ملک کی اپوزیشن جماعتوں نے پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے فوراً بعد کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر مرکز کی نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ساتھ ہی حکومت سے بڑھی ہوئی قیمتوں کو فوراً واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

فوٹو: پی ٹی آئی
نئی دہلی: کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافے پر اپوزیشن جماعتوں—کانگریس، دراوڑ منیتر کڑگم (ڈی ایم کے)، سماجوادی پارٹی (ایس پی)، عام آدمی پارٹی (عآپ) اور بائیں بازو کی جماعتوں سمیت دیگرنے مرکز کی نریندر مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی نے اسے ’انتخابی بل‘قرار دیا اور کہا کہ پہلا وار گیس پر ، اگلا وار پیٹرول اور ڈیزل پر ہوگا۔
कह दिया था – चुनाव के बाद महंगाई की गर्मी आएगी।
आज कमर्शियल गैस सिलेंडर ₹993 महंगा। एक ही दिन में सबसे बड़ी बढ़ोतरी। यह चुनावी बिल है।
फरवरी से अब तक: ₹1,380 की बढ़ोतरी – सिर्फ़ 3 महीनों में 81% का इज़ाफ़ा।
चायवाला, ढाबा, होटल, बेकरी, हलवाई – हर किसी की रसोई पर बोझ बढ़ा। और…
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) May 1, 2026
معلوم ہو کہ مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی کے درمیان مرکزی حکومت نے جمعہ (1 مئی) کو کمرشیل ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتوں میں اب تک کا سب سے بڑا اضافہ کیا۔ ہوٹلوں اور ریستوراں میں عام طور پر استعمال ہونے والے 19 کلوگرام کے کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت میں 993 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ مسلسل تیسرا مہینہ ہے جب قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔
دہلی میں 19 کلوگرام کمرشیل ایل پی جی سلنڈر کی قیمت اب 3,071.50 روپے ہو گئی ہے، جو پچھلے مہینے 2,078.50 روپے تھی۔
اس سے پہلے 1 اپریل کو کمرشیل سلنڈر کی قیمتوں میں 195.50 روپے کا اضافہ کیا گیا تھا، اور اس سے پہلے 1 مارچ کو 114.50 روپے کا اضافہ ہوا تھا۔ اس طرح تین مہینوں میں قیمتوں میں مجموعی طور پر 1,303 روپے کا بھاری اضافہ ہوا ہے۔
اس اضافے پر کانگریس نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ برسر اقتدار پارٹی کی عام لوگوں کی تکلیفوں سے ہمدردی صرف انتخابی ہتھکنڈوں تک محدود ہے، جس کے بعد انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔
‘महंगाई मैन मोदी’ का चाबुक फिर चला। आज कमर्शियल सिलेंडर 993 रुपए महंगा हुआ।
मोदी ने पिछले 4 महीने में कमर्शियल सिलेंडर के दाम ऐसे बढ़ाए
• 1 मई: ₹993
• 1 अप्रैल: ₹218
• 7 मार्च: ₹115
• 1 मार्च: ₹31
• 1 फरवरी: ₹50
• 1 जनवरी: ₹111
————–
टोटल: ₹1,518जी…
— Congress (@INCIndia) May 1, 2026
وہیں، سماجوادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے بھی بی جے پی پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عام لوگوں کے لیے کھانا مہنگا ہو جائے گا۔
اکھلیش یادو نے کہا،’ سلنڈر مہنگے نہیں ہوتے، روٹی اور تھالی مہنگی ہو جاتی ہے۔ یہ بات صرف وہی جانتا ہے جو خود خرید کر کھاتا ہے، نہ کہ وہ جو دوسروں کے یہاں جا کر کھاتا ہے یا دوسروں کی تھالی سے چرا کر کھاتا ہے۔‘
اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ نے طنزیہ انداز میں کہا،’اگر انہیں سلنڈر مہنگا ہی کرنا تھا تو سیدھے سیدھے 1,000 روپے بڑھا دیتے۔ یہ بی جے پی والے 1,000 روپے کے بجائے صرف 7 روپے کم کرکے کس کا بھلا کر رہے ہیں؟‘
لوک سبھا رکن اکھلیش یادو نے یہ بھی سوال کیا کہ بی جے پی’مہنگائی، بے روزگاری اور مندی‘پر مذمتی قرارداد کب لائے گی۔
सिलेंडर महंगा नहीं होता, रोटी-थाली महंगी होती है। ये बात वही जानता है जो ख़ुद ख़रीदकर खाता है, वो नहीं जो दूसरों के यहाँ जाकर खाता है या दूसरों की थाली से चुराता है।
सिलेंडर महंगा करना था तो सीधे 1000 रूपये महंगा कर देते। 1000 में 7 रुपये कम करके ये भाजपावाले किस पर एहसान कर रहे…
— Akhilesh Yadav (@yadavakhilesh) May 1, 2026
دریں اثنا، لوگوں کی روزی روٹی کے تحفظ کا مطالبہ کرتے ہوئے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے ایل پی جی قیمتوں میں اضافے کو فوراً پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر الزام لگایا کہ انتخاب سے پہلے کی پیش گوئی کے مطابق بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے انتخابات ختم ہوتے ہی ایل پی جی کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ اسٹالن نے کہا،’جب عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کم ہوئیں تو اس کا فائدہ عوام تک نہیں پہنچایا گیا۔‘
انہوں نے مرکزی حکومت پر یہ الزام لگایا کہ وہ ’عوامی فلاح کی پرواہ کیے بغیر مغربی ایشیا کی جنگ کو بہانہ بنا کر قیمتیں بڑھا رہی ہے‘۔
மக்களின் துயரை எண்ணிப் பார்த்து தீர்வு காணுங்கள்!
தேர்தலுக்கு முன்பே கணித்ததுபோல், தேர்தல் முடிந்தவுடன் #LPGPrice-ஐ உயர்த்தியிருக்கிறது ஒன்றிய பா.ஜ.க. அரசு.
உலகச் சந்தையில் கச்சா எண்ணெய் விலை குறைந்தபோது, அதன் பலனை மக்களுக்கு அளிக்கவில்லை. இப்போது #WestAsiaWar என்ற நெருக்கடியை… https://t.co/ZAkRB1dnSK
— M.K.Stalin – தமிழ்நாட்டை தலைகுனிய விடமாட்டேன் (@mkstalin) May 1, 2026
اس سلسلے میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے راجیہ سبھا رکن سنتوش کمار نے بھی قیمتوں میں اضافے کو واپس لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ایندھن کی فراہمی اور قیمتوں میں استحکام کو یقینی بنانے کے بجائے حکومت کا یہ رویہ ملک کو غیر محفوظ بنا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کا بوجھ ملک بھر کے ریستوراں، ڈھابوں، چھوٹے ہوٹلوں، ہاسٹل، پی جی اور چھوٹے کاروباری اداروں پر پڑ رہا ہے۔ اس کا فوری اثر خوراک اور روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا، جس سے عام لوگ سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔
وہیں، عام آدمی پارٹی (عآپ) نے یوم مزدور کے موقع پر گیس سلنڈر کی قیمتوں میں بھاری اضافے پر مرکزی مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ مغربی بنگال سمیت پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات ختم ہوتے ہی حکومت نے کمرشیل اور چھوٹے ایل پی جی سلنڈروں کی قیمتیں اچانک بڑھا دیں، جس سے عام لوگ، مزدوروں، طلبہ اور چھوٹے تاجروں پر براہِ راست مالی بوجھ پڑا ہے۔
عآپ نے اسے ’عوام کے ساتھ دھوکہ‘ قرار دیتے ہوئے سرکار کی پالیسیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔
عآپ کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا کہ انتخابات کے دوران مہنگائی پر قابو دکھانے والی حکومت نے نتائج آتے ہی گیس سلنڈروں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا۔
झालमुड़ी खाकर जनता का माल झाल कर गए मोदी जी।
चुनाव खतम सिलेंडर का दाम आसमान पर।
ये झूठ और नौटंकी की राजनीति का नया इतिहास बना रहे हैं। pic.twitter.com/PkpsxAE5qO
— Sanjay Singh AAP (@SanjayAzadSln) May 1, 2026
سنجے سنگھ نے اسے یوم مزدور پر ’مہنگائی کا تحفہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ غریب اور متوسط طبقے کے لیے بے حد نقصان دہ ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ یہ ’جھوٹ اور نوٹنکی کی سیاست‘ کی ایک مثال ہے، جہاں انتخابی فائدے کے لیے عوام کو گمراہ کیا جاتا ہے۔
اس حوالے سے بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کی سینئر رہنما برندا کرات نے کہا: ’یوم مزدور پر یہ وزیر اعظم مودی کی جانب سے مزدوروں کے لیے تحفہ ہے۔ ایل پی جی کی قیمت 3000 روپے تک پہنچ گئی ہے، جبکہ مزدوروں کی اجرت میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔ اس سے ملک کے لاکھوں غریبوں کی زندگی متاثر ہوگی۔‘
#WATCH | Delhi: On the price hike of commercial LPG, CPI-M Leader Brinda Karat says, “On Labour Day, this is Modi’s gift for labourers. The price of LPG touching Rs. 3000, with no increase in the wage of labourers, is going to impact the lives of lakhs of poor in the… pic.twitter.com/QsUl7CG63i
— ANI (@ANI) May 1, 2026
انہوں نے وزیر اعظم پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ مودی جی سبسڈی پر خوب پیسہ خرچ کر رہے ہیں… لیکن کیا یہ صرف امبانی اور اڈانی کے لیے ہے یا عام لوگوں کے لیے؟
غور طلب ہے کہ یہ تازہ اضافہ پانچ ریاستوں کے انتخابات ختم ہونے کے صرف دو دن بعد ہوا ہے۔ مغربی بنگال میں آخری مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوئی تھی۔ اس تازہ اضافے سے ریستوراں، اسٹریٹ فوڈ، ہوٹل اور دیگر ایسے کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ہے جو اپنے روزمرہ کے کام اور آمدنی کے لیے کھانا پکانے کے ایندھن پر انحصار کرتے ہیں۔ اس شعبے کے کئی کاروبار پہلے ہی ایل پی جی بحران کا سامنا کر رہے تھے۔
