عمر خالد کو ان کی ماں کے علاج کے لیے تین دن کی عبوری ضمانت ملی

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گزشتہ پانچ سال سے جیل میں بند اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد کو ہائی کورٹ نے تین دن کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ انہیں 1جون سے 3 جون تک کی راحت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیمار والدہ کی 2 جون کو ہونے والی میڈیکل سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 19 مئی کو خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

دہلی فسادات سے متعلق کیس میں گزشتہ پانچ سال سے جیل میں بند اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد کو ہائی کورٹ نے تین دن کے لیے عبوری ضمانت دی ہے۔ انہیں 1جون سے 3 جون تک کی راحت دی گئی ہے تاکہ وہ اپنی بیمار والدہ کی 2 جون کو ہونے والی میڈیکل سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔ اس سے قبل ٹرائل کورٹ نے 19 مئی کو خالد کی عبوری ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

عمر خالد، ٖفوٹو بہ شکریہ: فیس بک

نئی دہلی:دہلی ہائی کورٹ نے جمعہ (22 مئی) کو 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق مبینہ’بڑے سازشی‘معاملے میں جیل میں بند اسکالر اور ایکٹوسٹ عمر خالد کو تین دن کے لیے عبوری ضمانت  دی ہے۔

لائیو لا کے مطابق، جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ اور جسٹس مدھو جین کی بنچ نے انہیں 1 جون سے 3 جون تک کی راحت دی ہے تاکہ وہ اپنی بیمار والدہ کی 2 جون کو ہونے والی میڈیکل سرجری کے دوران ان کی دیکھ بھال کر سکیں۔

سماعت کے دوران عمر خالد کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ان کی والدہ کی سرجری 2 جون کو طے ہے اوراہل خانہ کو ان کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ان کے اہل خانہ نے ان کے چچا کے چہلم میں شرکت کی اجازت بھی مانگی تھی۔

تاہم، عمر خالد نے عدالت سے 15 دن کی عبوری ضمانت کی درخواست کی تھی، مگر عدالت نے صرف تین دن کی اجازت دی۔ عدالت نے ایک لاکھ روپے کا نجی مچلکہ جمع کرانے کا بھی حکم دیا۔

قابل ذکر ہے کہ 19 مئی کو ٹرائل کورٹ نے انہیں کوئی بھی راحت دینے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد انہوں نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

خالد کی جانب سے وکیل نے دلیل دی کہ اس سے پہلے بھی انہیں اپنی بہن کی شادی کے لیے عبوری ضمانت دی گئی تھی، اور بعد میں بھی دو بار اسی طرح کی راحت دی گئی تھی۔

دوسری جانب، دہلی پولیس کی طرف سے پیش ہوئے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی والدہ کو صرف ایک چھوٹی سی سرجری کروانی ہے اور ان کی بہنیں ان کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ خالد پولیس نگرانی میں اپنی والدہ سے مل کر ایک ہی دن میں واپس آ سکتے ہیں۔

دونوں فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے انسانی بنیادوں پر عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ اپیل کنندہ کو اپنی والدہ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے 1 سے 3 جون تک تین دن کی عبوری ضمانت دی جاتی ہے۔

عدالت نے ضمانت کے دوران کچھ شرائط بھی عائد کیں، جن کے مطابق عمر خالد دہلی-این سی آر میں ہی رہیں گے اور گھر سے صرف اسپتال جا سکیں گے۔ ان کے پاس صرف ایک موبائل فون ہوگا اور وہ جانچ افسر کے مسلسل رابطے میں رہیں گے۔

 تفصیلی شرائط حتمی فیصلے میں بتائی جائیں گی۔

قابل ذکر ہے کہ ٹرائل کورٹ نے اس سے قبل کہا تھا کہ خالد کو پہلے بھی عبوری ضمانت ملی تھی اور انہوں نے اس دوران کسی شرط کی خلاف ورزی نہیں کی تھی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر بار انہیں ضمانت دی جائے۔

ٹرائل کورٹ نے یہ بھی کہا تھا کہ ان کا اپنے چچا کے انتقال سے متعلق رسم میں شرکت کرنا اتنا ضروری نہیں ہے۔ انہیں چچا کے انتقال کے وقت ہی عبوری ضمانت کی درخواست کرنی چاہیے تھی۔ چچا کے انتقال کے کافی دن گزر جانے کے بعد عبوری ضمانت کا کوئی مطلب نہیں ہے۔

والدہ کی سرجری کے بارے میں ٹرائل کورٹ نے کہا تھا کہ ان کی دوسری بہنیں بھی ہیں جو ماں کی دیکھ بھال کر سکتی ہیں، اور سرجری بھی معمولی نوعیت کی ہے، اس لیے درخواست مسترد کی جاتی ہے۔

معلوم ہو کہ اس سے قبل سپریم کورٹ کی ایک بنچ نے 18 مئی کو ایک دوسری بنچ کے اس فیصلے پر سوال اٹھایا تھا جس میں عمر خالد اور شرجیل امام کو ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔

سپریم کورٹ نے اس سال جنوری میں خالد اور امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ یہ دونوں گزشتہ پانچ سال سے جیل میں بند ہیں۔ دہلی پولیس کا موقف ہے کہ یہ دونوں 2020 کے دہلی فسادات کی ’بڑی سازش ‘میں شامل تھے۔

اسی معاملے میں عدالت نےگلفشاں فاطمہ،میران حیدر، شفا الرحمٰن، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کو ضمانت دے دی تھی۔

سوموا کو جسٹس بی وی ناگرتنا اور جسٹس اجول بھوئیاں کی بنچ نے اس معاملے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ ضمانت اصول ہے اور جیل استثنیٰ۔ عدالت نے کہا کہ یہ اصول آئین ہند کے آرٹیکل 21 اور 22 سے ماخوز ہے، اور کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد ’بے گناہی کے مفروضے‘ پر ہوتی ہے۔