ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔

تصویر اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔
یہ غالبا ً 1998 کا سال تھا۔ اٹل بہاری واجپائی، مغربی بنگال کی ممتا بنرجی اور تامل ناڈو کی جے جیہ للتا کی بیساکھیوں کے سہارے اتحادی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
بنرجی گو کہ حکو مت میں شامل نہیں تھیں، مگر وہ ممبر پارلیامنٹ اور حکومت کی اہم اتحادی تھیں۔ ایک صبح پارلیامنٹ کی کارروائی کور کر نے کے لیے میں پارلیامنٹ اسٹریٹ کی طرف والے صد ر دروازے پر پہنچا تو دیکھا کہ ذرا دوری پر ایک آٹو رکشہ کھڑا ہے اور ساڑی میں ملبوس ایک خاتون ڈرائیور کے ساتھ جھگڑ رہی ہیں۔
سیکورٹی والے گیٹ سے ہی پارلیامنٹ کی دیوار کے پاس رکشہ روکنے کے لیے ڈرائیور پر چلا رہے تھے۔ قریب پہنچ کر پتہ چلا کہ یہ خاتون کوئی اور نہیں بلکہ ممتا بنرجی تھیں۔ وہ بحث کر رہی تھیں کہ’جن پتھ کے ویسٹر کورٹ سے پارلیامنٹ تک میں روز 13روپیہ کرایہ دیتی ہوں اور یہ آٹو والا آج 18روپیہ ما نگ کر لوٹ رہا ہے۔’
خیر جب آٹو والے کو پتہ چلا کہ سواری کوئی اور نہیں بلکہ فائٹر لیڈر ممتا بنرجی ہیں تو وہ 13روپیہ لےکر نو دو گیارہ ہوگیا۔مین گیٹ سے پورچ تک کا فاصلہ طے کرتے ہوئے وہ مجھے بتا رہی تھیں کہ نہ تو کسی کی حق تلفی کرنی چاہیے اور نہ ہی اپنا حق غصب ہونے دینا چاہیے، چاہے وہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ ہو۔2011سے اب تک وہ مغربی بنگال جیسے اہم صوبہ کی وزیراعلیٰ تھیں۔
گو کہ ان کی حکومت بہت زیادہ مثالی تو نہیں تھی، مگر ذاتی طور پر وہ ایماندار سیاستداں تھیں۔ وہ حکومتی خزا نے سے تنخواہ نہیں لیتی تھیں، بلکہ اپنے اخراجات اپنی کتابوں کی رائلٹی سے پورا کرتی تھیں۔
ابھی حال ہی میں بھارتیہ جنتا پارٹی یعنی بی جے پی نے ان کو 15سال کے بعد اقتدار سے باہر کردیا۔ان کی ترنمول کا نگریس صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ بنگالی شناخت، دہلی کے مقابل علاقائی خودمختاری اور سیکولر سیاست کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
ہندوستان کے حالیہ اسمبلی انتخابات نے صرف حکومتیں تبدیل نہیں کیں بلکہ سیاست کے فکری دھاروں، ریاستی شناختوں، مذہبی توازن، وفاقی ڈھانچے اور جمہوری اداروں کے مستقبل سے متعلق کئی بنیادی سوالات بھی پیدا کر دیے ہیں۔
مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالہ اور آسام کے ا نتخابی نتائج بظاہر الگ الگ سیاسی کہا نیاں معلوم ہوتے ہیں، مگر گہرائی میں دیکھا جائے تو یہ سب ایک ہی بڑے قومی تغیر کی مختلف صورتیں ہیں۔
ایک طرف ہندوستان کے شمال اور مغرب نے بی جے پی کے ہندو توا نظریہ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں، دوسری طرف جنوبی ہندوستان کی بعض ریاستیں اب بھی ایک تہذیب کو بچا نے کی کوشش کر رہی ہیں۔
کیرالا میں بائیں بازو محاذ کو شکست دےکر کا نگریس کے اتحاد نے دس سال بعد واپسی کی۔
اسی طرح پڑوسی تامل ناڈو میں روایتی دراوڑ پارٹیوں کے مقابلے سیاسی اعتبار سے ایک نوآموز تیسرے فریق فلم اسٹار چندرشیکھر جوزف وجے کی پارٹی تاملگاویتری کزگم نے بازی مار لی۔ یہاں بی جے پی، آل انڈیا انا ڈی ایم کے کی قیادت والی اتحاد میں تھی، جو تیسرے نمبر پر رہا۔

جوزف وجے فلم تھلائیوا کے ایک منظر میں۔ (تصویر: یوٹیوب ویڈیو / مشری موویز کا اسکرین گریب)
مگر سوال یہ ہے کہ کیا جنوب کی یہ مزاحمت دیرپا ثابت ہوگی؟ یا پورا ہندوستان آہستہ آہستہ ایک ہی نظریاتی سا نچے میں ڈھل جائےگا۔
ان انتخابات کا سب سے بڑا سیاسی زلزلہ مغربی بنگال میں آیا، جہاں بی جے پی نے 294 رکنی اسمبلی میں تقریباً 206 نشستیں حاصل کیں، جبکہ ترنمول کانگریس محض 99 نشستوں تک محدود ہو گئی۔ بائیں بازو اور کانگریس تقریباً صفحہ سیاست سے غائب ہو گئے۔
یہ صرف ایک انتخابی شکست نہیں بلکہ بنگال کی اُس سیاسی روایت کا انہدام تھا جس نے نصف صدی تک خود کو ہندوتوا کے مقابل ایک مختلف تہذیبی خطہ سمجھا تھا۔
کئی برسوں سے بنگال میں خاموش مگر گہری سماجی تبدیلی جاری تھی۔ بی جے پی نے ہندو شناخت کو بنگالی قومیت کے مقابل کھڑا کر دیا۔
ایک زمانے میں بنگال بائیں بازو، مزدور تحریکوں، ادبی ثقافت، سیکولر قومیت اور سیاسی مباحثے کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔مگر گزشتہ دس برسوں میں وہاں کئی سطحوں پر تبدیلی آئی۔
بنگلہ دیشی دراندازی، سرحدی سلامتی، شہریت، اور مسلم آبادی کے اضافے جیسے موضوعات کو مسلسل انتخابی ہتھیار بنایا گیا۔خاص طور پر جنوبی اور شمالی بنگال کے دیہی علاقوں میں بی جے پی نے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا جس میں ترنمول کانگریس کو مسلم نواز سیاست کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔
اعداد و شمار یہ بھی دکھاتے ہیں کہ بی جے پی کی سب سے بڑی کامیابی شہری علاقوں میں نہیں بلکہ دیہی بنگال میں ہوئی۔ شمالی بنگال، جنگل محل، اور جنوبی مغربی اضلاع میں پارٹی نے زبردست کامیابی حاصل کی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کولکاتہ اور بعض شہری علاقوں میں ترنمول کانگریس نے اپنی پوزیشن کسی حد تک برقرار رکھی، مگر دیہی علاقوں میں وہ مکمل طور پر بکھر گئی۔
اس انتخاب کو سب سے زیادہ متنازعہ بنانے والی چیز ووٹر لسٹوں میں گہری چھان پھٹک جس کو’اسپیشل انٹینسیو ریویژن‘یعنی ایس آئی آر کا نام دیا گیا، تھی۔ بعض رپورٹوں کے مطابق ،تقریباً ایک کروڑ افراد کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہوئے جبکہ ستائیس لاکھ افراد ’منطقی تضادات ‘کے نام پر التوا میں ڈال دیے گئے۔یعنی اوسطاً ہر اسمبلی حلقہ میں تیس ہزار افراد کو حق رائے دہی سے محرو م کر دیا گیا۔
ان میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ ممتا بنرجی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن بی جے پی کے ساتھ مل کرووٹ لوٹ میں شریک ہے۔ انہوں نے گنتی مراکز سے پارٹی ایجنٹوں کو نکالے جانے اور سی سی ٹی وی فوٹیج جاری نہ کیے جانے پر سوالات اٹھائے۔
یہ معرکہ محض بی جے پی اور ترنمول کانگریس کے مابین کوئی روایتی انتخابی مقابلہ نہ تھا، بلکہ یہ الیکشن کمیشن آف انڈیا اور مرکزی حکومت کی تمام تر مقتدر قوتوں کا اپوزیشن کے خلاف ایک کھلا محاذ تھا۔اعداد و شمار کی زبانی حقیقت یہ ہے کہ جن حلقوں میں ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کی شرح پانچ ہزار سے کم رہی، وہاں بی جے پی نے 13 نشستیں سمیٹی جبکہ ترنمول کا کھاتہ بھی نہ کھل سکا۔
جہاں یہ اخراج پانچ سے پندرہ ہزار کے درمیان رہا، وہاں بی جے پی 50 اور ترنمول صرف 12 نشستوں پر کامیاب ہوسکی۔ حد تو یہ ہے کہ جہاں ووٹر لسٹوں سے پچیس ہزار سے زائد نام حذف کیے گئے، وہاں بی جے پی کی کامیابی کا گراف 95 تک جا پہنچا جبکہ ترنمول 51 نشستوں تک محدود رہی۔
کیا یہ امر حیران کن نہیں کہ جہاں بڑے پیمانے پر ناموں کا اخراج ہوا، وہیں بی جے پی امیدواروں کی جیت کا تناسب بڑھتا گیا۔
ماہرین کے مطابق اس سے نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حذف ہوئے ووٹروں کو کوئی ریلیف دینے کے بجائے ریمارک دیا کہ’جن کے نام فہرست سے نکل گئے، وہ اگلی بار ووٹ دے سکتے ہیں۔‘ یعنی یہ خاطر میں لائے بغیر کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوسکتے ہیں، عدالت نے فوری کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔
مزید برآں ڈھائی لاکھ کے قریب مرکزی فورسز کی تعیناتی نے بھی کئی سوالات پیدا کیے۔ بعض علاقوں میں سیکورٹی فورسز کی موجودگی نے مسلم اور اپوزیشن ووٹروں کو خوفزدہ کرکے ووٹنگ پیٹرن کو متاثر کیا۔
ایک زمانہ تھا جب مذہبی نفرت کو کھلے عام سیاسی نعرہ بنانا قابل قبول نہیں سمجھا جاتا تھا۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ مسلم مخالفت بی جے پی کے لیے انتخابی سرمایہ بنتی جا رہی ہے۔بی جے پی نے نہ صرف ہندو ووٹوں کو متحد کیا، بلکہ مسلمانوں کی سیاسی حیثیت کو بھی ایک بڑا انتخابی مسئلہ بنا کر پیش کیا۔
مسلمانوں کی نمائندگی، مدارس، اردو، وقف، یا حتیٰ کہ مسلم امیدواروں کی تعداد بھی اکثر اکثریتی خوف پیدا کرنے کے لیے استعمال کی گئی۔اسی ماحول میں بی جے پی کے کئی رہنماؤں کی زبان پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوتی گئی۔گجرات کے ایک بی جے پی رکن اسمبلی جیتو سمانی نے انتخابی جلسے میں کہا؛
’میں نے کبھی مسلمانوں سے ووٹ نہیں مانگا۔ مجھے ان کے ووٹ نہیں چاہیے اور وہ بھی مجھے ووٹ دےکر ناپاک نہ کریں۔’
مغربی بنگال کے نو منتخب وزیر اعلیٰ سو یندو ادھیکاری پوری انتخابی مہم کے دوران مسلسل مسلم مخالف بیانات دیتے رہے۔
سابق راجیہ سبھا رکن جواہر سرکار نے اپنے مضمون میں لکھا کہ بنگال کی شکست کے پیچھے صرف اینٹی اِنکمبنسی نہیں بلکہ ایک ’بے رحم منصوبہ‘ کارفرما تھا۔ ان کے مطابق بی جے پی نے بنگال میں فرقہ وارانہ تقسیم، ووٹر لسٹ کی تطہیر، اور ریاستی طاقت کے استعمال کے ذریعے ایک نیا سیاسی ماڈل آزمایا۔
ان کے مطابق یہ ماڈل اب پورے ہندوستان میں دہرایا جائےگا۔اکثریتی ووٹر کو یہ احساس دلایا جا رہا ہے کہ وہ خطرے میں ہے، اور صرف ایک طاقتور ہندو قوم پرست قیادت ہی اس کی حفاظت کر سکتی ہے ۔اسی لیے بی جے پی کی سیاست صرف ترقی یا گورننس کے گرد نہیں گھومتی بلکہ شناخت، خوف، تاریخ اور مذہبی احساسات کے گرد تعمیر کی جاتی ہے۔
برطانوی جریدے دی اکانومسٹ نے بھی اپنے اداریے میں خبردار کیا کہ اگرچہ ممتا بنرجی کی حکومت کرپشن، جبر اور بدانتظامی کے الزامات سے بری نہیں، مگر بی جے پی کی فتح ہندوستان کو یک جماعتی ریاست کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
اداریے میں کہا گیا کہ ہندوستانی جمہوریت کی اصل طاقت اس کی معاشی ترقی، تنوع اور وفاقی توازن میں رہی ہے، مگر اگر سیاست مذہبی تقسیم پر کھڑی ہوگی تو یہ طاقت آہستہ آہستہ ختم ہو سکتی ہے۔
اداریے نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بنگال اور آسام میں بی جے پی نے ہندو ووٹ کو مذہبی خوف کے ذریعے منظم کیا، جبکہ اپوزیشن جماعتیں کوئی متبادل بیانیہ پیش نہ کر سکیں۔
یہ وہ لمحہ ہے جہاں ہندوستانی سیاست کا بڑا سوال سامنے آتا ہے؛کیا ہندوستان ایک کثیرجہتی جمہوریت سے اکثریتی قوم پرستی کی ریاست میں تبدیل ہو رہا ہے؟

تصویر اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔
آسام کے انتخابات اگرچہ مغربی بنگال یا تمل ناڈو جتنے ڈرامائی نہیں تھے، مگر شاید پورے ہندوستان کے مستقبل کو سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ اہم یہی ریاست ہے۔کیونکہ آسام وہ تجربہ گاہ بن چکا ہے جہاں بی جے پی نے ہندوتوا، قومیت، سرحدی خوف، شہریت اور یعنی آبادیاتی تبدیلی کے بیانیے کو ایک ساتھ ملا کر نئی سیاست تخلیق کی۔
ہمنتا بسوا سرما کی قیادت میں آسام اب صرف ایک ریاست نہیں بلکہ ایک سیاسی ماڈل بن چکا ہے، جسے بی جے پی ملک کے دوسرے حصوں میں بھی دہرانا چاہتی ہے۔
آسام میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر قانونی دراندازی، بنگلہ دیشی مسلمان، زمین جہاد، آبادیاتی خطرہ وغیرہ جیسی اصطلاحیں عام سیاسی زبان بن چکے ہیں۔یہی وہ ریاست ہے جہاں شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے)، نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز(این آر سی)، مدارس کے خلاف کارروائیوں، اور مسلم اکثریتی علاقوں میں انہدامی مہمات کو سیاسی جواز فراہم کیا گیا۔اگرچہ مسلمانوں کی آبادی تقریباً چونتیس فیصد ہے، مگر اسمبلی میں ان کی نمائندگی صرف 23 نشستوں تک محدود رہی، یعنی تقریباً اٹھارہ فیصد۔
یہ تضاد صرف آسام تک محدود نہیں۔پورے ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی سکڑتی جا رہی ہے۔2013 میں مختلف ریاستی اسمبلیوں میں تقریباً 339 مسلم ارکان تھے۔ اب یہ تعداد کم ہو کر 255 رہ گئی ہے۔سب سے زیادہ کمی اتر پردیش، مغربی بنگال اور بہار میں دیکھی گئی۔اتر پردیش میں مسلمان آبادی کا تقریباً انیس فیصد ہیں، مگر اسمبلی میں ان کی نمائندگی آٹھ فیصد سے بھی کم رہ گئی ہے۔
بہار میں سترہ فیصد مسلم آبادی کے مقابل صرف گیارہ ارکان اسمبلی میں پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ سات ریاستیں ایسی ہیں جہاں اب ایک بھی مسلم ایم ایل اے موجود نہیں ہے۔ یہ اعداد و شمار ہندوستانی جمہوریت کی بدلتی ہوئی سماجی ساخت کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بنگال میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً ستائیس فیصد ہے، مگر اسمبلی میں ان کی نمائندگی صرف چودہ فیصد کے قریب رہ گئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترنمول کانگریس پر اکثرمسلم اپیزمنٹ کے الزامات لگتے رہے ، مگر عملی طور پر ان کے دور میں بھی مسلم نمائندگی کم ہوتی گئی۔
ایک زمانہ تھا جب کانگریس خود کو تمام مذہبی و سماجی طبقات کی جماعت کے طور پر پیش کرتی تھی۔ مسلمان اگرچہ اپنی علیحدہ سیاسی جماعتوں سے دور ہوتے گئے، مگر انہیں یقین تھا کہ سیکولر جماعتیں ان کی نمائندگی کریں گی۔
مگر اب صورتحال بدل چکی ہے۔کانگریس کمزور ہو چکی ہے۔علاقائی جماعتیں دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ بی جے پی نے اکثریتی قوم پرستی کو اتنا غالب بنا دیا ہے کہ کئی جماعتیں کھل کر مسلم نمائندگی کی بات کرنے سے بھی گھبراتی ہیں۔
اسی لیے اب یہ سوال دوبارہ اٹھ رہا ہے کہ 1947 کے بعد مسلمانوں نے جو سیاسی راستہ اختیار کیا تھا، کیا وہ تاریخی طور پر غلط ثابت ہوا؟
مولانا ابوالکلام آزاد نے تقسیم کے فوراً بعد لکھنؤ میں آل انڈیا مسلم کانفرنس منعقد کی تھی۔ اس کانفرنس میں مسلم سیاسی جماعتوں کو ختم کر کے کانگریس کے ساتھ کھڑے ہونے کی اپیل کی گئی۔استدلال یہ تھا کہ مسلم سیاسی جماعتیں فرقہ وارانہ سیاست کو زندہ رکھیں گی اور ہندو قوم پرستی کو تقویت دیں گی۔
شمالی ہندوستان میں جمعیۃ علماء ہند نے عملی سیاست سے کنارہ کشی کرکے کانگریس کی حمایت سے ایک یا دو راجیہ سبھا کی سیٹوں پر اکتفا کیا۔ مگر جنوبی ہندوستان خاص طور پر مدراس میں مسلم لیگی لیڈر محمد اسماعیل نے اس سے اختلاف کیا۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کو تحلیل کرکے انڈین یونین مسلم لیگ کی تشکیل کی۔ جس کی وجہ سے کیرالہ میں مسلم نمائندگی آبادی کے تناسب کے قریب ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ کیرالہ آج بھی نسبتاً متوازن سیاسی ماحول رکھتا ہے۔اس بار کیرالا میں جہاں مسلم لیگ نے کانگریس کے ساتھ مل کر بڑی کامیابی درج کی، نے نوجوانوں، خواتین اور تعلیم یافتہ متوسط طبقے کو صفِ اول میں لانے کی سعی کی۔
فاطمہ تحلیہ جیسے امیدواروں کو میدان میں اتارنا محض ایک علامتی اقدام نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا اشارہ تھا کہ مسلم سیاست بھی بدلتے ہوئے سماجی ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنا چاہتی ہے۔
اسی دوران صادق علی شہاب تھنگل نے مسلم لیگ کو ایک زیادہ مصلحت پسند اور رابطہ کار قوت کے طور پر پیش کیا۔ انہوں نے مسیحی برادری کے ساتھ روابط بڑھائے، بین المذاہب تقریبات میں شرکت کی اور مسلم سیاست کو تنہائی اور گوشہ نشینی سے نکالنے کی کوشش کی۔ کیرالہ میں مسلمان اب بھی اتحادی سیاست کے ذریعے اقتدار میں شراکت داری کا حصہ ہیں۔
اسی لیے یہ ان چند خطوں میں شامل ہے جہاں مسلمان خود کو مکمل طور پر سیاسی اجنبی یا غیر محسوس نہیں کرتے۔ وہاں اختلافات ضرور موجود ہیں، مگر سیاسی دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ کیرالہ کا ماڈل اکثر ایک متبادل سیاسی راستے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جہاں شناخت کی سیاست اور جمہوری شمولیت کے درمیان کسی حد تک توازن برقرار ہے۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ کیرالہ کی سیاست صرف مذہبی شناخت کے گرد نہیں گھومتی۔ وہاں تعلیم، صحت، روزگار، سماجی ترقی اور مقامی مسائل بھی انتخابی مباحث کا حصہ بنتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان محض خوف کی سیاست کے سہارے نہیں بلکہ سماجی شرکت اور سیاسی گفت و شنید کے ذریعے اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
کیرالہ میں بائیں بازو کی جماعتوں، کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان سیاسی مقابلہ ضرور ہے، مگر اس مقابلے میں مسلمانوں کو مکمل طور پر قومی دھارے سے باہر دھکیلنے کی کوشش نسبتاً کم دکھائی دیتی ہے۔ اس ماحول نے مسلمانوں میں ایک حد تک سیاسی اعتماد کو باقی رکھا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ طرزِ عمل باقی ہندوستان میں ممکن ہے؟
شمالی ہندوستان میں آبادیاتی سیاست بہت زیادہ جارحانہ ہو چکی ہے۔ وہاں مسلمان صرف ایک اقلیت نہیں بلکہ ایک سیاسی علامت بن چکے ہیں۔ بی جے پی کی سیاست میں ’مسلم‘ اب محض مذہبی شناخت نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی صنف یا زمرہ ہے جسے اکثریتی صف بندی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر انتخاب میں مسلمانوں کا ذکر براہِ راست ہو یا بالواسطہ، ایک مرکزی سیاسی حوالہ بن جاتا ہے۔ کبھی مدرسوں پر بحث، کبھی وقف املاک، کبھی اذان، کبھی حجاب، اور کبھی شہریت کے قوانین۔ گویا مسلمان اب صرف ایک کمیونٹی نہیں بلکہ ایک مستقل سیاسی بیانیہ بن چکے ہیں۔
یہ صورتحال صرف انتخابی تقاریر تک محدود نہیں رہی بلکہ میڈیا، سوشل میڈیا اور روزمرہ کی گفتگو میں بھی سرایت کر چکی ہے۔ ٹیلی ویژن مباحثوں میں اکثر مسلمانوں کو ایک ایسے مسئلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے جسے ’حل‘کرنا ضروری ہو۔
سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمات، فرضی خبروں اور اشتعال انگیز ویڈیوز کے ذریعے ایک ایسا ماحول بنایا جاتا ہے جس میں عام شہری بھی آہستہ آہستہ سیاسی تعصب کا حصہ بنتا چلا جاتا ہے۔ اس پورے عمل نے مسلمانوں کے خلاف شکوک، خوف اور فاصلے کو ایک منظم سیاسی ہتھیار میں بدل دیا ہے۔
سابق ممبر پارلیامنٹ محمد ادیب کے مطابق موجودہ حکومت نے چانکیہ کے قدیم اصول کی پیروی کرتے اپنی ناکامیوں کو چھپانے کےلیے ایک دشمن کو تخلیق کیا ہے۔ ان کے مطابق آج وہ دشمن مسلمان کو بنا دیا گیا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کا نوجوان تعلیم، مہنگائی، بے روزگاری اور معیشت کے سوالات کے بجائے اس بحث میں الجھا ہوا ہے کہ’ مسلمانوں کو کیسے قابو کیا جا رہا ہے‘۔
ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی کے ساتھ ایک انٹرویو میں محمد ادیب نے بتایا کہ موجودہ فضا نے نہ صرف مسلمانوں کو غیر محفوظ بنایا ہے بلکہ پورے جمہوری ڈھانچے کو کمزور کر دیا ہے۔
ان کے مطابق ،مسلمانوں کو اکثر انتخابی جلسوں میں تو یاد کیا جاتا ہے، مگر ان کے دکھ، خوف اور سماجی مسائل پر کھل کر بات کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔
محمد ادیب نے مسلمانوں کو ایک غیر معمولی مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان کم از کم ایک الیکشن کے لیے ”سیاسی اعتکاف“ اختیار کریں۔ نہ الیکشن لڑیں، نہ ووٹ دیں، اور خود کو انتخابی ہنگامے سے الگ کرلیں ۔
ان کے بقول اگر مسلمان انتخابی میدان میں ہوگا ہی نہیں تو بی جے پی اور سنگھ پریوار کے پاس ”دشمن“ دکھانے کا موقع کم ہو جائے گا۔ تب سیاست کا رخ مذہبی پولرائزیشن کے بجائے مہنگائی، بے روزگاری، صحت اور تعلیم جیسے حقیقی مسائل کی طرف مڑ کر ان کو اپنی اوقات کا پتہ چل جائےگا۔
انہوں نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ اگر مسلمان سیاسی منظر سے وقتی طور پر پیچھے ہٹ جائیں تو بی جے پی پارلیامنٹ میں سو نشستیں بھی حاصل نہیں کر سکے گی، کیونکہ اس کی سیاست کا بڑا حصہ خوف اور تقسیم کے بیانیے پر قائم ہے۔
لگتا ہے کہ موجودہ حالات کے پس منظر میں اس تجویز پر مسلم لیڈروں کو سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے۔
تاہم اس تجویز پر اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ بعض دانشوروں کے مطابق سیاسی عمل سے مکمل کنارہ کشی مسلمانوں کو مزید غیر مرئی بنا سکتی ہے۔ ان کے خیال میں جمہوری سیاست میں موجود رہنا، اپنے مسائل کو آئینی زبان میں اٹھانا اور وسیع سماجی اتحاد قائم کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اصل ضرورت ایسی نئی سیاسی زبان پیدا کرنے کی ہے جو صرف مذہبی شناخت کے بجائے شہری حقوق، آئینی تحفظات، سماجی انصاف اور اقتصادی مسائل کو بنیاد بنائے۔
جب تک کوئی ایسی سیاسی طاقت سیاسی منظر نامہ پر نمودار نہیں ہوتی ہے جو مسلمان اور دیگر کمزور طبقات کو شناخت کے دائرے سے نکال کر سماجی انصاف، معاشی مساوات اور دستوری حقوق کی جدوجہد سے جوڑیں، تب تک یہی حل شاید ہندو تو قوتوں کو لگام لگا سکے۔