ایل پی جی بحران: کیا آپ چولہا چھوڑ کر ایل پی جی اپنانے والوں کی تکلیف کو سمجھ سکتے ہیں؟

ایل پی جی بحران کے باعث دہلی کے بھلسوا کے وہ خاندان، جو گزشتہ چند برسوں میں چولہا جلانا چھوڑ کر ایل پی جی پر شفٹ ہوئے تھے، اب ان میں ایک طرح کا غصہ ہے۔ کچھ نے واپس اپنے گاؤں کا رخ کر لیا ہے، جو لوگ ٹھیلہ اور ریڑھی لگا کر روزی کماتے تھے، ان کے لیے روزمرہ کا کام چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ جو ابھی بھی یہیں ہیں، ان کے لیے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت پہلے سے غیر مستحکم حالات میں ایک اور بوجھ بن گئی ہے۔

ایل پی جی بحران کے باعث دہلی کے بھلسوا کے وہ خاندان، جو گزشتہ چند برسوں میں چولہا جلانا چھوڑ کر ایل پی جی پر شفٹ ہوئے تھے، اب ان میں ایک طرح کا غصہ ہے۔ کچھ نے واپس اپنے گاؤں کا رخ کر لیا ہے، جو لوگ ٹھیلہ اور ریڑھی لگا کر روزی کماتے تھے، ان کے لیے روزمرہ کا کام چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ جو ابھی بھی یہیں ہیں، ان کے لیے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت پہلے سے غیر مستحکم حالات میں ایک اور بوجھ بن گئی ہے۔

(تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی کے بھلسوا میں کئی لوگ مجھے’سلنڈر والی میڈم‘ کے نام سے جانتے ہیں۔ ایک ایسا نام، جو کچھ عرصہ پہلے تک اعتماد اور بھروسے کی علامت تھا۔ لیکن اب یہی نام ادھوری امیدوں اور شکایتوں کا متبادل بن گیا ہے۔

میں گزشتہ چند برسوں سے بھلسوا کی بستیوں میں رہنے والی کمیونٹیز کے ساتھ کام کر رہی ہوں۔ میں نے انہیں چولہا چھوڑ کر ایل پی جی سلنڈر اپنانے کی ترغیب دی ہے اور کئی خاندانوں کو پردھان منتری اجولا یوجنا سے جوڑنے میں بھی فعال کردار ادا کیا ہے۔ یہ کام صرف معلومات فراہم کرنے تک محدود نہیں تھا۔ اس میں خاندانوں، خاص طور پر خواتین کے ساتھ صبر وتحمل کے ساتھ بات چیت کرنا، انہیں صاف ایندھن کے صحت اور وقت سے متعلق فوائد سمجھانا، دستاویزی عمل میں ان کی مدد کرنا، اور سب سے بڑھ کر ان کا بھروسہ حاصل کرنا شامل تھا۔

وقت کے ساتھ یہ تبدیلی نظر بھی آنے لگی۔ خاندانوں نے آہستہ آہستہ ایندھن کے لیے لکڑی جمع کرنا چھوڑ دیا، پرانے چولہے ہٹا دیے، اور روزمرہ کے کھانے کے لیے ایل پی جی استعمال کرنے لگے۔ یہ صرف ایندھن کی تبدیلی نہیں بلکہ ان کی طرز زندگی میں ایک بڑی تبدیلی تھی۔

لیکن حالیہ مہینوں میں ایل پی جی بحران نے اس توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ سلنڈر حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ اگر کہیں دستیاب بھی ہو تو وہ غیر قانونی طور پر 3000 سے 4000 روپے تک میں فروخت ہو رہا ہے۔ بھلسوا کے زیادہ تر خاندان کچرا چن کر یا دیگر غیر رسمی کاموں سے اپنی روزی کماتے ہیں۔ ان کے لیے یہ قیمت ادا کرنا ناممکن ہے۔ ان کی یومیہ آمدنی 250 سے 300 روپے کے درمیان ہے، جبکہ آج کل وہ ایک کلو گیس کے لیے 300 سے 500 روپے تک ادا کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ بحران متبادل کی کمی کی وجہ سے مزید سنگین ہو گیا ہے۔ لکڑی، جو پہلے ایک سہارا تھی، اب نہ آسانی سے دستیاب ہے اور نہ ہی سستی ہے۔ دہلی میں حالیہ بارش نے بھی اِدھر اُدھر سے لکڑی جمع کرنے کے امکانات کو ختم کر دیا ہے۔

اس کا اثر اب واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔ جن لوگوں نے ایل پی جی اپنایا تھا، ان میں مایوسی اور غصہ بڑھ رہا ہے۔ کئی لوگ مجھے فون کر کے بتاتے ہیں کہ انہیں اس تبدیلی پر افسوس ہے، اور یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ میری ہی کوششوں سے انہوں نے ایل پی جی اپنایا تھا۔ حال ہی میں ایک خاتون نے بتایا کہ اس کے سسرال والے اب اسے میرے نام سے طعنے دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چولہے والا نظام ہی بہتر تھا۔

یہ سب سننا آسان نہیں ہے، لیکن یہ غیر متوقع بھی نہیں ہے۔ بھلسوا جیسے علاقوں میں اعتماد ہمیشہ ایک پیچیدہ مسئلہ رہا ہے۔ یہاں پہلے بھی کئی تنظیمیں کام کر چکی ہیں، جن کے کچھ تجربات لوگوں کے ذہن میں اچھے نہیں رہے۔ ایسے میں کوئی بھی نیا بحران لوگوں کے پرانے شکوک  وشبہات کو دوبارہ زندہ کرسکتا ہے۔

کچھ خاندانوں نے تو واپس اپنے گاؤں کا رخ بھی کر لیا ہے۔ جو لوگ ٹھیلہ اور ریڑھی لگا کر روزی کماتے تھے، ان کے لیے روزمرہ کا کام چلانا مشکل ہو گیا ہے۔ جو اب بھی یہاں ہیں، ان کے لیے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمت پہلے سے غیر مستحکم حالات میں ایک اور بوجھ بن گئی ہے۔

ان حالات کے درمیان میں اپنے ردعمل پر بھی مسلسل غور کرتی رہتی ہوں۔ حال ہی میں جب میرا اپنا سلنڈر ختم ہوا تو میں نے ایک عجیب بے چینی محسوس کی۔ یہ میرے لیے ایک نیا اور سبق آموز تجربہ تھا۔ اس سے مجھے ذاتی طور پر اس عدم تحفظ کے احساس کو سمجھنے کا موقع ملا، جسے بھلسوا کے لوگ ہر روز جھیل رہے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب میں ان کے غصے کو بہتر طور پر سن اور سمجھ پا رہی ہوں۔

آج کل میرا زیادہ تر وقت لوگوں کے فون کا جواب دینے اور ان کی مدد کرنے میں گزرتا ہے۔ یہ چھوٹی اور فوری کوششیں ہیں، لیکن بڑے مسئلے کا حل نہیں۔

اصل چیلنج ابھی باقی ہے۔ جب یہ بحران ختم ہوگا اور سپلائی معمول پر آئے گی، تب لوگوں کے درمیان ایل پی جی پر دوبارہ اعتماد قائم کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ممکن ہے اس کے لیے ہمیں ایک بار پھر بالکل شروع سے  کام کرنا پڑے۔

رما اثر میں ایک تبدیلی ایجنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں۔یہ مضمون آئی ڈی آرہندی پر شائع ہوا ہے۔