پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ’آپریشن سیندور‘کے دوران پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو ضمانت دے دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ ریاست یہ دکھانے کے لیے کوئی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی کہ فوج سے متعلق کوئی جانکاری حقیقت میں پاکستان بھیجی گئی تھی۔

علامتی تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی: پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے 1 اپریل کو ’آپریشن سیندور‘کے دوران پاکستان کے لیے جاسوسی کرنے کے الزام میں گرفتار ایک شخص کو ضمانت دے دی۔
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق، ضمانت دیتے ہوئے جسٹس ونود ایس بھاردواج نے کہا کہ ریاست یہ دکھانے کے لیے کوئی ٹھوس مواد پیش نہیں کر سکی کہ فوج سے متعلق کوئی جانکاری حقیقت میں پاکستان کو بھیجی گئی تھی۔
عدالت دیویندر سنگھ نامی شخص کے معاملے کی شنوائی کر رہی تھی، جن پر آپریشن سیندور کے دوران فوجی سرگرمیوں سے متعلق حساس معلومات پاکستان کو دینے کا الزام ہے۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت منظوری ابھی زیر التوا ہے، جس کی وجہ سے مقدمے کی شنوائی شروع نہیں ہو پا رہی ہے۔
مئی 2025 میں مبینہ طور پر فیس بک پر ہتھیاروں کے ساتھ اپنی تصویریں اپلوڈ کرنے کے بعد دیویندر پہلی بار پولیس کی نظر میں آئے۔ اس کے بعد آرمز ایکٹ کے تحت ہریانہ کے ضلع کیتھل میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ تفتیش کے دوران ان کا موبائل فون ضبط کر لیا گیا۔
آرمز ایکٹ کے معاملے میں ضمانت ملنے کے فوراً بعد، 15 مئی 2025 کو ان کے خلاف ایک دوسری ایف آئی آر درج کی گئی، جو پوچھ گچھ کے دوران دیے گئے ان کے مبینہ بیان پر مبنی تھی۔ اسی بیان میں پہلی بار پاکستان سے تعلق رکھنے والے افراد کے ساتھ روابط کا الزام سامنے آیا۔
استغاثہ کے مطابق، دیویندر نومبر 2024 میں کرتارپور صاحب اور ننکانہ صاحب کی مذہبی یاترا پر پاکستان گئے تھے۔ بتایا گیا ہے کہ اسی سفر کے دوران مبینہ طور پران کا رابطہ ایسے افراد سے ہوا جن پر جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا شبہ تھا۔
الزام ہے کہ ہندوستان واپس آنے کے بعد دیویندر مبینہ طور پر آئی ایس آئی ایجنٹ شاہ جی نامی شخص کے رابطے میں رہے اور وہاٹس ایپ اور اسنیپ چیٹ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے بات چیت کرتے رہے۔
استغاثہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے ہندوستانی فوج کی سرگرمیوں کو ریکارڈ کیا اور پٹیالہ میں واقع فوجی تنصیبات سے متعلق حساس معلومات جمع کیں۔ یہ بھی الزام ہے کہ ان کے موبائل فون میں فوج کی گاڑیوں کا ایک ویڈیو بھی پایا گیا تھا۔ یہ بھی الزام ہے کہ گرفتاری کے خوف سے انہوں نے کچھ ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیا تھا۔
دیویندر کے وکیل نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف مذہبی یاترا کے لیے پاکستان گئے تھے، جہاں زائرین نگرانی میں مخصوص مقامات تک محدود رہتے ہیں۔
وکیل نے یہ بھی بتایا کہ دیویندر اور پاکستان میں موجود شخص کے درمیان مبینہ فون کال 18 اپریل سے 10 مئی 2025 کے درمیان ہوئی تھیں، جبکہ آپریشن سیندور 9 مئی 2025 کو شروع ہوا تھا۔ یعنی آپریشن کے آغاز کے بعد کسی بھی طرح کی بات چیت کا کوئی الزام نہیں ہے۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق، شنوائی کے دوران عدالت نے بار بار ریاست سے پوچھا کہ کیا فوج سے متعلق کوئی ویڈیو یا معلومات واقعی پاکستان بھیجی گئی تھیں۔
ریاست ان سوالات کا تسلی بخش جواب دینے میں ناکام رہی اور اپنے دعوے کو ثابت نہیں کر سکی۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ آرمز ایکٹ کے معاملے کے علاوہ دیویندر کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں ہے۔
ان حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے، اور اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ آفیشل سیکریٹس ایکٹ کے تحت مقدمہ چلانے کی منظوری ابھی تک زیر التوا ہے، عدالت نے انہیں ضمانت دے دی۔