ایران پر حملوں کے 57ویں دن پاکستان میں سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، تاہم ایران نے امریکہ سے براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے سفیر بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے، جبکہ دہلی میں برکس اجلاس بغیر مشترکہ اعلامیے کے ختم ہوا، جو عالمی اختلافات کو ظاہر کرتا ہے۔

ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی کی پاکستان کے راولپنڈی میں نور خان ایئربیس آمد پر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان کا استقبال کیا۔ (24 اپریل 2026، تصویر: اے پی/پی ٹی آئی)
نئی دہلی: ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 57ویں دن بھی سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں، لیکن اب تک کسی ٹھوس پیش رفت کے اشارے نہیں ملے ہیں۔ بات چیت کی کوششیں جاری ہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر اس جنگ پر اختلافات واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔
پاکستان میں سفارتی سرگرمیاں، مگر براہ راست بات چیت سے انکار
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی جمعہ کی شام ’دوطرفہ مشاورت‘کے لیے پاکستان پہنچے۔ اسی دوران وہائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سنیچر (25 اپریل) کو اپنے نمائندے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کو پاکستان بھیج رہے ہیں۔ تاہم نائب صدر جے ڈی وینس اس دورے کا حصہ نہیں ہوں گے۔
ان سفارتی کوششوں کے بیچ ایران نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اس دورے کے دوران امریکی نمائندوں سے براہ راست بات نہیں کرے گا۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ’ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے‘اور ایران اپنے مؤقف کو پاکستان کے ذریعے پیش کرے گا۔
یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد برقرار ہے۔
دہلی میں برکس اجلاس بغیر مشترکہ اعلامیے کے ختم
اسی دوران برکس ممالک کے نائب وزرائے خارجہ اور مغربی ایشیا کے خصوصی نمائندوں کا اجلاس 24 اپریل کو دہلی میں ہوا، مگر یہ کسی مشترکہ اعلامیے کے بغیر ختم ہو گیا۔
اس اجلاس میں ایران سمیت برکس کے 10 رکن ممالک کے نمائندے شامل ہوئے۔ ایران، جس پر امریکہ اور اسرائیل نے براہ راست حملے کیے ہیں، اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک، جو ایرانی جوابی کارروائیوں سے متاثر ہوئے ہیں، ان کی موجودگی کے باوجود کوئی مشترکہ مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔ یہ صورتحال برکس ممالک کے اندر اختلافات کو ظاہر کرتی ہے۔
لبنان میں صحافی کے قتل کی مذمت
بین الاقوامی پریس تنظیموں نے جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے میں صحافی امل خلیل کی ہلاکت کی شدید مذمت کی ہے۔ انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف پریس کلب نے کہا کہ یہ حملہ اس وقت ہوا جب صحافی رپورٹنگ کر رہے تھے، جس سے یہ محض’اتفاقی موت‘نہیں بلکہ صحافیوں کی حفاظت پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔
تنظیم نے یہ بھی خبردار کیا کہ ایسے حملوں کے بعد امدادی کارروائیوں میں رکاوٹ پیدا کی گئی، جو بین الاقوامی قانون کے تحت صحافیوں کو دی جانے والی سکیورٹی کی خلاف ورزی کو ظاہر کرتی ہے۔
مجموعی صورتحال
غور طلب ہے کہ 57 ویں دن کی صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنگ صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں بلکہ سفارتی سطح پر بھی پیچیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں، مگر دوسری طرف براہ راست بات چیت سے انکار، عالمی سطح پر اختلافات، اور زمینی سطح پر تشدد—یہ سب اس بحران کے فوری حل کو مزید مشکل بنا رہے ہیں۔