گزشتہ 15 مہینوں میں ملک بھر میں فرضی بم دھمکیوں کے 1,600 سے زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں، جن میں اسکول، عدالتیں، ہوائی اڈے اور اسپتال نشانے پر رہے۔ زیادہ تر دھمکیاں ای میل کے ذریعے دی گئیں اور ہر بار بڑے پیمانے پر سکیورٹی جانچ کے باوجود کچھ بھی مشتبہ نہیں ملا۔ تاہم، ان واقعات نے وسیع پیمانے پر خوف و دہشت، بدنظمی اور وسائل پر شدید دباؤ پیدا کیا ہے۔

جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکیوں کے 1,613 واقعات سامنے آئے ہیں۔ (تصویر اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہے۔)
نئی دہلی: اس سال فروری میں کرناٹک ہائی کورٹ میں دائر ایک مفاد عامہ کی عرضی (پی آئی ایل)میں بنگلورو کے کورمنگلا میں واقع پاسپورٹ سیوا کیندر کو منہدم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ درخواست گزار کا دعویٰ تھا کہ جس زمین پر یہ عمارت کھڑی ہے، وہ بچوں کے کھیل کا میدان ہوا کرتا تھا۔ چونکہ درخواست گزار اپنے دعوے کی تصدیق کے لیے کوئی دستاویز پیش نہیں کر سکے، اس لیے عدالت نے عرضی مسترد کر دی۔
اگر آپ اس خبر کی تفصیلات جاننے کے لیے انٹرنیٹ پر بنگلورو یا کورمنگلا پاسپورٹ کیندر لکھ کر سرچ کرتے ہیں تو یہ واحد خبر نہیں ہے، جو اس دفتر کو سرخیوں میں بنائے ہوئے ہے۔
جون 2025 سے اس پاسپورٹ سیوا کیندر کو تین بار بم دھماکے کی دھمکی ملی ہے، جو ہر بار فرضی پائی گئی۔
اس پاسپورٹ کیندرکو ایسی آخری دھمکی گزشتہ 3 مارچ کو ایک ای میل کے ذریعے ملی تھی۔ تفتیش کرنے والے افسر نے بتایا کہ دھمکی والا ای میل صبح موصول ہوا تھا، جس کے بعد تقریباً 11 بجے دفتر کو خالی کرا لیا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ بجے تلاشی مکمل ہوئی اور اس دھمکی کو فرضی قرار دے دیا گیا۔
اس سے پہلے جنوری میں بھی ایسے ای میل کے بعد وسیع تلاشی مہم چلائی گئی تھی۔
جون 2025 میں اس پاسپورٹ کیندر کو پہلی بار دھمکی آمیز ای میل موصول ہوا تھا، جس میں ’ہزاروں قصاب اٹھ کھڑے ہونے‘کی دھمکی دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ دوپہر میں دھماکہ ہوگا۔ اس ای میل میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا بھی ذکر تھا۔ تمام مقامات پر سخت تلاشی لی گئی اور آخرکار اس دھمکی کو’ہوکس‘یعنی فرضی قرار دیا گیا۔
بم دھماکوں کی فرضی دھمکیوں کا یہ کوئی واحد واقعہ نہیں ہے۔ گزشتہ چند برسوں سے ایسی خبریں تقریباً ہر دوسرے دن ملک کے مختلف حصوں سے سامنے آ رہی ہیں۔
اس لحاظ سے گزشتہ 15 مہینےہندوستان کے لیے کافی مشکل ثابت ہوئے ہیں۔ دی وائر کی اس تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ جنوری 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان بم سے اڑانے کی جھوٹی دھمکیوں کے 1,613 واقعات سامنے آئے ہیں، یعنی پندرہ مہینوں میں پندرہ سو سے زائد فرضی دھمکیاں۔ صرف مارچ 2026 میں ہی ایسے تقریباً 150 واقعات سامنے آئے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ سنگین مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر معاملوں میں دھمکی دینے والے پکڑے نہیں جا سکے ہیں۔ 90 فیصد دھمکیاں ای میل کے ذریعے بھیجی گئی ہیں، جبکہ کچھ معاملوں میں فون کال اور چندایک میں خطوط کا استعمال کیا گیا۔
ان پندرہ مہینوں میں اسکولوں اور کالجوں سے لے کر ہوائی اڈوں، عدالتوں اور اسپتالوں تک سینکڑوں کال آتے رہے ہیں، لاکھوں لوگوں کی زندگی متاثر ہوئی، لیکن کسی بھی معاملے میں کوئی حقیقی بم نہیں ملا۔
کبھی ان دھمکیوں کی وجہ سے جرمنی سے ہندوستان آنے والی پرواز کو راستے سے لوٹناپڑا، تو کئی معاملوں میں پروازوں کو اپنے اصل ہوائی اڈے کے بجائے کسی دوسرے شہر میں اتارنا پڑا۔ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے امتحانات ملتوی کرنا پڑے، جبکہ مریضوں سے بھرے اسپتالوں کو بھی خالی کرانا پڑا۔
یہ رپورٹ ہندوستان میں بم کی جھوٹی دھمکیوں کے اس بحران کو تفصیل سے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار میڈیا میں شائع خبروں کو کھنگال کر جمع کیے گئے ہیں، اور ممکن ہے کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو۔
اسکول نشانے پر
ایک پیٹرن کے تحت دہلی-این سی آر، گجرات، پنجاب، کرناٹک، راجستھان سمیت کئی ریاستوں کے اسکولوں کو بم کی دھمکی والے ای میل موصول ہوئے ہیں۔ اس عرصے میں اپریل-مئی 2025 کو چھوڑ کر ہر ماہ سینکڑوں اسکولوں کو دھمکیاں ملی ہیں۔ ان مہینوں میں ملک بھر کے اسکولوں کو 1,094 دھمکیاں ملی ہیں۔
حالاں کہ ،ان میں دہلی-این سی آر کے اسکول سب سے زیادہ متاثر ہوئے، جہاں 841 دھمکیاں موصول ہوئیں۔ ستمبر 2025 میں ایک ہی دن میں 400 اسکولوں کو دھمکی ملنے کی خبر سامنے آئی تھی۔
اس تحقیق میں دہلی واحد ایسے صوبہ کے طور پر سامنے آیا، جہاں تقریباً ہر ماہ ایسی دھمکیاں ملی ہیں۔
اسکولوں کو دھمکی دینے کے معاملے میں دوسرے نمبر پر گجرات ہے، جہاں اس دوران دھمکی کے 10 واقعات پیش آئے۔ زیادہ تر معاملے احمد آباد کے اسکولوں سے متعلق ہیں۔ اس کے بعد مہاراشٹر اور پنجاب کا نمبر آتا ہے۔ اگرچہ کسی بھی معاملے میں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا، لیکن ان دھمکیوں کے باعث اسکول خالی کرانے پڑے، ہنگامی جانچ کرنی پڑی اور طلبہ و والدین میں شدید خوف و اضطراب کا مشاہدہ کیا گیا۔
ان واقعات میں ایک مخصوص طریقہ کار بار بار سامنے آیا ہے۔ زیادہ تر معاملوں میں اسکولوں کی سرکاری ای میل آئی ڈی پر گمنام یا خفیہ پلیٹ فارم کے ذریعے دھمکی آمیز پیغامات بھیجے گئے، اس طرح کے ای میل اکثر صبح صبح بھیجے جاتے ہیں۔
ہر بار ان دھمکیوں کے بعد سکیورٹی ایجنسیاں فوری طور پر حرکت میں آتی ہیں، اسکول خالی کرائے جاتے ہیں، بم ڈسپوزل اسکواڈ، ڈاگ اسکواڈ اور فائر بریگیڈ تلاشی لیتے ہیں، مگر آخرکار کوئی مشتبہ چیز نہیں ملتی اور دھمکی کو فرضی قرار دے دیا جاتا ہے۔
جہاں ایسی جھوٹی دھمکیاں والدین کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں، وہیں ماہرین کے مطابق ،ان واقعات کا بار بار ہونا بچوں کی ذہنی صحت پر طویل مدتی اثر ڈال سکتا ہے۔
تعلیمی اداروں کو دھمکی دینے والے کون؟
کچھ معاملوں میں تعلیمی اداروں کو دھمکی دینے والے ملزمان کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، جنوری 2025 میں دہلی کے کئی اسکولوں کو مسلسل بم کی جھوٹی دھمکیاں مل رہی تھیں، جس سے طلبہ، والدین اور اسکول انتظامیہ میں خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ اسی دوران پولیس نے ایک نابالغ طالبعلم کو حراست میں لیا۔
جانچ میں سامنے آیا کہ طالبعلم امتحان دینا نہیں چاہتا تھا۔ اسی وجہ سے اس نے بم کی دھمکی کا ماحول بنانے کی منصوبہ بندی کی، تاکہ امتحانات متاثر ہوں اور آخرکار رد ہو جائیں۔
پولیس نے بتایا کہ طالبعلم نے کم از کم چھ بار بم کی دھمکی والے ای میل بھیجے تھے۔ ہر بار وہ اپنے اسکول کو چھوڑ کر الگ الگ اسکولوں کو نشانہ بناتا تھا۔ شک سے بچنے کے لیے وہ ایک ہی ای میل میں کئی اسکولوں کو ٹیگ کرتا تھا۔
فروری 2025 میں نوئیڈا کے رہنے والے کلاس 9 کے ایک 15 سالہ طالبعلم کو چار اسکولوں کو بم کی جھوٹی دھمکی دینے کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، طالبعلم نے اسکول جانے سے بچنے کے لیے ایسا کیا تھا۔ اس نے اپنی شناخت چھپانے کے لیے وی پی این کا استعمال کیا تھا۔
تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ طالبعلم کو یہ طریقہ پہلے اس طرح کے واقعات سے متعلق خبریں پڑھنے کے بعد سوجھا۔
جون 2025 میں کرناٹک کے جنوبی کنڑ ضلع میں ایک پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طالبہ کو سیمینار پریزنٹیشن سے بچنے کے لیے بم کی جھوٹی دھمکی دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق، طالبہ نے کالج بند کروانے کے لیے یہ سازش رچی اور حیدرآباد میں کام کرنے والے ایک شناسا سے کالج کے لینڈ لائن پر دھمکی آمیز کال کروایا تھا۔ اس کال کے بعد کالج میں ہنگامہ ہوگیا اور احتیاطاً عمارت خالی کرا لی گئی ۔
اکتوبر 2025 میں مغربی دہلی کے پشچم وہار میں واقع وشال بھارتی اسکول کے ایک طالبعلم کو امتحان سے بچنے کے لیے اپنے ہی اسکول کو بم کی جھوٹی دھمکی دینے کے الزام میں پکڑا گیا تھا۔
یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ کئی بار اس طرح کی دھمکیوں کے پیچھے کوئی گمبھیر دہشت گردانہ ارادہ نہیں ہوتا، بلکہ ذاتی وجوہات، شرارت یا دباؤ سے بچنے کی کوشش بھی ہوتی ہے، تاہم اس کے نتائج انتہائی سنگین اور وسیع ہوتے ہیں۔
دراصل، آن لائن دھمکی کم لاگت میں بڑا اثر ڈالنے کا ایک طریقہ بن کر ابھرا ہے۔
ملک بھر کی عدالتیں بھی نشانے پر
اسکولوں کے بعد سب سے زیادہ دھمکیاں عدالتوں کو ملی ہیں، جن میں دہلی، گجرات، راجستھان، کرناٹک، مدراس اور بامبے ہائی کورٹ کے ساتھ ساتھ منگلورو، مولوگو، بیکانیر، جامتارا اور داہود جیسے اضلاع کی عدالتیں بھی شامل ہیں۔
ان پندرہ مہینوں میں عدالتوں کو دھمکی کے 100 سے زیادہ واقعات سامنے آئے ہیں۔ راجستھان، گجرات اور بامبے ہائی کورٹ کو سب سے زیادہ دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔
انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے مارچ 2026 میں کرناٹک کے میسور سے سری نواس لوئس (47) نامی ایک شخص کو گرفتار کیا، جس نے ملک بھر کے ہائی کورٹس کو نشانہ بناتے ہوئے تقریباً 1500 بم دھمکی والے ای میل بھیجے تھے۔
تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ اس کے نشانے پر دہلی، ممبئی، چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور چندی گڑھ سمیت تقریباً تمام ہائی کورٹس تھے۔ کئی بار وہ ایک ہی دن میں کئی ای میل بھیجتا تھا اور متعلقہ ریاستوں کے پولیس افسران کو بھی ان ای میل میں ٹیگ کرتا تھا، تاکہ دھمکی کا اثر وسیع ہو اور فوری ردعمل سامنے آئے۔
صرف دہلی ہائی کورٹ کو ہی اس نے مہینوں میں 50 سے زیادہ فرضی ای میل بھیجے، جن میں عدالت کے احاطے میں بم ہونے، عمارت خالی کروانے اور دھماکے کی وارننگ جیسے دعوے کیے جاتے تھے۔ کچھ ای میل میں بین الاقوامی دہشت گردانہ روابط کا بھی ذکر کیا گیا۔
پولیس کے مطابق، ملزم نے فرضی ای میل آئی ڈی اور کئی معاملوں میں وی پی این کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپائی۔ ابتدائی تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ اس نے قانون کی تعلیم مکمل نہیں کی تھی۔
فروری 2026 میں اسی طرح کا ایک واقعہ اتر پردیش کے جونپور میں سامنے آیا، جہاں ضلع جج کی سرکاری ای میل آئی ڈی پر بم کی دھمکی والے کئی ای میل بھیجے گئے۔
جانچ میں معلوم ہوا کہ ملزم وشال رنجن نے وی پی این، پراکسی سرور اور انکرپٹڈ ای میل سروسز کا استعمال کر کے اپنی شناخت چھپائی تھی۔ اس نے کورٹ کے احاطہ اور پولیس لائن گیٹ کو اڑانے کی دھمکی دیتے ہوئے پیسے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ بعد میں اے ٹی ایس نے تکنیکی جانچ کی بنیاد پر ملزم کو اعظم گڑھ سے گرفتار کر لیا۔
ہوائی اڈوں اور پروازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا
اس عرصے میں ملک بھر کے ہوائی اڈوں اور پروازوں کو بھی بڑی تعداد میں دھمکیاں موصول ہوئیں۔ صرف حیدرآباد ایئرپورٹ کو پندرہ مہینوں میں تقریباً پندرہ بار دھمکی ملی۔ کئی معاملوں میں پروازوں کو راستے سے ہی واپس لوٹانا پڑا یا دوسرے شہروں میں اتارنا پڑا، جس سے مسافروں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
جون 2025 میں جرمنی کے فرینکفرٹ سے حیدرآباد آنے والی لفتھانسا کی ایک پرواز کو بم کی دھمکی ملنے کے بعد اڑان بھرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد ہی واپس لوٹنا پڑا۔
یہ طیارہ ہندوستانی فضائی حدود میں داخل بھی نہیں ہوا تھا۔ اسی مہینے برطانیہ کے برمنگھم سے دہلی آنے والی ایئر انڈیا کی ایک پرواز کو بھی سکیورٹی وجوہات کی بنا پر سعودی عرب کے ریاض میں اتارنا پڑا، جہاں مکمل جانچ کے بعد ہی اسے آگے جانے کی اجازت دی گئی۔
کرناٹک کے ہبلی ہوائی اڈے پر بھی ایک فرضی دھمکی کے بعد افرا تفری مچ گئی۔ سکیورٹی ایجنسیوں نے وسیع پیمانے پر تلاشی مہم چلائی، تاہم وہاں کچھ بھی مشکوک نہیں ملا۔ حکام کے مطابق، اسی طرح کے ای میل ایک ساتھ ملک کے کئی ہوائی اڈوں کو بھیجے گئے تھے۔
نومبر 2025 میں جدہ سے حیدرآباد آنے والی انڈیگو کی ایک پرواز کو دھمکی کے بعد ممبئی موڑنا پڑا۔ سکیورٹی جانچ کے بعد طیارے کو آگے بڑھنے کی اجازت دی گئی۔ اسی طرح بحرین سے حیدرآباد آنے والی گلف ایئر کی پرواز کو بھی احتیاطاً ممبئی منتقل کیا گیا، جہاں جانچ کے بعد اسے اپنی منزل کی جانب روانہ کیا گیا۔
دسمبر 2025 میں بھی اس طرح کے کئی معاملات سامنے آئے۔ مدینہ سے حیدرآباد آنے والی انڈیگو کی ایک پرواز کو احمد آباد میں اتارنا پڑا، جبکہ کویت سے حیدرآباد آنے والی دوسری پرواز کو ممبئی کی طرف موڑ دیا گیا۔ ہر بار سکیورٹی ایجنسیوں نے معیاری طریقۂ کار کے تحت جانچ کی، لیکن کسی بھی معاملے میں کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا۔
ان واقعات سے واضح ہے کہ بم کی جھوٹی دھمکیاں صرف خوف پھیلانے تک محدود نہیں ہیں، بلکہ یہ شہری ہوا بازی کے نظام، سکیورٹی وسائل اور عام مسافروں کی زندگی کو براہ راست متاثر کر رہی ہیں۔ بار بار ہونے والے ان واقعات کے باوجود زیادہ تر معاملوں میں ملزمان تک پہنچ پانا اب بھی ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
مارچ 2025 میں پارلیامنٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق، سال 2020 سے لے کر فروری 2025 کے آخر تک ایئرلائن کمپنیوں کو ملنے والی دھمکیوں کی کل تعداد 833 رہی ہے۔
اگر سال کے لحاظ سے دیکھیں تو 2020 میں محض چار دھمکی آمیز پیغامات درج ہوئے۔ 2021 میں یہ تعداد گھٹ کر دو رہ گئی۔ 2022 میں کل تیرہ دھمکیاں ملیں، جبکہ 2023 میں یہ بڑھ کر اکہتر ہو گئیں۔ سب سے زیادہ اضافہ 2024 میں ہوا، جب سات سو اٹھائیس دھمکیاں درج کی گئیں۔
سال2025کے صرف پہلے دو مہینوں (جنوری-فروری) میں ہی پندرہ دھمکیاں آ چکی تھیں۔
کمپنی کے لحاظ سے بات کریں تو سب سے زیادہ متاثر ایئر انڈیا رہی، جسے کل 179 دھمکیاں ملیں۔ اس کے بعد انڈیگو کا نمبر آتا ہے، جسے 217 دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وستارا کو 161، آکاسا کو 85، اور اسپائس جیٹ کو 46 دھمکیاں موصول ہوئیں۔
اس کے علاوہ گو فرسٹ، الائنس ایئر، ایئر انڈیا ایکسپریس، اسٹار ایئر، اور کئی بین الاقوامی ایئرلائنز جیسے ایمریٹس، امریکن ایئرلائنز، ایروفلوٹ، اتحاد، اور لفتھانسا کو بھی ایک ایک یا کچھ دھمکیاں ملیں۔
اسپتال اور کلکٹریٹ
اس مدت میں اسپتال اور کلکٹریٹ کے 18-18 معاملے سامنے آئے ہیں۔ چھ مرتبہ تو صرف کوئمبٹور کلکٹریٹ کو ہی دھمکی ملی ہے۔ پہلی نظر میں کلکٹریٹ کو دھمکی ملنا ایک چھوٹا معاملہ لگ سکتا ہے، لیکن مقامی سطح پر اس کے نتائج سنگین ہو رہے ہیں، مثال کے طور پر مارچ 2025 کے اس واقعے کو دیکھیے۔
ایک دوپہر ترواننت پورم کے پیرورکدا سرکاری اسپتال میں ستر سے زیادہ لوگ شہد کی مکھیوں کے کاٹنے کے بعد علاج کے لیے پہنچے۔ یہ تمام لوگ اس دن شہر کے کلکٹریٹ میں موجود تھے، جسے اسی دوپہر بم دھماکے کا ایک ای میل موصول ہوا تھا۔ دعویٰ کیا گیا تھا کہ عمارت کی پائپ میں آر ڈی ایکس رکھا گیا ہے۔ بم اسکواڈ وغیرہ موقع پر پہنچے اور وہاں موجود لوگوں کو ہٹانے کے لیے پولیس کی مدد لی گئی۔
حالاں کہ وہاں سے کوئی دھماکہ خیز مواد نہیں ملا، لیکن اس افراتفری بھری کارروائی کے دوران شہد کی مکھیوں کا ایک چھتہ چھیڑ دیا گیا، جس کے بعد 79 لوگ زخمی ہو گئے، جن میں سے 72 کو ابتدائی طبی امداد دی گئی جبکہ سات کو شدید حالت کے باعث دوسرے اسپتال بھیج دیا گیا۔ ان زخمیوں میں کلکٹریٹ میں کام سے آئے افراد کے علاوہ سرکاری افسران، پولیس اہلکار، یہاں تک کہ کچھ صحافی بھی شامل تھے۔
کئی معاملوں کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش
بم کی جھوٹی دھمکیوں کے ان معاملوں میں ایک تشویشناک رجحان یہ بھی سامنے آیا ہے کہ کئی بار دھمکی دینے والوں نے جان بوجھ کر مسلم ناموں یا دہشت گرد تنظیموں کا سہارا لیا۔
جنوری 2025 میں بہار کے پورنیہ سے گرفتار ایک نوجوان نے پریاگ راج کے کمبھ میلے کو اڑانے کی دھمکی دی تھی۔ اس نے سوشل میڈیا پر ’ناصر پٹھان‘نام استعمال کیا تھا۔ بعد میں پولیس کی تحقیقات میں سامنے آیا کہ ملزم آیوش کمار جیسوال تھا، جس نے فرضی شناخت اختیار کرکے یہ دھمکی دی تھی۔ دھمکی دینے کے بعد وہ نیپال بھی چلا گیا تھا اور پولیس نے اسے وہاں سے جڑے ممکنہ رابطوں کی بنیاد پر تفتیش کے دائرے میں لیا۔
اسی طرح نومبر 2025 میں اتر پردیش کے فیروزآباد میں ایک نوجوان نے پولیس کو فون کر کے خود کو لشکر طیبہ کا رکن بتاتے ہوئے شہر میں سلسلہ وار دھماکوں کی وارننگ دی۔ پولیس کی تفتیش میں یہ دعویٰ مکمل طور پر جھوٹا نکلا اور ملزم آکاش تومر کو گرفتار کر لیا گیا۔
دسمبر 2025 میں بنگلورو میں پولیس کمشنر کو بھیجے گئے ایک دھمکی آمیز ای میل میں’جیش محمد ‘کا نام لے کر ہوائی اڈے اور کئی مال کو نشانہ بنانے کی بات کہی گئی تھی۔ ای میل میں مذہبی حوالوں کا استعمال کرتے ہوئے اسے دہشت گرد حملے کی شکل دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ یہ ای میل ’موہت کمار‘کے نام سے بھیجا گیا تھا۔ تفتیش میں یہ بھی ایک جھوٹی دھمکی ثابت ہوئی۔
یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ بم کی جھوٹی دھمکیاں صرف شرارت یا ذاتی وجوہات تک محدود نہیں ہیں، بلکہ کئی بار انہیں اس طرح تشکیل دیا جاتا ہے کہ وہ کسی خاص برادری یا دہشت گرد تنظیم سے جڑی ہوئی معلوم ہوں۔ اس سے نہ صرف سکیورٹی ایجنسیوں پر دباؤ بڑھتا ہے، بلکہ معاشرے میں غیر ضروری خوف اور عدم اعتماد کا ماحول بھی پیدا ہوتا ہے۔
کن معاملوں میں پکڑے جاتے ہیں ملزم؟
زیادہ تر بم دھمکی کے معاملوں میں ملزمان پولیس کی گرفت سے باہر ہی رہتے ہیں، لیکن جن معاملوں میں گرفتاری ہوتی ہے ان میں ایک واضح پیٹرن نظر آتا ہے-نشانہ اکثر بڑے اور ہائی پروفائل لوگ ہوتے ہیں۔
فروری 2025 میں مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کی گاڑی کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے کے معاملے میں دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ اگست 2025 میں مرکزی وزیر نتن گڈکری کے ناگپور واقع گھر کو اڑانے کی دھمکی دینے والا ملزم بھی پولیس کے ہاتھ لگا۔ اسی طرح جئے پور میں وزیر اعلیٰ کے دفتر کو نشانہ بنانے والے مشتبہ شخص کو بھی حراست میں لیا گیا۔
فلمی دنیا بھی اس سے محفوظ نہیں رہی۔ اکتوبر 2025 میں اداکار وجئے کے گھر میں بم ہونے کی اطلاع دینے والے شخص کو پولیس نے گرفتار کیا، جبکہ دسمبر 2025 میں تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن کی رہائش گاہ کے بارے میں جھوٹی دھمکی دینے والا ملزم بھی پکڑا گیا۔
ان معاملوں سے واضح ہے کہ جب دھمکی براہ راست اقتدار، سیاست یا مشہور شخصیات سے جڑی ہوتی ہے تو تفتیشی ایجنسیاں زیادہ تیزی سے متحرک ہوتی ہیں اور ملزمان تک پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔
ان 15 مہینوں کا خلاصہ بتاتا ہے کہ بم کی جھوٹی دھمکی اب محض شرارت نہیں رہی، بلکہ ایک ایسا ذریعہ بن گئی ہے جس کے ذریعے بغیر کسی حقیقی دھماکے کے بھی وسیع اثرات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
ہر بار جب کوئی دھمکی ملتی ہے تو پورا سسٹم حرکت میں آ جاتا ہے، اور ہر بار جب کچھ نہیں ملتا تب بھی اس عمل کی قیمت چکانی پڑتی ہے۔
اسی لیے اس پورے سلسلے کا سب سے خطرناک پہلو یہ ہے کہ خوف اب بغیر کسی بم کے بھی کام کر رہا ہے۔
ان معاملوں پر ماہرین کیا کہتے ہیں؟
دی وائر سے بات چیت میں اتر پردیش کے سابق پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) وکرم سنگھ نے کہا،’دیکھئے یہ مسئلہ آج کا نہیں ہے۔ پہلے بھی ایسا ہوتا رہا ہے۔ پہلے لینڈ لائن ٹیلی فون اور خطوط وغیرہ کے ذریعے ایسی دھمکیاں آتی تھیں، اب ای میل کے ذریعے آ رہی ہیں۔ شرارتی عناصر یہ کام زمانے سے کرتے آ رہے ہیں۔ اب چونکہ پولیس کے پاس یہ آپشن نہیں ہے کہ ایسی دھمکیوں کو نظر انداز کرے، بلکہ ہر دھمکی کو حقیقی سمجھ کر لیا جاتا ہے۔ جب بھی دھمکی ملتی ہے، انتظامیہ کو تلاشی سمیت تمام ضروری کارروائیاں کرنی پڑتی ہیں۔ اس میں افرادی قوت اور پیسہ دونوں خرچ ہوتے ہیں، لیکن اس کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ یہ کرنا ہی ہوگا۔ ‘
وکرم سنگھ کہتے ہیں کہ بھلے ہی دھماکے نہ ہوئے ہوں، اس طرح کی دھمکیاں بھی جرم کے زمرے میں آتی ہیں۔ بعد میں عدالت دیگر پہلوؤں پر غور کرے گی، لیکن پولیس کا کام ہے کہ معاملے کی گہرائی سے تفتیش کر کے چارج شیٹ فائل کرنا۔
سابق ڈی جی پی کا ماننا ہے کہ اس طرح کی دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے کسی خصوصی قانون کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں،’قانون کافی ہے، بس ضرورت ہے مؤثر تفتیش کے ذریعے زیادہ سے زیادہ ملزمان کو گرفتار کرنے کی۔ یہ بات ملحوظ رہے کہ سزا کے بغیر ایسے معاملے بندنہیں ہونے والے ہیں۔‘
(شروتی شرما کے تعاون کے ساتھ)
ہندی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔