سپریم کورٹ نے دہلی فسادات کیس میں عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، وہیں گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، شاداب احمد اور محمد سلیم خان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

اوپر بائیں سے: محمد سلیم خان، میران حیدر، گلفشاں فاطمہ، شاداب احمد، شرجیل امام، عمر خالد، اور شفا الرحمان۔ پس منظر میں سپریم کورٹ ۔
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے، جو 2020 کے دہلی فرقہ وارانہ تشدد کے پیچھے مبینہ ‘بڑی سازش’ کے الزام میں پانچ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں بند ہیں، حالانکہ اس کیس میں ملزم گلفشاں فاطمہ، میران حیدر، شفا الرحمان، شاداب خان اور سلیم خان کو ضمانت دے دی گئی ہے۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق،عدالت نے کہا کہ ساتوں ملزم کی ضمانت کی درخواستوں پر الگ الگ غور کیا جانا چاہیے، کیونکہ تمام ملزمان جرم کے معاملے میں ایک ہی سطح پر نہیں ہیں۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ ‘کچھ ملزمان کے کلیدی رول اور دیگر ملزمان کے ذریعے ادا کیے گئے معاون رول کے درمیان کے فرق کو نظر انداز کرنا صحیح نہیں ہوگا۔’
عدالت عظمیٰ نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ بغیر کسی تاخیر کے محفوظ گواہوں کی جانچ کو آگے بڑھائے اور مقدمے کو غیر ضروری طور پر طول نہ دے۔
جسٹس اروند کمار اور این وی انجاریا کی بنچ نے ریمارکس دیے کہ کیس کے پس منظر میں جانے سے پہلے یہ تبصرہ کیا کہ فیصلہ ‘قدرے طویل’ ہے۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق، بنچ نے کہا، ‘عدالت کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر ایک کے کردار کے مطابق ہر درخواست کا الگ الگ جائزہ لے۔’
بنچ نے کہا کہ عمر خالد اور شرجیل امام دیگر ملزمان سے معیار کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ ریکارڈ پر موجود مواد سے خالد اور امام کے خلاف پہلی نظر میں معاملہ بنتا ہے۔
بنچ نے کہا،’یہ عدالت مطمئن ہے کہ استغاثہ کے مواد سے اپیل کنندگان عمر خالد اور شرجیل امام کے خلاف پہلی نظر میں الزامات سامنے آئے ہیں۔ قانونی حد ان اپیل کنندگان پر لاگو ہوتی ہے۔ کارروائی کے اس مرحلے پر انہیں ضمانت پر رہا کرنا مناسب نہیں ہے۔’
عدالت نے کہا کہ خالد اور امام محفوظ گواہوں کی جانچ مکمل ہونے کے بعد یا اس فیصلے کی تاریخ سے ایک سال مکمل ہونے کے بعد ضمانت کے لیے دوبارہ درخواست دے سکتے ہیں۔
عمر خالد کو ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ فسادات کے دوران شرجیل امام پہلے سے جیل میں تھے۔
فروری 2020 میں دہلی میں ہونے والے تشدد کے نتیجے میں 53 افراد ہلاک، سیکڑوں زخمی اور املاک اور کاروبار کو کافی نقصان پہنچا۔ تاہم، پچھلے پانچ سالوں کے دوران پولیس نے ‘بڑی سازش’ کے معاملے میں اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ اور مقامی سیاست دانوں کو نشانہ بنایا ہے، جو سی اے اے مخالف مظاہروں کے شرکاء یا منتظمین تھے – اس قدم کو جانبدارانہ بتاتے ہوئے عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
گزشتہ ہفتے امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے خالد کی طویل پری-ٹرائل حراست پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور واشنگٹن میں ہندوستانی سفیر ونئے موہن کواترا کو خط لکھا تھا۔
آرٹیکل 21
لائیو لا کے مطابق ، جسٹس کمار نے کہا کہ مسلسل قید آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت فراہم کردہ ضمانتوں کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد ٹرائل کا حق آرٹیکل 21 کا ایک اہم پہلو ہے اور تاخیر سخت عدالتی جائزے کی بنیاد ہے۔
اس تناظر میں انہوں نے کہا، جرم کی سنگینی اور قانونی نوعیت، الزامات، ابتدائی طور پر معاملے کی مضبوطی اور قید کی مسلسل مدت واضح طور پر نظر آتی ہے اور ان سب پر غور کرنا ہوتا ہے۔
جسٹس کمار نے یو اے پی اے کے قانونی فریم ورک پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں تشدد کے واقعات سے پہلے تیاری کے اقدامات کے لیے جوابدہی شامل ہے۔ یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ یو اے پی اےکی دفعہ 43ڈی(5) باقاعدہ ضمانت کی دفعات سے جان بوجھ کر مختلف ہے، انہوں نے کہا کہ یہ عدالتی جانچ کو خارج نہیں کرتا ہے۔
بنچ نے کہا کہ عدالتوں کو اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کیا مقدمہ پہلی نظر میں جرم کو ظاہر کرتا ہے، کیا لگائے گئے الزامات حقیقی تعلق کی عکاسی کرتے ہیں اور کیا قانونی حدود کو پار کیا گیا ہے۔
بار اینڈ بنچ کے مطابق، بنچ نے کہا کہ آرٹیکل 21 ‘آئینی نظام میں مرکزی مقام رکھتا ہے’ اور مقدمے کی سماعت سے پہلے قید کو ‘سزا کا کردار نہیں سمجھا جا سکتا’۔
بنچ نے مزید کہا کہ آزادی سے محرومی من مانی نہیں ہوگی۔ بنچ نے کہا،’ایک خصوصی قانون کے طور پر یو اے پی اےان شرائط کے بارے میں قانون سازی کے فیصلے کی نمائندگی کرتا ہے جن پر مقدمے سے پہلے کے مرحلے میں ضمانت دی جا سکتی ہے۔’
یہ دیکھتے ہوئے کہ ‘ہر اپیل کا آزادانہ طور پر جائزہ لینا ضروری ہے،’ بنچ نے کہا کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ ‘تمام اپیل کنندگان احتساب کے معاملے میں ایک ہی جگہ پر نہیں ہیں۔’
غور طلب ہے کہ خالد اور دیگر نے 2 ستمبر 2025 کو دہلی ہائی کورٹ کے ضمانت سے انکار کے حکم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس شیلندر کور کی ڈویژن بنچ نے ان چاروں اور اطہر خان، خالد سیفی، محمد سلیم خان، شفا الرحمان اور شاداب احمد کی تمام اپیلیں خارج کر دی تھیں۔
قانونی ماہرین نے اس فیصلے کو ‘ بدنماداغ’ قرار دیا تھا۔
ان کارکنوں کا جیل میں گزرا وقت متعدد اپیلوں کے مسترد ہونے، بار بار سماعت کے ملتوی ہونے اور عدالتوں کے انکار سے بھرا رہا ہے، جسے دنیا بھر کے حقوق کے کارکنوں نے انصاف کے ساتھ مذاق قرار دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 2020 دہلی فسادات کے معاملے میں انتہائی متنازعہ ایف آئی آر نمبر 59/2020 دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے تعزیرات ہند (آئی پی سی) اور غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کی کئی دفعات کے تحت درج کی تھی۔
اس تشدد کی تحقیقات میں دہلی پولیس کے جانبدارانہ کردار کے بارے میں مسلسل سوال اٹھتے رہے ہیں۔
دہلی پولیس کا زیادہ ترمعاملہ بنیادی طور پر اس بات پر منحصر ہے کہ یہ کارکن شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ملک گیر احتجاج کے دوران بنائے گئے وہاٹس ایپ گروپ میں موجود تھے یا ان میں شریک تھے۔