حکومت نے پیٹرول میں 20 فیصد ایتھنول یعنی ای ٹوئنٹی پیٹرول کے پروموشن کے لیے ٹیکس دہندگان کا پیسہ خرچ کیا ہے یا نہیں – اس بارے میں آر ٹی آئی کے توسط سے جانکاری مانگی گئی، لیکن حکومت نے کوئی واضح جواب نہیں دیا۔ سرکاری تیل کمپنیوں نے ایک ہی طرح کے سوالوں کے مختلف جوابات دیے۔ جہاں بھارت پیٹرولیم اور ہندوستان پیٹرولیم نے ‘تجارتی رازداری’ کا حوالہ دیتے ہوئے معلومات فراہم کرنے سے انکار کر دیا، وہیں انڈین آئل نے کہا کہ ‘مطلوبہ معلومات قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔’

تصویر: پی ٹی آئی |السٹریشن: دی وائر
نئی دہلی: ملک بھر میں ایتھنول ملے پیٹرول یعنی ای ٹوئنٹی کی بحث اب گاڑیوں کے مائلیج یا انجن کی صحت تک محدود نہیں رہی۔ سوشل میڈیا پر جہاں گاڑیوں کے مالکان کی شکایتیں موصول ہو رہی ہیں، وہیں چند ماہ پہلےانفلوئنسرز ای ٹوئنٹی کے ‘فائدے’گنوا چکے ہیں۔
اس وقت الزامات لگے تھے کہ حکومت نے ٹیکس دہندگان کے پیسے سےان انفلوئنسرزکو ادائیگی کی اورای ٹوئنٹی کا پروموشن کروایا ہے۔ تاہم، جب آر ٹی آئی کے تحت اس بارے میں پوچھا گیا، تو سرکاری تیل کمپنیوں اور وزارت کے جواب نے نئے سوال کھڑے کردیے۔
آر ٹی آئی میں کیا پوچھا گیا؟
بہار سے تعلق رکھنے والےآر ٹی آئی ایکٹوسٹ کنہیا کمار نے 1ستمبر 2025 کو پیٹرولیم کی وزارت سے کچھ سوال پوچھے؛
-پچھلے دو سالوں میں ای ٹوئنٹی پیٹرول کی تشہیر/پروموشن پرتمام ذرائع (الکٹرانک، پرنٹ، ڈیجیٹل، سوشل میڈیا وغیرہ) کے ذریعےکیے گئے کل اخراجات کی تفصیلات۔
-پروموشن کے لیے مقرر کردہ ایجنسیوں اور انفلوئنسرزکے نام۔
-اس کام کے لیے انفلوئنسرز وغیرہ کو کی گئی ادائیگی کی تفصیلات ۔

کیا ملا جواب
جواب دینے کے بجائے پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت نے 8 ستمبر کو تین سرکاری تیل کمپنیوں (بی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل، اور آئی او سی ایل) کو آر ٹی آئی کی درخواست بھیج دی۔ لیکن تیل کمپنیوں کی جانب سے موصول ہونے والے جوابات کی عدم مطابقت نے نئے شکوک و شبہات کو جنم دیا۔
کنہیا کمار نے آر ٹی آئی کے جواب خصوصی طور دی وائر کو دستیاب کرائے ہیں۔
انڈین آئل کارپوریشن کا جواب
آئی او سی ایل نے 29ستمبر کو تمام سوالوں کا ایک ہی جواب دیا؛ ‘جو معلومات مانگی گئی ہیں وہ قیاس آرائی پر مبنی ہیں۔ اس لیے ہم اسے فراہم کرنے سے قاصر ہیں۔’
یہ جواب حیران کن ہے کیونکہ ‘اشتہارات کے اخراجات، ایجنسیوں کے نام اور ادائیگی کے ریکارڈ’ جیسےحقائق پر مبنی معلومات مانگے گئے تھے۔
بھارت پیٹرولیم کا جواب
بی پی سی ایل نے 30 ستمبر 2025 کو آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کی دفعہ 8 (1) (ڈی) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: ‘مانگا گیا ڈیٹا تجارتی رازداری کے دائرے میں آتا ہے… اس لیے ہم یہ معلومات فراہم کرنے سے استثنیٰ چاہتے ہیں۔’
بی پی سی ایل نے دلیل دی کہ یہ معلومات ‘تیسرے فریق کی مسابقتی پوزیشن کو نقصان’ پہنچا سکتی ہے۔ لیکن مفاد عامہ کی حکومتی پالیسی کو فروغ دینے کے لیے کیے جانے والے عوامی اخراجات ‘تجارتی رازداری’ کا موضوع کیسےہو سکتے ہیں؟
ہندوستان پیٹرولیم (ایچ پی سی ایل) کا جواب
ہندوستان پیٹرولیم(ایچ پی سی ایل)نے بھی بی پی سی ایل جیسا ہی جواب دیا اور تجارتی رازداری کا حوالہ دیتے ہوئے جانکاری دینے سے منع کردیا۔
جواب میں فرق
اس طرح ایک طرح کے سوالوں کے جواب میں سرکاری کمپنیوں نے دو مختلف جوابات دیے؛آئی او سی ایل نے کہا کہ سوال ‘فرضی’ ہے، بی پی سی ایل اور ایچ پی سی ایل نے کہا کہ یہ ‘تجارتی رازداری’ کا مسئلہ ہے۔
جوابات کی یہ عدم مطابقت اس لیے متنازعہ بن جاتی ہے کیونکہ اس پوری مہم کو حکومت کی طرف سے اسپانسر کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔
اگر کوئی تشہیری مہم نہیں چلائی گئی یا انفلوئنسرز کو ادائیگی نہیں کی گئی، تو آسان جواب دیاجا سکتا تھا کہ – ‘ایسا کوئی خرچ نہیں کیا گیا۔’
لیکن کمپنیوں نے مختلف جوابات دیے۔
دی وائر نے تینوں کمپنیوں کو ای میل بھی بھیجا ہے۔ ان سے پھر جاننا چاہا ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا انفلوئنسرز سے پروموشن کروایا ہے یا نہیں۔ اگر کروایا ہے تو کتنا پیسہ خرچ ہوا ہے؟ یہ بھی پوچھا کہ عوامی فنڈز کا استعمال کرتے ہوئے عوامی بیداری مہم پر خرچ کرنے کو کس طرح ‘تجارتی طور پر خفیہ معلومات’ سمجھا جا سکتا ہے؟
خبر کی اشاعت تک ان کاکوئی جواب نہیں آیا ہے۔ جواب موصول ہونے پر رپورٹ کواپڈیٹ کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہےکہ آر ٹی آئی ایکٹ 2005 کا بنیادی مقصد سرکاری کاموں میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانا ہے۔ خاص طور پر جب معاملہ ٹیکس دہندگان کے پیسے کے خرچ سے متعلق ہو، تو شہریوں کو یہ جاننے کا پوراحق ہے کہ ان کا پیسہ کہاں اور کیسے خرچ ہو رہا ہے۔
جب انفلوئنسرز کو ملا ‘پیڈکولیب’ ای میل
اس پوری مہم کی کہانی اس وقت سامنے آئی جب کچھ کانٹینٹ کریٹرز نے انکشاف کیا کہ انہیں ای ٹوئنٹی پروموشن کے لیےپی آر ایجنسیوں کی جانب سے پیسےکی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔
ابھی تک اس بات کا کوئی ثبوت موجودنہیں ہے کہ حکومت نے ان انفلوئنسرز کو پیسہ دیا تھا یا نہیں، لیکن کچھ پرائیویٹ ایجنسیوں نے پروموشن کے لیے ان سے رابطہ ضرور کیا تھا۔
بوم لائیو سے بات کرتے ہوئے ‘دی ریس منکی’ نام کےآٹو ریویو پورٹل کے ایڈیٹرایشان بھاردواج نے بتایا کہ 14 اگست 2025 کو ان سے ‘ہیکس ٹیک میڈیا’ نامی پی آرایجنسی نے رابطہ کیا تھا۔ جب بھاردواج نے20 لاکھ روپے مانگے تو ایجنسی نے15 لاکھ کی پیشکش کی۔ بھاردواج نے کہا، ‘یہ مارکیٹنگ نہیں، بلکہ گھوٹالہ ہے۔ ٹیکس دہندگان کے پیسے سے غلط معلومات پھیلائی جا رہی ہیں۔’
‘موٹرسائیکل ٹریلز’ نامی ایک اور انفلوئنسرز کو بھی ایسی ہی پیشکش کی گئی تھی، جسے انہوں نے ٹھکرا دیا۔
کانٹینٹ کریٹرمکیش موہن کا دعویٰ ہے کہ مئی 2025 میں ‘یونویا نیٹ ورکس’ نامی پی آرایجنسی سے1.45 لاکھ روپےمیں ای ٹوئنٹی کےلیے اسپانسرڈ ریل بنانے کا آفر ملا تھا۔ انہوں نے اس مبینہ آفر کا اسکرین شاٹ سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ان پرائیویٹ ایجنسیوں نے اپنے آپ انفلوئنسرز کوسرکاری مصنوعات کی تشہیر کے لیے رابطہ کیا؟ اس پرہیکس ٹیک میڈیا کاردعمل جاننے کے لیے ہم نےای میل کیا ہے، لیکن جواب موصول نہیں ہوا ہے۔
الزام تراشیوں کے درمیان غائب ہوتا بنیادی سوال
ایک طرف جب انفلوئنسرزای ٹوئنٹی کے فائدے گنوا رہے تھے، وہیں سوشل میڈیا پر متعدد لوگ ای ٹوئنٹی سے پیدا ہونے والی پریشانیوں کو بھی اجاگر کر رہے تھے اورسڑک نقل وحمل اور شاہراہوں کے مرکزی وزیر نتن گڈکری پر سوال اٹھا رہے تھے۔
اس کے جواب میں گڈکری نے سوشل میڈیا پر ‘ای 20 مخالف’ پوسٹوں کو ‘ پیڈ کیمپین’ اور ‘سیاسی ‘ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ مہم انہیں نشانہ بنانے کے لیے چلائی گئی ہے اور ‘پیٹرول لابی بہت امیر اور طاقتور ہے۔’
وزیر کے الزامات کا جواب دیتے ہوئےکانٹینٹ کریٹرمکیش موہن نے اپنے ایک ویڈیو میں کہا،’نہیں، وزیر موصوف، تنقید کرنے والے پیسے نہیں لے رہے تھے۔ پیسے تو اس کے لیے(پیڈ کیمپین) دیے جا رہے تھے۔’
ای ٹوئنٹی پالیسی کی خوبی اور خامی پر بحث الگ ہے، لیکن اس کے لیےپروموشن کےاخراجات کی جانکاری دینے سے انکار کرناتشویشناک ہے۔ ایک طرف وزیرکہہ رہے ہیں کہ تنقید ‘پیڈ’ ہے، جبکہ دوسری طرف پی آرایجنسیوں کی جانب سے پیشکشیں ہیں اور انفلوئنسرز کے ذریعے سرکاری اکاؤنٹس کے ساتھ ‘کولیب’ میں پوسٹ کیے گئے ویڈیو موجود ہیں۔
جب سوشل میڈیا پر چھائی ای ٹوئنٹی کی تشہیری مہم
جولائی-اگست 2025 میں جب ہندوستان نے اپنےای ٹوئنٹی ہدف کو پانچ سال پہلے حاصل کرنے کے اپنے ارادے کا اعلان کیا ، تو سوشل میڈیا پر اچانک کئی بڑے انفلوئنسرز ایک ساتھ ای ٹوئنٹی کی تعریف کرتے نظر آئے۔ 30 سے زیادہ انفلوئنسرز نے تقریباً ایک ہی وقت میں،ایک جیسے ہیش ٹیگ کا استعمال کرتے ہوئے اور ایک جیسی تھیم والے ویڈیو پوسٹ کیے۔
ان ویڈیوز میں بتایا گیا کہ ای ٹوئنٹی سے ماحولیات کو فائدہ ہوگا، کسانوں کی آمدنی میں اضافہ ہوگا اور گاڑیوں کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تمام پوسٹس انسٹاگرام کے ‘کولیب‘ فیچر کے ذریعے پیٹرولیم کے وزیر ہردیپ سنگھ پوری، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت اور بی پی سی ایل، ایچ پی سی ایل اور آئی او سی ایل جیسی سرکاری تیل کمپنیوں کے آفیشل اکاؤنٹس سے منسلک تھیں۔
کولیب فیچر کے لیے متعلقہ صارف کی رضامندی درکار ہوتی ہے، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ حکومت اس مہم سے پوری طرح آگاہ تھی۔
فیکٹ چیک ویب سائٹ آلٹ نیوز نے بتایاتھا کہ اس مہم کے تحت بنائے گئے ویڈیو کروڑوں لوگوں تک پہنچے۔