غور طلب ہے کہ8 جون 2018 کو بچہ چور ہونے کے شبہ میں ایک ہجوم نے ایک گاڑی کو روک کر ایک موسیقار اور اس کے دوست کو بے دردی سے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ وہ دونوں پکنک سے واپس آ رہے تھے۔ اب نگاؤں کی ایک خصوصی عدالت نے 20 ملزمان کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ سزا 24 اپریل کوسنائی جائے گی۔
علامتی تصویر بہ شکریہ Allen Allen/Flickr CC BY 2.0
نئی دہلی: آسام کے نگاؤں میں ایک خصوصی عدالت نے سوموار (20 اپریل) کو 2018 کے لنچنگ معاملے میں 20 ملزمان کو قصوروار قرار دیا۔ یہ معاملہ کاربی آنگلونگ میں ایک تاجر اور ایک موسیقار کی لنچنگ سے متعلق ہے، جنہیں بچہ چور ہونے کی افواہ کے سبب قتل کر دیا گیا تھا۔
معلوم ہو کہ 8 جون 2018 کو ایک ہجوم، جو ڈنڈوں اور تیز دھار ہتھیاروں سے لیس تھا، نے
ابھیجیت ناتھ (30) اور نیلوتپل داس (29) کی گاڑی کو روکا۔ انہیں باہر گھسیٹ کر بری طرح پیٹا گیا اور موقع پر ہی قتل کر دیا گیا۔ وہ دونوں پکنک سے واپس آ رہے تھے۔ اس وقت علاقے میں بچوں کے اغوا کی افواہوں سے خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا، جس کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔ نیلوتپل داس ایک موسیقار تھے اور ابھیجیت ناتھ ان کے دوست تھے۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، آسام پولیس نے اس معاملے میں 45 لوگوں کو گرفتار کیا اور تین نابالغوں کو حراست میں لیا تھا۔ 45 بالغ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔ گوہاٹی ہائی کورٹ کی ہدایت پر اس مقدمے کو کاربی آنگلونگ سے نگاؤں منتقل کیا گیا تھا۔
نگاؤں کی عدالت نے شواہد کے فقدان میں 25 ملزمان کو بری کر دیا۔ عدالت 24 اپریل کو 20 مجرموں کو سزا سنائے گی۔
مقدمے کے دوران بارہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے، جن میں سے آٹھ گواہ اپنے بیان سے مکر گئے، انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں سکھایا گیا تھا اور دباؤ ڈالا گیا تھا۔ دفاعی وکیل نے انہی تضادات کی بنیاد پر استغاثہ کے مقدمے کو چیلنج کیا۔
استغاثہ نے دلیل دی کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت مجسٹریٹ کے سامنے ریکارڈ کیے گئے بیانات قابل قبول ثبوت ہیں۔ عدالت نے اس دلیل کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ گواہوں کے پہلے دیے گئے بیانوں کو صرف بعد میں مکر جانے کی وجہ سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
خصوصی سرکاری وکیل نے بتایا کہ عدالت نے ملزمان کو تعزیرات ہند کی دفعات 302 (قتل)، 143 (غیر قانونی اجتماع)، 147 (فساد)، 149 (غیر قانونی اجتماع)، 186 (سرکاری ملازم کو فرائض کی ادائیگی سے روکنا) اور 332 (سرکاری ملازم کو روکنے کے لیے چوٹ پہنچانا) کے تحت قصوروار قرار دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دفعہ 302 کے تحت سزا عمر قید سے لے کر سزائے موت تک ہو سکتی ہے اور استغاثہ سخت سزا کی توقع کر رہا ہے۔
دفاعی فریق نے دلیل دی کہ یہ واقعہ افواہوں سے پھیلے خوف کے ماحول میں پیش آیا اور گواہوں کے بیانات اور جانچ کے عمل کے بعض پہلوؤں پر سوال اٹھائے۔