آسام بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔ بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔ تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات طے کریں گے کہ ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔

(السٹریشن: پری پلب چکرورتی/ دی وائر)
تین دہائیوں پر محیط اپنی صحافتی زندگی میں اگر کسی چیز نے مجھے ہندوستان کو سب سے زیادہ سمجھنے میں مدد دی ہے تو وہ ریل کے سیکنڈ کلاس ڈبے میں کیے گئے طویل سفر ہیں۔
نئی دہلی سے جنوبی ہندوستان کی طرف جانے والی ٹرین محض مسافروں کو ایک مقام سے دوسرے مقام تک نہیں لے جاتی، بلکہ وہ تہذیبوں، رویوں اور ریاستی نظم و نسق کے ایک فرق کو بھی واضح کرتی ہے۔
دہلی سے جنوبی ہندوستان کے انتہائی مقامات یعنی تامل ناڈو کے چنئی، کنیا کماری یا کیرالا کے ترواننت پورم تک تویہ سفرکا دورانیہ مسلسل تین دن تک بھی پھیل جاتا ہے۔
پلیٹ فارم کی بے ہنگم بھیڑ، اور کوچ کے اندر آنے جانے والوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ،ریزرویشن کے باوجود نشستوں پر قبضہ کرنے والے، دروازوں سے لٹکے مسافر، اور ہر اسٹیشن پر بغیر اجازت کوچ میں گھس آنے والے خوانچہ فروش اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ آپ شمالی ہندوستان میں ہیں، جہاں قانون اور نظم و ضبط محض کتابی باتیں ہیں۔
جوں ہی ٹرین وندھیاچل کے پہاڑی سلسلے کو عبور کر کے جنوبی ہندوستان میں داخل ہوجاتی ہے، تو فضا میں ایک واضح تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ اسٹیشن صاف نظر آتے ہیں، پلیٹ فارم پر بے ہنگم بھیڑ کم ہو جاتی ہے ، اور کوچ کے اندر ایک نظم و ضبط قائم ہو جاتا ہے۔
اسی طرح مجھے یاد ہے کہ کئی بار دہلی سے کولکاتہ جاتے ہوئے جب تک ٹرین اتر پردیش اور بہارکے میدانوں سے گزر تی تھی، تو برتھ پر کئی لوگ قابض ہوتے تھے۔ بتایا جاتا تھا کہ یہ تو عام بات ہے۔ کسی سے شکایت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا کیونکہ کوئی سننے والا تھا ہی نہیں۔جوں ہی ٹرین بہار کا جمال پور یا بھاگلپور کا اسٹیشن کراس کرتی تھی، فضا بدل جاتی تھی۔
وہی کوچ جو ابھی تک شور اور بدنظمی کا شکار تھی، اب نظم وضبط کی علامت لگنے لگتی ہے۔ غیر متعلقہ مسافر اور برتھ کے قابضین غائب ہونے لگتے ہیں۔ ایک ہلکی سی تازگی کا احساس جنم لیتا ہے۔
اسی دوران آپ کے برابر بیٹھا ہوا کوئی شخص، جو اب تک ایک عام مسافر لگ رہا تھا، اپنا بیگ کھول کر وردی نکالتا ہے، اسے پہنتا ہے، تب معلوم ہوتا ہے کہ یہی صاحب دراصل ٹکٹ چیکر تھے، جو اب تک غائب تھے۔جب آپ اس سے شکوہ کرتے ہیں کہ وہ پچھلے اٹھارہ گھنٹوں سے کہاں تھا، تو وہ نہایت کڑک انداز میں جواب دیتا ہے؛
وہ شمالی ہندوستان تھا، اب بنگال آنے والا ہے، یہاں قانون چلتا ہے۔
یہ پس منظر بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ فی الحال جنوبی ہندوستان کی د و ریاستیں کیرالا اور تامل ناڈو، مرکزی زیر انتظام والے علاقہ پڈوچری اور شمال-مشرق میں مغربی بنگال اور آسام میں اسی ماہ میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کا انعقاد ہو رہا ہے۔
آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں 9 اپریل کو ووٹنگ ہوگی، تامل ناڈو میں 23 اپریل کو، جبکہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں -23 اور 29 اپریل – کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔
ان تمام ریاستوں کے ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان 4 مئی کو کیا جائےگا۔
ان میں آسام کے بغیر باقی صوبوں میں ابھی تک وزیر اعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کی دال نہیں گل رہی ہے۔ اب وہ ان ریاستوں میں اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آسام
آسام میں وہ پچھلے دس سالوں سے اقتدار میں ہے اور یہ صوبہ گجرات اور اتر پردیش کے بعد ہندوتو سیاست کی سب سے بڑی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔
یہاں پارٹی نے قبائلی، لسانی اور مذہبی خدشات کو ایک وسیع سیاسی بیانیے میں ڈھال کر ایک ایسا ووٹ بینک تشکیل دیا ہے جو خود کو خطرے میں محسوس کرتا ہے اور اسی خوف کے تحت ووٹ دیتا ہے۔
اس ریاست میں مسلمانوں کا تناسب 34 فیصد ہے اور ان کا ووٹ تقریبا 30سیٹوں پر اثر انداز ہوتا تھا۔ نئی حد بندی کے بعد ا ب مسلم اکثریتی سیٹیں سمٹ کر 18سے 21 تک رہ گئی ہیں۔
ریاست کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما، مسلمانوں کو کنارے لگانے اور ان کے خلاف بیان بازی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے ہیں۔
مقامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی حد بندی کی وجہ سے آسام کے پشتینی باشندوں یعنی آہوم قبیلہ کو بھی اس طرح بانٹ دیا گیا ہے کہ ان کا اثر و رسوخ، جو 40 سے 50سیٹوں پر محیط تھا اب سکڑ کر 15سے 20سیٹوں تک رہ گیا ہے۔ کیونکہ ان کو خدشہ تھا کہ کانگریس کی طرف سے گورو گگوئی کو وزیر اعلیٰ کے امیدور کے بطور پیش کرنے سے یہ پورا قبیلہ کانگریس کے ساتھ جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ آسام کے اوپری علاقے میں بی جے پی اچھی کارکردگی نہیں دکھا پا رہی ہے، اس لیے اس کی نظریں براک وادی میں بنگالی ہندو ووٹروں پر لگی ہوئی ہیں۔
نشیبی آسام میں چونکہ مسلمانوں کی تعداد اچھی خاصی ہے، اس لیے وہاں سے اس کو ووٹ ملنا مشکل ہے۔ اس خطے میں اس کی واضح اسٹریٹجی مسلم ووٹوں کو تقسیم کرنے کی ہے۔
بدرالدین اجمل کی جماعت، آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ، مسلمانوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے، مگر اس کی موجودگی اکثر کانگریس کے ساتھ ووٹ تقسیم کر کے بی جے پی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔
کانگریس بھی ہندو ووٹوں کو لبھانے کے لیے مسلمانوں کے لیے انتخابی گنجائش پیدا کر نے سے گریز کرتی ہے۔شاید کانگریس اس خطے میں بدرالدین اجمل کے ساتھ مل کر میدان میں اترتی، تو انتخابی نقشہ مختلف ہوتا۔
پولرائزیشن کے علاوہ پچھلے کئی برسوں سے بی جے پی نے اقتدار میں برقرار رہنے کا ایک نیا فارمولا ڈھونڈ نکالا ہے، وہ یہ ہے کہ خواتین پر توجہ مرکوز کرکے انتخابات سے قبل ان کے بینک اکاؤنٹ میں کچھ رقم جمع کی جائے ۔ یہ حکمت عملی بہار، مدھیہ پردیش،مہا راشٹراسمیت کئی صوبوں میں کامیاب ہو گئی ہے۔
آسام میں ایک اسکیم کے تحت گھریلو خواتین کو ماہانہ ایک ہزار سے بارہ سو روپے دیے جاتے ہیں۔ انتخابی عمل کے اعلان سے ذرا قبل وزیر اعلیٰ نے چار ماہ کا ایڈوانس بونس یعنی نو ہزار روپے 40لاکھ خواتین کو دینے کا اعلان کیا۔
یہ ایک طرح سے کھلی انتخابی رشوت ہے، مگر ان کو امید ہے کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد بی جے پی کو ووٹ دے گی۔ اسی طرح دس خواتین پر مشتمل فی سیلف ہیلپ گروپ کو ایک لاکھ روپیہ دیا گیا ہے، یعنی دس ہزار روپیہ فی خاتون۔
مغربی بنگال
مغربی بنگال میں صورتحال مختلف ہے۔ یہاں سیاست ہمیشہ سے نظریات، ثقافت اور زبان کے گرد گھومتی رہی ہے۔ ممتا بنرجی کی قیادت میں ترنمول کانگریس ایک مضبوط قوت کے طور پر موجود ہے، مگر بی جے پی نے بھی گزشتہ برسوں میں اپنی جگہ بنائی ہے۔
یہاں بھی پولرائزیشن کی سیاست جاری ہے۔ 1977 سے 2011 تک بائیں بازو اتحاد کی 34 سالہ حکومت نے یہاں ایک خاص سیاسی شعور پیدا کیا، جس میں طبقاتی سیاست، مزدور حقوق اور سیکولرزم مرکزی حیثیت رکھتے تھے۔
مگر وقت کے ساتھ یہ بیانیہ کمزور پڑ گیا اور ممتا بنرجی نے بھی اسی بیانیہ کو لے کر ایک نئی سیاسی جگہ پیدا کی۔
آج بنگال میں اصل مقابلہ علاقائی پارٹی ترنمول کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ہے۔ کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتیں تقریباً غیر مؤثر ہو چکی ہیں۔
ستم ظریفی تو یہ ہے کہ مغربی بنگال کے ضلع دارجلنگ کا نکسل باڑی بلاک، جو 60 کی دہائی میں بائیں بازو کی عسکری تحریک نکسل واد کا منبع رہا ہے، ہندودائیں بازو یعنی بی جے پی کا گڑھ بناہوا ہے۔
اس علاقہ میں ابھی بھی سڑک کے کنارے بائیں بازو کے نظریہ سازوں کارل مارکس، اینگلز، لینن، اسٹالن، ماؤ زے تنگ، لن بیاو، چارو مجمدار، سروج دت اور مہادیو مکھرجی کے مجسمے قطار در قطار کھڑے نظر آئیں گے۔ مگر ان کے نظریات کو ماننے والے معدوم ہو چکے ہیں۔
سال 2021 کے مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے آننداموئے برمن نے یہ سیٹ بھاری فرق سے جیتی۔ نکسل باڑی-منی رام میں کل 58 بوتھ ہیں۔
مختلف انتخابات میں بی جے پی تقریباً 50 بوتھ پر سبقت لیتی نظر آئی ہے۔ ہاتھی گھیشاکا علاقہ، جو نکسلائٹ کمانڈر اور نظریہ ساز چارو مجمدار کی جائے پیدائش ہے، اب بی جے پی کا مضبوط گڑھ بن چکا ہے۔اس علاقے میں راسٹریہ سیویم سیوک سنگھ یعنی آر ایس ایس نے مضبوطی کے ساتھ پیر جما لیے ہیں۔
ماہرین سماجیات اور سیاسیات کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس خطے کے لوگوں نے اپنی وفاداریاں کیوں بالکل متضاد سمتوں میں تبدیل کیں اور اس تبدیلی کے پس پشت عوامل کیا تھے؟
اس ریاست میں بھی مسلم آبادی کا تناسب 27 فی صد ہے، اس لیے بی جے پی نے آسام والی اپنی حکمت عملی ترتیب دی ہے یعنی ہندو ووٹ کو یکجا کرنا، سرحدی اضلاع میں بنگلہ دیشی دراندازی کا بیانیہ قائم کرنا، اور سماجی تقسیم کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنا۔
تامل ناڈو
اس کے مقابلے میں جنوب میں تامل ناڈو میں دراوڑی تحریک نے ایک ایسا سیاسی ڈھانچہ قائم کیا ہے جو صوبائی خودمختاری، سماجی انصاف اور ثقافتی شناخت پر مبنی ہے۔
سی این انادورائی نے جس تحریک کی بنیاد رکھی، اسے ایم کروناندھی اور ایم جی رامچندرن نے آگے بڑھایا۔ بعد میں جے جیہ للتا نے اسے ایک نئی شکل دی۔ برہمن واد کے خلاف ردعمل، سماجی انصاف کی جدوجہد، اور علاقائی شناخت کا تحفظ،یہ سب عناصر تامل ناڈو کی سیاست کو منفرد بناتے ہیں۔
بی جے پی یہاں براہ راست اقتدار حاصل کرنے کے بجائے اتحادی سیاست کے ذریعے داخل ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔اس ریاست میں پچھلے پانچ برسوں سے ڈی ایم کے یعنی دراوڈ منتر کزگھم برسر اقتدار ہے، جس کی سربراہی ایم کے اسٹالن کر رہے ہیں۔
بی جے پی نے اس کی حریف آل انڈیا انا ڈی ایم کے سے اتحاد کیا ہے۔
یہ ریاست ہندوستان کی معیشت میں ایک غیر معمولی حصہ رکھتی ہے۔ محض چار فیصد رقبے اور تقریباً چھ فیصد آبادی کے باوجود، یہ ریاست قومی جی ڈی پی میں نو فیصد سے زیادہ حصہ ڈالتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تامل ناڈو نہ صرف اپنی آبادی کی ضروریات پوری کرتا ہے بلکہ قومی معیشت کو بھی سہارا دیتا ہے۔ اس کے معاشی ڈھانچے کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ خدمات کا شعبہ تقریباً 54 فیصد، صنعت 33 فیصد اور زراعت 13 فیصد حصہ رکھتی ہے۔
یہاں صنعتوں کا جال بچھا ہوا ہے۔ آٹوموبائل، ٹیکسٹائل، الکٹرانکس، اور انفارمیشن ٹکنالوجی، ہر شعبے میں یہ ریاست ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔
ملک کی مینوفیکچرنگ جی ڈی پی میں اس کا حصہ تقریباً بارہ فیصد کے قریب ہے، اور فیکٹریوں کی تعداد کے لحاظ سے یہ سرفہرست ریاستوں میں شامل ہے۔
شرح خواندگی 80 فیصد سے زیادہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم میں داخلہ لینے والوں کی شرح 47 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جو پورے ملک میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے پیچھے ایک طویل سیاسی اور سماجی جدوجہد ہے، جس نے سماجی انصاف کو ریاستی پالیسی کا مرکز بنایا۔
تعلیم، صحت اور فلاحی اسکیموں میں سرمایہ کاری نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جہاں ترقی محض چند طبقات تک محدود نہیں رہی بلکہ وسیع پیمانے پر پھیلی۔ اس ریاست میں علاقائی پارٹیاں سیاست پر حاوی رہی ہیں اور بیشتر اوقات مرکز میں برسراقتدار جماعت چاہے وہ بی جے پی ہو یا کانگریس کی اتحادی رہی ہیں۔
مرکز میں اس اثر و رسوخ کا استعمال کرکے انہوں نے خاموشی کے ساتھ اس ریاست کو خاصا فائدہ پہنچایا۔
اس ریاست میں مسلم آبادی چھ سے سات فی صد تک ہے اور چند ہی انتخابی حلقوں میں اس کا اثر ہے۔ اس لیے بی جے پی کے لیے پولرائزیشن کی گنجائش کم ہے۔ مگر یہ ریاست بدعنوانی میں حدود پار کر چکی ہیں۔ انتخابات میں ووٹر امیدوار سے پیسے وصول کرنا ایک طرح اپنا حق تصور کرتا ہے۔
کیرالا
اس سے متصل کیرالا، گو کہ صنعتی لحاظ سے اتنی ترقی یافتہ نہیں ہے، مگر انسانی ترقی کے اشاریہ میں جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ، بلکہ امریکہ کے ہم پلہ ہے۔ اس ریاست میں صد فی صد خواندگی ہے۔
یہاں عموماً مقابلہ لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ یعنی ایل ڈی ایف اور کانگریس کی قیادت والے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ یعنی یو ڈی ایف کے درمیان ہوتا آرہاہے۔
مگر اس بار بی جے پی سیندھ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ بی جے پی نے اس ریاست میں مسلمانوں کا خوف دکھا کر عیسائی برادری کے ساتھ روابط بڑھانے کی کوشش کی ہے، جبکہ ہندو ووٹ کو متحرک کرنے کی بھی کوشش جاری ہے۔
اس ریاست میں مسلمان26فی صد اور عیسائی 18فیصد کے لگ بھگ ہیں۔
کیرالہ میں زمین کی اصلاحات، عوامی تعلیم، اور صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری نے ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جہاں غربت کی شرح کم ہے، سماجی عدم مساوات محدود ہے، اور عوامی شعور بلند ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو بھی ہے – سیاسی بیداری۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے ایک بار مجھے بتایا کہ جنوبی ایشیاء میں حقیقی پارلیامانی جمہوریت کی روح بس اسی ریاست تک محدود ہے۔ یہاں امیدواروں کا تعین کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کو امریکی طرز پر پرائمری انتخابات منعقد کرنے پڑتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ یہاں بی جے پی کو وہ کامیابی حاصل نہیں ہو سکی جو اس کو ملک کے دیگر خطوں میں ملی ہے۔
بی جے پی کی حکمت عملی
بی جے پی کو شاید علم ہے کہ جنوبی ریاستوں میں وہ کچھ زیادہ سیندھ نہیں لگا سکے گی، اس لیے ان انتخابات کے بعد پارلیامنٹ کا ایک خصوصی سیشن طلب کرکے لوک سبھا کی نشتوں کو 543سے 816تک بڑھا نے کے لیے قانون سازی کرنے کا ارادہ کرتی ہے۔
ان میں جنوبی صوبوں کی سیٹوں کو 130سے 195جبکہ شمالی صوبوں کی سیٹوں کو 243سے 365تک بڑھانے کی تجویز کی گئی ہے۔
یعنی مرکزی حکومت کے انتخاب میں جنوبی صوبوں کا کم سے کم عمل دخل رہے، تاکہ بی جے پی اقتدار کے مزے لوٹتی رہے۔ یعنی جن ریاستوں نے انسانی و اقتصادی ترقی کے راستے پر گامزن ہونے کے علاوہ آبادی کے اضافہ کو روکنے میں کامیابی حاصل کی ان کو ایک طرح سے سزا دے کر سیاسی طور پر بے اختیار بنانے کا عمل کیا جا رہا ہے۔
خلیجی جنگ
خلیجی جنگ نے ہندوستان کو ایک غیر معمولی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، ترسیلی اخراجات میں بڑھوتری، اور سپلائی چین کی رکاوٹوں نے حکومت کو ایک ہنگامی کیفیت میں لا کھڑا کیا ہے۔
ایسے میں مودی ان انتخابات میں خود کو ایک’بحران کے منتظم’کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ ان کی تقاریر میں قومی سلامتی، خود انحصاری اور مضبوط قیادت کے عناصر نمایاں ہیں۔
ان انتخابات کی خاص بات یہ ہوگی کہ اگر بی جے پی ان انتخابات میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ اس بات کا اشارہ ہوگا کہ وہ قومی بحران کو سیاسی طاقت میں تبدیل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔اور اگر جنوبی ریاستیں اور بنگال اپنی مزاحمت برقرار رکھتے ہیں تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ ہندوستان کی وفاقی روح ابھی بھی زندہ ہے۔
وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کا سوال
ہندوستان کے اس طویل سیاسی سفر کو اگر ایک منظر میں سمیٹا جائے تو وہ شاید وہی ریلوے کوچ ہے، جس میں ہم دہلی سے چلتے ہیں، اتر پردیش اور بہار کی ہنگامہ خیزی سے گزرتے ہیں، اور پھر اچانک بنگال یا جنوبی ہندوستان میں داخل ہوتے ہی نظم و ضبط اور سکون کا ایک نیا احساس پاتے ہیں۔
یہ محض سفر کا فرق نہیں، بلکہ ریاست، سماج اور سیاست کے مختلف تصورات کا فرق ہے۔اسی فرق کو سامنے رکھتے ہوئے اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ 2026 کے یہ انتخابات ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے اور سیاسی مستقبل کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں۔
آسام میں بی جے پی کی پوزیشن مضبوط نظر آتی ہے۔ یہاں اس کی تنظیمی طاقت، اتحاد، اور سیاسی بیانیہ تینوں اس کے حق میں جاتے ہیں۔
بنگال میں مقابلہ سخت ہے۔ بی جے پی کو یہاں موقع بھی ہے اور چیلنج بھی۔ ممتا بنرجی کی عوامی حمایت اور بی جے پی کی بڑھتی ہوئی طاقت کے درمیان ایک دلچسپ کشمکش جاری ہے۔
تامل ناڈو میں بی جے پی کا ہدف اقتدار نہیں بلکہ اثر و رسوخ بڑھانا ہے۔ یہاں اس کی کامیابی کا پیمانہ نشستوں کی تعداد سے زیادہ اس کی سیاسی موجودگی ہوگی۔
کیرالہ میں پارٹی شاید اپنے ووٹ شیئر میں اضافہ کر لے، مگر اقتدار تک پہنچنا ابھی بھی ایک دور کی بات لگتی ہے۔پڈوچیری ایک چھوٹا میدان ہے، مگر یہاں بی جے پی کے لیے علامتی اہمیت زیادہ ہے۔
آسام ہمیں بتائے گا کہ شناخت کی سیاست کتنی طاقتور ہو سکتی ہے۔بنگال یہ دکھائے گا کہ مزاحمت کب تک قائم رہ سکتی ہے۔تامل ناڈو اور کیرالہ یہ ثابت کریں گے کہ ترقی کا ایک متبادل راستہ بھی ممکن ہے۔
مجموعی طور پر یہ انتخابات یہ طے کریں گے کہ آیا ہندوستان ایک یکساں سیاسی سمت میں آگے بڑھے گا، یا اپنی وفاقی اور کثیر جہتی شناخت کو برقرار رکھے گا۔