امریکہ اور اسرائیل کی سات تزویراتی غلطیاں

اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔

اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو ۔ فائل فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی

جب امریکہ نے ایران پر حملے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تزویراتی اور عسکری صف بندی کی، تو عالمی مبصرین کے لیے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں تھی کہ یہ محض بارود کی نمائش یا چند فضائی حملوں تک محدود کوئی روایتی مہم نہیں ہے۔

اس پورے آپریشن کی بنیاد ایک کثیر الجہتی، پیچیدہ اور انتہائی گہری توقع پر رکھی گئی تھی کہ ایران کو اندرونی طور پر اس حد تک کمزور کر دیا جائے گا کہ وہ بیرونی دباؤ کے سامنے خود بخود ٹوٹ جائے گا۔

یہ حکمت عملی دراصل ماضی کی ان بین الاقوامی مداخلتوں کا تسلسل تھی جہاں کسی ریاست کی اندرونی دراڑوں، سماجی ٹوٹ پھوٹ اور سیاسی خلفشار کو بیرونی دباؤ کے ذریعے اس طرح ہوا دی جائے کہ وہ نظام کسی بڑی اور ہمہ گیر جنگ کے بغیر ہی اپنے بوجھ تلے دب کر زمین بوس ہو جانے پر مجبور  ہوجائے۔

مشرق وسطیٰ  میں موجود متعدد باخبر سفارتی اور انٹلی جنس ماہرین کے مطابق  اس جارحانہ ماڈل کوعراق اور افغانستان کی طرز پر ترتیب دیا گیا تھا۔

امریکی اہلکاروں کا خیال تھا کہ جس طرح عراق میں 2003  میں امریکی  بمباری کی وجہ سے  صدام حسین کی مرکزی گرفت کمزور ہوگئی  اور  عوام نے  سڑکوں پر نکل کر  آمریت کے دیو ہیکل بتوں کو سرِ عام پاش پاش کر دیا اسی طرح ایران میں بھی برسوں سے قائم آہنی نظام تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائےگا۔

دوسرا تجربہ افغانستان کا تھا، جہاں2001 میں شمالی اتحاد نے امریکی فضائی چھتری  کے سائے میں کابل کی جانب برق رفتار پیش قدمی کی اور طالبان کی حکومت کا بستر گول کر دیا۔

واشنگٹن کے تزویراتی پالیسی سازوں کو پختہ گمان تھا کہ ایران کی سرزمین پر ان دو کامیاب ماڈلوں کو دہراہا جاسکتا ہے۔

تزویراتی منصوبہ سازوں کا یہ خیال تھا کہ ایران کی حساس فوجی تنصیبات اور معاشی اہداف پر چنندہ حملے اور ایرانی قیادت کی ہلاکت کے نتیجے میں جو سیاسی و عسکری خلا پیدا ہوگا، وہ عوامی بے چینی کو دوبارہ بھڑکانے کے لیے ایندھن کا کام کرے گا۔

اسرائیل اور امریکہ دونوں ہی ایران میں گزشتہ جنوری کے دوران اٹھنے والی احتجاجی لہروں اور نعروں سے بہت زیادہ پرامید تھے اور انہیں گمان تھا کہ ریاست کے جبر کے ڈھانچے  پر ایک کاری ضرب لگتے ہی برسوں سے  دبا ہوا عوامی غصہ ایک ناگزیر اور بے قابو لاوے کی طرح پھٹ پڑے گا۔

ان کی نظر میں ایرانی معاشرہ اس وقت ایک ایسے بارود کے ڈھیر پر بیٹھا تھا جسے صرف ایک تزویراتی چنگاری کی ضرورت تھی۔

اسی طرح اسٹریٹجک نقشے پر کرد نسلی گروپوں کو ایک ایسی ممکنہ زمینی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا جو مغربی فضائی تحفظ کے سائے میں افغانستان کے شمالی اتحاد کی طرح  تہران کی جانب فیصلہ کن پیش قدمی کر سکتے تھے۔

اسی طرح ایران کی ترک آذری آبادی کی حرکیات کو ایک اور پریشر پوائنٹ کے طور پر استعمال کرنا تھا، جو ایرانی ریاست کو مرکز سے کاٹ کر سرحدوں تک محدود کرنے اور اندرونی طور پر مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

واشنگٹن اور تل ابیب کے ایوانوں میں یہ تمام بکھری ہوئی کڑیاں ایک نہایت مربوط، ہم آہنگ اور منطقی حکمت عملی کی شکل میں دکھائی دے رہی تھیں۔  یعنی پہلے مرکز کو کمزور کرو، پھر سرحدوں پر موجود نسلی اکائیوں کو متحرک کرو، اور آخر میں داخلی انتشار کی رفتار کو اتنا تیز کر دو کہ نظام خود بخود گر جائے۔ کرد اور آذری بغاوت پر امریکی اور اسرائیلی خفیہ  ادارے برسوں سے کام کررہے تھے۔

امریکہ نے عراق کے  اربیل میں کرد قیادت سے بات چیت بھی کی تھی اور ایک چھ پارٹی عسکری اتحاد بھی وجود میں آیا تھا۔ ان کو یقین دلایا گیا کہ امریکہ بمباری سے  نو فلائی زون، محفوظ علاقے قائم کیے جائیں گے۔

کاغذ پر یہ منصوبہ پرکشش تھا۔ ایران کے کرد علاقے طویل عرصے سے بے چین رہے ہیں۔ امریکی اور اسرائیلی حملوں نے کرد آبادی والے علاقوں میں اہم ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بظاہر یہ حملے نہ صرف ایرانی فوج کو کمزور کرنے اورکردوں کو تحریک کو متحرک کرنے کے لیے کیے گئےتھے۔

مگر ایران کی ریاست طالبان کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط نکلی، اور 2026 کا عراقی اور ایرانی کردستان 2001 کے شمالی افغانستان میں تبدیل نہ ہو سکا۔

شامی کرد گرپوں نے بھی ایرانی ہم منصبوں کو  خبردار کیا کہ امریکہ پر بھروسہ نہ کریں۔دو سال قبل ہی ان کو امریکہ نے بے یار و مددگار چھوڑ کر رکھا تھا۔

ترکیہ نے بھی ایک فیصلہ کن رول ادا کرکے دونوں نسلی گروپوں یعنی کرد اور آذری آبادی پر اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے ان کو ایرانی حکومت کے خلاف کوئی کردار ادار کرنے اور امریکی ایما پر عسکری کارروائی کرنے سے باز رکھا۔

ترکیہ میں برسر پیکار کرد عسکری گروپ کردستان ورکرز پارٹی  یعنی پی کے کے نے پچھلے سال ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا ور وہ انقرہ کے ساتھ سیاسی گفت و شنید کے مراحل میں ہے۔

 اس کو خدشہ تھا کہ ایرانی کردوں کی طرف سے کسی بھی عسکری پیش قدمی کا اثر اس پر پڑنا لامی تھا۔ ترکیہ نے عراق میں کردستان خطہ کے سربراہ مسعود بارزانی کو بھی واضح کیا کہ وہ اپنے علاقہ کو ایران کے خلاف استعمال  کرنے سے روکیں۔

عراقی  کردستان ترکیہ پر تجارت، توانائی اور رسائی کے لیے منحصر ہے۔ اس صورتحال میں اس کےلیے  انقرہ کی مخالفت ممکن نہیں تھی۔

اس خطے میں مختلف سیاسی اور تاریخی وجوہات کی بنا پرچونکہ آذربائیجان اسرائیل کا ایک حلیف ہے، اس لیے باور کیا گیا تھا کہ اس کے ذریعے ایران کے آذری علاقوں میں بغاوت کو ہوا دی جا سکتی ہے۔لیکن ایسا نہیں ہوا۔

ترک تجزیہ کار مہمت اوزترک کے مطابق ایران کے آذری معاشی اور سیاسی نظام کا حصہ ہیں۔ وہ شیعہ ہیں اور تہران میں ان کے بڑے کاروباری مفادات ہیں۔ انہیں انتشار سے زیادہ نقصان ہونے کا احتمال تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل نے  نقشے دیکھ کر بغاوت کا تصور قائم کر لیا تھا، جبکہ زمینی حقیقت مختلف تھی۔

اس دوران انقرہ نے متعدد محاذوں پر سرگرمی دکھائی۔ اس نے کرد قیادت کو عسکری مہم جوئی سے روکنے کے علاوہ آذربائیجان کو تحمل کی تلقین کی۔ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان  فیدان نے اس تزویراتی مہم جوئی پر تبصرہ کرتے ہوئے نہایت دو ٹوک الفاظ میں کہا؛


خطے میں بیرونی مداخلت کے ذریعے حکومتوں کی تبدیلی(ریجیم چینج) کا خواب دیکھنا ایک ایسی خطرناک اور غیر حقیقت پسندانہ خام خیالی ہے جو زمینی حقائق سے مکمل طور پر عاری ہے۔ ایران جیسے قدیم تاریخی، تمدنی اور گہری جڑیں رکھنے والے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں نہ صرف ناکام ہوں گی بلکہ یہ پورے خطے کو ایک ایسی ہولناک آگ میں جھونک دیں گی جس کی تپش برسوں تک محسوس کی جائے گی۔ ہم اپنے پڑوس میں کسی کو بھی آگ سے کھیلنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔


اسی طرح ترکیہ کی نیشنل انٹلی جنس آرگنائزیشن (ایم آئی ٹی) کے سربراہ اور معروف تزویراتی ماہر ابراہیم کالن نے واشنگٹن کی بنیادی تزویراتی غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے واضح کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی معاشرے کے اندرونی ڈھانچے، ان کی ہزاروں سال پرانی تاریخی جڑوں اور مخصوص قومی نفسیات کو سمجھے بغیر کیے گئے فیصلے ہمیشہ الٹے پڑتے ہیں۔


تاریخ گواہ ہے کہ جب کسی ملک پر بیرونی حملہ ہوتا ہے، تو وہاں کی عوام اپنے تمام تر داخلی اختلافات، شکایات اور سیاسی نظریات کو بالائے طاق رکھ کر اپنی ریاست کے پیچھے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جاتی ہے۔ واشنگٹن کا یہ مضحکہ خیز خیال کہ بمباری کے ذریعے عوام کو سڑکوں پر احتجاج کے لیے لایا جا سکتا ہے، سیاسی تاریخ کی ایک ایسی فاش غلطی ہے جو بار بار دہرائی جا رہی ہے اور جس کا انجام ہمیشہ رسوائی ہوتا ہے۔


اب عالمی منظر نامے پر صورتحال یہ ہے کہ حملہ آوروں کا لگ بھگ ہر مفروضہ، ہر تخمینہ، ہر ٹرگر اور ہر حساب وکتاب بری طرح ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے۔ تہران کی دیواریں گرنے کے بجائے بیرونی حملے کے نتیجے میں مزید آہنی دکھائی دے رہی ہیں۔

بین الاقوامی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کا موجودہ سیاسی نظام اس وقت شدید دباؤ کی زد میں ہے۔

وہاں اصلاحات کے لیے عوامی مطالبات، معاشی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی شدید عوامی تھکن اور نئی نسل کی مخصوص سیاسی و نظریاتی مایوسی جیسے عوامل تلخ حقائق ہیں۔

لیکن یہاں مغربی پالیسی ساز ایک بنیادی اور فاش نظریاتی غلطی کر گئے؛ سیاسیات کی لغت میں شدید دباؤ کا مطلب ریاست کا حتمی خاتمہ نہیں ہوتا، اور عوامی ناراضگی کا لازمی نتیجہ کسی مسلح بغاوت یا غیر ملکی حملے کی حمایت کی صورت میں نہیں نکلتا۔

جارحیت کرنے والے ہمیشہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بموں کی گھن گرج اور غیر ملکی طیاروں کا سایہ عوام کو سڑکوں پر احتجاج کے لیے نہیں، بلکہ بنکروں  میں پناہ لینے اور اپنے ازلی دشمن کے خلاف متحدہ قومی محاذ قائم کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

بیرونی جارحیت اکثر شہری بغاوت پیدا کرنے کے بجائے قوم پرستی کے سوئے ہوئے جذبے کو ایک نئی جلا بخشتی ہے۔ دشمن کا خوف تمام اندرونی اختلافات پر عارضی پردہ ڈال دیتا ہے۔

ایرانی تارکین وطن جو حکومت سے خفا ہیں کا کہنا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی جارحیت نے  نہ صرف موجودہ نظام کو نئی زندگی دی، بلکہ ان کو موقع بھی دیا کہ وہ اپنے تمام داخلی ناقدین اور اصلاح پسندوں کو ’قومی غدار‘، ’غیر ملکی ایجنٹ‘ یا ’پانچویں کالم‘ کا حصہ قرار دے کر آہنی ہاتھوں سے کچل دے۔

ان ایرانی تارکین وطن کا مزید کہنا ہے کہ  ایک وسیع جمہوری یا لبرل قوت کو سامنے لانے کے بجائے، امریکی-اسرائیلی محور نے جلاوطن شاہ کے بیٹے رضا پہلوی کی طرف جھکاؤ دکھایا۔ ان کی اپیلیں جب تل ابیب سے جڑی دکھائی دیں تو ایران کے اندر ان کی قومی حیثیت مزید کمزور ہو گئی۔

بہت سے ایرانیوں کے لیے یہ آزادی نہیں بلکہ بیرونی سرپرستی میں بحالی کا منظر تھا۔

سب سے بڑی غلطی یہ یقین بھی تھا کہ فضائی طاقت سیاسی نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ماہرین کے مطابق تاریخ  بتاتی ہے کہ فضائی حملے  ویتنام سے لے کر کوسووو تک تباہی تو لاسکتے ہیں، لیکن سیاسی تبدیلی تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔

جنگی ماہر ڈینیل بائمن کے مطابق، فضائی حملے چیزوں کو تباہ کرنے میں مؤثر ہوتے ہیں، لیکن زمینی حقیقت بدلنے کے لیے زمینی کنٹرول ضروری ہوتا ہے۔دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں جہاں صرف فضائی طاقت نے حکومت گرائی ہو۔

یعنی اسرائیل  اور امریکہ نے جو سات تزویراتی غلطیاں کی ان کا خلاصہ یہ ہے؛


عوامی احتجاج کو نظام کی ناگزیر بساط لپیٹنے کا پیش خیمہ سمجھنے کی فاش غلطی

عوام  میں غیر مقبول متبادل قیادت کو زبردستی ابھارنے کی کوشش

افغانستان کے شمالی اتحاد والے تجربے کو دہرانے کی سعیِ لاحاصل

شام سے امریکی انخلاء کے تناظر میں کردوں کے گہرے عدمِ اعتماد کو یکسر نظر انداز کرنا

ترکیہ کے کلیدی کردار کو خاطر میں نہ لانا

ایران میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے آذربائیجان کی آمادگی کا مبالغہ آمیز تخمینہ

سیاسی نتائج کے حصول کے لیے محض فضائی قوت پر بے جا انحصار۔


یہ تمام  غلطیاں ایک بنیادی فریب سے جنم لیتی ہیں کہ ٹکنالوجی سیاست کی جگہ لے سکتی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل نے سوچا کہ وہ اوپر سے ایران کو توڑ دیں گے اور اندر سے اسے تقسیم کر دیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بم ڈھانچے تو تباہ کرتے ہیں، نظام نہیں بدل سکتے ہیں۔ مقامی قوتیں اپنے مفادات کو مقدم  رکھتی ہیں۔ نسلی سیاست ہمیشہ بغاوت میں نہیں بدلتی ہے۔

آج واشنگٹن ایک ایسے مقام پر کھڑا ہے جہاں اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی حکمت عملی پر نظرثانی کرے اور دنیا کو مزید گہری تباہی کی طرف دھکیلنے سے پرہیز کرے۔