ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا 34 واں دن: ایران نے ٹرمپ کے جنگ بندی کے دعوے کو ’جھوٹا اور بے بنیاد‘ بتایا

ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے 34ویں دن ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی بات کہی اور جنگ کو’سرمایہ کاری‘قرار دیا۔ ان کے جنگ بندی کے دعوے کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ وہیں، آبنائے ہرمز اب بھی بند پڑی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔

ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے 34ویں دن ٹرمپ نے حملے تیز کرنے کی بات کہی اور جنگ کو’سرمایہ کاری‘قرار دیا۔ ان کے جنگ بندی کے دعوے کو ایران نے مسترد کر دیا ہے۔ وہیں، آبنائے ہرمز اب بھی بند پڑی ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور قیمتوں پر اثر پڑ رہا ہے۔

آبنائے ہرمزپارکر کے 1 اپریل 2026 کو ممبئی پورٹ پہنچنے والا ایل پی جی کیریئر ‘جگ وسنت’۔ (تصویر: اے پی/رفیق مقبول)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا سلسلہ 34ویں دن میں داخل ہو چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکی فوج جلد ’ہی اپنا کام مکمل کر لے گی‘اور آئندہ دو سے تین ہفتوں میں حملے مزید تیز کیے جائیں گے۔ اپنے پہلے قومی خطاب میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکی اسٹریٹجک اہداف’تقریباً حاصل‘ہو چکے ہیں۔

تقریباً 20 منٹ کے اس خطاب میں ٹرمپ نے کہا،’ہم انہیں انتہائی سخت ضرب لگانے جا رہے ہیں… ہم انہیں واپس پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے، جہاں ان کی جگہ ہے۔‘ تاہم، اپنی تقریر میں انہوں نے کوئی نئی ٹھوس حکمت عملی یا منصوبہ پیش نہیں کیا اور سابقہ بیانات کو ہی دہرایا۔

ایران نے ٹرمپ کے دعوے کو کیا خارج

ایران کی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ تہران نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ بی بی سی کے مطابق، ایران نے اس بیان کو’جھوٹا اور بے بنیاد‘ قرار دیا ہے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق، یہ ردعمل وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے دیا۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا، جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘پر لکھا تھا،’ایران کے نئے صدر، جو اپنے سابق رہنماؤں کے مقابلے میں کم شدت پسند اور زیادہ سمجھدار ہیں، نے ابھی امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ ہم اس پر تب غور کریں گے، جب آبنائے ہرمز کھلی، محفوظ اور مکمل طور پر فعال ہوگی۔ تب تک ہم ایران پر زوردار حملے جاری رکھیں گے اور اسے مکمل طور پر تباہ کر دیں گے، یا جیسا کہ کہا جاتا ہے، انہیں واپس پتھر کے زمانے میں پہنچا دیں گے۔‘

واضح ہو کہ تہران بار بارکہتا رہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے حوالے سے فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے۔ ایران کے صدر پہلے کہہ چکے ہیں کہ ایران بھی جنگ بندی کی’خواہش‘رکھتا ہے، لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ مخالف ممالک یہ ضمانت دیں کہ تنازعہ دوبارہ شروع نہیں ہوگا۔

ایک بار پھر ایران کےتیل پر قبضے‘کی خواہش کا اظہار

خطاب سے چند گھنٹے قبل وہائٹ ہاؤس میں ایسٹر لنچ کے دوران ٹرمپ نے ایران کے تیل کے بارے میں متنازعہ بیان دیا۔ انہوں نے وہاں موجود افراد سے کہا،’اگر ہم چاہیں تو ان کا تیل اپنے قبضے میں لے سکتے ہیں، لیکن مجھے نہیں لگتا کہ ہمارے ملک کے لوگوں میں اتنا صبر ہے، جو بدقسمتی کی بات ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’لوگ چاہتے ہیں کہ یہ ختم ہو جائے۔ اگر ہم وہاں رہتے، تو میں ان کا تیل لے لینا پسند کرتا۔ ہم یہ بہت آسانی سے کر سکتے ہیں۔ میں یہی کرنا پسند کرتا۔ لیکن ملک کے لوگ کہتے ہیں کہ بس جیت حاصل کرو اور واپس آ جاؤ۔ اور یہ بھی ٹھیک ہے، کیونکہ ہمارے پاس وینزویلا اور اپنے ملک میں کافی تیل موجود ہے۔‘

ایران کے تیل پر قبضہ کرنے کی خواہش کا اظہار ٹرمپ پہلے بھی کر چکے ہیں۔ دو دن پہلے برطانوی اخبار’فنانشل ٹائمز‘کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے تیل پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا،’ایمانداری سے کہوں تو، میری پسندیدہ چیز ایران کےتیل پر قبضہ کرنا ہے۔ لیکن امریکہ میں کچھ بےوقوف لوگ کہتے ہیں، آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ مگر وہ لوگ بےوقوف ہیں۔‘

یہ جنگ ایک سرمایہ کاری ہے- ٹرمپ

ٹرمپ نے امریکی عوام سے اپیل کی کہ وہ اس جنگ کو اپنے مستقبل میں کی گئی ایک’سرمایہ کاری‘کے طور پر دیکھیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلی صدی میں امریکہ جن جنگوں میں شامل رہا ہے، ان کے مقابلے میں یہ تنازعہ کچھ بھی نہیں، کیونکہ وہ جنگیں کہیں زیادہ طویل تھیں۔

اپنے خطاب میں ٹرمپ نے پہلی عالمی جنگ، دوسری عالمی جنگ، کوریا، ویتنام اور عراق کی جنگوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ’صرف چار ہفتوں میں امریکی فوج نے فیصلہ کن فتح حاصل کی ہے،‘حالانکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی خطے کے دیگر ممالک پر حملے جاری ہیں۔

آبنائے ہرمز پر بحران، 30 سے زیادہ ممالک کا اجلاس

دریں اثنا،عالمی سطح پر سب سے بڑی تشویش خلیج فارس سے جڑی آبنائے ہرمز کو لے کر ہے، جہاں کشیدگی کی وجہ سے تقریباً پوری سمندری آمد و رفت معطل ہو گئی ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک سمجھی جاتی ہے۔

برطانیہ کی پہل پر 30 سے زیادہ ممالک کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا ہے، جس میں اس سمندری راستے کو دوبارہ کھولنے کے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ اجلاس میں’جہازوں اور ملاحوں کی سلامتی کو یقینی بنانے اور ضروری اشیاء کی فراہمی بحال کرنے‘
کے آپشن پر بات کی جائے گی۔

دراصل، آبنائے ہرمز میں رکاوٹ اور عسکری کشیدگی کے اثرات اب عالمی معیشت پر بھی ظاہر ہونے لگے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں خلل نے کئی ممالک کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔

تضادات اور بے یقینی

ٹرمپ کے دعوؤں اور زمینی حقائق کے درمیان تضاد بھی سامنے آ رہا ہے۔ ایک طرف وہ ایران کو’اب خطرہ نہیں‘قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف خطے میں حملے جاری ہیں اور کشیدگی کم ہونے کے بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ، امریکی انتظامیہ کی جانب سے واضح حکمت عملی سامنے نہ آنے اور مختلف مواقع پر مختلف اشارے دینے کی وجہ سے صورتحال کے بارے میں بے  یقینی کی فضا قائم ہے۔

ایک علیحدہ انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ جلد ہی ایران میں اپنی فوجی کارروائی ختم کرنے کی امید رکھتا ہے، لیکن انہوں نے کوئی واضح ٹائم لائن نہیں دی۔ انہوں نے کہا،’میں آپ کو ٹھیک -ٹھیک نہیں بتا سکتا… ہم بہت جلد باہر آ جائیں گے۔‘ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ضرورت پڑنے پر امریکہ مستقبل میں محدود حملے کر سکتا ہے۔