ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا 52 واں دن: ایرانی جہاز پر امریکہ کا قبضہ، مذاکرات تعطل کا شکار

ایران پر حملوں کے 52 ویں دن امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی جہاز ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ مجوزہ مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے تیل بازارکے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

ایران پر حملوں کے 52 ویں دن امریکہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی جہاز ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ مجوزہ مذاکرات کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے، جبکہ ایران نے امریکہ کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے تیل بازارکے حوالے سے خبردار کیا ہے۔

جنگ بندی کے بعد اپنے گھروں کو واپس جاتے ہوئے جنوبی لبنان کے طیر فلسای گاؤں میں تباہ شدہ پل عبور کرتے لوگ، 19 اپریل 2026۔ (تصویر: اے پی/بلال حسین)

ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے 52ویں دن حالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ فوجی تصادم کے ساتھ ساتھ سفارتی محاذ پر بھی غیر یقینی صورتحال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی پرچم والے ایک مال بردار جہاز کو قبضے میں لے لیا ہے۔ ٹرمپ کے مطابق، خلیج عمان میں تعینات ایک امریکی جنگی جہاز نے اس جہاز کو روکنے کے لیے اس کے انجن روم کو نشانہ بنایا، جس کے بعد امریکی میرین نے اس پر قبضہ کر لیا۔ جہاز کا نام ’ٹوسکا‘بتایا گیا ہے اور اس میں موجود سامان کی جانچ کی جا رہی ہے۔ یہ کارروائی اس وقت ہوئی ہے جب امریکہ نے گزشتہ ہفتے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی شروع کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

اس پیش رفت نے امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی امیدوں پر بھی سوال اٹھا دیے ہیں۔ ٹرمپ نے پہلے کہا تھا کہ امریکی نمائندے پاکستان میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے جانے والے ہیں، جس سے بدھ کو ختم ہونے والی جنگ بندی کو بڑھانے کی امید ظاہر کی جا رہی تھی۔ تاہم، ایران نے ان مذاکرات میں شرکت کی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے بات چیت میں کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکہ کی شرائط اور ایرانی جہازوں و بندرگاہوں کے حوالے سے دی جانے والی دھمکیاں اس کے ’اصل ارادوں‘کو ظاہر کرتی ہیں اور یہ دکھاتی ہیں کہ وہ سفارت کاری کے معاملے میں سنجیدہ نہیں ہے۔

ایرانی سرکاری میڈیا میں بھی اشارے دیے گئے ہیں کہ اس ہفتے مجوزہ مذاکرات شاید نہ ہو سکیں۔ اگرچہ ان رپورٹس میں کسی کا باضابطہ نام نہیں لیا گیا، تاہم اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد میں اضافہ ہو گیا ہے۔

اس دوران ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے تیل بازار کے حوالے سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایرانی تیل کی برآمدات پر معاشی اور فوجی دباؤ جاری رہا تو اس کا اثر عالمی ایندھن کی قیمتوں پر پڑے گا۔ ان کے مطابق، ’ایران کی تیل برآمدات کو محدود رکھتے ہوئے دنیا میں توانائی کی سلامتی برقرار رکھنا ممکن نہیں ہے۔ یا تو تیل کی منڈی سب کے لیے کھلی ہوگی، یا اس کی قیمت سب کو ادا کرنی پڑے گی۔‘

زمینی سطح پر اس تصادم کی انسانی قیمت بھی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اب تک ایران میں کم از کم 3,000 افراد کی ہلاکت کی اطلاع ہے، جبکہ لبنان میں یہ تعداد تقریباً 2,300 تک پہنچ چکی ہے۔ اسرائیل میں 23 شہریوں اور 15 فوجیوں کی جان گئی ہے، جبکہ خلیجی عرب ممالک میں بھی ایک درجن سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اس تنازعہ میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی خبر ہے۔

مجموعی طور پر، ایک طرف فوجی کارروائیاں تیز ہو رہی ہیں، تو دوسری طرف مذاکرات کے امکانات کمزور پڑتے نظر آ رہے ہیں۔ ایسے میں یہ تنازعہ مزید وسیع اور غیر مستحکم صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔