ٹرمپ نے ایران کے امن منصوبے کو ’مؤثر‘ بتایا، دو ہفتے کے لیے ہرمز کھلا؛ نیتن یاہو بولے – لبنان شامل نہیں

امریکہ نے ایران پر حملے کی طے شدہ آخری تاریخ سے پہلے اچانک دو ہفتے کے لیے فوجی کارروائی روک دی ہے۔ ایران نے اسے قبول کرتے ہوئے شرط رکھی ہے کہ حملے مکمل طور پر بند ہوں۔ دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن عدم اعتماد، سخت شرائط اور علاقائی کشیدگی کے باعث صورتحال اب بھی نازک ہے۔

امریکہ نے ایران پر حملے کی طے شدہ آخری تاریخ سے پہلے اچانک دو ہفتے کے لیے فوجی کارروائی روک دی ہے۔ ایران نے اسے قبول کرتے ہوئے شرط رکھی ہے کہ حملے مکمل طور پر بند ہوں۔ دونوں فریق بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن عدم اعتماد، سخت شرائط اور علاقائی کشیدگی کے باعث صورتحال اب بھی نازک ہے۔

امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ (تصویر: اے پی)

نئی دہلی: ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی اپنی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے محض ایک گھنٹہ پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اچانک رخ بدلتے ہوئے دو ہفتوں کے لیے فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کر دیا۔ جس حملے کو وہ پہلے ایک وسیع اور تباہ کن مہم کے طور پر پیش کر چکے تھے، اسی کے بیچ انہوں نے ایران کے 10 نکاتی امن منصوبے کو’مؤثر ‘قرار دیا۔

ایران نے ٹرمپ کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس کے خلاف حملے روکے جاتے ہیں تو وہ بھی اپنی ’دفاعی کارروائی‘بند کر دے گا۔ ساتھ ہی، تہران نے اشارہ دیا کہ وہ دو ہفتے کے لیے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کی اجازت دے گا اور اس دوران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو آگے بڑھائے گا۔ امریکہ کی جانب سے بھی 15 نکاتی الگ تجویز رکھی گئی ہے۔

اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے ٹرمپ کے فیصلے کی حمایت کی ہے، لیکن واضح کیا ہے کہ یہ وقفہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری جنگ پر لاگو نہیں ہوگا۔

ایران کے 10 نکاتی منصوبے میں کئی اہم مطالبات شامل ہیں-عارضی جنگ بندی کے بجائے مستقل طور پر جنگ کا خاتمہ، آئندہ حملے نہ ہونے کی ضمانت، لبنان میں حزب اللہ پر اسرائیلی حملوں کو روکنا، پورے خطے میں ہر قسم کے حملوں پر پابندی (جس میں ایران کی جانب سے ہونے والی کارروائیاں بھی شامل ہوں)، اور ایران پر عائد تمام امریکی و بین الاقوامی پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔

اس کے بدلے ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، وہاں محفوظ آمد و رفت کے لیے ایک پروٹوکول بنانے اور ہر جہاز سے تقریباً 20 لاکھ ڈالر ٹرانزٹ فیس لینے کی تجویز رکھی ہے۔ یہ فیس عمان کے ساتھ مشترکہ طور پر تقسیم کی جائے گی۔ ساتھ ہی، امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تباہ کیے گئے ڈھانچے کی تعمیر نو کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے اس منصوبے کے فارسی ورژن میں اس کے جوہری پروگرام کے لیے ’یورینیم افزودگی کی منظوری‘کا ذکر ہے، جبکہ انگریزی دستاویزوں میں یہ نکتہ شامل نہیں تھا۔ ٹرمپ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کے جوہری پروگرام کا مکمل خاتمہ اس جنگ کا ایک اہم مقصد ہے۔

ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے اس پیش رفت پر نسبتاً سخت ردعمل دیا ہے اور اسے اپنی ’تاریخی فتح‘قرار دیا ہے۔ کونسل نے کہا کہ’ناانصافی، غیر قانونی اور مجرمانہ جنگ‘میں دشمن کو بھاری شکست ہوئی ہے۔ تاہم، اس نے یہ بھی واضح کیا کہ جنگ کا خاتمہ تبھی تصور کیا جائے گا جب اس کے 10 نکاتی منصوبے کے تمام نکات پر حتمی اتفاق ہو جائے۔

کونسل نے امریکہ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات ’مکمل احتیاط اور عدم اعتماد‘کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ اس نے یہ بھی متنبہ کیا کہ’ہماری انگلیاں ٹریگر پر ہیں اور دشمن کی ذرا سی غلطی کا بھی پوری طاقت سے جواب دیا جائے گا۔‘ بتایا گیا ہے کہ مذاکرات جمعہ سے اسلام آباد میں شروع ہوں گے اور باہمی رضامندی سے دو ہفتے کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

دریں اثنا، ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم’ٹروتھ سوشل‘پر ایران کی سپریم سکیورٹی کونسل کے بیان کو’فرضی‘قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ بیان ایک جعلی ویب سائٹ سے لیا گیا اور میڈیا نے اسے بغیر تصدیق کے نشر کر دیا۔ تاہم، سی این این نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان سرکاری ذرائع سے حاصل ہوا ہے۔

سفارتی سطح پر اس پیش رفت کے پیچھے پاکستان کا کردار بھی سامنے آیا ہے۔ سرکاری طور پر کہا گیا کہ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی درخواست کے بعد یہ پیش رفت ممکن ہو سکی۔ تاہم، ان کے ایک پہلے کے ڈرافٹ ٹوئٹ سے ایسے اشارے ملے تھے کہ اس اپیل کے پیچھے بیرونی دباؤ یا کوشش بھی شامل ہو سکتی ہے۔

بعد میں شہباز شریف نے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ یہ جنگ بندی دونوں فریقوں کے’حمایتی گروپوں‘پر بھی لاگو ہوگی، جس میں لبنان میں جاری تصادم بھی شامل ہے۔

اسی دوران ایران کے حمایت یافتہ عراقی ملیشیا گروپ’اسلامک ریزسٹنس ان عراق‘نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ عراق اور خطے میں اپنی فوجی کارروائیاں دو ہفتے کے لیے روک دے گا۔

مجموعی طور پر، جہاں ایک طرف اس دو ہفتے کے وقفے نے فوری کشیدگی کو وقتی طور پر کم کر دیا ہے، وہیں دوسری طرف شدید عدم اعتماد، سخت بیان اور پیچیدہ شرائط کے باعث یہ واضح ہے کہ صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے۔