ایودھیا کے رام مندر کو ملے چڑھاوے کی چوری اور غبن کے الزامات کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی عرضیوں پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت، اتر پردیش حکومت اور شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے ایس آئی ٹی کو اب تک کی جانچ سے متعلق اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنے کی ہدایت دی ہے۔

فوٹو: ایکس/پی آئی بی انڈیا
نئی دہلی:سپریم کورٹ نے سوموار (13 جولائی 2026) کو ایودھیا میں واقع رام مندر کو ملےچڑھاوا چوری اور غبن کے الزامات کی سی بی آئی جانچ کی مانگ والی عرضیوں پر مرکزی حکومت اور اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا۔
اس کے ساتھ ہی، عدالت نے مندر کا مینجمنٹ سنبھالنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کو بھی نوٹس جاری کیا اور معاملے کی جانچ کر رہی ایس آئی ٹی کو اب تک کی کارروائی پر اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنےکی ہدایت دی ہے۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، اس معاملے کی شنوائی چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ نے کی۔
مرکزی حکومت اور اتر پردیش حکومت کی جانب سے پیش ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت سوموار، 20 جولائی کو بند لفافے میں اسٹیٹس رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے مندر ٹرسٹ کو نوٹس جاری کرنے کو فی الحال مؤخر کرنے کی بھی درخواست کی، تاہم بنچ نے یہ درخواست مسترد کر دی۔
س معاملے میں پہلی عرضی نریندر کمار گوسوامی کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایودھیا رام مندر کا مینجمنٹ سنبھالنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے انتظامی اور مالی معاملات کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے، اور ساتھ ہی اس کا آڈٹ بھی سی اے جی سے کرایا جائے۔
اجئے کمار رائے اور دنیش کمار یادو کی جانب سے دائر کی گئی دوسری عرضی میں بھی سی بی آئی جانچ کے لیے اسی طرح کی ہدایات کامطالبہ کیا گیا ہے۔
وہیں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) ایم پی سدھاکر سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی تیسری عرضی میں گھوٹالے کے پیش نظر مندر ٹرسٹ کے تمام مالی معاملات کا فرانزک آڈٹ کرانے اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔
سنگھ کی پی آئی ایل میں سپریم کورٹ سے یہ ہدایت دینے کی بھی اپیل کی گئی ہے کہ شواہد سے کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے تمام مالی ریکارڈ، جن میں کاغذی دستاویزات، ڈیجیٹل لیجر، یو پی آئی ٹرانزیکشن لاگ اور بینک اسٹیٹمنٹ شامل ہیں، کو محفوظ رکھا جائے۔
اس معاملے میں چوتھی درخواست ہندو دھرم پریشد کی جانب سے دائر کی گئی ہے، جس میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں ان الزامات کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
لائیو لا کے مطابق، سماعت کے دوران ایک درخواست گزار کی جانب سے پیش ہوئے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ معاملے سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ریکارڈ کو بھی محفوظ رکھنا ضروری ہے۔
اس پر ایک درخواست گزار نے یہ بھی اپیل کی کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی اسٹیٹس رپورٹ کی ایک نقل انہیں بھی دستیاب کرائی جائے۔ اس پر چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا،اس پر بعد میں غور کریں گے۔ جانچ ابھی جاری ہے۔’