امریکہ – اسرائیل کے ایران پر حملوں کا 42 واں دن: اسلام آباد پہنچا وفد، فیصلہ کن مذاکرات متوقع

ایران پر حملوں کے 42 ویں دن اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاری ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والی یہ بات چیت تنازعہ کے مستقل حل کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عارضی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے اور آبنائے ہرمز کے بند رہنے کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔

ایران پر حملوں کے 42 ویں دن اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات کی تیاری ہے۔ پاکستان کی ثالثی میں شروع ہونے والی یہ بات چیت تنازعہ کے مستقل حل کی جانب ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم، عارضی جنگ بندی کے باوجود لبنان میں حملے اور آبنائے ہرمز کے بند رہنے کے باعث کشیدگی برقرار ہے۔

اسلام آباد:ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ مذاکرات سے پہلے سکیورٹی انتظامات یقینی بنانے کے لیے تیاری کرتی پاکستان پولیس۔ (جمعہ، 10 اپریل 2026)(فوٹو: پی ٹی آئی / اے پی)

نئی دہلی:ایران پر امریکہ-اسرائیل حملوں کے 42 ویں دن تنازعہ ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ عارضی جنگ بندی کے دوران اب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں، جن کا مقصد تنازعہ کا مستقل حل تلاش کرنا اور کسی جامع معاہدے تک پہنچنا ہے۔

دریں اثنا،امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس پاکستان پہنچنے والے ہیں، جبکہ ایران کا وفد پہلے ہی وہاں پہنچ چکا ہے۔ رائٹرز کے مطابق، امریکی وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر بھی شامل ہیں، جو مذاکرات کے لیے اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

ایران نے اس مذاکرات کے لیے 71 رکنی وفد بھیجا ہے، جس کی سربراہی پارلیامنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق، اگر تہران کی ’پیشگی شرائط‘پوری ہو جاتی ہیں تو مذاکرات سنیچر دوپہر سے ہی شروع ہو سکتے ہیں۔

پاکستانی اخبار ڈان کے مطابق، جمعہ تک اسلام آباد، تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیک چینل رابطے تیز رہے، جن میں علاقائی اور بین الاقوامی فریق بھی شامل تھے۔ ان کوششوں کے کچھ نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، اسرائیل نے بیروت اور دہیہ میں حملے عارضی طور پر روک دیے ہیں، جو ایران کی ایک اہم شرط تھی۔

تاہم، ایک ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے دوبارہ ان علاقوں میں حملے کیے تو مذاکرات فوری طور پر ختم کر دیے جائیں گے۔ ان کے مطابق، بیروت اور دہیہ کو ’ریڈ لائن‘قرار دینے کے بعد ہی یہ عارضی وقفہ ممکن ہوا ہے۔

اس کے باوجود لبنان پر اسرائیلی حملے مکمل طور پر رکے نہیں  ہیں، جو پہلے اعلان کردہ جنگ بندی کی شرائط کے خلاف ہیں۔ اس کے جواب میں ایران نے ایک بار پھر آبنائے ہرمز کو بند رکھا ہے، جس سے عالمی تیل کی سپلائی اور تجارت متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔

اس بیچ، ایرانی وفد کے سربراہ قالیباف نے سوشل میڈیا پر ان بچوں کی تصویریں شیئر کی ہیں، جو 28 فروری کو ایک اسکول پر امریکی میزائل حملے میں جاں بحق ہوئے تھے۔ اس حملے میں 165 سے زائد افراد مارے گئے تھے، جن میں بڑی تعداد بچوں کی تھی۔ قالیباف نے یہ تصویریں امن مذاکرات کے تناظر میں شیئر کی ہیں، تاکہ جنگ کے انسانی نقصانات کی جانب  توجہ مبذول کرائی جا سکے۔

اسلام آباد میں مذاکرات سے قبل سخت سکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔ عام طور پرمصروف رہنے والی سڑکیں خالی کرا لی گئی ہیں اور لوگوں سے گھروں میں رہنے کی اپیل کی گئی ہے، جس کے باعث شہر کا ماحول کرفیو جیسا محسوس ہو رہا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس صورتحال کو ’فیصلہ کن اور مشکل مرحلہ‘قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اب کوشش یہ ہے کہ عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں تبدیل کیا جائے، لیکن یہ ایک’کرو یا مرو‘جیسا لمحہ ہے۔

شریف نے برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر سے بات چیت میں بھی اس اقدام کے لیے حمایت ملنے کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر اس امن کوشش کی حمایت ہو رہی ہے اور اب ضروری ہے کہ جنگ بندی برقرار رکھتے ہوئے آگے کا راستہ نکالا جائے۔

مجموعی طور پر جہاں ایک طرف مذاکرات کے ذریعے حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز ہو گئی ہیں، وہیں زمینی صورتحال،خصوصاً لبنان میں جاری حملے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی،اس پورے عمل کو غیر مستحکم بنائے ہوئے ہیں۔ آنے والے دن طے کریں گے کہ یہ کوشش مستقل امن کی طرف بڑھتی ہے یا ایک اور ناکام سفارتی کوشش ثابت ہوتی ہے۔