یوپی: ’آئی لو محمد‘ پوسٹ معاملے میں 7 مہینے سے جیل میں بند شخص کو ہائی کورٹ سے ضمانت ملی

الہ آباد ہائی کورٹ نے’آئی لو محمد‘تنازعہ سے جڑے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے سبب گرفتار کیے گئے مظفرنگر کے ندیم کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوسٹ میں کسی بھی ذات یا برادری کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ندیم کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کا ویڈیو اشتعال انگیز تھا۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے’آئی لو محمد‘تنازعہ سے جڑے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے سبب گرفتار کیے گئے مظفرنگر کے ندیم کو ضمانت دیتے ہوئے کہا کہ ان کی پوسٹ میں کسی بھی ذات یا برادری کا نام نہیں لیا گیا تھا۔ ریاستی حکومت نے ندیم کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ ان کا ویڈیو اشتعال انگیز تھا۔

سال 2025 میں’آئی لو محمد‘تنازعہ کے بعد اتر پردیش پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کیے جانے کے خلاف احتجاج۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: الہ آباد ہائی کورٹ نے منگل (5 مئی) کو اتر پردیش کے مظفرنگر میں گرفتار ایک مسلم شخص کو ضمانت دے دی، جنہیں’آئی لو محمد ‘تنازعہ سے جڑے ایک انسٹاگرام پوسٹ کے باعث گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ ان کی پوسٹ میں کسی بھی ذات یا کمیونٹی کا ذکر نہیں تھا۔

بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس راجیو لوچن شکلا نے کہا کہ ندیم 7 اکتوبر 2025 سے حراست میں ہیں اور اس معاملے میں چارج شیٹ بھی دائر کی جا چکی ہے۔ ان کے وکیل اتل کمار نے کہا کہ مقدمے کی سماعت جلد مکمل ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ عدالت نے دو ضمانت داروں کے ساتھ نجی مچلکے پر ندیم کو ضمانت دے دی۔

ریاستی حکومت نے ندیم کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ان کا ویڈیو اشتعال انگیز تھا، جس میں انہوں نے’آئی لو محمد‘نعرے کے لیے’اپنا اور دوسروں کا گلا کاٹنے‘کی بات کی تھی۔ پولیس نے اس نعرے کو ستمبر 2025 میں بریلی میں پیش آنے والے بدامنی کے واقعات سے جوڑا۔

گرفتاری کا پس منظر

ستمبر 2025 کے آغاز میں کانپور کے راوت پور علاقے کے ہندو باشندوں نے عید میلاد النبی کے جلوس کے دوران مسلمانوں کی جانب سے’آئی لو محمد‘نعرے کے استعمال کی مخالفت کی۔ جب مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے اس نعرے (ایک لائٹ بورڈ پر) کو برقرار رکھنے پر زور دیا تو بحث ہوئی اور پولیس کو بلانا پڑا۔

بورڈ کو ہٹا کر دوسری جگہ نصب کر دیا گیا۔ انڈین ایکسپریس نے اس واقعہ کے چند دن بعد رپورٹ کیا تھا کہ اس وقت پولیس نے کہا کہ کارروائی نعرے کے خلاف نہیں بلکہ اس لیے کی گئی کیونکہ جلوس ’طے شدہ راستوں‘ کی پابندی نہیں کر رہا تھا۔

چارستمبر کو ایک پولیس افسر کی شکایت کی بنیاد پر ایف آئی آر درج کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق، اس میں کہا گیا تھا،’راوت پور گاؤں میں کنو کباڑی کے گھر پر ’آئی لو محمد‘کا بینر لگا کر جان بوجھ کر ایک نئی روایت شروع کرنے کی کوشش کی گئی، جس کے نتیجے میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور تصادم کی صورت حال پیدا ہو گئی۔‘

کچھ دن بعد پولیس نے 24 افراد کے خلاف مزید ایف آئی آر درج کی، جن میں سے 15 نامزد تھے، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوئی تھی۔ یہ سب اس وقت شروع ہوا جب یہ الزام لگایا گیا کہ 5 مئی کو راوت پور میں بارہ وفات کے جلوس کے دوران ہندوؤں سے متعلق مذہبی پوسٹر پھاڑ دیے گئے تھے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، ایف آئی آر میں جن افراد کے نام شامل ہیں ان میں جلوس کے منتظم شرافت حسین، شبنور عالم، بابو علی، محمد سراج، فضورحمان، اکرام احمد اور اقبال شامل ہیں۔

پولیس نے اپنی کارروائی  کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ بینر اس علاقے میں لگایا گیا تھا جہاں سے رام نومی کے جلوس گزرتے تھے۔

بریلی میں کشیدگی اور احتجاج

چند ہفتوں بعد 26 ستمبر کو بریلی شہر میں پولیس کی کارروائی کو لے کر کشیدگی پیدا ہو گئی۔ اتحادملت کونسل کے مولوی مولانا توقیر رضا خان نے ایک مظاہرہ بلایا تھا۔ انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی تھی، لیکن اس کے باوجود یہ مظاہرہ ہوا۔

مظاہرین ایک میدان کی طرف مارچ کرنے لگے، اور جب پولیس نے انہیں روکا تو تشدد بھڑک اٹھا۔ مظاہرین پر پولیس پر پتھراؤ کرنے کے الزامات لگے۔ پولیس نے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا اور گرفتار کیے گئے لوگوں میں خان بھی شامل تھے۔ پولیس نے بدامنی پھیلانے کی سازش کا الزام لگایا۔

فرنٹ لائن کے بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق، جنہیں ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس نے جمع کیا تھا، کانپور کی واردات اور 23 ستمبر کے درمیان پورے اتر پردیش اور دیگر ریاستوں میں ’آئی لو محمد‘ نعرے کے حوالے سے کم از کم 21 ایف آئی آر درج کی گئیں، 1,300 سے زیادہ لوگوں کے خلاف مقدمات درج ہوئے اور درجنوں افراد کو گرفتار کیا گیا۔

ندیم کا معاملہ

مظفر نگر کے بڑھانہ تھانے میں ندیم کے خلاف درج ایف آئی آر ان معاملوں کے علاوہ ہے، کیونکہ یہ 6 اکتوبر کو درج کی گئی تھی۔ پولیس نے گرفتاری کی اطلاع دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں لکھا، ’بڑھانہ پولیس نے سوشل میڈیا پر فحش اور نازیباتبصرے کرنے کے الزام میں ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے۔‘

پولیس نے یہ بھی کہا کہ کسی کو بھی سوشل میڈیا پر قابل اعتراض تبصرہ نہیں کرنا چاہیے اور سب کو ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرنا چاہیے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ ندیم کی پوسٹ میں کسی بھی مذہب یا ذات کا ذکر نہیں تھا۔

رنگولی تنازعہ اور ’فرضی ‘واقعات

مہاراشٹر کے اہلیانگر (پہلے احمد نگر) میں مبینہ قابل اعتراض تبصرے والی ایک رنگولی کو لے کر جھڑپ ہوئی۔ این ڈی ٹی وی نے 29 ستمبر 2025 کو رپورٹ کیا کہ تقریباً 30 افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ایک ایف آئی آر درج کی گئی اور وزیر اعلیٰ دیویندر فڈنویس نے کہا کہ حکام اس بات کی جانچ کریں گے کہ کیا یہ  فرقہ وارانہ امن کو بگاڑنے کی کوئی ’سازش‘تھی۔

اتر پردیش کے علی گڑھ میں چار افراد کو مندر کی دیواروں پر’آئی لو محمد‘ لکھنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ بتادیں کہ  اس واقعے کے پیچھے ہندو نوجوانوں کا ہاتھ  تھا، جنہوں نے مبینہ طور پر اپنے مسلم پڑوسی کو زمین کے تنازعہ میں پھنسانے کے لیے یہ حرکت کی تھی۔پولیس نے کہا کہ نعروں میں ہجے کی غلطیوں کی وجہ سے ملزمان کی شناخت ممکن ہوئی۔