تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات کو مرکز کی مجوزہ حد بندی بل کے خلاف سیاہ کپڑے پہن کر اسے ’کالا قانون‘سے تعبیر کرتے ہوئے بل کی ایک کاپی جلائی اور کالاجھنڈا دکھایا۔ انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے ہوئے احتجاج نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی اسی طرح کی تحریک اس تجویز کو چیلنج پیش کرے گی۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن حد بندی بل کی کاپی جلاتے ہوئے۔تصویربہ شکریہ : ایکس / ایم کے اسٹالن
نئی دہلی: تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے جمعرات (16 اپریل) کو مرکز کی مجوزہ حد بندی مشق کے خلاف اپنا احتجاج تیز کر دیا۔ انہوں نے بل کی ایک کاپی جلا کر اور کالا جھنڈا لہرا کر باضابطہ طور پر صوبے میں تحریک کا آغاز کیا۔ اس بل کوجمعرات (16 اپریل) سے شروع ہونے والے پارلیامنٹ کے خصوصی اجلاس میں پیش کیا جانا ہے۔
یہ احتجاجی مظاہرہ مرکز کی بی جے پی حکومت کو دی گئی اس ’سخت وارننگ‘ کے بعد ہو رہا ہے، جس میں اسٹالن نے کہا تھا کہ اگر تمل ناڈو کی تشویش کو دور کیے بغیر حد بندی کو آگے بڑھایا گیا، تو 1960 کی دہائی کی ہندی مخالف تحریکوں جیسی وسیع عوامی تحریک جنم لے سکتی ہے۔
اس بل کے منظور ہونے سے جنوبی ہندوستان کے ریاستوں کی نمائندگی میں نمایاں کمی آنے کا خدشہ ہے۔ مرکز نے جمعرات سے پارلیامنٹ کا تین روزہ خصوصی اجلاس بلایا ہے، جس کے کافی ہنگامہ خیز ہونے کی توقع ہے، کیونکہ اس میں تین بڑے بل پیش کیے جائیں گے جو ہندوستان کے انتخابی ڈھانچے اور نمائندگی کے نظام کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔
یہ تین بل ہیں- آئین (131واں ترمیمی) بل 2026، حد بندی بل 2026، اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا قانون (ترمیمی) بل 2026۔
اسٹالن نے سیاہ کپڑے پہن کر آئین (131واں ترمیمی) بل 2026 کے خلاف کالا جھنڈا دکھایا۔ اس بل میں ریاستی اسمبلیوں اور لوک سبھا کی ساخت اور سائز میں تبدیلی کے لیے حد بندی کے عمل کی تجویز دی گئی ہے۔ انہوں نے اسے ’کالا قانون‘قرار دیتے ہوئے اس کی ایک کاپی بھی جلائی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پیغام میں اسٹالن نے پورے تمل ناڈو میں بڑے پیمانے پر احتجاج کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا،’یہ احتجاج پورے تمل ناڈو میں پھیل جائے! فاشسٹ بی جے پی کا غرور ٹوٹ جائے۔‘
#Delimitation: தமிழ்நாடெங்கும் எதிர்ப்புத் #தீ_பரவட்டும்!
பாசிச பா.ஜ.க.வின் ஆணவம் வீழட்டும்!
அன்று, தமிழ்நாட்டில் பற்றத் தொடங்கிய இந்தி எதிர்ப்புத் தீ டெல்லியைச் சுட்டெரித்தது. டெல்லி பணிந்த பின்பே எங்கள் தீ தணிந்தது!
இன்று, தமிழரைச் சொந்த நாட்டில் அகதிகளாக்கும்… pic.twitter.com/aSsOLN7K6J
— M.K.Stalin – தமிழ்நாட்டை தலைகுனிய விடமாட்டேன் (@mkstalin) April 16, 2026
انہوں نے ہندی مخالف تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی تمل ناڈو سے اٹھنے والی آواز نے دہلی کو جھکنے پر مجبور کیا تھا اور اس بار بھی ایسا ہی ہوگا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ بل’تمل عوام کو ان کی اپنی ہی ریاست میں مہاجر بنا دے گا‘اور کہا کہ یہ تحریک پورے’دراوڑ خطے‘میں پھیل کر بی جے پی کے’گھمنڈ‘کو توڑ دے گی۔
یہ احتجاج ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مجوزہ حد بندی کے خلاف مخالفت بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ عمل 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر انتخابی حلقوں کی ازسرنو حد بندی سے متعلق ہے۔ یہ معاملہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب مرکز نے ناری شکتی وندن ایکٹ 2023 کو نافذ کرنے کے لیے ترمیمی بلوں کے مسودے کو منظوری دی۔ اپوزیشن جماعتوں نے انتخاب کے وقت میں پارلیامنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کی جلد بازی پر بھی سوال اٹھائے ہیں۔
اسٹالن نے ریاست کے عوام سے اپنے گھروں پر سیاہ جھنڈے لگانے کی اپیل کی ہے۔ اسی سلسلے میں تروچیراپلی کے تھیننور علاقے میں تمل ناڈو کے وزیر انبل مہیش پوئیا موژی کی رہائش گاہ پر بھی سیاہ جھنڈے لگائے گئے۔
وزیر مہیش نے پہلے الزام لگایا تھا کہ مرکز لوک سبھا کی نشستوں کی تعداد 850 تک بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس سے ریاستوں کے اختیارات کمزور ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اتر پردیش جیسے صوبوں میں نشستوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے اور یہ بھی بتایا کہ اس سلسلے میں تیار کی گئی رپورٹ اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ شیئر نہیں کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی نظام پر اجتماعی بحث ہونی چاہیے اور مرکز پر الزام لگایا کہ وہ ریاستوں سے مشاورت کرنے کے بجائے اس معاملے کو ٹکراؤ کی طرف لے جا رہا ہے۔
انہوں نے اس اقدام کے وقت پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ اس وقت سیاسی جماعتیں مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں انتخابی سرگرمیوں میں مصروف ہیں، جس سے یہ قدم کسی اور مقصد سے متاثر لگتا ہے۔
مرکز نے لوک سبھا کی کل نشستوں کو 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز رکھی ہے، جس میں 815 نشستیں ریاستوں کے لیے اور 35 نشستیں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے لیے ہوں گی۔ اس کے ساتھ ہی 2029 کے عام انتخابات سے پہلے خواتین کے لیے ریزرویشن نافذ کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے، جس کے لیے 2023 کے ایکٹ میں ترمیم اور حد بندی کو 2027 کی مردم شماری سے الگ کرنے کی تجویز ہے۔
அன்று, தமிழ்நாட்டில் பற்றத் தொடங்கிய இந்தி எதிர்ப்புத் தீ டெல்லியைச் சுட்டெரித்தது. டெல்லி பணிந்த பின்பே எங்கள் தீ தணிந்தது!