھی بڑھ گئے کیونکہ سرکار نے مجبور ہوکر شیلا نیاس کرانے کی اجازت دے دی تھی اور یوں شیلانیاس کرانے اور اینٹوں کو ایودھیا پہنچانے کا کام سرکاری طور پر انجام پایا ۔’ یہ وہ عمل تھا جس نے آر ایس ایس اور وی ایچ پی کو طاقت بخشی اور 6دسمبر 1992ء کو بابری مسجد شہید ہوئی۔

وہ بتاتے ہیں کہ  آر ایس ایس سربراہ دیورس نے اس معاملے  میں کبھی بھی ’مفاہمت‘ پسند نہیں کی ۔ شیتلاسنگھ کے مطابق پرم ہنس جی ، نرتیہ گوپال داس اور ان کے تمام بھکتوں کا یہ ماننا تھا کہ ‘تنازعہ اور لڑائی جھگڑا اچھی چیز نہیں ہے اسے تو ختم ہونا ہی چاہیئے۔’  لیکن ’سیاست‘ نے ایودھیا کے شہریوں ، سادھو سنتوں اور شیتلا سنگھ جیسے سیکولر ذہن افراد کی کوششوں پر پانی پھیر دیا ۔  وہ لکھتے ہیں کہ ؛’کانگریس کے  ممبران پارلیامنٹ وممبران اسمبلی نے رام مندر کی تحریک کے حامی بن کر باقاعدہ بی جے پی میں شامل ہوکر الیکشن لڑا اور رام لہر میں کامیاب بھی ہوئے ۔ اب تو کانگریس کے لیڈر ہی یہ کہنے لگے ہیں کہ جن کی وزارت عظمیٰ کے دور میں مسجد منہدم ہوئی وہ سیکولرزم کے تئیں نہیں بلکہ ہندتوا کے تئیں عزم وعہد کے پابند تھے ۔ ‘ یہ کتاب جہاں چیف جسٹس رنجن گگوئی کی کہی ہوئی اس بات پر مہر تصدیق لگاتی ہے کہ بابری مسجد کسی مندر کو منہدم کرکے نہیں بنائی گئی وہیں وہ ان کی اس بات پر کہ بابری مسجد کے نیچے سے ہندو تعمیر برآمد ہوئی ہے ، سوال بھی کھڑا کرتی ہے…

شیتلا سنگھ لکھتے ہیں کہ؛’

حفاظتی دیوار کے نام پر رام دیوار اور محکمہ سیروسیاحت کے ذریعے جے سی پی اور ٹریکٹر سے دس فٹ گہرا گڑھا بابری مسجد کے سامنے کھودا گیا اور اسے ہموار کیا گیا ، ہموار کرنے کے اسی عمل میں بہت  سی مورتیاں اور پتھروں کے نقش والے ٹکڑے دکھائے گئے جو ایودھیا میں اور کہیں نہیں ملتے ہیں۔’سوال ہے کہ یہ مورتیاں اور پتھروں کے نقش کیاکہیں  اورسے لاکر ڈالے گئے تھے تاکہ رام مندر کے ایجنڈے کو کامیاب کیا جاسکے ؟ اب شاید اس سوال کا جواب نہ مل سکے ۔

 کتاب کا دیباچہ سینئر صحافی ڈاکٹر سمن گپتا کا تحریر کردہ ہے ۔ وہ لکھتی ہیں کہ ؛

‘جب ایودھیا تحریک کے دوران بہت سے اخبار حقائق سے پھسل کر جذبات پر مرکوز ہوگئے تھے ، تب بھی فیض آباد سے شائع ہونے والے ’ جن مورچہ‘ نے شیتلا سنگھ کی سربراہی میں اپنی مشعل روشن رکھی ۔ وہ حقائق اور سچائی سے پیچھے نہیں ہٹے ، جو ایک نظیربھی  بنی ، اس کتاب کی  یہی معنویت ہے ۔’

’دیباچہ‘ریٹائرڈ آئی پی ایس وبھوتی نارائن رائے  کا تحریر کردہ ہے ۔ ان کا ماننا ہے کہ اس کتاب سے ’’اجودھیا کے پورے تنازعے کو سمجھنے میں مدد ملے گی اور آنے والی نسلیں جذبات کی جگہ ہوش اور شعور کو ترجیح دیتے ہوئے مسئلے کا بہتر حل ڈھونڈ سکیں گی ۔’

شیتلا سنگھ کی یہ کتاب ایودھیا تنازعے کے ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہے ، فرقہ پرستی کے عروج اور اس کے عروج میں کانگریس کے کردار کو اجاگر کرتی ہے اور6دسمبر1992 کو بابری مسجد کی شہادت  کی مکمل تفصیلات اور اڈوانی ، اومابھارتی اینڈ کمپنی کے ہر ’قصور‘ کو ہم تک پہنچادیتی ہے… یہ کتاب پڑھنی چاہئے ، سب کو پڑھنی چاہئے تاکہ وہ رام جنم بھومی بابری مسجد کا ’سچ‘ جان سکیں…ڈاکٹر ظفرالاسلام کے ادارے ’ فاروس میڈیا‘ نے یہ کتاب ہندی سے اردو میں ترجمہ کروائی ہے ، اس کے لئے ان کا اور مترجم عقیدت اللہ قاسمی کا شکریہ ضروری ہے ۔ آخر میں قارئین شیتلاسنگھ کے یہ جملے بھی پڑھ لیں؛

‘اس تنازعے کا تعلق شروع سے ہی پولیس اور انتظامیہ کے افسران کے رول سے بھی وابستہ رہا ہے ۔ مورتی رکھے جانے کے وقت سے لے کر مسجد کے انہدام تک افسروں کے رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔’

(مضمون نگار ممبئی اردو نیوز کے ایڈیٹر ہیں۔)