ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا 36 واں دن: دو امریکی طیارے مار گرائے گئے، ایک فوجی محفوظ؛ دوسرا لاپتہ

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 36ویں دن دو امریکی فوجی طیارے مار گرائے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک فوجی کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا لاپتہ ہے۔ اس دوران 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں اور خلیجی ممالک تک ان حملوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 36ویں دن دو امریکی فوجی طیارے مار گرائے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ایک فوجی کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا لاپتہ ہے۔ اس دوران 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں اور خلیجی ممالک تک ان حملوں کے اثرات نظر آنے لگے ہیں۔

گزشتہ 1 اپریل 2026 کو لبنان کے دارالحکومت بیروت میں اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد جائے وقوعہ پر ایک فائر فائٹر گاڑی میں لگی آگ بجھاتا ہوا۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے جارہے حملوں کا سنیچر (4 اپریل) کو 36واں دن ہے۔ یہ جنگ اب صرف ایران تک محدود نہیں رہ گئی ہے، بلکہ اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک میں بھی نظر آنے لگے ہیں۔ تازہ پیش رفت میں دو امریکی فوجی طیارے مختلف واقعات میں مار گرائے گئے ہیں، جو اس تنازعہ کے آغاز کے بعد پہلی ایسی خبر بتائی جا رہی ہے۔

ان واقعات میں ایک امریکی فوجی کو بچا لیا گیا ہے، جبکہ دوسرے کے لاپتہ ہونے کی خبر ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نے ایران کو ‘پوری طرح سے تباہ’ کر دیا ہے۔

جنگ کے انسانی اثرات کے حوالے سے بھی اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ پینٹاگون کے مطابق، اب تک کل 365 امریکی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ ان میں 247 آرمی جوان، 63 نیوی اہلکار، 19 میرینز اور 36 فضائیہ (ایئر فورس) کے جوان شامل ہیں۔

زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد درمیانی اور سینئر سطح کے فوجیوں کی ہے، تقریباً 200 فوجی اسی زمرے میں آتے ہیں، جبکہ 85 افسران اور 80 جونیئر رینک کے اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ فی الحال اس جنگ میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ حال ہی میں مار گرائے گئے طیاروں سے متعلق فوجی ان اعداد و شمار میں شامل ہیں یا نہیں۔

اس دوران جنگ کے اثرات خلیجی ممالک تک بھی پہنچ گئے ہیں۔ دبئی انتظامیہ کے مطابق، انٹرسیپٹ کیے گئے ڈرون کے ملبے سے دو عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ان میں سے ایک عمارت امریکی ٹیک کمپنی ‘اوریکل’ سے متعلق بتائی جا رہی ہے۔ راحت کی بات یہ ہے کہ اس واقعہ میں کسی کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ہے۔

ایران کے انقلابی گارڈ نے اوریکل سمیت 17 امریکی کمپنیوں کو نشانہ بنانے کی وارننگ دی ہے۔ ایران کا الزام ہے کہ یہ کمپنیاں اس کے خلاف ‘جاسوسی اور دہشت گردانہ سرگرمیوں’ میں ملوث رہی ہیں۔

اس سے پہلے بھی ایرانی ڈرون حملوں میں متحدہ عرب امارات اور بحرین میں ایمیزون ویب سروسز سے متعلق تین یونٹس کو نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آ چکی ہیں۔

مغربی ایشیا میں جاری یہ تنازع اب ایک وسیع علاقائی بحران کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس کے عسکری، معاشی اور شہری اثرات مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں۔