ملک بھر میں امتحانات میں پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کے درمیان مرکزی حکومت نے راجیہ سبھا میں بتایا کہ امتحانات منعقد کرنے والے ادارے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی منظور شدہ 39 اسامیوں میں سے 15 خالی ہیں۔ یہ ایجنسی اپنے زیادہ تر کاموں کے لیے آؤٹ سورسنگ کا سہارا لیتی ہے۔

تصویر: پی ٹی آئی
نئی دہلی:ملک بھر میں نیٹ پیپر لیک معاملے پر نوجوانوں کی تحریک کے درمیان مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم سکانت مجمدار نے اس ہفتے راجیہ سبھا میں بتایا کہ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کی 39 منظور شدہ اسامیوں میں سے 15 اب بھی خالی ہیں۔
بدھ (22 جولائی) کو کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) (سی پی آئی-ایم) کے راجیہ سبھا ممبر وی شیوداسن کے سوال کے تحریری جواب میں مجمدار نے بتایا کہ امتحانات منعقد کرنے والے اس ادارے میں اس وقت صرف 24 ملازمین کام کر رہے ہیں۔ ان تمام ملازمین کو دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر تعینات کیا گیا ہے، اور این ٹی اے نے کسی بھی ملازم کی براہ راست بھرتی نہیں کی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایجنسی اپنے زیادہ تر کاموں کے لیے آؤٹ سورسنگ کا سہارا لیتی ہے۔
وزیر کے جواب کے مطابق، 73 لوگ کانٹریکٹ پر کام کر رہے ہیں، جن میں کمیونی کیشن کے ایک جنرل منیجر کے علاوہ کئی سینئر مشیراور کنسلٹنٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، ڈیٹا اینالسٹ، قانونی امور اور بنیادی صفائی جیسے کاموں کے لیے 124 اور ملازمین آؤٹ سورسنگ کے ذریعے خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، سینٹرل اسٹافنگ اسکیم کے تحت ڈائریکٹر اور جوائنٹ ڈائریکٹر کی سطح کے 16 اضافی عہدوں کی منظوری دی گئی ہے، تاہم حکومت ان عہدوں کو بھی مستقل تقرری کے بجائے ڈیپوٹیشن کے ذریعے پُر کر رہی ہے۔
اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے راجیہ سبھا رکن وی شیوداسن نے ایک عوامی بیان میں کہا،’ داخلے، میڈیکل، انجینئرنگ اور فیلوشپ جیسے انتہائی اہم امتحانات کے انعقاد کے لیے ذمہ دار ہے۔ اتنے اہم مرکزی ادارے کو کسی مستقل کیڈر کے بغیر چلانا ایک سنگین انتظامی ناکامی ہے، جس کے براہِ راست اثرات طلبہ پر پڑتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا،’اگزام فیس سے حاصل ہونے والی آمدنی سمیت این ٹی اے کی مجموعی آمدنی گزشتہ پانچ برسوں میں دوگنے سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ اس کے باوجود حکومت نے اپنے جواب میں اس کے بعد کے مالی سالوں (2024-25 اور 2025-26) کی آمدنی کے اعداد و شمار نہیں بتائے ہیں۔‘
جاری طلبہ تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے شیوداسن نے کہا کہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں این ٹی اے کے قیام کے وقت سے ہی اس کے’غیر سائنسی اور تجارتی مفادات سے متاثر ماڈل‘پر مسلسل تشویش کا اظہار کرتی رہی ہیں۔