ایران پر امریکہ – اسرائیل حملوں کا 32 واں دن: ٹرمپ کا ایران سے بات چیت کا دعویٰ، پارلیامنٹ اسپیکر نے کی دعوے کی تردید

مغربی ایشیا میں کشیدگی  میں مسلسل اضافہ ہو ریا ہے، جہاں ٹرمپ کے ایران سے بات چیت کے دعوے کو تہران نے خارج کر دیا ہے۔ وہیں،اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائی، امریکہ کی دھمکیاں اور سفارتی عدم اعتماد نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

مغربی ایشیا میں کشیدگی  میں مسلسل اضافہ ہو ریا ہے، جہاں ٹرمپ کے ایران سے بات چیت کے دعوے کو تہران نے خارج کر دیا ہے۔ وہیں،اسرائیل کی لبنان میں فوجی کارروائی، امریکہ کی دھمکیاں اور سفارتی عدم اعتماد نے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، فوٹو: اے پی / پی ٹی آئی

نئی دہلی: مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی سے متعلق واقعات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ایک طرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ بات چیت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ ایرانی قیادت نے کسی بھی براہ راست مذاکرات سے صاف انکار کیا ہے۔

اس دوران اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائی اور امریکہ کی سخت وارننگ نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

بات چیت کے دعوے پر تصادم

ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ ایران کی پارلیامنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے۔ تاہم، قالیباف نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ‘اپنی خواہشات کو خبر کے طور پر پیش کر رہا ہے’ اور ساتھ ہی ایران کو دھمکا بھی رہا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی واضح کیا کہ کوئی براہ راست بات چیت نہیں ہوئی، البتہ انہوں نے تسلیم کیا کہ کچھ تجاویز ثالثوں کے ذریعے بھیجی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران حالیہ مہینوں میں سفارت کاری کے ساتھ ہونے والی ‘غداری’ کو نہیں بھولا ہے۔

امریکہ کی سخت وارننگ

ٹرمپ نے ایران کو متنبہ کیا ہے کہ اگر جلد جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ ایران کے توانائی وسائل اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے، جیسے ڈی سیلینیشن پلانٹس، کو بڑے پیمانے پر تباہ کر سکتا ہے۔ اس بیان نے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

اسرائیل کی فوجی کارروائی اور بڑھتے خطرات

اسی دوران اسرائیل نے جنوبی لبنان میں فوجی دراندازی شروع کر دی ہے۔ اسرائیلی حکام کے اشاروں سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی طویل ہو سکتی ہے اور ممکنہ طور پر مستقل قبضے میں بدل سکتی ہے۔

اس سے پہلے ہی غیر مستحکم خطے میں تنازعہ کے مزید پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

امریکی بیان اور تنازعہ

وہائٹ ہاؤس سے وابستہ کیرولائن لیویٹ نے دعویٰ کیا کہ ‘ایران کے کچھ سابق رہنما اب اس دنیا میں نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے امریکہ سے جھوٹ بولا تھا۔’

اس بیان نے بھی سفارتی حلقوں میں تشویش بڑھا دی ہے، کیونکہ اسے جارحانہ پالیسی کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

نیٹو اتحادیوں میں بھی اختلافات

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نیٹو اتحادیوں، خاص طور پر اسپین پر الزام لگایا کہ انہوں نے بحران کے وقت امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسپین نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی میں شامل امریکی طیاروں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی۔

سمندری علاقے میں بھی حملہ

دبئی کے قریب سمندری علاقے میں ایک کویتی تیل بردار جہاز پر ڈرون حملہ ہوا، جس سے جہاز میں آگ لگ گئی۔ تاہم تمام 24 عملے کے ارکان محفوظ ہیں اور کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ یہ حملہ خطے میں عدم تحفظ کے ماحول کی جانب اشارہ کرتا ہے۔

اقوام متحدہ کے امن دستوں پر حملے کی مذمت

ہندوستان نے لبنان میں اقوام متحدہ کے امن مشن پر حملوں کی سخت مذمت کی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں دو مختلف واقعات میں تین انڈونیشیائی امن فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔

ہندوستان نے اسے شدید تشویش کا موضوع قرار دیتے ہوئے امن دستوں کی حفاظت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

مذہبی رہنماؤں کی امن کی اپیل

کشیدگی کے درمیان دلائی لامہ نے پوپ لیو کی جانب سے کی گئی امن کی اپیل کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام بڑے مذاہب کا بنیادی پیغام محبت، ہمدردی، رواداری اور خود ضبطی ہے، اور تشدد کا خاتمہ ہی آگے بڑھنے کا راستہ ہے۔

ان تمام واقعات کے درمیان یہ واضح ہے کہ مغربی ایشیا میں حالات تیزی سے پیچیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ سفارتی کوششوں پر عدم اعتماد، فوجی سرگرمیوں میں اضافہ اور عالمی طاقتوں کے درمیان اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطے میں استحکام فی الحال دور کی بات ہے۔