مودی حکومت نے خواتین ریزرویشن قانون 2023 کو 900 دن سے زائدکی تاخیر کے بعد لاگو کیا

مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہونے کے 940 دن اور راجیہ سبھا میں 939 دن  کی تاخیر کے بعد جمعرات کو106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، کو نوٹیفائی کیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن کو قانون کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس نئے بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔

مرکزی حکومت نے لوک سبھا میں متفقہ طور پر منظور ہونے کے 940 دن اور راجیہ سبھا میں 939 دن  کی تاخیر کے بعد جمعرات کو106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، کو نوٹیفائی کیا ۔ اپوزیشن رہنماؤں نے اس نوٹیفکیشن کو قانون کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش قرار دیا ہے، کیونکہ حکومت کے پاس نئے بل منظور کرانے کے لیے مطلوبہ تعداد نہیں ہے۔

14 اپریل 2026 کو نئی دہلی کے انڈیا گیٹ پر بی جے پی کارکنان ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے۔ (تصویر: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: لوک سبھا میں متفقہ  طور پر منظور کیے جانے کے پورے 940 دن بعداور راجیہ سبھا میں 939 دن کی تاخیر کے بعد مرکزی حکومت نے جمعرات (16 اپریل) کو مطلع کیا،  106ویں ترمیمی ایکٹ، 2023 ، جو لوک سبھا اور ریاستی اسمبلی میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن فراہم کرتا ہے، 16 اپریل سے مؤثر ہو گیا ہے۔

اس ایکٹ کو اس سے پہلے 28 ستمبر 2023 کو سرکاری گزٹ میں مطلع کیا گیا تھا، جب صدر دروپدی مرمو نے اسے منظوری دی تھی۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اس کے نفاذ کی تاریخ کے لیے الگ نوٹیفکیشن جاری کیا جائے گا۔ پہلےنوٹیفکیشن میں کہا گیا تھا کہ یہ ایکٹ اس تاریخ سے لاگو ہوگا، جسے مرکزی حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے طےکرے گی۔‘

مرکزی حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اب، پارلیامنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران، یہ نیا نوٹیفکیشن کیوں جاری کیا گیا ہے۔

اس نوٹیفکیشن کا وقت انتہائی اہم اور کسی حد تک بھرم پیدا کرنے والا ہے، کیونکہ یہ ایسے وقت میں آیا ہے جب حکومت نے پارلیامنٹ میں تین نئے بل پیش کیے ہیں، جو خواتین ریزرویشن، لوک سبھا کی توسیع اور حد بندی کو آپس میں جوڑتے ہیں۔

نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے اپوزیشن کی تنقید کو’خواتین ریزرویشن کی مخالفت‘قرار دینے کی کوشش کی ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ 2023 میں ہی اس ریزرویشن کی حمایت کر چکے تھے۔

بھلے ہی  ان تین بلوں میں سے دو پارلیامنٹ میں منظور نہیں ہوتے- جو ممکن ہے کیونکہ آئینی ترمیم کے لیے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت کی ضرورت ہوتی ہے- تب بھی 2023 کا خواتین ریزرویشن قانون مؤثر رہے گا۔ اب اس ایکٹ کے نوٹیفائی ہونے کے بعد اس میں درج عمل- جسے اگلی مردم شماری اور حد بندی سے جوڑا گیا ہے- شروع ہو چکا ہے۔

اگر جمعرات کو پیش کیے گئے آئینی ترمیمی بل منظور نہیں ہوتے، تو جاری مردم شماری 2023 کے ایکٹ کے نفاذ کی جانب پیش رفت کا موقع فراہم کرتی ہے؛ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسی دن پیش کیا گیا ’حدبندی بل 2026‘ آئینی ترمیمی بل نہیں ہے اور اسے سادہ اکثریت سے منظور کیا جا سکتا ہے۔

جہاں 2023 کے قانون میں خواتین ریزرویشن کو 2027 کی مردم شماری سے جوڑا گیا ہے، وہیں نئے بلوں میں کہا گیا ہے کہ حد بندی، لوک سبھا کی توسیع اور خواتین ریزرویشن کو پارلیامنٹ کی طرف سے منتخب کسی بھی مردم شماری سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، لوک سبھا کی نشستوں کو 540 سے بڑھا کر 850 کرنے کی تجویز کے حوالے سے وضاحت کے فقدان نے یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ حکومت انتخابی مساوات کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

سال2023میں خواتین ریزرویشن کو قانون کا حصہ تو بنا دیا گیا تھا، لیکن اس کے نفاذ کے لیے کوئی واضح وقت مقرر نہ ہونے – کیونکہ یہ حد بندی اور مردم شماری سے منسلک ہے – کی وجہ سے پہلے بھی سوال اٹھتے رہے ہیں۔ اب حکومت کی جانب سے اچانک اس کو نافذ کرنے کی سمت میں قدم اٹھانے اور ساتھ ہی نئے بل پیش کرنے سے اس کی نیت پر سوال اٹھ رہے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں کہ اس سے وفاقی ڈھانچے پر اثر پڑ سکتا ہے۔

اپوزیشن رہنماؤں نے کہا کہ جمعرات کو 2023 کے قانون کو نوٹیفائی کرنا اس قانون کو بچانے کی ایک’مایوس کن کوشش‘ہے، کیونکہ مرکزی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ اس کے پاس پارلیامنٹ میں تین نئے بل منظور کرانے کے لیے عددی قوت نہیں ہے۔

نیوانڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق، کانگریس کے رکن پارلیامنٹ منیش تیواری نے کہا،’ یہ بہت عجیب ہے کہ جس بل کو ستمبر 2023 میں گزٹ میں شائع کیا گیا تھا، اسے اب ’رول 66‘کو معطل کرنے کے بعد دوبارہ شائع کیا گیا ہے۔ رول  66 کے مطابق، اگر کوئی بل، جو کسی دوسرے بل کی منظوری پر منحصر ہو، منظور نہ ہو پائے تو اصل بل یا ایکٹ بھی غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ لوک سبھا کے قواعد و ضوابط کے قاعدہ 66 کو معطل کرنے کے بعد اس بل کو دوبارہ گزٹ میں نوٹیفائی کرنا 106ویں ایکٹ کو بچانے کی ایک مایوس کن کوشش معلوم ہوتی ہے – خاص طور پر اس صورت میں کہ کہیں 131ویں ترمیم منظور نہ ہو سکے۔‘

ڈی ایم کے لیڈرکیکنی موئی نے لوک سبھا میں کہا کہ اپوزیشن کے اس مطالبے کے باوجود کہ خصوصی اجلاس ریاستی اسمبلی انتخابات کے بعد بلایا جائے، اور ان کی سابقہ درخواستوں کے باوجود کہ خواتین ریزرویشن بل کو وقت پر نافذ کیا جائے، اس اجلاس کا وقت ظاہر کرتا ہے کہ بی جے پی’انتہائی سیاسی‘قدم اٹھا رہی ہے اور خواتین کے حقوق کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا،’حد بندی کے ساتھ خواتین ریزرویشن کو جوڑنا ایک جال ہے۔ بی جے پی اپنے انتخابی مفادات کے لیے ہندوستان کی خواتین کو ایک ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔‘