آج جو بیانیہ تشکیل دیا جا رہا ہے، وہ ایک خطرناک وہم پر مبنی ہے۔ حکمراں جماعت بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کو ‘ملک و قوم’ سے تشبیہ دے کر میڈیا حکومت کو تنقید سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ ایک فراڈ ہے۔ آر ایس ایس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے، بی جے پی سیاسی جماعت ہے۔ نریندر مودی آئین کے منتخب خادم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ‘ملک’ نہیں ہے۔

اگر 70 کی دہائی میں اندرا گاندھی کے خلاف طلبہ کا سوال اٹھانا جمہوری طرز عمل تھا، تو 2026 میں نریندر مودی کے خلاف سوال اٹھانا سیڈیشن یا غداری کیسے ہے؟ (تصویر: پی ٹی آئی)
یہ سلسلہ پھر شروع ہو گیا ہے۔ جب میں جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے راستوں سے گزرتا ہوں، تو فضا میں صرف دہلی کی سردیوں کا سموگ نہیں، بلکہ ایک نئے ‘میڈیا ٹرائل’ کا زہریلا دھواں بھی تیرتا ہوا ا محسوس ہوتاہے۔ یونیورسٹی کے گیٹ پر کیمرے پھرسے تعینات ہیں، سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ ٹرینڈ کر رہے ہیں اور پرائم ٹائم اینکروں نے خود کوجج اور منصف مان کر اپنی عدالتیں آراستہ کر لی ہیں۔ فیصلہ سنا دیا گیا ہے، اور اس میں اپیل کی کوئی گنجائش نہیں ہے؛ جے این یو ‘ملک کے خلاف’ ہے۔
الزام کیا ہے؟ یہی کہ طلبہ نے وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے خلاف نعرے لگانے کی جرأت کی ہے۔ 2016 کے ‘ٹکڑے-ٹکڑے گینگ’ والے جن کو پھر سے بوتل سے باہر نکال لیاگیا ہےاور ڈیجیٹل دنیا میں’جے این یو بند کرو’ (شٹ ڈاؤن جے این یو) کا شور گونج رہا ہے۔
لیکن اس یونیورسٹی میں تاریخ کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے اور ہندوستان کے آئینی وعدے پر یقین رکھنے والے ایک کارکن کی حیثیت سے، میں توقف کرکے ایک بنیادی سوال پوچھنے پر مجبور ہوں، ایک ایسا سوال جسے اس شور میں جان بوجھ کر بھلا دیا گیا ہے۔ مودی-آر ایس ایس کی مخالفت کب سے ‘ملک کی مخالفت’ ہوگئی؟
ہم اپنی جمہوریت میں ایک ایسے خطرناک موڑ پر کھڑے ہیں جہاں ‘سرکار’ اور ‘ملک’ کے درمیان کےفرق کو جان بوجھ کر اور شرپسندی کے ساتھ دھندلا کیا جا رہا ہے۔ یہ سمجھنے کے لیے کہ جے این یو کے اندر کا احتجاج نہ صرف قانونی ہے بلکہ شدید حب الوطنی کی علامت بھی ہے، ہمیں سنسنی خیز سرخیوں سے ہٹ کر تاریخ، کتابوں اور یونیورسٹی کے بنیادی فلسفے کو دیکھنا ہوگا۔
یونیورسٹی: اپنی ہی ایک دنیا
ایک طالبعلم کے غصے کو سمجھنے کے لیے پہلے یونیورسٹی کے مقدس مقصد کو سمجھنا چاہیے۔ مشہورزمانہ ڈسکورس ہمیں ‘ٹیکس دہندگان کے پیسے پر پرورش پانے والے’ایسے لوگوں کی صورت میں پیش کرتا ہے جو تعلیم حاصل کرنےکے بجائے سیاست میں مشغول ہیں۔ لیکن یہ نظریہ اس اعلیٰ تعلیم کے بنیادی مقصد کی توہین ہےجو ایک آزاد اور بیدارمعاشرے کے لیے ضروری ہے۔
یونیورسٹی کی سیاست پر اپنے بنیادی کام میں، اسکالر گارڈن جانسن ایک ایسی تعریف پیش کرتے ہیں جسے یونیورسٹی کے ہر نقاد کو پڑھنا چاہیے۔ معروف اکیڈمک ایف ایم کارن فورڈ کا حوالہ دیتے ہوئے، جانسن نے یونیورسٹی کو’سماجی تنظیم کی ان مخصوص شکلوں میں سے ایک کے طور پر بیان کیا ہے جو علم کی تخلیق، تشکیل، دریافت، تحفظ اور پھیلانے کے واضح مقصد کے لیے تیار ہوئی ہے۔’
یہ ‘علم کی تخلیق، تشکیل اور دریافت’ اطاعت اور فرماں برداری کے ماحول میں نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیے نظریات کے تصادم کی ضرورت ہے۔ جانسن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی کےصحیح طریقے سے کام کرنے کے لیے، اسکالر اور طلبہ کو ‘ان لوگوں کی بے جا مداخلت سے پاک ہونا چاہیے جو ان کے معاشرے کا حصہ نہیں ہیں۔’
مختصراً یہ کہ یونیورسٹی ‘اپنی ہی ایک دنیا’ ہے، ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں سیاسی دنیا کے فوری تقاضے مؤخر رہتے ہیں تاکہ سچائی کو بلا خوف و خطر تلاش کیا جا سکے۔
کارن فورڈ نے استدلال کیا تھا کہ ایک یونیورسٹی کو ’ہر قسم کی رائے کے لیے مکمل غیر جانبداری‘ برقرار رکھنی چاہیے۔ یہ وہ جگہ ہے جسے’ ناقابل تردید’ پر سوال اٹھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
جب ہم سابرمتی ڈھابے پر کھڑے ہو کر آر ایس ایس کی پالیسیوں پر سوال اٹھاتے ہیں، یا جب ہم وزیر داخلہ کے ہندوستان کے وژن پر تنقید کرتے ہیں، تو ہم ملک پر حملہ نہیں کر رہے ہوتے۔ ہم اپنا بنیادی تعلیمی فرض پورا کر رہے ہوتے ہیں: یعنی منطق کی بنیاد پر پرکھ رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی یونیورسٹی ملک کے سب سے طاقتور افراد پر تنقید نہیں کر سکتی، تو وہ علم کا مرکز نہیں،بلکہ ریاست کے لیے پروپیگنڈہ مشین بن جاتی ہے۔
کوئلے کی کان میں کینری
ہم سے اکثر ایک سوال پوچھا جاتا ہے؛’طالبعلم ہی سب سے پہلے احتجاج کیوں کرتے ہیں؟ وہ صرف اپنی ڈگریوں پر توجہ کیوں نہیں دیتے؟’
ماہر عمرانیات فلپ جی الٹباخ، جو طلبہ کی تحریکوں کے عالمی شہرت یافتہ ماہر ہیں، اس کاایک منطقی جواب دیتے ہیں۔ وہ طلبہ کی سیاسی تحریکوں کا موازنہ ‘کوئلے کی کان میں کینری’ سے کرتے ہیں۔
قدیم زمانے میں، کان کن جب سرنگوں میں جاتے تھے تو اپنے ساتھ پنجرے میں بند کینری لے جاتے تھے۔ اگر یہ چڑیا گانابند کر دیتی یا مرجاتی، تو اس کا مطلب تھا کہ زہریلی گیس، جو انسانی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں، بن رہی ہیں اور دھماکہ ہونے والا ہے۔ اس چڑیا نے خطرہ پیدا نہیں کیا؛ اس نے خطرے سے آگاہ کیا۔
الٹباخ لکھتے ہیں کہ طلبہ کا احتجاج ‘آنے والے سماجی دھماکے یا پنپتے سیاسی بحران کی علامت ہو سکتے ہیں۔’
جب جے این یو کے طلبہ مودی حکومت کی اقتصادی پالیسیوں، آر ایس ایس کی فرقہ وارانہ بیان بازی، یا وزارت داخلہ کے انتہائی درجے کی کارروائی کے خلاف نعرے لگاتے ہیں، تو ہم اس ‘کینری’ کی طرح کام کر رہے ہیں۔ ہم اس بات کا اشارہ دے رہے ہیں کہ ملک کی فضا زہریلی ہوتی جا رہی ہے۔ طالبعلموں کو خاموش کرنا – اس کینری کو مارنا – مسئلے کا حل نہیں ہے؛یہ دھماکے کو دعوت دینا ہے۔
نہرو کا وژن: طلبہ، قوم کا ضمیر
جب ہم ہندوستان کی آزادی کی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو مظاہرہ کرنے والے طلبہ کو ‘ملک کادشمن’ کہنا افسوسناک معلوم ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ موجودہ حکومت یہ بھول گئی ہے کہ آج وہ جس آزادی سے لطف اندوز ہو رہی ہے یعنی حکومت کرنے اور قانون بنانےکی آزادی — وہ ان طالبعلموں نے حاصل کی جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی کی تھی۔
جدید ہندوستان کے معمار جواہر لعل نہرو طلبہ کی سیاست کو آج کی طرح شک کی نگاہ سے نہیں دیکھتے تھے۔ وہ اسے ہندوستان کی جدوجہد آزادی کے لیے حد درجہ ضروری اخلاقی اور انقلابی قوت سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ طلبہ اپنے اندر ‘قوم کا ضمیر اور حوصلہ’ رکھتے ہیں۔
اس یقین کا واضح طور پر 1936 میں اظہار کیا گیا، جب نہرو نے ہندوستان کی پہلی قومی طلبہ تنظیم آل انڈیا اسٹوڈنٹس فیڈریشن (اے آئی ایس ایف) کا افتتاح کیا۔ اس کے توسط سے انہوں نے سامراج، فاشزم، اور سماجی ناانصافی کے خلاف ایک متحدہ محاذ میں نوجوانوں کی توانائی کو شامل کرنے کی کوشش کی۔ نہرو ان طلبہ کے انقلابی جوش کے مداح تھے، جنہوں نے لیڈروں کے جیل میں ہونے کے باوجود مزاحمت کی مشعل کو جلائے رکھا۔
بہر حال، نہرو کا اصرار تھا کہ انقلاب کو نظم و ضبط اور اخلاقی وضاحت پر منحصر ہونا چاہیے۔ 1945 میں کانگریس کے طلبہ کارکنوں سے اپنے خطاب میں، انہوں نے خبردار کیا کہ ‘بغیر مقصد کےجنون انارکی میں بدل سکتا ہے۔’ انہوں نے طلبہ سے ذہانت، ہمت اور خدمت کا جذبہ پیدا کرنے کی اپیل کی۔ ان کے نزدیک طلبہ کی سیاست ذاتی عزائم کے بارے میں نہیں تھی بلکہ ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی تعمیر کے بارے میں تھی۔
آج جب ہم احتجاج کرتے ہیں، تو ہم اس وراثت کے وارث ہیں۔ ہمارے نعرے ’انارکی‘ نہیں ہیں؛ یہ وہی ‘بامقصد کارروائی’ ہیں جس کی بات نہرو نے کی تھی۔
دو احتجاج کی کہانی
یہ دیکھنے کے لیے کہ اختلاف رائے کے لیے ہماری رواداری کس حد تک گر گئی ہے، ہمیں اندرا گاندھی اور الہ آباد یونیورسٹی سے جڑے تاریخ کے ایک بھولے ہوئے باب کو دیکھنے کی ضرورت ہے۔
ایک وقت تھا جب الہ آباد یونیورسٹی میں قدیم تاریخ کے شعبہ کے سربراہ پروفیسر جی آرشرما نے اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی کو یونیورسٹی کے میوزیم کے افتتاح کے لیے مدعو کیا۔ آج کےجے این یو کی طرح وہ کیمپس بھی طلبہ کی سیاست کا گڑھ تھا۔ اندرا گاندھی پہنچیں تو ان کا استقبال چاپلوسی سے نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے، انہیں اس چیز کا سامنا کرنا پڑا جسے رپورٹوں’شدید مخالفت’ قرار دیا گیا ہے۔
طلبہ نے کالے جھنڈے دکھائے۔ ان کی حکومت کے خلاف نعرے لگائے گئے۔ یہاں تک کہ پتھراؤ بھی ہوا۔ یہ ملک کی سب سے طاقتور خاتون کے خلاف طلبہ کے غصے کا ایک پرتشدد مظاہرہ تھا۔
لیکن یہاں سب سے اہم فرق یہ ہے: کسی نے بھی ان طلبہ کو ‘ملک کادشمن’ نہیں کہا۔
کسی نیوز اینکر نے اسٹوڈیو میں بیٹھ کر یونیورسٹی کو بند کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔ پولیس لائبریری میں داخل نہیں ہوئی اور امتحانات کی تیاری کرنے والے طلبہ کو نہیں پیٹا۔ اس احتجاج کو اسی طرح دیکھا گیا جو وہ تھا، نوجوانوں اور اقتدار کے درمیان ایک شدید سیاسی اختلاف کی صورت۔ یہاں تک کہ جے پی تحریک کے دوران بھی، جب طلبہ نے کانگریس حکومت کے خلاف بغاوت کی، تو جے پرکاش نارائن کو محب وطن مانا گیا اور طلبہ کو’دوسری آزادی کی جدوجہد’ کا ہراول دستہ قرار دیا گیا۔
تو، میں پھر پوچھتا ہوں: قوانین کب تبدیل ہوئے؟ نریندر مودی ‘بھارت’ کب بن گئے؟ امت شاہ ‘ریاست’ کب بن گئے؟
اگر 1970 کی دہائی میں اندرا گاندھی سے سوال کرنا جمہوریت تھی تو 2026 میں نریندر مودی سے سوال کرنا غداری کیسے ہو گیا؟
جھوٹی مساوات
آج جو بیانیہ بنایا جا رہا ہے وہ ایک خطرناک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ حکمران جماعت بی جے پی اور اس کی مربی تنظیم آر ایس ایس کو ‘ملک’ کے برابر رکھ کر، میڈیا حکومت کو تنقید سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر آپ آر ایس ایس پر تنقید کرتے ہیں تو آپ پر ہندوستانی ثقافت پر حملہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔ اگر آپ پی ایم پر تنقید کرتے ہیں تو آپ پر ہندوستان کے فخر پر حملہ کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔
یہ ایک فراڈ ہے۔ آر ایس ایس ایک غیر سرکاری تنظیم ہے۔ بی جے پی ایک سیاسی جماعت ہے۔ نریندر مودی آئین کے منتخب خادم ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی ‘ملک’ نہیں ہے۔ ایک ملک آئین، عوام، زمین اور آزادی، مساوات اور بھائی چارے کی اقدار سے بنتا ہے۔
جب ہم ‘سنگھ’ کے خلاف نعرے لگاتے ہیں، تو ہم ایک ایسے نظریے پر تنقید کر رہے ہوتے ہیں، جس کے بارے میں ہمارا خیال ہے کہ اس سے ملک کے تکثیری تانے بانے کو خطرہ ہے۔ جب ہم وزیر داخلہ پر تنقید کرتے ہیں تو ریاستی مشینری کی پالیسیوں پر سوال اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ یہ غداری نہیں ہے؛یہ ایک شہری کے حب الوطنی کا سب سے بڑاثبوت ہے۔
ہم جے این یو کے طلبہ ہندوستان کے خلاف نہیں لڑ رہے ہیں۔ ہم ہندوستان کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ہم اس ملک کو بچانے کے لیے لڑ رہے ہیں جہاں ایک نوجوان ریسرچ اسکالر وزیر اعظم کو ‘نہیں’ کہہ سکے اور اسے جیل رسید نہ کیا جائے یا دہشت گرد نہ کہا جائے۔
ہم نہرو کی اس وراثت کے امین ہیں، ‘بیدار ذہن اور ہمدرد دل’ جو آزادی کے محافظ ہیں۔ ہم الہ آباد یونیورسٹی کے ان طلبہ کی میراث ہیں جو کسی اقتدار سے خوف نہیں کھاتے تھے۔ ہم ‘کوئلے کی کان میں وہ کینری’ ہیں، جو زور سے چیخ رہے ہیں کیونکہ ہم گیس کے اخراج کو دیکھ رہے ہیں، بھلے ہی باقی ملک سو رہا ہو۔
مودی-آر ایس ایس کی مخالفت ملک سےدشمنی نہیں ہے۔ یہ زندہ، سانس لینے والی جمہوریت کی آواز ہے۔
(اکھلیش یادو جے این یو کےسینٹر فار ہسٹاریکل اسٹڈیز میں ریسرچ اسکالر ہیں اور این ایس یو آئی سے وابستہ ہیں ۔)