بل کے لیے نہیں، کئی اور باتوں کے لیے نریندر مودی کو ملک کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے

گزشتہ 18اپریل کو اپنے خطاب میں نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں تین بلوں کے پیکیج کو منظور نہ کروا پانے پر ’ملک کی ماؤں اور بہنوں‘ سے ’معافی‘ مانگی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی مواقع سامنے آئے ہیں، جہاں وزیر اعظم مودی کے لیے معافی مانگنا زیادہ موزوں ہوتا۔

گزشتہ 18اپریل کو اپنے خطاب میں نریندر مودی نے پارلیامنٹ میں تین بلوں کے پیکیج کو منظور نہ کروا پانے پر ’ملک کی ماؤں اور بہنوں‘ سے ’معافی‘ مانگی۔ تاہم گزشتہ چند برسوں میں ایسے کئی مواقع سامنے آئے ہیں، جہاں وزیر اعظم مودی کے لیے معافی مانگنا زیادہ موزوں ہوتا۔

برج بھوشن سنگھ، کلدیپ سنگھ سینگر، آسارام باپو، گودھرا دنگے کا ایک مجرم  اور ان سب کے درمیان سب سے آگے مودی۔

نئی دہلی: سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ گزشتہ ہفتے پارلیامنٹ میں اپوزیشن جماعتوں نے جس بل کو مسترد کیا، وہ خواتین ریزرویشن بل 2026 نہیں تھا، بلکہ آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 تھا۔ اس بل کا مقصد حد بندی  کے ذریعے لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن نافذ کرنا تھا۔

لیکن مودی حکومت مطلوبہ دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی اور بل منظور نہ ہو سکا۔ اس میں لوک سبھا کی نشستوں کو بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز بھی شامل تھی، جس سے جنوبی اور مشرقی ریاستوں کے مفادات متاثر ہوتے۔

اس کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت یہ دعویٰ کرتی رہی کہ اس نے خواتین کے ریزرویشن کے لیے پوری کوشش کی، مگر یہ نہیں بتایا کہ 2023 کا اصل خواتین ریزرویشن بل اسی سال منظور ہو چکا تھا اور اپوزیشن نے اس کی مکمل حمایت کی تھی۔

دراصل، اپوزیشن جماعتوں کی مخالفت اس بات پر تھی کہ حکومت نے خاموشی سے خواتین ریزرویشن کو حد بندی کے ساتھ جوڑ دیا ۔

دریں اثنا، وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی ٹیلی ویژن پر اپوزیشن کے خلاف سیاسی حملہ  کیا، جسے ریاستی انتخابات کے دوران سرکاری ذرائع کے استعمال کے قواعد کی خلاف ورزی سمجھا گیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے اپوزیشن پر ’مادہ جنین کےقتل‘ کا الزام لگایا اور خصوصی طور پر ٹی ایم سی اور ڈی ایم کے کو نشانہ بنایا، جن ریاستوں میں آئندہ ہفتوں میں انتخابات ہونے والے ہیں۔

مودی نے’ملک کی ماؤں اور بہنوں‘سے معافی بھی مانگی اور کہا کہ’ایک عورت سب کچھ بھول سکتی ہے، مگر اپنی توہین کبھی نہیں بھولتی۔‘

تاہم، اگر وزیر اعظم اپنے ان لفظوں پر عمل کریں، تو انہیں ان واقعات کے لیے بھی معافی مانگنی چاہیے، جن میں خواتین کے ساتھ شدید ناانصافی ہوئی ہے۔ ذیل میں ایسے پانچ مواقع درج  کیے جا رہے ہیں جب مودی کو ہندوستان کی خواتین سے معافی مانگنی چاہیے تھی، مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

برج بھوشن شرن سنگھ

یاد کیجیے جب دو بار کی ورلڈ چیمپئن شپ کی میڈلسٹ ونیش پھوگاٹ اور اولمپک میڈلسٹ ساکشی ملک اور بجرنگ پنیا کو سڑکوں سے گھسیٹ کر پولیس وین میں ڈال دیا گیا تھا۔ وہ مودی حکومت کی جانب سے چھ بار کے بی جے پی رکن پارلیامنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف جنسی ہراسانی، حملہ، دھمکی اور تعاقب جیسے سنگین الزامات پر کارروائی نہ کرنے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

یہ معاملے سات خواتین پہلوانوں کی جانب سے درج کرائے گئے تھے، جن میں ابتدا میں ایک نابالغ بھی شامل تھی۔ اتر پردیش کے باہو بلی لیڈر سنگھ اس وقت ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (ڈبلیو ایف آئی) کے صدر تھے۔

پولیس ریکارڈ کے مطابق، 1974 سے 2007 کے درمیان سنگھ کے خلاف چوری، ڈکیتی، قتل، قتل کی کوشش اور مجرمانہ دھمکی جیسے الزامات میں کل 38 مقدمات درج ہوئے تھے۔

ان کے انتخابی حلف نامے کے مطابق، زیادہ تر معاملوں میں انہیں بری کر دیا گیا۔ انہیں بابری مسجد انہدام کے معاملے میں بھی گرفتار کیا گیا تھا اور داؤد ابراہیم گینگ کے شوٹروں کو پناہ دینے کے الزام میں ٹاڈا کے تحت کیس درج ہوا تھا، مگر بعد میں ان معاملوں میں بھی انہیں بری کر دیا گیا۔

توقع کے مطابق، تقریباً ایک سال بعد 2024 میں دہلی کی ایک عدالت نے خواتین پہلوانوں کی شکایات پر ان کے خلاف جنسی ہراسانی اور چھیڑ چھاڑ کے الزامات طے کیے۔ پاکسو قانون کے تحت درج ایک علیحدہ مقدمہ بعد میں واپس لے لیا گیا، جسے کئی لوگوں نے دباؤ کا نتیجہ قرار دیا۔

مئی 2023 میں برج بھوشن شرن سنگھ کے خلاف پہلوانوں کے مارچ کے دوران پولیس کی کھینچا تانی میں زمین پر ترنگے کے ساتھ گریں میڈلسٹ ونیش پھوگاٹ اور ان کی پہلوان بہن سنگیتا پھوگاٹ ۔تصویر بہ شکریہ: ایکس / ساکشی ملک

تاہم، بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت پر اس عوامی تنقید کے باوجود کہ اس نے کوئی کارروائی نہیں کی، وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ نے اُن کے بیٹے کرن بھوشن سنگھ کو 2024 کے عام انتخابات میں قیصر گنج سیٹ سے پارٹی کا ٹکٹ دیا۔ یہی نہیں، سنگھ کے قریبی سنجے کمار سنگھ کو 2023 میں ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا کا نیا صدر منتخب کیا گیا، جس کے بعد ونیش پھوگاٹ نے کشتی سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔

اس طرح سیاسی سرپرستی جاری رہی اور مودی-شاہ نے یہ سیاسی وراثت بیٹے کو سونپ دی، جو اب علاقے میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ انٹرنیشنل ریسلنگ فیڈریشن کی جانب سے تحقیقات کے مطالبے کے باوجود، برج بھوشن شرن سنگھ عدالت میں معاملوں کے زیر التوا رہتے ہوئے گزشتہ سال پرو ریسلنگ لیگ کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے تھے،جو دہلی سے مل رہی سیاسی حمایت کو واضح طور پر ظاہر کرتا ہے۔

خود ساختہ مذہبی رہنماؤں کو ضمانت اور پیرول

استحصال کے الزامات میں گھرے خود ساختہ سنتوں اور گروؤں کی فہرست طویل ہے۔ گجرات کےآسارام باپو کو 2013 میں ایک نابالغ سے ریپ  کے معاملے میں 2018 میں مجرم قرار دیا گیا تھا، اور 2001 سے 2006 کے درمیان کے ایک اور ریپ کیس میں 2023 میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔

گاندھی نگر کی ایک عدالت نے جنوری 2023 میں انہیں عمر قید دی، اس کے باوجود انہیں صحت کی بنیاد پر کئی بار عارضی ضمانت ملتی رہی۔ سال 2025 کے دوران بھی سپریم کورٹ آف انڈیا نے گجرات ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی ضمانت کو کئی بار برقرار رکھا، اور نومبر 2025 میں انہیں دوبارہ چھ ماہ کے لیے رہا کیا گیا۔

سب کو حیران کرتے ہوئے مارچ 2026 میں انہوں نے ایودھیا کا دورہ کیا اور اس کے بعد کاشی وشوناتھ مندر میں درشن کیے۔ آسارام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے یہ یاترا’جہنم میں جانے سے بچنے‘کے لیے کیا، جبکہ سوشل میڈیا پر ایک سزا یافتہ جنسی مجرم کے کھلے عام گھومنے پر سخت ردعمل سامنے آیا۔

اسی طرح ڈیرہ سچا سودا کے سربراہ گرمیت رام رحیم سنگھ کو 2017 میں دو خواتین پیروکاروں سے ریپ کے کیس میں 20 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اس کے علاوہ، آشرم کی سرگرمیوں کا انکشاف کرنے والے ایک صحافی کے قتل کے معاملے میں بھی وہ عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔ اس کے باوجود، اس سال جنوری میں اسے 40 دن کی پیرول دی گئی، جو 2017 سے اب تک اس کی 15ویں عارضی رہائی ہے۔

سال2017سے 2025 کے درمیان وہ کل 406 دن جیل سے باہر رہے ہیں۔ یہ حقیقت کہ انہیں بار بار دی گئی پیرول اکثر ہریانہ اور پنجاب میں مقامی یا ریاستی انتخابات کے وقت کے ساتھ مطابقت رکھتی رہی ہے، اس نے اپوزیشن کے درمیان سوالوں کو جنم دیا ہے۔

وہیں، 82 سالہ خود ساختہ مذہبی رہنما ویرندر دیو دکشت پر دو نابالغ لڑکیوں سے ریپ اور روہنی میں واقع ان کی ’روحانی یونیورسٹی‘میں کئی خواتین اور لڑکیوں کو غیر قانونی طور پر یرغمال بنا کر رکھنے کے الزامات لگے تھے۔ انہیں 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں وہ فرار ہو گئے اور سی بی آئی کے لک آؤٹ نوٹس کے باوجود پکڑے نہیں جا سکے۔

بالآخر 2023 میں سی بی آئی نے خصوصی عدالت کو بتایا کہ اسی سال ان کی موت ہو گئی تھی اور اب معاملے میں آگے کی قانونی کارروائی کی جائے گی۔

گجرات کے مجرموں کا ہار  پہنا کراستقبال

سال 2002کے گجرات کے گودھرا فسادات کے دوران پانچ ماہ کی حاملہ بلقیس بانو کے ساتھ گینگ ریپ اور ان کے خاندان کے سات افراد، جن میں اُن کی تین سالہ بیٹی بھی شامل تھی، کے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے 11 مجرموں کی رہائی پر جو استقبال کیا گیا، اس پر کہاں تھا یہ غصہ؟

ان پر ہونے والا یہ درندہ صفت حملہ یہیں ختم نہیں ہوا تھا۔ گجرات پولیس نے ابتدائی مرحلے میں ہی ملزمان کے خلاف مقدمہ خارج کر دیا تھا۔ بعد میں منصفانہ سماعت کے لیے 2004 میں مقدمہ مہاراشٹر منتقل کیا گیا۔ جنوری 2008 میں الزامات طے ہوئے اور 2017 میں بامبے ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھا۔

مارچ 2022 میں دو بی جے پی ارکان اسمبلی، ایک سابق بی جے پی کونسلر اور مہیلا مورچہ کی ایک رکن نے مجرموں کی سزا معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی سال یوم آزادی کے موقع پر’اچھے برتاؤ ‘کی بنیاد پر 11 مجرموں کو رہا کر دیا گیا۔ رہائی کے بعد ان کا پھولوں کے ہار اور مٹھائیوں کے ساتھ استقبال کیا گیا۔

گجرات حکومت نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ اس رہائی کے لیے مرکزی حکومت سے منظوری لی گئی تھی، جسے امت شاہ کی وزارت داخلہ نے منظور کیا تھا۔ تاہم ،بعد میں عالمی سطح پر ہونے والے شدید ردعمل کے باعث سپریم کورٹ نے اس رہائی کو ’گمراہ کن حقائق‘پر مبنی قرار دیتے ہوئے منسوخ کر دیا۔ اس کے باوجود 11 مجرموں کو دوبارہ جیل بھیجنے میں جنوری 2024 تک کا وقت لگ گیا۔

کٹھوعہ معاملے پر ردعمل

مجرموں کو سیاسی سرپرستی ملنا چاہے غیر معمولی لگے، لیکن جنسی تشدد کے مجرموں کی حمایت کے واقعات کئی بار دیکھنے کو ملے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ مسلم خانہ بدوش بچی کے ساتھ ریپ اور قتل کے مجرموں کی سزا کے خلاف ہونے والے زوردارمظاہروں میں سامنے آیا۔

آٹھ سالہ بچی کو اغوا کیا گیا، نشہ آور دوا دی گئی اور کئی دنوں تک اس کے ساتھ ریپ  کیا گیا، اور آخرکار کٹھوعہ کے ایک مندر میں اس کو بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔

ریپ کے ملزمان کی حمایت میں بی جے پی کے حامیوں اور رہنماؤں نے ترنگا لے کر ریلی نکالی، جبکہ بی جے پی مہیلا مورچہ نے استغاثہ کے وکیل کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے احتجاج کیا۔

اس مقدمے میں کل سات ملزمان تھے، جن میں مندر کے پجاری کا ایک نابالغ بیٹا بھی شامل تھا۔ ملزمان کی گرفتاری کے خلاف نکالی گئی ’ہندو ایکتا‘ ریلی سے خطاب کرنے والے بی جے پی کے دو ریاستی وزراء کو عوامی غصے کے بعد استعفیٰ دینا پڑا۔

آخرکار تین سال بعد خصوصی عدالت نے آٹھ سالہ بچی کے ساتھ زیادتی اور قتل کے مقدمے میں تین افراد کو عمر قید کی سزا سنائی۔

تین پولیس افسران کو شواہد مٹانے کا مجرم قرار دیا گیا اور انہیں پانچ سال کی سزا دی گئی، جبکہ نابالغ ملزم کو عدالت نے بری کر دیا۔

اناؤ ریپ کیس

سابق بی جے پی ایم ایل اے کلدیپ سنگھ سینگر پر ایک نابالغ لڑکی کے اغوا،ریپ اور یرغمال بنا کر رکھنے کا الزام تھا، اور یہ سب اس وقت ہوا جب وہ بطور ایم ایل اے عہدے پر فائز تھے۔ متاثرہ لڑکی کی جانب سے نامزد کیے جانے کے باوجود سینگر کی جانب سے ہراسانی جاری رہی۔

ابتدائی طور پر لڑکی نے کئی ماہ تک مقامی پولیس میں شکایت درج کروانے کی کوشش کی۔ بعد میں سینگر کے غنڈوں اور پولیس کے دباؤ اور دھمکیوں سے تنگ آ کر اس نے بی جے پی کے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کے سامنے خودسوزی کی کوشش کی، یہ کہتے ہوئے کہ پولیس اس کی شکایت درج نہیں کر رہی۔ اس واقعہ کے بعد مقامی انتظامیہ حرکت میں آئی اور قومی میڈیا کی توجہ اس کیس کی طرف گئی۔

اسی دوران لڑکی کے والد کو ہی پولیس نے ملزم بنا کر گرفتار کر لیا اور جیل بھیج دیا۔ متاثرہ کی خودسوزی کی کوشش کے اگلے ہی دن، پولیس حراست میں تشدد کے باعث ان کی موت ہو گئی اور انہیں مردہ حالت میں اسپتال لایا گیا۔ اس کے بعد پولیس نے سینگر کے خلاف مقدمہ درج کیا اور کہا کہ پہلے لڑکی کے بیان میں’ تضادات‘کی وجہ سے مقدمہ درج نہیں کیا گیا تھا۔

لڑکی نے ہمت نہیں ہاری اور کیس کو آگے بڑھایا، لیکن اس دوران ایک اور حادثہ پیش آیا۔ جب وہ اپنی دو رشتہ دار خواتین اور وکیل کے ساتھ مقامی عدالت میں بیان دینے جا رہی تھی، تو مشتبہ حالات میں ایک ٹرک نے ان کی گاڑی کو ٹکر مار دی۔ اس حادثے میں دونوں خواتین رشتہ دار ہلاک ہو گئیں، جبکہ لڑکی اور اُس کا وکیل شدید زخمی ہو گئے۔

یہ مقدمہ دو سال سے زیادہ عرصے تک چلتا رہا۔ آخرکار سپریم کورٹ نے منصفانہ سماعت کے لیے کیس کو دہلی منتقل کر دیا۔ سی بی آئی نے سینگر کے خلاف ریپ  کی چارج شیٹ داخل کی اور ساتھ ہی اُس کے بھائی اور دیگر ساتھیوں کے خلاف متاثرہ کے والد کو پھنسانے اور حراست میں ان کی موت کے لیے الگ چارج شیٹ دائر کی۔

جرم کے تین سال بعد سینگر کو زیادتی کے مقدمے میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ ایک سال بعد، متاثرہ کے والد کے قتل کے مقدمے میں بھی سینگر اور دیگر ملزمان کو 10 سال قید کی سزا دی گئی۔

فی الحال سینگر جیل میں بند ہیں، اور ان کی سزا کے خلاف اپیل پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔