ایران پر امریکہ-اسرائیل حملے کا 27 واں دن: ’پی این جی میں شفٹ نہیں کرنے پر گھروں کی ایل پی جی سپلائی بند ہو سکتی ہے‘

ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا سلسلہ 27ویں دن بھی تشدد کے ساتھ جاری ہے، اصفہان میں شدید حملوں کی خبرہے۔ اس دوران ہندوستان کی حکومت نے پی این جی کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جہاں پائپڈ گیس دستیاب ہے، وہاں صارفین کو ایل پی جی سے پی این جی میں شفٹ ہونا ہوگا۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایل پی جی کی سپلائی بند کی جا سکتی ہے۔

ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا سلسلہ 27ویں دن بھی تشدد کے ساتھ جاری ہے، اصفہان میں شدید حملوں کی خبرہے۔ اس دوران ہندوستان کی حکومت نے پی این جی کو فروغ دینے کے لیے ایک بڑا فیصلہ کیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ جہاں پائپڈ گیس دستیاب ہے، وہاں صارفین کو ایل پی جی سے پی این جی میں شفٹ ہونا ہوگا۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں ایل پی جی کی سپلائی بند کی جا سکتی ہے۔

مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے باعث ایل پی جی کی فراہمی متاثر ہونے کے درمیان نوی ممبئی کے سین پاڑا علاقے میں بدھ (25 مارچ 2026) کو لوگ خالی سلنڈر لے کر قریبی گیس ایجنسی کی طرف جاتے ہوئے نظر آئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا سلسلہ 27ویں دن بھی جاری ہے۔ جمعرات (26 مارچ) کی صبح سویرے ایران کے شہر اصفہان کے آس پاس شدید حملوں کی خبریں موصول ہوئی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ اس دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے جنگ ختم ہونے کے دعوے اور ایران کے سخت ردعمل کے درمیان سفارتی حل کی امید کمزور نظر آ رہی ہے۔

اس جنگ کا اثر ہندوستان پر بھی نظر آ رہا ہے۔ ایل پی جی بحران کے پیش نظر نریندر مودی حکومت نے گھریلو گیس سپلائی کے حوالے سے بڑا فیصلہ لیا ہے۔

نئے آرڈرکے مطابق جہاں پائپڈ نیچرل گیس (پی این جی) کی سہولت موجود ہے، وہاں صارفین کو ایل پی جی سے پی این جی میں شفٹ  ہونا ہوگا۔ ایسا نہ کرنے پر گھریلو ایل پی جی سلنڈر کی فراہمی بند کر دی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد گیس نیٹ ورک کو وسعت دینا اور ایک ہی ایندھن پر انحصار کم کرنا ہے۔

ایران پر حملے جاری

ایران کے ترقی پسند اخبار ‘ہم میہان’ نے اصفہان کے اطراف حملوں کی اطلاع دی ہے۔ یہ شہر دارالحکومت تہران سے تقریباً 330 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور یہاں ایران کا ایک اہم ایئربیس، کئی فوجی ٹھکانے اور جوہری مراکز موجود ہیں۔ یہی وہ علاقہ ہے جسے جون میں اسرائیل-ایران کے 12 روزہ جنگ کے دوران امریکہ نے بھی نشانہ بنایا تھا۔

نیم سرکاری فارس نیوز ایجنسی، جسے انقلابی گارڈ کے قریب سمجھا جاتا ہے، کے مطابق حملے’دو رہائشی علاقوں’ کو نشانہ بنا کر کیے گئے، تاہم نقصانات یا جانی ہلاکتوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس سے پہلے اسرائیلی فوج نے پورے ایران میں ‘وسیع حملوں کی ایک لہر’ مکمل کرنے کا دعویٰ کیا تھا، جس میں اصفہان بھی شامل ہے۔

تہران نے امریکی تجویز مسترد کر دی

ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز کہا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے معاہدہ قریب ہے۔ تاہم، تہران نے امریکہ کی 15 نکاتی جنگ بندی تجویز کو مسترد کر دیا ہے اور اپنی شرائط پیش کی ہیں۔ پاکستان کے دو عہدیداروں کے مطابق، امریکی تجویز میں پابندیوں میں نرمی، ایران کے جوہری پروگرام میں کٹوتی، میزائلوں پر پابندیاں اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے جیسے نکات شامل تھے۔

اس کے جواب میں ایران نے سرکاری ٹی وی کے ذریعے اپنی شرائط پیش کیں، جن میں اس کے حکام کے قتل پر روک، مستقبل میں کسی نئی جنگ کی ضمانت، جنگ کا معاوضہ، دشمنی کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کو تسلیم کروانا شامل ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ نے واضح کہا کہ اب تک ‘دشمن کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے اور آئندہ بھی کسی بات چیت کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔’

آسٹریلیا میں ایرانیوں پر پابندی

دریں اثنا، جنگ کے اثرات بین الاقوامی سطح پر بھی نظر آنے لگے ہیں۔ آسٹریلیا نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کچھ ایرانی شہریوں کے ملک میں داخلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ پابندی چھ ماہ کے لیے ان ایرانیوں پر لاگو ہوگی جن کے پاس وزیٹر ویزا (سب کلاس 600) ہے۔ حکام کو خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں وہ اپنے ملک واپس نہیں جا سکیں گے۔

مجموعی طور پر 27ویں دن بھی حملے اور جوابی کارروائیاں جاری ہیں۔ ایک طرف امریکہ جنگ کے خاتمے کے دعوے کر رہا ہے، جبکہ ایران نے اس کی شرائط مسترد کرتے ہوئے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔ زمینی صورتحال اور بڑھتے حملے اس بات کی نشاندہی کر رہے ہیں کہ یہ تنازعہ فی الحال ختم ہونے کے بجائے مزید طول پکڑ سکتا ہے۔