پرکالا پربھاکر سے اشعر نجمی تک: نئے ہندوستان کی مخدوش جمہوریت کا نوحہ

اشعر نجمی کی کتاب چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔

اشعر نجمی کی کتاب چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔

کتاب کا سرورق

اشعر نجمی کی کتاب ’انتخابی آمریت-اکیسویں صدی میں جمہوریت کے مخملی دستانے’کے مطالعہ کے بعد جب میں اس کےتحقیقی مندرجات  اور تجزیے کےمنہاج پر غور کرتے ہوئے اپنے تاثرات اور فکری احوال کو مرتب کرنے کی سعی کر رہا تھا تو ایک خوشگوار حیرت کے ساتھ ذہن میں یہ بات آئی کہ پرکالا پربھاکر جیسے جید دانشور کی کتاب ‘نئے بھارت کی دیمک لگی شہتیریں’ بھی ہماری جمہوریت کی تنزلی کو اسی نوع کی حق گوئی اور بے باکی کے ساتھ موضوع  بناتی ہے، جو مثلاً اشعر نجمی کےاس  نان فکشن کا بنیادی فلسفہ ہے ۔

یقین جانیے، اگر آپ نے پرکالا پربھاکر کی یہ کتاب پڑھ رکھی ہے تو اشعر نجمی کی پیش نظرکتاب اپنے معنوی تسلسل میں بھی آپ کو فہم و فطن کے نئے اور اعلیٰ و ارفع علمی زاویہ سے ثروت مند کرنے  کی اضافی قوت رکھتی ہے۔

اور فرض کیجے کہ سیاسیات کے باب میں اس موضوع پر یہ ہمارا اولین علمی تجربہ بھی ہے  تو اشعر نجمی کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے پیچیدہ اور دقیق تصورات کی فرہنگ مرتب کرنے کے بجائےہندوستانی سیاست کے تناظر میں  اس کے فہم و ادراک کی عملی راہیں روشن کی ہیں اور اپنے سلجھے ہوئے استدلال اور تجزیے کو سچائی  کے ٹول کے طور پربخوبی استعمال کیا ہے۔

ایک طرح سے یہ کتاب اکیڈمک اور جرنلسٹک رائٹنگ کے درمیان تجزیے  کے اس اسلوب کی تشکیل ہے،جس میں مشاہدے  کے بہر پہلو داخلی اور خارجی حوالے در آتے ہیں، اور یہ حوالے وسوسے، اندیشے، خدشات اورتاویلات کی تصدیق سے ذرا پہلے اپنے تاریخی حافظے کا بوجھ جھٹک کرمعنوی تسلسل کی ہمرہی میں عصری صداقتوں کا آئینہ بن جاتے ہیں۔

اور یہاں پرکالا پربھاکر کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے میرے ذہن میں صرف یہ نکتہ ہے کہ  میں اشعر نجمی کی کتاب کے بارے میں کسی بھی طور پر یہ تاثر نہیں دینا چاہتا کہ اُردو کی حد تک یہ کوئی بڑا کارنامہ ہے یا اشعر نجمی نے اُردو والوں کی آبرو رکھ لی ہے، ہاں یہ ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ کتاب ہماری رسائی کی حد تک کسی بھی زبان میں جامع اور دستاویزی تجزیہ ہے۔

جہاں تک پربھاکر کی کتاب  کا قصہ ہے تو یہاں اس کامطلب سادہ لفظوں میں یہ ہے کہ ان دونوں کتابوں میں ایک نوع کا فکری اورمعنوی ربط بھی ہے، اور یہ وہی باہمی ربط یاعلمی تسلسل ہے جو کسی بھی ذی شعور اور ذہن رسا کےمنطقی اور تنقیدی اپروچ کے طفیل ظہور پذیر ہوتا ہے۔

دراصل، ان کتابوں کا بنیادی موضوع قدرمشترک ہے اور ان میں ارباب اقتدار کے حضور حق گوئی کی جسارت اور جرأت بھی ایک سی ہے اور یہ کئی جگہوں پرہماری معیشت کی بازی گری، سیاسی شعبدہ  بازی اور سماجی دراڑوں  کے حوالوں کو اپنی طرح سے نشان زد کرتی ہے اور مقتدرہ کی بے لاگ تنقید سے بھی گریز نہیں کرتی۔

اگر میں اپنی اس رائے کوکسی اور طرح سے قلمبند کرنا چاہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ یہ دونوں کتابیں ہمارے عہد کی گواہی  ہیں اور اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ ہماری خاموشی کسی بھی صورت میں مصلحت  اندیشی نہیں ہو سکتی۔ اور اس مصلحت پسندی کے خلاف کسی حد تک ہماری دست اندازی اور مزاحمت شاید یہی ہے کہ ان آوازوں میں اپنی آواز ہی ملانے کی چھوٹی سی کوشش کر لی جائے۔

بہرحال، ان کے اپروچ پر بات کروں تو کہہ سکتا ہوں کہ یہ کتابیں آئینی اداروں کی بالا دستی اور ہمارے جملہ ثقافتی، لسانی،  مذہبی اور جغرافیائی تنوع کے امتزاج سے پیدا ہونے والی ہندوستانی روح کو آئین اور آئینی اقدار کی ضمانت میں پھر سے انسانی آزادی کا ترانہ بنتے دیکھنا چاہتی ہیں، لیکن سیاست کی جکڑ بندیوں  نے اس روح   کوہی تار تار کر دیا ہے۔

ایسے میں فطری طور پر اس واقعہ کے بعد کا ‘جمہوری’ ہندوستان  ترجیحی طور پر پرکالا پربھاکر کے ہاں ہے اور اشعر نجمی کے ہاں اس کی توسیعی صورت بھی ہے، اور اس باب میں دونوں ایک نوع کی دردمندی کے ساتھ اپنے یکساں خدشات کا اظہارکرتے ہیں۔

دونوں کسی ان دیکھے اور اندوہناک صورتحال کے بارے میں متنبہ کرتے ہیں، شہری اور رعایا  کے بین فرق اور بُعد میں عصری صداقتوں کو پیش کرتے ہوئے ہمارے عہد کی ہولناکیوں کا خاکہ مرتب کرتے ہیں، اقلیتوں کے عذاب کا قصہ لکھتے ہیں ، ہماری دانش گاہوں کی بربادی کا نقشہ کھینچتے ہیں، میڈیا کے پروپیگنڈہ اوران کے ‘گپیں ہانکنے’ کے اطاعتی مشغلہ کی ساری سیاست کا تجزیہ کرتے ہیں  – اس تجزیے میں آمر کی صورت بنتی جاتی ہے اور یہ تصویر ایک جیسی ہونے کے باوجوداتنی ہی مختلف ہےجتنی رنگوں کے  ترجیحی آمیزہ کے باعث ہو سکتی ہے۔

بہرحال ، یہاں اس معنوی اور فکری ربط سے قطع نظراشعر نجمی کی کتاب دنیا بھر کی آمریتوں اور سیاسیات کی متعلقہ تاریخ کا تجزیہ کرتے ہوئے ہندوستانی سیاست اور اس کی جمہوریت کو موضوع بناتی ہے، جبکہ پربھاکر خصوصی طور پرمودی-شاہ کے ہندوستان کے دلدل کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔

 دراصل پربھاکر کے ہاں مودی- شاہ، بی جے پی اور آر ایس ایس کی آمریت کا ہمہ گیر اور خصوصی حوالہ ہے، یہ بھی کہہ  سکتے ہیں کہ پربھاکر نے ‘ خبروں کے کباڑ’ سےحقائق کی تشکیل کی ہے اور بے لاگ تنقید کو اپنا شیوہ بنایا ہے، وہیں اشعر نجمی  کے تجزیے میں حقائق کی تشکیل کا یہ محض ایک اسلوب ہے اس لیے ان کے ہاں سیاسیات کی تاریخ، ڈیٹا پر مبنی شواہد  اورمتعلقہ ممالک کے تاریخی حوالوں کو پیش کرتے ہوئے ہمعصر ہندوستان  کی سیاست کی تفہیم میں عالمی موازنے کی ایک  تفریدی  صورت  نظرآتی ہے ۔

میں یہاں سیاسیات اورسماجیات کے باب میں ڈیٹا سائنٹسٹ کے طور پر پربھاکرکی مہارت کو خصوصی طور پرنشان زد کرنا چاہتا ہوں اورتیلگو لٹریچر میں ان کی قابل قدر خدمات کو  بھی فراموش نہیں کرنا چاہتا، ایسے میں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک ڈیٹا سائنٹسٹ اور اقتصادیات کے ماہر کی حیثیت سے بھی پربھاکر نے اپنے ادبی پس منظر سے کسی نہ کسی طور پر استفادہ کیا ہے، وہیں اشعر نجمی نے بھی ادب اور ادبی صحافت کے کل وقتی جنون کے باوجود ڈیٹا سائنس کے فن سے کہیں نہ کہیں ڈیٹا اینالسٹ کی طرح ہی معاملہ کیا ہے اور سیاسیات کا گہرا مطالعہ پیش کرنے میں صدگونہ کامیابی حاصل کی ہے۔

سرورق بہ شکریہ: ایکس

عین ممکن ہے کہ آپ ان باتوں کو  موازنے یا تقابلی مطالعے کی کوئی صورت قرار دے دیں، لیکن میں کہوں گا کہ یہاں ان کے اپنے اپنے مشاہدات اور فکری دائرے ہیں اور ان میں وہی مماثلت در آئی ہے، جو نفس مضمون کی ماہیت میں ممکن ہے۔

بہرحال، اشعر نجمی نے ایک بڑی کتاب لکھی ہے اور ایک مظلوم شہری کی حیثیت سے بھی اپنی جذباتیت کو رسوا نہیں ہونے دیا ہے۔

شاید اس لیے یہ کتاب  ان کے سیدھے قلم کی لکھاوٹ معلوم ہوتی ہے اور اس میں  ان کا مشاہدہ اور تجربہ ان تجربات و حوادث کی بھی بازدید ہےجو ایک شہری کے طور پر ہماری اجتماعی سائیکی کو بتدریج تبدیل کرنے کےعمل میں خوف کا استعارہ  بنتا جا رہا ہے۔

فطری طور پر یہاں اقلیت کے سوال ہیں، وجودی شکست و ریخت کے احوال ہیں اور ان سب سے بڑھ کر جمہوریت کے تحفظ کی گاتھا ہے، لیکن اس سے پہلے یہ کتاب  ایک پیٹرن قائم کرتی ہے، جہاں اشعر نجمی امر واقعہ، اس کے اثرات اور دیگر عوامل کو بروئے کار لاتے ہوئے اکیڈمک انداز میں حقائق کی تشکیل کرتے ہیں، اس کے بعد ہماری جمہوریت  کی سیاسی بازی گری کو اپنے اندیشے اور خدشات  کی روشنی میں پیش کرتے ہوئے اس آہنی شکنجے سے روبرو کراتے ہیں جس کی آٹوکریسی مرگ انبوہ کے احساس کو ہمارے اندر مسلسل زندہ رکھنا چاہتی ہے۔

اپنے اس تجزیہ میں وہ اس پہلو کو بھی ڈھونڈ لائے ہیں، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں انتخابی آمریت محض شخصی واقعہ نہیں اور اس کے مقامی تشخص سے الگ ایک واقعہ اور ہے جہاں عالمگیر آمریتوں کے پس پردہ اس مشترکہ سیاسی کھیل کے کرداروں  کی ملی بھگت ہے۔

ایسے میں’خبروں کے کباڑخانے’ میں دفن سچائیاں بھی ان کا اسلوب وضع کرتی ہیں اور سیاسیات کے اکیڈمک مباحث، تجزیے،تبصرے اور  سیاسیات سے متعلق تاریخ نویسی کا فن بھی ان کے فکری صیغہ کو متشکل کرتا ہے۔

یوں کہیں تو عالمگیر آمریت کے متعلقہ حوالوں کے ساتھ یہ کتاب موجودہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ کا عمیق مطالعہ ہے۔ اگر میں اس کتاب کی شعریات پر بات کروں تو کہہ سکتا ہوں کہ یہ ہمیں سیاسیات کے باب میں بھی تاریخ و تہذیب  کے مطالعہ کے آداب سکھلاتی ہے اور ہمعصر سیاسیات کی  گرہ کشائی میں تاریخ نویسی  کا بوجھ نہیں اٹھاتی بلکہ معنوی تناظر کو وسیع کرتی ہے۔

اس ہنرمندی کو محسوس کرتے ہوئے سیاسیات کو علم کی حیثیت سے دیکھا جائے تو اشعر نجمی نے  جامعیت کے ساتھ اس کے مفہوم کو بھی پیش کیا ہے اور اپنے تجزیے کو کہیں بھی اس کے منطقی ربط سے الگ نہیں ہونے دیا ہے۔

بہرحال، کتاب – جین زی کے نام ہے، اور اس انتساب میں واضح طور پران انقلابی آہٹوں کو سننے کی سعی کی گئی ہے جو کئی معنوں میں شخصی اور ادارہ جاتی آمریت کے خلاف جمہوریت کے پیغام میں یقین رکھنا چاہتی ہیں اور دنیا کو جمہوری قدروں  کی پامالی کے خلاف بیدار کرنا چاہتی ہیں۔

ایک طرح سے یہ انتساب  اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ روایتی دنیا سے الگ نئی دنیا میں جمہوریت کی صورت بھی گلوبل معاشرے کی انسانی آزادی پر زیادہ منحصر کرے گی۔

مثال کے طور پر یہاں بھی قومیت کا تصور ہوگا ، لیکن اس تصور میں گلوبل معاشرے کی شہریت بھی قابل ذکر طور پر شامل ہے، سیاسی پابندی اور بیانیے کی سیاست سے زیادہ انسان کی آزادی کے فطری اصول دنیا کا رہن سہن طے کریں گے۔

اس واقعہ کو یوں دیکھا جا سکتا ہےکہ ہماری جمہوریت انتخابی آمریت کے لبادے میں جمہوریت کا بھرم پیدا کرکے انسانوں کی آزادی پر حملہ آور ہے، اور یہ تو ہمارا بھی مشاہدہ ہے کہ مذہبی اقلیتوں کے وجود کو کس طرح سیاسی بیانیے میں تبدیل کر دیا گیا ہے اور ایک بڑی بھیڑ کو اس بیانیے کا زہر آلود گھونٹ پلا دیا گیا ہے۔

اسی تسلسل میں تمام آئینی اداروں کی خودمختاری چھین لی گئی ہے اور جمہوری نظام کے اندر ہی آمرانہ رویوں کو ہر طرح سے مستحکم کرنے کا کھیل جاری ہے۔

ایسے میں اشعر نجمی نےنئے ہندوستان  کی وہی کربناک تصویر اتاری ہےجو ہمارے وجود پر سایہ فگن ہے،لیکن یہاں انہوں نےاپنے تجزیے کے دروبست میں اس کھیل کے درمیان ہمارے سروائیول ہارر اور سائیکلوجیکل  ہارر کوبھی گرفت میں لیا ہے اور آمریت کے اس انجام کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، جہاں سے جمہوریت کی واپسی محال نظر نہیں آتی ہے۔

یہاں یہ کہنا چاہیے کہ اشعر نجمی نے اپنے تجزیے میں کہیں بھی زبانی جمع خرچ نہیں کیا ہے، ان کے پاس  بیش قیمتی تحقیقی مواد ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اس مواد  کے علمی تفتیش کا طریقہ ہے جہاں وہ  صورتحال کے  داخلی اور خارجی  احوال کو دیکھنے کی سکت رکھتے ہیں، شاید اس لیے وہ  جمہوریت کی واپسی کا نقشہ بھی یہاں سنجیدگی سے ترتیب دیتے نظر آتے ہیں۔

اس طور پر میں یہاں اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ اشعر نجمی نے ایک ایسے وقت میں یہ کتاب ہمارے ہاتھوں میں تھمائی ہے، جب پوری دنیا کسی نہ کسی طور پر شخصی آمریت کے نرغے میں ہے اور جمہوریت کے نام پر انتخابی آمریت نے بیانیہ کی سیاست کو مسلط کر دیا ہے۔ بیانیہ کی اس سیاست میں اکثریت کی نفرت بھی ہمارے لیے ہر نئے دن کی بدیہی حقیقت ہے، اور مقتدرہ کی اس ہوشیاری اور عیاری میں بلڈوزر جسٹس جیسے تصور نے جہاں عدلیہ کے تقدس کو پامال کیا ہے وہیں اس انصاف کے جشن نے اکثریت کو انتخابی آمریت کے کل پرزہ میں تبدیل کر دیا ہے۔

یہاں ہماری سیاست بڑی خوبی سے اپنی رعایا کا انتخاب کرتی نظر آتی ہے اور اس پورے عمل میں جابرانہ حکمت عملی کو جمہوریت کے منظم ڈھونگ میں چھپا لیا جاتا ہے۔

اشعر نجمی اس ڈھونگ اور سوانگ کو صرف بیان نہیں کرتے بلکہ اس بہروپیے کے اردگرد بلند ہونے والے شور میں اس کے نفسیاتی خوف کا بھی جائزہ لیتے ہیں ، جہاں ہمیں بہرحال جمہوریت کی بحالی  کامژدہ سنائی پڑتا ہے۔

بہرحال، شہریت اور دراندازی کے تصور سے لے کر ایس آئی آر  کےعمل تک نئے ہندوستان کی کہانی ، جو ہماری بیتی بھی ہے – اشعر نجمی نے اس طرح کے تمام حربوں کے پیچھے کی کہانی لکھی ہے، اور گلوبل معاشرے میں یہ کس طرح سے موجود ہے اور اس کے کیا اثرات ہیں – ان سب کو اس کتاب   میں نئے معنوی سیاق میں پڑھنا دلچسپ ہے۔

یوں کہہ سکتے ہیں کہ یہ کتاب ہمیں ہرطرح سے باخبر رکھنے کی بامعنی کوشش ہے۔ اور یقین جانیے کہ موجودہ نظام میں سچ بولنے کے جتنے خطرات ہیں، اشعر نجمی نے ان تمام خطرات کے درمیان یہ سیدھی سچی کتاب لکھی ہے۔

اس لحاظ سے یہ کتاب اس بشارت کی طرح ہے جو جمہوریت کے مخملی دستانے میں پوشیدہ آہنی شکنجے  اور اس کی آمریت  کو بے نقاب کرتے ہوئے  گلوبل معاشرے کی ڈکٹیٹر شپ کو سامنے لانا چاہتی ہے اور ان تمام عوامل کا تجزیہ کرتی ہےجو اپنے مقامی تشخص کے باوجودکوئی مقامی واقعہ نہیں  بلکہ عالمی مہم کا ہی حصہ ہے۔

اشعرنجمی نے ہمارے عہدکو جمہوریت کے اندرونی انہدام کا عہدکہا ہے اور  اس کی تفہیم میں انہوں نے آمریت کے روایتی تصور کے ساتھ ہی انتخابی آمریت کے جدید تصور کو پیش نظر رکھا ہے۔

اس باب میں انہوں نے جمہوریت کے فریب کو بڑی خوبی سے واضح کیا ہے۔ یہاں جن کتابوں اور مفکرین کے حوالے دیے گئے ہیں اور ان  کو جس طرح اپنے فکری سروکار کا حصہ بنایا گیا ہے – اور ہمارے  دیکھے بھالے اور کئی بار بھوگے  ہوئے سچ کے تناظرات کو بھی روشن کیا گیا ہے، یہاں سچ پوچھیے تو ان سب کو پڑھتے ہوئے اور محسوس کرتے ہوئے ہمارے جمہوری نظام کے اندرونی انہدام کی صورتیں خود بخود نمایاں ہونے لگتی ہیں اور کئی بار ہم  انہدام کی ان صورتوں سے مکالمہ بھی قائم کرنے لگ جاتے ہیں۔

اس طرح یہ کتاب روکتی ہے، ٹوکتی ہے اور یاد آوری کے عمل میں ہمارے تجربات کی شناخت / تصدیق  بھی کرتی  جاتی ہے۔  اصل میں یہ اس کتاب کا وہ پہلو ہے جہاں قاری بھی متن کی تشکیل میں شامل ہو جاتا ہے اور یہاں قاری کی یہ شرکت اس کتاب کو ایک مکمل  اور بامعنی ڈسکورس میں تبدیل کر دیتی ہے۔

اشعر نجمی نے اپنے بیانیہ کی یہ شفاف صورتیں عالمی تاریخ کی کروٹوں اور سیاسیات کے معنی خیز حوالوں سے ہی تشکیل نہیں دی ہیں بلکہ ان کے استدلال میں عصری سیاسیات کے بیانیے اور اس کے نتائج  کی بیخ کنی کو بڑی اہمیت حاصل ہے، شاید اس لیےیہ کتاب صرف جمہوریت کو سمجھنے کی سعی نہیں رہ گئی ہے، یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہمارے نفسی وجود کا نوحہ بھی جمہوریت کی اس پسپائی کے بطون میں رقم ہوگیا ہے۔


اس طور پر یہاں ان باتوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ ہندوستان میں آمریت نے کس طرح اپنی شکل اختیار کی ہے؟ اس میں قوم پرستی اور مذہبی نعرے نے کیا رول ادا کیا ہے؟  ہمارے وقت کا آمر اپنی مرکزیت کو کس طرح قائم کرتا ہے؟ کارپوریٹ، میڈیا ، عدلیہ  اور تمام جمہوری ادارے کس طرح فرد واحد کے مقصد کی تکمیل کرتے ہیں اور ایک پورا نظام اپنے داخلی انہدام  کے توسط سے اس انتخابی آمریت کا آلہ کار بن جاتا ہے …؟


بہرحال،  دنیا بھر کی آمریتوں کا یہ مطالعہ جہاں اس کتاب کا ایک سیاق ہے وہیں نہرو، اندراگاندھی اور راجیو گاندھی وغیرہ سے مودی تک کے جمہوری ہندوستان کا تجزیہ اس کتاب میں جمہوریت کے اندرونی اور بتدریج انہدام کا قصہ  ہے، جو کئی معنوں میں عبرتناک بھی ہے۔

اس قصہ گوئی میں انہوں نے ان ادوار کا بھی تجزیہ کیا ہے،جہاں سیاست بتدریج پالیسیوں کے بجائے شناخت اور نفرت کا محور بنتی نظر آتی ہے اور بالآخر بیانیہ کی سیاست  میں پناہ حاصل کر لیتی ہے۔

دراصل ،اشعر نجمی یہاں ہندوستان کی جمہوری تاریخ اور کسی حد تک برٹش انڈیا کا بھی مطالعہ کرتے ہیں اور بجا طور پر 2014 کے بعد کے جمہوری زوال کی جڑوں تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔

یہاں سیاسیات کے مطالعہ میں  تاریخ کی  یہ خبر گیری  ہمیں بتاتی ہے کہ مودی کا ہندوستان حال کا کوئی واقعہ محض نہیں ہے اور الگ الگ وقتوں کی مصلحت پسندی نے اس ہندوستان کی تشکیل میں  کلیدی رول ادا کیا ہے۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)

اسی طرح اشعر نجمی نے  جمہوریت کے نام پر سینت سینت کر رکھے گئے نوآبادیاتی وراثت  کے ان پہلوؤں کا بھی تجزیہ کیا ہے، جس نے ہمارے جمہوری نظام میں انتخابی آمریت کو قوت بخشی اور یہی وراثت  آج بھی مودی  –  شاہ کے نئے ہندوستان کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

بہرحال، لیوٹسکی،آرنٹ، ایڈورنوسوولک جیسے بعض مفکرین کے علاوہ رجنی کوٹھاری، امرتیہ سین، جیاں دریزاورنندنی سندر تک کے حوالوں اور تجزیوں کی روشنی میں اشعر نجمی کے استدلال کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے  کہ یہ نظریات سیاسیات، اقتصادیات،سماجیات اور کئی بار قانون کے نفاذکے باب میں ہی چشم کشا نہیں ہیں بلکہ ہندوستان جیسے ممالک میں ان نظریات سے پیدا ہونے والے خدشات کی مجسم اور ڈراونی صورتیں مسلسل ظہور پذیر ہیں، اس طور پر تھیوری اور آئیڈیالوجی کے بہر پہلو مشاہدات  کے یہ حوالے ہمارے آمروں کے رویے اور فیصلے میں کن کن صورتوں میں موجود ہیں ، ان سب کو اشعر نجمی نے بڑی خوبی اور جسارت کے ساتھ پیش کر دیا ہے۔

اشعر نجمی اپنی اس کتاب میں آج کے ہندوستان میں مزاحمت کی بدلی ہوئی صورت پر بھی بات کرتے ہیں اور شاہین باغ کی تحریک ہو یا کسانوں کی تحریک – ان سب کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ کئی حوصلہ افزا باتوں کے ساتھ آمر کے نفسیاتی حربوں کو پیش کرتے  ہوئے اس کے ڈر اور خوف کی جہتیں بھی نمایاں کرتے ہیں۔

یہاں مزاحمت کی بدلی ہوئی صورت یہ ہے کہ حقیقت کو پیچیدگیوں میں الجھا دیا گیا ہے اور پروپیگنڈہ  کے سارے ٹول ایکٹو کر دیے گئے  ہیں۔

ایسے میں مزاحمت کی کوئی بڑی لہر  بنتی نظر نہیں آ رہی۔ تو کیا تبدیلی کی  راہیں مسدود  ہیں، اس طرح کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے اشعر نجمی  آمریت کی فطرت میں ہی ان پہلوؤں کو تلاش  کر لیتے ہیں جن میں جمہوریت کی بحالی کا موقع ہوسکتا ہے۔

اپنے اس استدلال کو وہ عالمگیر آمریتوں کے حوالے سے بھی ٹھوس بناتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں  کہ آمریت کی یہ بلند وبالا اورعظیم الشان عمارت اندر سے کتنی کھوکھلی  ہوتی ہے ۔

بہرحال،ہم اسی آمرانہ رویے پر دوسری طرح سے بات کرنا چاہیں تو فادراسٹین سوامی کی موت کو یاد کرتے ہوئے مجھے اس باب میں اشعر نجمی کے ساتھ پرکالا پربھاکر کا تجزیہ بھی یاد آتا ہے کہ دونوں اس کو’قتل‘ قرار دیتے  ہیں اور اس ’قتل‘ کے پیچھے اسی آہنی شکنجے کی بے حسی کی بات کرتے  ہیں جو آمریت کا ہتھیار ہے۔

یہاں مجھے ذاتی طور پر محسوس ہوتا ہے کہ اشعر نجمی نےتاریخ کے ساتھ ساتھ موجودہ  ہندوستان کی ہر کروٹ کوپڑھنے کی سعی کی ہے۔ اس لیے شاید ہی  کوئی واقعہ ہو جو حوالے میں در نہیں آیا ہے،حتیٰ کہ  گلگوٹیا یونیورسٹی کےسینٹر آف ایکسیلینس کے فرضی دعوے  اور ایپسٹین فائلز کے قصے تک کا انہوں نے جائزہ لیا ہے اور اس ہندوستان کی مکمل تصویر اتار دی ہے جہاں نفرت کے خلاف محبت کی دکان تک کا منظر ہم دیکھ رہے ہیں۔

یہ کتاب اصل میں چھوٹے چھوٹے سبق کی طرح جمہوریت کے مکمل نصاب کا احاطہ کرتی ہے اور انتخابی آمریت کے قوی ہیکل دیو کے حشر کی کہانی بھی کہتی ہے۔

گویا اشعر نجمی کی مجتہدانہ بصیرت یہ ہے کہ وہ اپنے مضمون کے حوالہ جاتی متون سے واقف ہیں اور نفس مضمون کے داخلی اور خارجی شہادتوں کا تجزیہ کرتے ہوئے نتائج برآمد کرنا ہی نہیں جانتے بلکہ حل اور سفارشات بھی پیش کرتے ہیں۔

اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی ہے کہ آج جب ہمارے سامنے سے صداقتوں کو غائب کر دیا گیا ہے ، صحافت کو پروپیگنڈہ میں تبدیل کر دیا گیا ہے  بلکہ اشعر نجمی کے لفظوں میں کہیں تو ہماری صحافت بھی آمریت کا ڈھول پیٹ رہی ہے، اور اپوزیشن کوضرورت بھر زندہ رہنے کی آزادی ہی میسرہے – یہ کتاب ہمیں ہمارے عہد کی مکروہ سچائیوں کے بارے میں بتاتی ہے اور ہمارے درمیان سے گمشدہ سچائیوں کو سامنے لانے کی تگ ودو کرتی ہے۔

یہ کتاب اپنے پڑھنے والے کے ذہن میں موضوع کا فہم پیدا کرنےمیں بھی صدگونہ کامیاب ہے،اور اس کی وجہ شاید وہی ہے کہ لکھنے والے کے ذہن میں موضوع کا ادراک ہے، سمجھ ہے اور کھلی آنکھوں سے اس نے گردوپیش کا مشاہدہ کیا ہے۔

اس کی ایک اور وجہ شاید یہ بھی ہو کہ اثبات کے حالیہ شماروں، یعنی –نیا ہندوستان پرانا مسلمان اورمزاحمت کا نیا پیش لفظ -کی ترتیب کاری نے ان کی خرد افروزی کو مزید صیقل کیا ہو،اس لیے اس قدر اکیڈمک اور تہہ دار موضوع پر انہوں نے جالا بننے کے بجائے بصیرت افروزاور صاف شفاف تجزیہ  پیش کیا ہےاورموضوع کی حقیقت کو بھی اجاگر کر دیا ہے۔

یہاں یہ بات اس لیے بھی قابل ذکر ہے کہ اشعر نجمی نے ادب بالخصوص فکشن میں اپنے امتیازات قائم کیے ہیں، ایسے میں ایک قاری کے طور پر میرے لیے یہ ایک خوش کن تجربہ ہے کہ انہوں نے اس کتاب کے توسط سے نان فکشن میں بھی اپنے اسلوب کو دریافت کیا ہے۔

حالاں کہ مجھے ذرا ساگمان یہ تھا کہ اشعر نجمی نے انتخابی آمریت کے زمانے کا ادب اور ادبی ادارے پربھی اپنا مشاہدہ پیش کیا ہوگا، اور شاید اس کی گنجائش تھی بھی، لیکن انہوں نے اس کتاب کو ہر طرح سے سیاسیات کے خالص تجزیے میں ڈھال دیا  ہے۔

اس کے باوجود  یہاں بھی پڑھنے والوں کے لیے کلیدی اشارے بہت واضح ہیں،شاید اس لیےیہاں ہمیں ان کا منطقی استدلال اپنے فکری سروکار اور حقیقت پسندی کے ساتھ صداقتوں کے تحفظ کا آئینہ  زیادہ معلوم ہوتا ہے۔

بہرحال،یہ کتاب خصوصی طور پرہر اس ہندوستانی شہری کو پڑھنی چاہیے جو اپنی تاریخ اور مکر و فریب کی سیاست کے درمیان موجودہ  ہندوستان کی سچائی کا متلاشی ہے اورجمہوریت کے سمت و رفتار سےآگاہ ہونا چاہتا ہے۔

ان باتوں سے قطع نظرمجھے یقین ہے کہ یہ کتاب سیاسیات اور عمرانیات میں دلچسپی رکھنے والوں کو بھی علمی طور پر متوجہ کرے گی۔