ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کا 41 واں دن: لبنان پر حملوں سے جنگ بندی خطرے میں، ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کیا

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی لبنان میں اسرائیل کے حملوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔ سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ متضاد دعوے اور عسکری تیاریوں کے باعث پورا معاہدہ اب سنگین بحران کا شکار ہے۔

امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے صرف 24 گھنٹوں کے اندر ہی لبنان میں اسرائیل کے حملوں نے صورتحال کو بگاڑ دیا ہے۔ سینکڑوں شہریوں کی ہلاکت کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ متضاد دعوے اور عسکری تیاریوں کے باعث پورا معاہدہ اب سنگین بحران کا شکار ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری جنگ اور لبنان میں ہونے والے تصادم کے خلاف بدھ، 8 اپریل 2026 کو نیویارک میں لوگوں نے احتجاجی مارچ کیا۔ (فوٹو: اے پی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے درمیان جاری کشیدگی 41 ویں دن ایک بار پھر سنگین موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ محض 24 گھنٹے پہلے اعلان کی گئی دو ہفتے کی جنگ بندی اب خطرے میں نظر آ رہی ہے، کیونکہ لبنان میں اسرائیل کے تیز اور مہلک حملوں نے پورے معاہدے کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے منگل کی صبح اعلان کی گئی اس جنگ بندی کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کی منظوری حاصل تھی۔ اس معاہدے کے تحت ایران کی 10 نکاتی تجویز کو طویل مدتی معاہدے کی بنیاد کے طور پر قبول کیا گیا تھا اور یہ جنگ بندی لبنان تک لاگو سمجھی جا رہی تھی۔ تاہم، اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوراً واضح کر دیا کہ وہ اس کے پابند نہیں ہیں۔

اس کے بعد اسرائیل نے لبنان میں بڑے پیمانے پر حملے تیز کر دیے۔ رپورٹس کے مطابق، صرف ایک دن میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ ان حملوں نے جنگ بندی کی ساکھ اور مستقبل پر سنگین سوال کھڑے کر دیے ہیں۔

برطانیہ میں اسپین کے سفارت خانے نے بھی نیتن یاہو کے اس اقدام کی سخت مذمت کی ہے۔ سفارت خانے کا کہنا ہے کہ لبنان پر اس طرح کا حملہ انسانی جانوں اور بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کیا جائے اور عالمی برادری اس پر سخت ردعمل دے۔ ساتھ ہی، یورپی یونین سے اسرائیل کے ساتھ اپنے معاہدے کو معطل کرنے کی اپیل بھی کی گئی۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی لبنان میں اسرائیل کے ’وسیع پیمانے پر حملوں‘کی مذمت کی ہے۔ ان کے ترجمان اسٹیفن دجارک نے کہا کہ ان حملوں میں بڑی تعداد میں شہری، جن میں بچے بھی شامل ہیں، ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں جو انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ لبنان میں جاری فوجی کارروائیاں امریکہ-ایران جنگ بندی کے لیے ’سنگین خطرہ‘بن رہی ہیں اور تمام فریقین سے فوری طور پر تشدد روکنے کی اپیل کی۔

دریں اثنا،امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ جب تک حتمی معاہدہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہو جاتا، امریکی فوجی دستے ایران اور اس کے اطراف میں تعینات رہیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر معاہدے پر عمل نہ ہوا تو پہلے سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کی جائے گی۔

ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایرانی پارلیامنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ موجودہ حالات میں مجوزہ مذاکرات ’منطقی نہیں‘ہیں، کیونکہ امریکہ ایران کی 10 شرائط میں سے کم از کم تین کی خلاف ورزی کر چکا ہے۔ انہوں نے لبنان میں حزب اللہ پر حملوں، جنگ بندی کے بعد ایرانی فضائی حدود میں مبینہ ڈرون دراندازی، اور جوہری پروگرام میں افزودگی سے متعلق امریکی مؤقف پر اعتراض کیا۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی دہرایا کہ لبنان میں جنگ کو روکنا اس معاہدے کا حصہ تھا، تاہم امریکہ اور اسرائیل دونوں نے اس دعوے کی تردید کی ہے۔ اس کے برعکس ثالثی کا کردار ادا کرنے والے پاکستان نے کہا تھا کہ جنگ بندی’ہر جگہ، جس میں لبنان بھی شامل ہے‘ نافذ ہوگی۔

ان تمام پیش رفتوں کے درمیان ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند کر دیا ہے۔ لبنان میں اسرائیلی حملوں کے جواب میں اٹھائے گئے اس قدم نے عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سےاز سر نو تشویش پیدا کر دی ہے۔

مجموعی طور پر، جہاں ایک طرف جنگ بندی نے امید کی ایک کرن دکھائی تھی، وہیں دوسری طرف لبنان میں شدید تشدد، متضاد دعوے اور فوجی تیاریوں نے صورتحال کو مزید غیر مستحکم کر دیا ہے۔ موجودہ حالات انتہائی نازک ہیں۔