نامور ماہر ماحولیات مادھو گاڈگل کا انتقال

مادھو گاڈگل نے ہندوستان میں زمینی سطح  پر ماحولیاتی تحریک کو کئی معنوں میں سمت عطا کرنے میں کردار ادا کیا۔ وہ مغربی گھاٹ میں بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کے سنگین نتائج کے بارے میں بروقت انتباہ کے لیے بھی معروف تھے۔

مادھو گاڈگل نے ہندوستان میں زمینی سطح  پر ماحولیاتی تحریک کو کئی معنوں میں سمت عطا کرنے میں کردار ادا کیا۔ وہ مغربی گھاٹ میں بنیادی ڈھانچے اور ترقیاتی منصوبوں کے سنگین نتائج کے بارے میں بروقت انتباہ کے لیے بھی معروف تھے۔

گاڈگل نے پہلے ہی مغربی گھاٹ میں غیر منظم ترقیاتی منصوبوں کے خطرات کے بارے میں آگاہ کیا تھا، ان کی گاڈگل رپورٹ آج بھی  بحث کا موضوع ہے۔

نئی دہلی: نامور  ماہر ماحولیات مادھو گاڈگل بدھ کی شب (7 جنوری 2026) پونے میں اپنی رہائش گاہ پر انتقال کر گئے۔ ان کے بیٹے سدھارتھ گاڈگل نے جمعرات کو دی ہندو کو اس خبر کی تصدیق کی ۔ گاڈگل 82 سال  کے تھے۔ ان کی آخری رسومات پونے کے ویکنٹھ شمشان گھاٹ میں جمعرات کو شام 4 بجے ادا کی جائیں گی۔

مادھو گاڈگل کو ہندوستان کے نامور  ماحولیاتی مفکرین میں شمار کیا جاتا تھا۔ انہوں نے تحفظ کے ایک ایسے ماڈل کی وکالت کی تھی، جس میں مقامی برادریوں کو ماحولیاتی تحفظ کے مرکز میں رکھا جائے۔ مغربی گھاٹ جیسے ماحولیاتی طور پر حساس علاقوں میں ترقی اور تحفظ کے درمیان توازن کے بارے میں ان کے وژن نے ملک گیر بحث کو جنم دیا۔

سابق وزیر ماحولیات اور کانگریس لیڈر جئے رام رمیش نے ان کی موت پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مادھو گاڈگل ایک بہترین  سائنسدان، محنتی اور زیرک محقق، ادارہ ساز اور عوامی تحریکوں میں یقین رکھنے والے دانشور تھے۔ انہوں نے جدید سائنس کے ساتھ ساتھ روایتی علمی نظام، خصوصی طور پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کو بھی یکساں اہمیت دی۔

ماحولیاتی تحفظ کو عوام سے جوڑنے کا ان کا وژن اور مغربی گھاٹ کے حوالے سےان کے سوال مستقل میں بھی پالیسی اور بحث کا حصہ بنتے رہیں گے۔

گاڈگل کمیشن اور مغربی گھاٹ کی بحث

سال 2010 میں مرکزی حکومت نے مادھو گاڈگل کو مغربی گھاٹ ایکولوجی ایکسپرٹ پینل کا چیئرمین مقرر کیا تھا، جسے بعد میں گاڈگل کمیشن کے نام سے جانا گیا۔ اس پینل کی رپورٹ میں مغربی گھاٹ کے انتہائی حساس علاقوں میں سخت ماحولیاتی پابندیوں کی سفارش کی گئی  تھی۔

رپورٹ میں نئی ​​سڑکوں اور عمارتوں کی تعمیر پر پابندی، ڈھلوان علاقوں میں ترقیاتی کاموں پر پابندی اور پتھر کی کھدائی پر پابندی جیسی سفارشات شامل تھیں۔ ان سفارشات نے چھ ریاستوں بشمول مہاراشٹر، کیرالہ، کرناٹک، گوا، تمل ناڈو اور گجرات میں گرما گرم سیاسی اور عوامی بحث کو جنم دیا۔

چیمپیئنزآف دی ارتھ’ کا اعزاز

مغربی گھاٹ جیسے عالمی حیاتیاتی تنوع کے ہاٹ اسپاٹ میں ان کی طویل مدتی خدمات کے اعتراف میں 2024 میں اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (یو این ای پی) نے مادھو گاڈگل کو ‘چیمپیئنز آف دی ارتھ’ کے اعزاز سے نوازا تھا۔ یہ اقوام متحدہ کا اعلیٰ ترین ماحولیاتی اعزاز ہے۔ وہ 2024 میں یہ اعزاز حاصل کرنے والے دنیا بھر میں چھ افراد میں سے ایک تھے۔

حیاتیاتی تنوع کے قانون کی تشکیل میں کردار

مادھو گاڈگل وزیر اعظم کی سائنسی مشاورتی کونسل سمیت کئی اہم سرکاری اداروں سے وابستہ تھے۔

وہ ہندوستان کے حیاتیاتی تنوع ایکٹ کے اہم معماروں میں تھے اور انہوں نے جنگلات کے حقوق کے قانون کے نفاذ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

ترقیاتی ماڈل پر سوالات

مختلف ذرائع ابلاغ کے ساتھ انٹرویوز میں گاڈگل نے مغربی گھاٹ میں بار بار آنے والی آفات پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھاکہ کان کنی، آلودگی پھیلانے والی صنعتیں اور غیرمنظم ترقی کو عوام پر مسلط کر دیا گیا ہے، جبکہ نہ تو برادریوں کی رضامندی حاصل کی گئی اور نہ ہی ان کے کردار کواہمیت  دی گئی۔

انہوں نے کہا تھاکہ پتھر کی کھدائی اور بڑھتی ہوئی ٹریفک جیسی سرگرمیوں کو روکنا موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے، چاہے یہ معاشی طور پر مشکل ہی کیوں نہ ہو۔ گاڈگل نے امید ظاہر کی تھی کہ مستقبل میں زمینی سطح کے افراد  اور حاشیے پر موجود برادریاں منظم ہو کر اپنی آواز بلند کریں گی۔