آسام انتخابات سے ٹھیک پہلے کانگریس کا سی ایم پر بڑا حملہ، کہا – اہلیہ کے پاس تین پاسپورٹ، بیرون ملک کروڑوں جمع

کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کی اہلیہ رنیکی بھوئیاں کے پاس تین ممالک کے پاسپورٹ ہیں اور دوسرے ملکوں میں ان کے نام پر جائیداد درج ہیں، جس کا انکشاف وزیر اعلیٰ نے اپنے حلف نامے میں نہیں کیا ہے۔ کانگریس نے ان کی ’گرفتاری‘کا مطالبہ کیا ہے۔ شرما نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے دائر کرنے کی بات کہی ہے۔

کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کی اہلیہ رنیکی بھوئیاں کے پاس تین ممالک کے پاسپورٹ ہیں اور دوسرے ملکوں میں ان کے نام پر جائیداد درج ہیں، جس کا انکشاف وزیر اعلیٰ نے اپنے حلف نامے میں نہیں کیا ہے۔ کانگریس نے ان کی ’گرفتاری‘کا مطالبہ کیا ہے۔ شرما نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اپوزیشن کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے دائر کرنے کی بات کہی ہے۔

گزشتہ20مارچ کو گوہاٹی میں اسمبلی انتخابات سے قبل جالکباڑی حلقہ کے لیے نامزدگی کا پرچہ داخل کرنے جاتے ہوئے ہمنتا بسوا شرما، ساتھ میں ان کی اہلیہ (دائیں)۔ (تصویر بہ شکریہ: فیس بک/ہمنتا بسوا شرما)

نئی دہلی: آسام اسمبلی انتخابات میں اب مشکل سے چار دن باقی رہ گئے ہیں، اسی دوران اپوزیشن جماعت کانگریس نے ریاست کے وزیر اعلیٰ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنما ہمنتا بسوا شرما پر اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے۔

کانگریس نے الزام لگایا ہے کہ ان کی اہلیہ رنیکی بھوئیاں شرما کے پاس تین ممالک کے پاسپورٹ ہیں اور امریکہ کے ٹیکس ہیون وایومنگ میں ان کے نام پر ہوٹل کاروبار شروع کرنے کے لیے ایک کمپنی میں 52,000 کروڑ روپے (ڈالر میں) جمع کیے گئے ہیں۔

اتوار (5 اپریل) کو نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس کے ترجمان پون کھیڑا نے مطالبہ کیا کہ شرما کو 9 اپریل کے انتخابات لڑنے سے نااہل قرار دیا جائے اور اپنی اہلیہ کے اثاثے ظاہر نہ کرنے کے لیے انہیں ’گرفتار ‘کیا جائے۔

کھیڑا نے کہا،’شرما سے یہ بھی پوچھا جانا چاہیے کہ خاندان کے پاس اتنی بڑی رقم کہاں سے آئی؟ ‘

اس کے بعد شرما نے ایکس پر ایک طویل بیان جاری کرتے ہوئے اس پریس کانفرنس کو’کانگریس پارٹی کے اندر گہری مایوسی اور گھبراہٹ ‘ کی علامت قرار دیا۔

انہوں نے الزامات کو ’بے بنیاد‘، ’متعصب‘، ’من گھڑت‘ اور ’سیاسی طور پر محرک‘ قرار دیتے ہوئے کہا، ’میں اور میری اہلیہ اگلے 48 گھنٹوں کے اندر پون کھیڑا کے خلاف فوجداری اور دیوانی ہتک عزت کے مقدمے درج کریں گے۔ ان کے غیر ذمہ دارانہ اور ہتک آمیز بیانات کے لیے انہیں پوری طرح جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘

الزامات

پریس کانفرنس میں کھیڑا نے شرما کی اہلیہ کے مبینہ طور پر متحدہ عرب امارات، مصر اور اینٹیگوا و باربوڈا کے جاری کردہ پاسپورٹس کی کاپیاں دکھائیں۔ ان پاسپورٹس پر بالترتیب 2027، 2029 اور 2031 تک کی میعاد درج تھی۔

کھیڑا نے سوال کیا، ’کیا وہ ہندوستانی شہریت بھی رکھتی ہیں؟ کیا وزیر داخلہ امت شاہ، جو شرما کے بے حدقریبی ہیں، اس معاملے کی جانچ کروائیں گے؟‘

انہوں نے کہا کہ شرما اکثر کہتے رہے ہیں کہ ریاستی کانگریس صدر گورو گگوئی کی اہلیہ ہندوستانی شہری نہیں ہیں۔ ’اب میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں، کیا آپ کی اہلیہ ہندوستانی شہری ہیں؟ ایک موجودہ وزیر اعلیٰ کی اہلیہ ہندوستانی شہری نہ ہو، یہ تشویش کا باعث ہے۔‘

کھیڑا نے کہا،’شرما مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ نفرت پھیلاتے رہتے ہیں، اور ان کی اہلیہ کے پاس دو اسلامی ممالک کے پاسپورٹ ہیں… ہم نے آپ کو دستاویز دکھائے ہیں، اب امت شاہ کو بتانا چاہیے کہ یہ پاسپورٹ اصلی ہیں یا نہیں۔ وہ ایک ساتھ تین پاسپورٹ کیسے رکھ رہی ہیں… اور سب کی میعاد ابھی جاری ہے۔‘

اسکرین پر کھیڑا نے 5 مئی 2025 کا ایک دستاویز بھی دکھایا، جس میں ’رنیکی بھوئیاں شرما ایسٹ کلیکٹو ایل ایل سی‘ نامی کمپنی کی سالانہ میٹنگ کی کارروائی اور قرارداد درج تھی، جسے ’وایومنگ لمیٹڈ لائیبیلٹی کمپنی‘ بتایا گیا۔

دستاویز کے مطابق، ’3467890123 امریکی ڈالر کی رقم کو بجٹ کے طور پر پیش کیا گیا تھا،تاکہ ’رنیکی بھوئیاں ہوٹلز‘کے نام سے امریکہ میں ہوٹل چین شروع کی جا سکے۔‘

’اس تجویز کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا اور طے پایا کہ کمپنی آئندہ سال کے لیے’رنیکی بھوئیاں ہوٹلز‘نام اختیار کرے گی۔‘

کھیڑا نے دستاویز کے آخر میں ’ہرنیکی نندی ایل ایل سی‘ نامی ایک رکن کا ذکر بھی دکھایا، جسے اس قرارداد پر دستخط کنندہ بتایا گیا۔

انہوں نے کہا،’یہ شرما خاندان کی بنائی ہوئی ایک شیل کمپنی ہے-ایچ کا مطلب  ہمنتا، رنیکی ان کی اہلیہ اور نندی ان کے بیٹے نندل ہیں۔‘

کھیڑا نے وایومنگ کے سکریٹری آف اسٹیٹ کی ویب سائٹ کھول کر دکھایا کہ ’ہرنیکی نندی ایل ایل سی‘ وہاں رجسٹرڈ ہے۔

تاہم، دی وائر کی جانب سے اسی ویب سائٹ پر کی گئی جانچ سے معلوم ہوا کہ اس کمپنی کا رجسٹریشن صرف 3 اپریل کو مقامی وقت کے مطابق صبح 10:33 بجے کیا گیا تھا۔ اسے اینڈریو پیئرس نامی شخص نے مجاز دستخط کنندہ کے طور پر درج کیا، جو وایومنگ ایل ایل سی اٹارنی کے سی ای او ہیں اور غیر امریکی شہریوں کو وہاں ایل ایل پی بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

کھیڑا نے کہا،  ’ہم نے سوچا کہ آخر وایومنگ ہی کیوں؟ پھر ہمیں پتا چلا کہ وہاں غیر امریکی شہریوں کے لیے بھی کاروبار پر ٹیکس نہیں لگتا… اور یہ کام خاموشی سے کیا جا سکتا ہے۔‘

شرما اور ان کی اہلیہ کو  ’بنٹی اور ببلی‘ قرار دیتے ہوئے کھیڑا نے الزام لگایا کہ اتنی بڑی رقم کو ٹیکس ہیون میں جمع کرنا اور کئی پاسپورٹ رکھنا ’اس بات کا اشارہ ہے کہ انتخابات ہارنے کے بعد وہ ملک چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘

’شرما کو گرفتار کیا جانا چاہیے‘

کھیڑا نے پریس کانفرنس میں دبئی میں شرما کی اہلیہ کی مبینہ جائیداد کے دستاویز بھی دکھائے اور تصدیق کے لیے ان کے پتے عوامی کیے۔

انہوں نے کہا،’ہفتے کے دنوں میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سوتے رہتے ہیں؛ امید ہے کہ اتوار کو جاگ رہے ہوں گے اور اس معاملے کو دیکھیں گے۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ جائیداد رکھنے میں کیا غلط ہے؟ میں کہوں گا، قانون کے مطابق شرما کو اپنی اہلیہ کی جائیداد کا بھی انکشاف کرنا ہوتا ہے۔ یہ کیوں نہیں کیا گیا؟‘

سپریم کورٹ نے 2018 کے ایک تاریخی فیصلے میں انتخاب لڑنے والے امیدواروں کے لیے اپنی، اپنے شریک حیات اور زیر کفالت افراد کی آمدنی کے ذرائع ظاہر کرنا لازمی قرار دیا تھا، تاکہ سیاست میں شفافیت لائی جا سکے۔

سال2022میں عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ امیدوار، اس کے شریک حیات یا زیر کفالت افراد کی جائیداد کے بارے میں غلط اعلان ’بدعنوان طرز عمل‘ سمجھا جائے گا، چاہے اس کا انتخابی نتائج پر اثر پڑے یا نہ پڑے۔

تاہم، دی وائر ان دستاویزوں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

ان الزامات پر رد عمل دیتے ہوئے گورو گگوئی نے ایکس پر لکھا کہ ’ایک سے زیادہ پاسپورٹ رکھنا اور جائیدادوں کا انکشاف نہ کرنا سنگین اور مجرمانہ عمل ہے۔‘

انہوں نے کہا،’آسام سے ان کے غیر ملکی بینک اکاؤنٹس میں کتنا پیسہ بھیجا گیا؟ اس کی مزید تفتیش ضروری ہے۔ ہمنتا بسوا شرما آسام اور ہندوستان دونوں کے لیے شرمندگی بن گئے ہیں۔ انہیں سوالوں کا جواب دینا ہوگا اور اپنے جرم کی قیمت چکانی ہوگی۔‘

شرما اور ان کی اہلیہ نے الزامات کی تردید کی

شرما نے ایکس پر کھیڑا کے الزامات کو ’واضح طور پر مسترد‘ کیا۔ انہوں نے کہا،’یہ آسام کے لوگوں کو گمراہ کرنے کے مقصد سے پھیلائے گئے من گھڑت، بدنیتی پر مبنی اور سیاسی طور پر محرک جھوٹ ہیں۔‘

انہوں نے دہرایا، ’میری اہلیہ اور میں اگلے 48 گھنٹوں کے اندر پون کھیڑا کے خلاف فوجداری اور دیوانی ہتک عزت کے مقدمے درج کریں گے۔ ان کے غیر ذمہ دارانہ اور ہتک آمیز بیانات کے لیے انہیں مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔‘

ایک اور پوسٹ میں شرما نے کانگریس کی جانب سے دکھائے گئے پاسپورٹ میں مبینہ تضادات کی جانب اشارہ کیا، جیسے کہ دستاویز میں ’سرما‘  لکھا گیا ہے، جبکہ ان کی اہلیہ سرکاری طور پر ’شرما ‘ استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا،’یہ تضادات واضح طور پر ممکنہ جعلسازی یا ڈیجیٹل چھیڑ چھاڑ کی طرف اشارہ کرتے ہیں، آخرکار کھیڑا جیل جائیں گے۔‘

شرما کی اہلیہ نے بھی ایکس پر الزامات کو مسترد کرتے ہوئے لکھا،’مجھے امید تھی کہ ایک قومی جماعت کا ترجمان بنیادی تحقیق کرے گا، نہ کہ فرضی پاسپورٹس اور دستاویزوں کی ناقص طور پر تیار کی گئی تصویریں پھیلائے گا۔ اب میں قانون کو اپنا کام کرنے دوں گی۔ فوجداری کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔ ہم اس معاملے کو عدالت میں آگے بڑھائیں گے۔‘

بی جے پی کے راجیہ سبھا رکن اور ترجمان سدھانشو تریویدی نے بھی کہا کہ کانگریس کے الزامات ’من گھڑت کہانیاں‘ ہیں۔

وزیر اعلیٰ کی جانب سے ان الزامات کی تردید کے بعد کھیڑا نے اے این آئی کو بتایا کہ وہ آنے والے دنوں میں مزید ثبوت پیش کریں گے۔

خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آسام کے وزیر اعلیٰ نے اپنی اہلیہ سے متعلق بیرون ملک جائیدادوں کی تفصیلات سرکاری اعلانات میں مبینہ طور پر کیوں چھپائیں۔

انہوں نے کہا، ’کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس دبئی میں کوئی جائیداد نہیں ہے؟ کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی امریکہ میں کوئی کمپنی نہیں ہے؟ کیا وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ دنیا میں کہیں بھی ان کی کوئی شیل کمپنی نہیں ہے؟ ہم ہر روز مزید ثبوت پیش کریں گے۔ بہت کچھ سامنے آنے والا ہے۔ انہوں نے اپنی اہلیہ کے نام پر دبئی میں موجود جائیدادوں کو اپنے انتخابی حلف نامے میں کیوں چھپایا؟‘