راہل گاندھی کی مبینہ دوہری شہریت کو لے کر کیس کرنے والے بی جے پی ممبر پر کروڑوں کے فراڈ کا الزام

کانگریس کے رکن پارلیامان راہل گاندھی کی مبینہ دوہری شہریت کو لے کر  عدالت جانے والے وگنیش ششیر کا نام کرناٹک میں کروڑوں روپے کے فراڈ کے کم از کم دو بڑے معاملوں سے جڑا ہے۔ خود کو بی جے پی کا رکن بتانے والے ششیر پر غبن اور زمین سے متعلق فراڈ کے الزامات ہیں۔

کانگریس کے رکن پارلیامان راہل گاندھی کی مبینہ دوہری شہریت کو لے کر  عدالت جانے والے وگنیش ششیر کا نام کرناٹک میں کروڑوں روپے کے فراڈ کے کم از کم دو بڑے معاملوں سے جڑا ہے۔ خود کو بی جے پی کا رکن بتانے والے ششیر پر غبن اور زمین سے متعلق فراڈ کے الزامات ہیں۔

راہل گاندھی کی شہریت کو لے کر مقدمہ دائر کرنے والے وگنیش ششیر اپنے سوشل میڈیا پروفائل میں خود کو سویم سیوک، بی جے پی رکن، قوم پرست اور محب وطن بتاتے ہیں۔ (تصویر: پی ٹی آئی اور سوشل میڈیا)

نئی دہلی: کانگریس لیڈر راہل گاندھی کی مبینہ دوہری شہریت کو لے کر اتر پردیش کی عدالتوں میں گزشتہ دو برس سے قانونی لڑائی لڑنے والے بنگلورو کے کاروباری اور خود کو بی جے پی کارکن بتانے والے وگنیش ششیر کا نام کرناٹک میں کروڑوں روپے کی مبینہ دھوکہ دہی کے کم از کم دو بڑے معاملوں سے جڑا ہوا ہے۔

انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، 36 سالہ ششیر اس وقت خبروں میں آئے جب الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے راہل گاندھی کی مبینہ برطانوی شہریت سے متعلق الزامات پر پولیس تحقیقات کی اجازت دینے والے فیصلےمیں اگلے ہی دن تبدیلی کر دی۔ اس معاملے میں جسٹس سبھاش ودیارتھی سے متعلق سوشل میڈیا پر ششیر کے تبصروں کے بعد جج نے خود کو سماعت سے الگ کر لیا تھا۔

کرناٹک بی جے پی کے کچھ رہنماؤں نے اخبار کو بتایا کہ ششیر شاذ و نادر ہی ریاستی یونٹ کی سرگرمیوں میں نظر آتے ہیں اور خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی رسائی دہلی کے کچھ رہنماؤں تک ہے۔

پہلا معاملہ: 9.6 کروڑ روپے کے غبن کا الزام

ششیر کے خلاف پہلا معاملہ 2016 میں درج کیا گیا تھا۔ اس میں ان کے والد ستیش کشیپ پر الزام ہے کہ ایڈیشنل رجسٹرار کے عہدے پر رہتے ہوئے، حکومت کی جانب سے مقرر کردہ لیکویڈیٹرکے طور پر انہوں نے نجی کمپنی سمپسنز اینڈ کمپنی اور اس سے منسلک ملازمین کی کوآپریٹو سوسائٹی سے فروری 2014 سے اگست 2016 کے درمیان 9.6 کروڑ روپے کا غبن کیا۔

چارج شیٹ کے مطابق، اس مبینہ غبن کی رقم کا بڑا حصہ وگنیش ششیر تک پہنچا۔ جانچ ایجنسیوں کا دعویٰ ہے کہ یہ رقم کئی کمپنیوں کے ذریعے منتقل کی گئی، جن میں چھوٹے ہائیڈرو پاور پروجیکٹس سے جڑی کمپنیاں بھی شامل تھیں۔ ان کمپنیوں میں ششیر کی ماں جی انیتا کو شراکت دار بتایا گیا ہے۔

عدالتی دستاویزوں کے مطابق، 5.80 کروڑ روپے چھوٹے چھوٹے حصوں میں این آر ایسوسی ایٹس نامی فرم کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے گئے، جسے خاندان کے قریبی آر نریش راؤ چلاتے تھے۔ اس کے علاوہ 2.40 کروڑ روپے سینٹرل انفرا انرجی کارپوریشن آف انڈیا نامی کمپنی میں منتقل کیے گئے، جہاں مارچ 2015 میں ششیر ڈائریکٹر بنے تھے۔

تاہم، ستیش کشیپ کا کہنا ہے کہ یہ رقم ایل ای ڈی بلب خریدنے کے لیے بھیجی گئی تھی، جبکہ سی آئی ڈی کی تحقیقات میں دعویٰ کیا گیا کہ یہ رقم کئی چھوٹی ہائیڈرو پاور کمپنیوں تک پہنچائی گئی۔

قابل ذکر ہے کہ30ستمبر 2025 کو خصوصی لوک آیکت عدالت نے ششیر، ان کے والدین اور نریش راؤ کو اس معاملے سے بری کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے تبصرہ کیا کہ سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ مبینہ رقم کی بازیابی یا ضبطی کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

آبی بجلی منصوبوں سے بھی وابستگی

رپورٹ کے مطابق، ششیر کا خاندان 12 چھوٹی آبی بجلی کمپنیوں سے وابستہ رہا ہے، جنہیں 2010 سے 2015 کے درمیان کرناٹک کے محکمہ قابل تجدید توانائی سے منصوبے ملے تھے۔

جون 2018 میں ان میں سے چھ کمپنیوں کو پیداوار شروع نہ کرنے پر منصوبہ ردکرنے کے نوٹس جاری کیے گئے تھے۔

دوسرا معاملہ: زمین کے سودے میں 3.36 کروڑ کی مبینہ ٹھگی

سال 2018 کے ایک اور معاملے میں ششیر پر بنگلورو کی 26 سالہ معذور خاتون ایاما ایم سے 3.36 کروڑ روپے اور 3,680 مربع فٹ کا پلاٹ مبینہ طور پر ہڑپنے کا الزام ہے۔

ایاما کو یہ زمین شمالی تحفے میں ملی تھی۔ جب وہ اسے بیچنا چاہتی تھیں، تو ششیر، ان کے والدین اور ساتھی کلنگا راؤ نے 3.36 کروڑ روپے میں خریدنے کی پیشکش کی۔

الزام ہے کہ بینکنگ کی محدود معلومات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ایاما سے جوائنٹ بینک اکاؤنٹ کھلوایا گیا اور خالی چیکوں پر دستخط کرائے گئے۔

فروری 2025 میں ضمانت پر رہا ہونے کے بعد ششیر اور دیگر ملزمان نے خود کو مقدمے سے بری کرنے کی درخواست دی، لیکن ٹرائل کورٹ نے کہا کہ مقدمہ چلانے کے لیے خاطرخواہ مواد موجود ہے۔

پولیس کا دعویٰ ہے کہ جوائنٹ اکاؤنٹ میں 3.36 کروڑ روپے جمع ہوئے، جن میں سے 83 لاکھ روپے ششیر نے 29 مارچ 2018 کو جمع کیے اور 2.47 کروڑ روپے پی این بی ہاؤسنگ فنانس سے آئے۔ بعد میں یہ رقم مختلف کمپنیوں میں منتقل کر دی گئی۔

ان میں ہائی آکٹین ورلڈ وائیڈ کافی کو 65 لاکھ روپے اور وگنیشورا اسٹیٹس اینڈ ٹورزم کو 2.02 کروڑ روپے منتقل کیے گئے۔ دوسری کمپنی ششیر نے 2017 میں شروع کی تھی۔

کافی کمپنی اور زمین کی خریداری پر بھی سوال

رپورٹ کے مطابق، ششیر کی سب سے کامیاب کاروباری اکائی ہائی آکٹین ورلڈ وائیڈ کافی لمیٹڈ بتائی جاتی ہے، جس نے 2022 میں رجسٹرار آف کمپنیز کے پاس 271 کروڑ روپے کی آمدنی ظاہر کی تھی۔

تاہم، پولیس ذرائع کے مطابق، کوڈاگو ضلع کے کریکے گاؤں میں 2022 میں 244.7 ایکڑ زمین کی خریداری کے معاملے میں بھی کم قیمت ظاہر کرنے کے الزامات کی تحقیقات جاری ہیں۔

ششیر خود کو قوم پرست بتاتے ہیں

اپنے سوشل میڈیا پروفائل میں ششیر خود کو سویم سیوک، بی جے پی رکن، قوم پرست اور محب وطن بتاتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ ’نیشن فرسٹ‘پر یقین رکھتے ہیں۔

جب اخبار نے ان کے خلاف مقدمے پر سوال کیا تو پہلے انہوں نے کہا کہ معاملے بند ہو چکے ہیں۔ بعد میں انہوں نے انہیں سیاسی طور پر محرک قرار دیا اور کہا کہ یہ سب راہل گاندھی کے خلاف اتر پردیش میں دائر معاملوں سے جڑا ہوا ہے۔

کرناٹک بی جے پی کے ایک کارکن نے کہا،’وہ بی جے پی کے رکن ہیں، لیکن کرناٹک میں فعال نہیں ہیں۔ وہ پارٹی دفتر نہیں آتے اور پروگراموں میں بھی کم نظر آتے ہیں۔ انہیں سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔‘

تاہم اسی کارکن نے کہا کہ راہل گاندھی کی برطانوی شہریت کے مسئلے پر ششیر مسلسل سرگرم ہیں اور اس موضوع پر دہلی کے کچھ رہنماؤں سے براہِ راست رابطے میں ہیں۔

کرناٹک قانون ساز کونسل میں بی جے پی لیڈر چلواڈی نارائن سوامی نے کہا کہ وہ نام سے واقف ہیں، لیکن کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا،’لوگ کہتے ہیں کہ وہ بی جے پی کارکن ہیں، لیکن مجھے اس کی معلومات نہیں ہے۔‘