ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔ ہماری اسرائیل نوازی اس بات کا بھی اعلان ہے کہ ہم گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔

25 فروری 2026 کو پوسٹ کی گئی اس تصویر میں، وزیر اعظم نریندر مودی اپنے اسرائیلی ہم منصب بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ، یروشلم، اسرائیل میں۔ تصویر: ایکس/ نریندر مودی وایا پی ٹی آئی
تاریخ اکثر اپنے تضادات میں ایسی سچائیاں چھپا کر رکھتی ہے جو محض جذباتی نعروں سے سمجھ میں نہیں آتیں، بلکہ ان کے لیے نظریاتی جراحی کی ضرورت ہوتی ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم اور فلسطینیوں کے معاملے پر موجودہ ہندوستانی بیانیہ محض ایک سفارتی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ اس کے پیچھے وہ فکری جڑیں کارفرما ہیں جو بیسویں صدی کے وسط میں ’نسلی برتری‘ اور ’قوم پرستی‘ کے مخصوص نظریات سے پھوٹی تھیں۔
اس تضاد کو سمجھنے کے لیے ہمیں 1930کی دہائی کے اس دور میں واپس جانا ہوگا جب یورپ میں ہٹلر کی نازی ازم اپنے عروج پر تھی۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ اس وقت کی ہندوستانی دائیں بازو کی قیادت، بالخصوص ونائک دامودر ساورکر اور آر ایس ایس کے دوسرے سرسنگھ چالک ایم ایس گولوالکر، ہٹلر کے نسلی تطہیرکے نظریے کے مداح تھے۔
گولوالکر نے 1939 میں اپنی کتاب وی اور آور نیشن ہُڈ ڈیفائنڈمیں جرمنی کی مثال دیتے ہوئے لکھا تھا کہ جرمنی نے اپنی نسل اور تہذیب کی پاکیزگی برقرار رکھنے کے لیے سامی نسل (یہودیوں) کا صفایا کر کے دنیا کو چونکا دیا ہے، اور یہ ہندوستان کے لیے ایک بہترین سبق ہے۔
ساورکر کا موقف بھی اس سے مختلف نہ تھا۔ انھوں نے جواہر لعل نہرو کی اس بنیاد پر تنقید کی تھی کہ نہرو نے ہٹلر اور مسولینی کے آمرانہ رویوں کی مذمت کیوں کی۔ ساورکر کے نزدیک ہٹلر جرمنی کی ’عظمتِ رفتہ‘ کو بحال کر رہا تھا، اور ہندوستان کو اس سے سیکھنا چاہیے تھا کہ اپنی زمین سے ’غیروں‘ کا اثر و رسوخ کیسے ختم کیا جاتا ہے۔
یہیں سے ایک بڑا سوال جنم لیتا ہے؛ وہ نظریہ جو کبھی یہودیوں کےقتل عام کرنے والے ہٹلر کا مداح تھا، آج اسی مقتول نسل کی ریاست (اسرائیل) کا سب سے بڑا وکیل کیسے بن گیا؟
اکیڈمک نقطہ نظر سے اس کا جواب یہودیوں سے محبت یا فلسطینیوں سے نفرت میں نہیں، بلکہ ’نسلی قوم پرستی‘کے مشترکہ ماڈل میں چھپا ہے۔
اسرائیل، دائیں بازو کے مفکرین کے لیے ایک مثالی ریاست/آئیڈیل اسٹیٹ ہے کیونکہ وہ ایک ’نسلی جمہوریت‘کی بنیاد پر قائم ہے جہاں ایک مخصوص مذہبی و نسلی گروہ کو برتری حاصل ہے اور باقی تمام افراد (فلسطینی) یا تو بے دخل ہیں یا دوسرے درجے کے شہری۔
ہندوستانی مقتدرہ کے لیے اسرائیل ایک ’رول ماڈل‘ ہے کہ کس طرح ایک ریاست خود کو مسلح کر کے، اپنے پڑوسیوں کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اور اپنی داخلی اقلیتوں کو ’سکیورٹی‘ کے نام پر کنٹرول کر کے ایک عالمی طاقت بن سکتی ہے۔
ساورکر کا ہٹلر کی حمایت کرنا اور ان کے وارثوں کا اسرائیل کی حمایت کرنا دراصل ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔
دونوں صورتوں میں قدر مشترک انسانی حقوق یا اخلاقیات نہیں، بلکہ ’ریاست کی آہنی طاقت‘ اور ’اکثریت کا غلبہ‘ہے۔
جس طرح ہٹلر نے جرمنی کو ’پاک‘ کرنے کا خواب دیکھا تھا، آج اسرائیل اسی ’نسلی تطہیر‘ کی جدید شکل فلسطین میں دہرا رہا ہے۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جو مقتدرہ کل تک ہٹلر کی نسلی سیاست کو جائز قرار دیتی تھی، آج وہی مقتدرہ اسرائیل کے جارحانہ اقدامات کو ’دفاع‘ قرار دے کر عالمی ضمیر کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
ہندوستان کی اسرائیل نوازی کو محض ایک ’تزویراتی شراکت داری‘قرار دینا دراصل اس گہرے نظریاتی انضمام سے آنکھیں چرانا ہے جو پچھلی ایک دہائی میں تیزی سے پروان چڑھا ہے۔
اگر ہم ساورکر کے نازی ازم سے لگاؤ اور موجودہ مقتدرہ کے اسرائیل سے عشق کو ایک لکیر میں رکھ کر دیکھیں، تو ہمیں ایک واضح پیٹرن نظر آتا ہے جسے سیاسیات میں ’ثقافتی اخراج‘کا ماڈل کہا جاتا ہے۔
صیہونیت کا بنیادی فلسفہ ’ارضِ اسرائیل‘پر مبنی ہے، جہاں زمین کا حق صرف اس کے ’مقدس وارثوں‘ کو حاصل ہے۔
ساورکر نے بھی اپنی شہرت یافتہ تصنیف ہندوتوا میں شہریت کا معیار ’پتر بھومی‘(فادر لینڈ)اور ’پنیہ بھومی‘ (ہولی لینڈ) کے اشتراک پر رکھا تھا۔
ان کے نزدیک وہ تمام لوگ جن کے لیے ہندوستان ان کی مقدس ترین سرزمین نہیں ہے (یعنی جن کے نزدیک مکہ یا یروشلم مقدس ہے)، وہ ثانوی درجے کے شہری ہیں۔
اسرائیل میں فلسطینیوں کی حالتِ زار اور ہندوستان میں’سی اے اے‘اور’این آر سی‘کے گرد بُنا گیا بیانیہ اسی ’اخراجی منطق‘ کی عکاسی کرتا ہے۔
جب ایک ریاست خود کو کسی مخصوص مذہب یا نسل سے جوڑ لیتی ہے، تو وہ دیگر تمام گروہوں کو ’گھس پیٹھیا‘ یا ’غیر‘(دی اَدر)قرار دینے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
عالمی سطح پر کئی ماہرین، بشمول کپل کاک اور دیگر، اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جس طرح اسرائیل نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں ’سیٹلر نوآبادیاتیت‘کا ماڈل نافذ کیا ہے، ہندوستان کی موجودہ کشمیر پالیسی اسی کی ایک ’دیسی شکل‘ معلوم ہوتی ہے۔
پانچ اگست 2019 کے بعد کشمیر میں زمین کی خریداری کے قوانین میں تبدیلی اور ڈومیسائل کے نئے ضوابط دراصل وہی طریقے ہیں جو اسرائیل دہائیوں سے مغربی کنارے (ویسٹ بینک)میں استعمال کر رہا ہے۔
نازی جرمنی کا خواب ’لیبینسروم‘ یعنی ’نسلِ برتر‘ کے لیے جگہ بنانا تھا؛ اسرائیل اور موجودہ ہندوستان کی پالیسیوں میں اسی وسعت پسندانہ جبلت کا ایک جدید اور ’قانونی‘ روپ نظر آتا ہے۔
اسرائیل اور ہندوستان کے درمیان سب سے مضبوط رشتہ اب ’دفاعی ٹکنالوجی‘ اور ’نگرانی‘ (سرولانس) کا ہے۔ ’پیگاسس‘جیسے اسپائی ویئر کا معاملہ ہو یا سرحدی باڑ لگانے کی ٹکنالوجی، ہندوستان اب اسرائیل کا سب سے بڑا گاہک بن چکا ہے۔
اکیڈمک سطح پر اسے ’ملٹری-انڈسٹریل کمپلیکس‘ کا وہ گٹھ جوڑ کہا جا سکتا ہے جہاں ایک ریاست دوسرے سے یہ سیکھ رہی ہے کہ کس طرح اپنی ہی آبادی کو تزویراتی طور پر کنٹرول کیا جاتا ہے۔ ساورکر نے جس ’آہنی طاقت‘ کا خواب ہٹلر کی فوج میں دیکھا تھا، آج کی ہندوستانی مقتدرہ اسے آئی ڈی ایف کی ٹکنالوجی میں تلاش کر رہی ہے۔
آزادی کے بعد ہندوستان کی خارجہ پالیسی امرتیہ سین اور نہرو کی ’عالمگیر اخلاقیات‘پر مبنی تھی، جس میں کمزور قوموں (جیسے فلسطین) کی حمایت ایک اخلاقی فریضہ تھا۔ ساورکر نے اسی اخلاقیات کو ’کمزوری‘ قرار دے کر نہرو پر تنقید کی تھی۔ آج اسی ساورکری فکر کی فتح یہ ہے کہ ہندوستان نے ’اخلاقیات‘ کو ’ریئل پولیٹک‘کے نام پر دفن کر دیا ہے۔ اب معیار یہ نہیں ہے کہ کون مظلوم ہے، بلکہ معیار یہ ہے کہ کس کی طاقت ہمیں اپنے ’نظریاتی دشمنوں‘ کو کچلنے کا فن سکھاتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ محض ایک تضاد نہیں ہے کہ جو نظریہ کبھی یہودیوں کے قاتلوں کا مداح تھا وہ آج اسرائیل کا حلیف ہے۔ درحقیقت، ان دونوں کے درمیان ایک ’خونی رشتہ‘ موجود ہے اور وہ رشتہ ہے ’مطلق العنانیت‘اور ’اکثریت کے استحقاق‘کا۔
ساورکر کا ہٹلر کو پسند کرنا اس لیے تھا کیونکہ ہٹلر نے ’نسل‘ کو ریاست بنایا تھا؛ اسرائیل کو پسند کرنا اس لیے ہے کیونکہ اسرائیل نے ’مذہب‘ کو ریاست بنا دیا ہے۔
فلسطینیوں کا قتلِ عام ان کے نزدیک صرف ایک ’تکنیکی ضرورت‘ ہے کیونکہ ان کا حتمی ہدف ایک ایسی عالمی صف بندی ہے جہاں ’جمہوریت‘ صرف اکثریت کا وہ ہتھیار ہو جس سے اقلیتوں کو ہمیشہ کے لیے بے بس کر دیا جائے۔
ہندوستانی مقتدرہ کی اسرائیل نوازی دراصل اس بات کا اعلان ہے کہ ہم اس گاندھیائی اور نہرووی ہندوستان سے ناطہ توڑ چکے ہیں جو مظلوموں کی آواز تھا، اور اب ہم اس ’نازیائی سائے‘ تلے ایک ایسی ریاست بننے کی طرف گامزن ہیں جہاں انسانیت کی کوئی جگہ نہیں۔

