مردم شماری کے بعد حد بندی کیوں نہیں ہو سکتی؟ کیا اس کی وجہ ذات پر مبنی مردم شماری ہے؟

بی جے پی نے خواتین کے لیے ریزرویشن لاگو کرنے کے لیے 2011 کی مردم شماری کو بنیاد کیوں بنایا، یہ سوال مسلسل اٹھ رہا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد حاشیائی طبقے کی تعداد میں اضافے سے او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ تیز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حد بندی کے حوالے سے بھی اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے، اس کے بعد ہی حد بندی کی جائے۔

بی جے پی نے خواتین کے لیے ریزرویشن لاگو کرنے کے لیے 2011 کی مردم شماری کو بنیاد کیوں بنایا، یہ سوال مسلسل اٹھ رہا ہے۔ ایسا مانا جا رہا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد حاشیائی طبقے کی تعداد میں اضافے سے او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن کا مطالبہ تیز ہو سکتا ہے۔ اسی طرح حد بندی کے حوالے سے بھی اپوزیشن جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کرائی جائے، اس کے بعد ہی حد بندی کی جائے۔

سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو جمعرات، 16 اپریل کو پارلیامنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران لوک سبھا میں خطاب کر تے ہوئے۔ (تصویر: سنسد ٹی وی/پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیامنٹ اکھلیش یادو نے جمعرات، 16 اپریل کو لوک سبھا میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت حد بندی کا استعمال ملک کے انتخابی نقشے کو بدلنے کے لیے کر رہی ہے، جس کے بعد حکمراں جماعت کے بنچوں پر خاموشی چھا گئی۔

یادو نے کہا کہ ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ پہلے ذات پر مبنی مردم شماری ہو، اس کے بعد ہی حد بندی کی جائے۔

انہوں نے کہا، ’جب ہم وزیر اعظم کو سنتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ وہ پسماندہ طبقے سے آتے ہیں۔ لیکن جب ریزرویشن کی بات آتی ہے تو میں حکومت سے سننا چاہتا ہوں کہ پسماندہ طبقات کے لیے کتنا ریزرویشن مقرر کیا جائے گا۔ ‘

یادو نے کہا کہ بی جے پی مردم شماری کا انتظار کرنے کے خلاف ہے، کیونکہ اگر وہ انتظار کرتی ہے تو اسے ریزرویشن پر بھی فیصلہ کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا،’کیا ہوگا اگر وہ خواتین کی آدھی آبادی میں او بی سی اور مسلم خواتین کو شامل ہی نہ کریں؟ ہم چاہتے ہیں کہ مسلم اور او بی سی خواتین کو بھی ریزرویشن ملے، یہی ہماری مانگ ہے۔‘

یادو نے خواتین کے ریزرویشن کے نفاذ کے لیے شیٹوں کے روٹیشن کی بھی مخالفت کی۔ انہوں نے کہا،’وہ مردم شماری سے بھاگ رہے ہیں، کیونکہ اس کے بعد ذات پر مبنی مردم شماری کی مانگ بڑھے گی اور پھر ریزرویشن کی مانگ بھی بڑھے گی۔‘

بی جے پی نے خواتین کے ریزرویشن کو جلد نافذ کرنے کے لیے 2011 کی مردم شماری کو بنیاد کیوں بنایا، یہ ایک اہم سوال ہے۔

ایک دلیل یہ ہے کہ اس سے پارٹی کو 2029 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے اپنے مضبوط علاقے، یعنی ہندی بیلٹ، کے حق میں انتخابی حلقوں کا توازن تبدیل کرنے کا موقع مل سکتا ہے، کیونکہ 2026 کی مردم شماری کے اعداد و شمار کا انتظار کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔

دوسری دلیل یہ ہے کہ ہندی بیلٹ کی ریاستوں میں آبادی میں اضافہ 2011 کے آس پاس اپنے عروج پر پہنچ چکا ہو سکتا ہے اور 2026 تک اس میں کچھ گراوٹ بھی آ سکتی ہے۔ ایسے میں 2011 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم بی جے پی کے لیے زیادہ مفید ہو سکتی ہے۔

لیکن جیسا کہ اکھلیش یادو نے کہا، ذات پر مبنی مردم شماری سے او بی سی (اور مسلم) برادریوں کی حقیقی حالت سامنے آئے گی، جس سے او بی سی خواتین کے لیے ریزرویشن کی مانگ بڑھے گی، جو فی الحال شامل نہیں ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتیہ جنتا پارٹی’ناری شکتی وندن‘کے تحت مکمل عوامی نمائندگی کے عمل کو آگے بڑھانا نہیں چاہتی؟‘

ذات پر مبنی مردم شماری  پاور ایکوئیشن کو تبدیل  کر سکتی ہے

راجیہ سبھا میں راشٹریہ جنتا دل کے رکن پارلیامنٹ منوج کمار جھانے کہا کہ ذات پر مبنی مردم شماری کئی پیچیدگیوں کو اجاگر کرے گی، جس سے ہندوتوا کی سہل  سیاست کو آگے بڑھانے میں  مشکل پیش آ سکتی ہے۔

انہوں نے دی وائر سے کہا،’ایک واضح تشویش یہ ہے کہ اگر حد بندی سے پہلے ذات پر مبنی مردم شماری کا انتظار کیا جائے تو سیاسی منظرنامہ بدل سکتا ہے۔  ذات پر مبنی اعداد و شمار متناسب نمائندگی کے مطالبے کو مضبوط کریں گے، خصوصی طور پر او بی سی برادریوں سے، جس سے نشستوں کی دوبارہ تقسیم مزید متنازعہ ہو جائے گی۔‘

ان کی پارٹی نے بہار میں جے ڈی یو کے ساتھ مل کر آزاد ہندوستان کی پہلی ذات پر مبنی مردم شماری کرائی تھی۔ انہوں نے کہا ،’بی جے پی کے لیے یہ اس کے بنائے گئے انتخابی ایکوئیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ اس لیے پہلے حد بندی کرنا ایک طریقہ ہو سکتا ہے جس سے نئے اعداد و شمار آنے سے پہلے ہی اسٹرکچرل فائدے کو یقینی بنا لیا جائے۔‘

اسی کڑی میں سی پی آئی (ایم) کی رہنما برندا کرات نے ایک مضمون میں کہا کہ درج فہرست ذاتوں اور قبائل کی آبادی میں ممکنہ اضافے کی وجہ سے حکومت 2011 کی مردم شماری کی بنیاد پر جلد بازی کر رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ 1971 میں ایس سی کے لیے 79 اور ایس ٹی کے لیے 41 نشستیں محفوظ تھیں، جو بعد میں بڑھ کر بالترتیب 84 اور 47 ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2001 سے 2026 کے درمیان ان کی آبادی میں مزید اضافہ ہوا ہوگا۔ انہوں نے خواتین کے ریزرویشن کے نام پر اس جلد بازی کو دبے کچلے طبقات کے ساتھ ’منووادی ناانصافی‘قرار دیا۔

سماجیات کے پروفیسر ایس ایس جودھکا نےکہتے ہیں،’ اگر ذات پر مبنی مردم شماری ہوتی بھی ہے، تو مختلف ذاتوں کے اعداد و شمار کو یکجا کرنے میں کافی وقت لگے گا، اور یہ بھی واضح نہیں کہ حکومت اسے کب تک مکمل کرے گی اور ڈیٹا کب تک دستیاب ہوگا۔‘

سیاسیات اور جے این یو کی پروفیسر ایمیریٹا ضویا حسن نے  دی وائر سے کہاکہ بی جے پی 2026 کی مردم شماری کا انتظار نہیں کرنا چاہتی، کیونکہ اس میں 1931 کے بعد پہلی بار ذات سے متعلق اعداد و شمار شامل ہوں گے، جو اس کے سیاسی مساوات کو متاثر کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا، ’حالاں کہ، اس نے ہچکچاہٹ کے ساتھ ذات پر مبنی مردم شماری کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے، لیکن وہ نہیں چاہے گی کہ یہ اعداد و شمار اقتدار کے توازن کو بدل دیں۔ 2011 کی مردم شماری اس کے لیے زیادہ محفوظ ہے، جبکہ ذات کے اعداد و شمار او بی سی برادریوں کو مزید مطالبات کرنے کی ترغیب دے سکتے ہیں، اور وہ بی جے پی سے باہر بھی دیکھ سکتے ہیں۔‘

حسن نے مزید کہا،’اس نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو حد بندی اور لوک سبھا میں مجوزہ تبدیلیاں ہندی بیلٹ میں  بی جے پی کی بالادستی کو ایک مستقل اسٹرکچرل برتری میں تبدیل کرنے کی کوشش لگتی ہیں۔ یہ صرف خواتین کے ریزرویشن یا اگلا انتخاب جیتنے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ نمائندگی کو اس طرح بدلنے کی کوشش ہے کہ پارٹی کو تقریباً مستقل اکثریت حاصل ہو سکے۔‘