سپریم کورٹ سوموار (13 جولائی) کو رام مندر چڑھاوا چوری سے متعلق آزادانہ جانچ کی مانگ والی تین عرضیوں پر شنوائی کرے گا۔ ان عرضیوں میں بنیادی طور پر عدالت کی نگرانی میں سی بی آئی جانچ کرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی، رام مندر کا مینجمنٹ سنبھالنے والے رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے مالی معاملوں کا کیگ سے آڈٹ کرانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

تصویر بہ شکریہ: شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ
نئی دہلی: سپریم کورٹ سوموار (13 جولائی) کو ایودھیا رام مندر چڑھاواچوری اور غبن کے معاملوں کے الزامات سے متعلق آزادانہ جانچ کی مانگ والی عرضیوں پر سماعت کرے گا۔
لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے چیف جسٹس سوریہ کانت، جسٹس جوائےمالیہ باگچی اور جسٹس وی موہنا کی بنچ ان درخواستوں کی سماعت کرے گی۔
بتادیں کہ اس معاملے میں تین اہم عرضیاں داخل کی گئی ہیں۔ پہلی عرضی نریندر کمار گوسوامی کی ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایودھیا رام مندر کا مینجمنٹ سنبھالنے والے شری رام جنم بھومی تیرتھ ٹرسٹ کے انتظامی اور مالی معاملات کی جانچ سی بی آئی سے کرائی جائے، اور ساتھ ہی اس کا آڈٹ بھی سی اے جی سے کرایا جائے۔
اجئے کمار رائے اور دنیش کمار یادو کی جانب سے دائر کی گئی دوسری عرضی میں بھی سی بی آئی جانچ کے لیے اسی طرح کی ہدایات کامطالبہ کیا گیا ہے۔
وہیں، راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) ایم پی سدھاکر سنگھ کی جانب سے دائر کی گئی تیسری عرضی میں گھوٹالے کے پیش نظر مندر ٹرسٹ کے تمام مالی معاملات کا فرانزک آڈٹ کرانے اور سپریم کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی تحقیقات کرانے کی درخواست کی گئی ہے۔
سنگھ کی پی آئی ایل میں سپریم کورٹ سے یہ ہدایت دینے کی بھی اپیل کی گئی ہے کہ شواہد سے کسی بھی قسم کی چھیڑ چھاڑ روکنے کے لیے تمام مالی ریکارڈ، جن میں کاغذی دستاویزات، ڈیجیٹل لیجر، یو پی آئی ٹرانزیکشن لاگ اور بینک اسٹیٹمنٹ شامل ہیں، کو محفوظ رکھا جائے۔
ساتھ ہی درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے تک ٹرسٹ کے فنڈکا استعمال، بڑےکانٹریکٹ دینا، تیسرے فریق کے حقوق قائم کرنا، ٹرسٹ کی جائیداد کی منتقلی، سرمایہ کاری یا دیگر اہم مالی وعدوں سے متعلق کوئی بھی بڑا مالی یا انتظامی فیصلہ مجوزہ عدالتی نگرانی والی کمیٹی کی منظوری کے بغیر نہ کیا جائے۔
غور طلب ہے کہ مندر چڑھاوے میں مبینہ گھوٹالے کی اس وقت دو متوازی جانچ چل رہی ہیں- ایک جانچ اتر پردیش حکومت کی تشکیل کردہ تین رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کر رہی ہے، جبکہ دوسری تحقیقات اتر پردیش پولیس کر رہی ہے۔
اس معاملے میں اب تک آٹھ لوگوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ 29 جون کو ایک مقامی عدالت نے تمام آٹھ ملزمین کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔
ایس آئی ٹی نے اویناش شکلا کو اس معاملے کا کلیدی ملزم بتایا ہے۔
معلوم ہو کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے ایف آئی آر درج کرنے اور معاملے کی عدالت کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کے مطالبے والی درخواست پر فوری سماعت سے انکار کر دیا تھا۔
وہیں، الہ آباد ہائی کورٹ میں بھی ایسی ہی راحت طلب کرنے والی درخواستیں زیر التوا ہیں۔