ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد فارماسیوٹیکل سپلائی چین بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں صرف پندرہ دنوں میں خام مال کی قیمتیں 200 سے 300 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔ دوا ساز کمپنیاں ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی وارننگ دے رہی ہیں، اور اگر حالات ایسے ہی رہے تو سپلائی میں کمی کا بھی عندیہ دے رہی ہیں۔

علامتی تصویر-Unsplash
نئی دہلی: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے سبب فارماسیوٹیکل سپلائی چین شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث خام مال کی قیمتیں صرف پندرہ دنوں میں 200-300 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، اس صورتحال کے باعث دوا ساز کمپنیاں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کی وارننگ دے رہی ہیں اور حالات برقرار رہنے کی صورت میں سپلائی میں کمی کا بھی اشارہ کر رہی ہیں۔
ہماچل پردیش میں تقریباً 650 فارماسیوٹیکل یونٹس ہیں، جو ملک بھر میں سپلائی ہونے والی کل ادویات کا تقریباً 25 فیصد تیار کرتی ہیں۔
اخبار کے مطابق، ہماچل ڈرگ مینوفیکچررز ایسوسی ایشن(ایچ ڈی ایم اے) نے مرکزی حکومت سے صنعت کے نمائندوں کے ساتھ ایک ہنگامی ٹاسک فورس کی تشکیل اور ضروری اشیاء ایکٹ 1956 کو فوری طور پر نافذ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
نیوانڈین ایکسپریس سے بات چیت میں ایچ ڈی ایم اےکے ترجمان سنجے شرما نے کہا کہ اگر مغربی ایشیا میں تنازعہ جاری رہا تو خام مال کی کمی کے باعث ادویات کی قلت یقینی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت سپلائی میں تقریباً 40 فیصد کمی آ چکی ہے اور خام مال کی قیمتیں 150-200 فیصد تک بڑھ گئی ہیں۔
گزشتہ پندرہ دنوں میں صرف پیراسیٹامول کی قیمت 250 روپے فی کلوگرام سے بڑھ کر 450 روپے فی کلوگرام ہو گئی ہے، کیونکہ کئی مینوفیکچررز کے پاس بڑھتی قیمتوں پر خام مال خریدنے کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا، ‘پیداوار کم ہو گئی ہے کیونکہ اب ہماری یونٹس 24 گھنٹے کے بجائے صرف آٹھ گھنٹے کی شفٹ میں چل رہی ہیں۔’ اس کے ساتھ انہوں نے روزگار میں کمی کے خدشات کا بھی اظہار کیا۔
کیمیکلز و فرٹیلائزرز کی وزارت اور فارماسیوٹیکل ڈپارٹمنٹ کو لکھے گئے خط میں ایچ ڈی ایم اےنے کہا ہے کہ قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور سپلائی میں رکاوٹوں کے باعث پیداوار مسلسل متاثر ہو رہی ہے۔
اخبار کے مطابق، ایکٹو فارماسیوٹیکل انگریڈینٹس(اے پی آئی)، سالوینٹس، ایکسی پیئنٹس اور پیکجنگ میٹریل کی قیمتوں میں غیر معمولی 200-300 فیصد اضافے کے باعث پیداوار کے معاہدے اب منافع بخش نہیں رہ گئے ہیں۔
اس کے ساتھ ہی، گھریلو ایل پی جی کی کمی کے باعث مزدوروں کی ہجرت کا خدشہ بھی ہے، جو آنے والے دنوں میں پیداواری صلاحیت کو مزید متاثر کر سکتا ہے اور ضروری ادویات کی سپلائی کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
پنجاب کیمسٹ ایسوسی ایشن کے صدر سریندر دگل نے کہا کہ خام مال، اجزاء، ایلومینیم فوائل اور دیگر سالوینٹس کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آنے والے دنوں میں ہر قسم کی ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو ادویات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سخت اقدامات کرنے چاہیے تھے، خصوصی طور پر ان ادویات کے لیے جنہیں مریض باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں، جیسے درد کم کرنے والی ادویات (پیراسیٹامول) اور ذیابیطس کی ادویات۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور یورپی ممالک سے درآمد کی جانے والی کینسر کی ادویات کی قیمتیں بھی آنے والے دنوں میں بڑھنا یقینی ہیں۔
انہوں نے کہا،’اگر حالات جلد بہتر نہ ہوئے تو مستقبل قریب میں تمام ادویات کی قیمتیں 20-25 فیصد تک بڑھ سکتی ہیں۔ فی الحال قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، لیکن خام مال اور سالوینٹس کی کمی کے باعث ادویات کا اسٹاک کم ہو رہا ہے، جس سے آئندہ قلت اور قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔’