لوک سبھا کی توسیع اور بڑے پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔ ایوان میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔

تصویر بہ شکریہ: پی ٹی آئی اور سنسد ٹی وی
نئی دہلی: لوک سبھا کی توسیع اور بڑے پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی (131ویں ترمیم) بل، 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہوسکا۔ حکومت اس بل کو پاس کرانے کے لیے درکار آئینی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
لوک سبھا میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 230 نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔

تصویر: سنسد ٹی وی
حکومت نے اس حد بندی کی تجویز کو خواتین کے ریزرویشن سے جوڑتے ہوئے ملک کے انتخابی ڈھانچے میں بڑی تبدیلی کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی تھی۔ چونکہ یہ تبدیلی انتخابی نظام کے بنیادی ڈھانچے کو متاثر کرتی ہے، اس لیے اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت ترمیم ضروری تھی۔
اس عمل کے تحت پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں ’ڈبل لاک‘ اکثریت ضروری ہوتی ہے، یعنی کل اراکین کی سادہ اکثریت کے ساتھ ساتھ موجود اور ووٹ دینے والے اراکین کی دو تہائی حمایت بھی ضروری ہوتی ہے۔
لوک سبھا میں حکمراں اتحاد کے پاس حکومت بنانے کے لیے ضروری اکثریت تو ہے، لیکن وہ مکمل ایوان میں درکار دو تہائی اکثریت سے کافی پیچھے رہ گیا۔
لوک سبھا میں 528 اراکین موجود تھے، اس لیے دو تہائی اکثریت کے لیے 352 اراکین کی حمایت ضروری تھی۔
حکومت اس’جادوئی نمبر‘تک نہیں پہنچ سکی، جس کی وجہ سے یہ بل لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔
نتائج آنے کے بعد، پارلیامانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اس بل کے ساتھ پیش کیے گئے دیگر دو بلوں کو آگے نہ بڑھانے کی درخواست کی۔
حکومت نے آج انہیں پاس کرانے کے لیے آخری لمحے تک کوششیں کیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایکس پر اپیلیں بھی جاری کیں۔
تاہم، زیادہ تر اپوزیشن جماعتیں اپنے موقف پر قائم رہیں اور حد بندی کے معاملے پر سختی دکھائی۔
نریندر مودی حکومت لوک سبھا کی موجودہ 543 نشستوں کو بڑھا کر تقریباً 850 کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اسے پارلیامنٹ میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن سے جوڑ رہی ہے۔
تاہم اپوزیشن جماعتوں نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے نمائندگی مکمل طور پر آبادی کے تناسب پر مبنی ہو جائے گی، جو ان علاقوں میں زیادہ ہے جہاں بی جے پی کو مضبوط حمایت حاصل ہے۔