مغربی ایشیا کے بحران کے باعث ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان انڈین ایئر لائنز 29 مارچ سے شروع ہونے والے موسم گرما کے سیزن میں گزشتہ سال کے مقابلے تقریباً 12 فیصد کم پروازیں چلائے گی۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نے اب تک اس حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے، تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ مغربی ایشیا کی صورتحال کے پیش نظر آنے والے وقت میں پروازوں کی تعداد میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: مغربی ایشیا کے بحران کی وجہ سے بڑھتی لاگت اور غیر یقینی صورتحال کے درمیان ایئر لائنز کی جانب سے گنجائش میں کمی کے باعث انڈین ایئر لائنز آئندہ موسم گرما کے سیزن میں، جو 29 مارچ سے شروع ہو رہا ہے، گزشتہ سال کے مقابلے فی ہفتہ تقریباً 3,000 کم پروازیں چلائے گی۔
ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، یہ جانکاری اس سیکٹر کے ماہرین نے دی ہیں۔ فی الحال، گنجائش میں کمی کے حوالے سے سرکاری حکام نے ابھی تک کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
انڈین ایئر لائنز نے گزشتہ سال موسم گرما کے سیزن میں فی ہفتہ 25,610 پروازیں چلائی تھیں، جو 2024 میں 24,275 تھیں۔ اب اندازہ ہے کہ 29 مارچ سے شروع ہو کر 31 اکتوبر تک جاری رہنے والے اس موسم گرما کے سیزن میں یہ تعداد کم ہو کر تقریباً 22,600 فی ہفتہ رہ جائے گی۔
اس پیش رفت سے واقف ایک اہلکار نے اخبار کو بتایا،’گزشتہ سال کے اسی سیزن کے مقابلے میں اس گرمی میں تقریباً 12 فیصد کم پروازیں چلائی جائیں گی۔‘
اہلکار نے مزید کہا کہ آپریشنل لاگت میں اضافہ، خصوصی طور پر ایندھن اور غیر ملکی زرمبادلہ کی لاگت میں اضافہ اور مغربی ایشیا میں جاری جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث سفری طلب میں کمی کے خدشات کی وجہ سے ایئر لائنز اپنی گنجائش میں کمی کر رہی ہیں۔
ملک کی سب سے بڑی ایئر لائن انڈیگو نے ایک بیان میں کہا،’انڈیگو اپریل میں تقریباً 2,000 یومیہ پروازوں کے ساتھ اپنا گھریلو موسم گرما پروگرام شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انڈیگو کا بین الاقوامی پروگرام سرمائی پروازوں کے برابر سطح پر رکھا گیا ہے، تاہم مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال کے مطابق پروازوں کی تعداد میں یقیناً تبدیلی ہو سکتی ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ آپریشنل لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ایندھن اور غیر ملکی زرمبادلہ سے متعلق اخراجات میں مزید اضافے کی توقع ہے۔ ‘
ایئر لائن کے ترجمان نے کہا،’اگرچہ ہم نے اس لاگت کا کچھ حصہ پورا کرنے کے لیے فیول سرچارج نافذ کیا ہے، لیکن اس سے اور دیگر ضروری کرایوں میں اضافے سے طلب پر اثر پڑے گا۔ یہ ایک نہایت غیر مستحکم آپریشنل ماحول ہے جس پر ایئر لائن مسلسل نظر رکھے گی اور گھریلو و بین الاقوامی دونوں پروازوں میں اپنی گنجائش کو اسی کے مطابق ایڈجسٹ کرے گی۔‘
صنعتی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتیں بڑھتی رہیں تو ایئر لائنز اپریل سے کرایوں میں اضافہ کر سکتی ہیں اور کچھ پروازوں کوعارضی طور پر روک بھی سکتی ہیں۔
ایک ایئر لائن صنعت کے اہلکار نے بتایا،’یہ خدشہ ہے کہ مغربی ایشیا کے بحران کے باعث تفریحی سفر سمیت دیگر مقاصد کے لیے بکنگ کرانے والے مسافر اپنی منصوبہ بندی مؤخر کر سکتے ہیں۔ اگر مسافروں کی تعداد کم رہتی ہے تو پروازوں کو رد کرنا، انہیں آپس میں جوڑنا یا انتہائی خراب صورتحال میں کسی پرواز کو روک دینا زیادہ مناسب ہوگا۔‘
اس دوران، شہری ہوا بازی کی وزارت نے دسمبر سے نافذ گھریلو فضائی کرایوں پر عارضی حد کو ختم کر دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ وہ حالات جن کی وجہ سے یہ کنٹرول نافذ کیے گئے تھے، اب مستحکم ہو چکے ہیں-لیکن ایئرلائنز کو خبردار کیا گیا ہے کہ اگر حد سے زیادہ قیمتیں وصول کی گئیں تو یہ کنٹرول دوبارہ نافذ کیے جا سکتے ہیں۔
ہندوستان کی ایندھن سپلائی پوری طرح سے محفوظ اور کنٹرول میں ہے: حکومت
غورطلب ہے کہ مغربی ایشیا میں جاری بحران اور آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث ملک میں پیٹرول، ڈیزل اور گھریلو گیس کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ تاہم، حکومت نے کہا ہے کہ ہندوستان کی ایندھن سپلائی مکمل طور پر محفوظ اور قابو میں ہے۔
India’s energy supply is fully secure and stable.
There is NO shortage of petrol, diesel, or LPG anywhere in the country. All retail outlets are operating normally, with adequate supplies.
Misinformation and panic-driven narratives are completely unfounded. Citizens are advised…
— Ministry of Petroleum and Natural Gas #MoPNG (@PetroleumMin) March 26, 2026
پیٹرولیم وزارت نے واضح کیا ہے کہ ملک بھر میں ایک لاکھ سے زیادہ پیٹرول پمپ بغیر کسی رکاوٹ کے پیٹرول اور ڈیزل فراہم کر رہے ہیں۔ دیگر ممالک کی طرح ہندوستان میں ایندھن کی راشننگ یا کسی قسم کی ’نیشنل انرجی ایمرجنسی‘کی صورتحال نہیں ہے۔
وزارت کے مطابق، بحران کے باوجود ہندوستان کی پوزیشن مضبوط ہے۔ ہندوستان 41 سے زائد عالمی سپلائرز سے خام تیل خرید رہا ہے، جس نے آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے اثرات کو کم کر دیا ہے۔ اس وقت ہندوستان کے پاس تقریباً 60 دن کا اسٹاک موجود ہے، جبکہ مجموعی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 74 دن کی ہے۔ اس کے علاوہ، ہندوستانی تیل کمپنیوں نے اگلے 60 دن (دو ماہ) کے لیے خام تیل کی سپلائی پہلے ہی محفوظ کر لی ہے۔ ملک کی تمام ریفائنریاں اپنی 100 فیصد سے زیادہ صلاحیت پر کام کر رہی ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ملک میں ایل پی جی کی بھی کوئی کمی نہیں ہے۔ گھریلو ریفائنریوں کی پیداوار میں 40 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جس سے روزانہ 50 ٹی ایم ٹی (کل ضرورت سے 60 فیصد سے زیادہ) ایل پی جی تیار ہو رہی ہے۔ درآمد کی ضرورت کم ہو کر صرف 30 ٹی ایم ٹی رہ گئی ہے اور امریکہ، روس اور آسٹریلیا جیسے ممالک سے 800 ٹی ایم ٹی ایل پی جی کارگو محفوظ کیے گئے ہیں۔
حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ گھبراہٹ کے باعث یومیہ 89 لاکھ سلنڈروں کی مانگ ہو گئی تھی، جو اب واپس معمول کے مطابق 50 لاکھ پر آ گئی ہے۔ جہاں تک پی این جی کا تعلق ہے، اسے فروغ دینا ہندوستان کی طویل مدتی توانائی حکمت عملی کا حصہ ہے، نہ کہ ایل پی جی کے ختم ہونے کا اشارہ۔ پی این جی گیس ہندوستانی خاندانوں کے لیے سستی، صاف اور محفوظ ہے۔
تاہم، ملک کے مختلف شہروں سے آنے والی تصویروں میں ایل پی جی سلنڈروں کے لیے لمبی قطاریں نظر آ رہی ہیں۔
وزارت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی گمراہ کن خبروں پر بھروسہ نہ کریں۔ یہ ایک منظم مہم ہے، جس کا مقصد بلاوجہ گھبراہٹ پیدا کرنا ہے۔
مرکزی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل پر سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی بھی کی ہے۔ مرکزی وزیر اور دیگر بی جے پی رہنما اس فیصلے کو حکومت کا بڑا قدم قرار دے رہے ہیں، جبکہ کانگریس نے اس معاملے پر حکومت کو نشانہ بنایا ہے۔
حکومت پر اپوزیشن کا حملہ
کانگریس رہنما پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا،’مئی 2014 میں خام تیل کی قیمت 106.94 ڈالر فی بیرل تھی لیکن پیٹرول کی قیمت 71.71 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی 56.71 روپے تھی۔ جبکہ مغربی ایشیا میں تنازعہ شروع ہونے سے ٹھیک پہلے خام تیل کی قیمت گر کر 70 ڈالر فی بیرل ہو گئی تھی، لیکن دہلی میں پیٹرول 94.72 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 87.62 روپے میں فروخت ہو رہا تھا۔ ‘
यदि आपने पेट्रोल और डीज़ल की कीमतें ‘कम होने’ वाली हेडलाइन देखीं और सोचा कि सरकार ने आपकी जेब को राहत दी है तो आप गलत हैं।
अभी तक, डीलरों और उपभोक्ताओं के लिए कीमतें वही हैं।
असल में जो कम हुआ है वह है ‘स्पेशल एडिशनल एक्साइज ड्यूटी’। एक प्रकार का टैक्स है जो तेल कंपनियां सरकार… https://t.co/FQF4EyTDaG
— Pawan Khera
(@Pawankhera) March 27, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ ہندوستان نے روس سے بھی رعایتی قیمت پر خام تیل خریدا، لیکن اس فائدے کا اثر صارفین تک نہیں پہنچا۔ ایک طرف عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں کم ہوئیں، جبکہ دوسری طرف ہندوستانی صارفین پر بوجھ بڑھ گیا۔
پون کھیڑا کے مطابق، 2014 سے 2026 کے درمیان حکومت نے ایکسائز ڈیوٹی میں کل 21 بار تبدیلی کی، جن میں سے 12 بار اسے بڑھایا گیا۔ اس سے پہلے مرکزی حکومت پیٹرول اور ڈیزل پر ایکسائز ڈیوٹی میں 10 روپے فی لیٹر کی کٹوتی کر چکی ہے۔
(@Pawankhera)