لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو گزشتہ سال 26 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان کے وکیل پوچھتے ہیں کہ ان کا جرم کیا ہے؟ حکومت کو یاد دلانا کہ اس نے لداخ کے لوگوں کو چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ اور آئینی حقوق فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

سونم وانگچک کی گرفتاری کے خلاف احتجاج۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے سخت قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت جودھ پور جیل میں حراست کے 100 دن سے زیادہ مکمل کر لیے ہیں ۔
وانگچک کو گزشتہ سال 26 ستمبر کو حراست میں لیا گیا تھا، جب لداخ کو ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ کے مطالبے کے حوالے سے کیا گیا ایک پرامن احتجاج پرتشدد ہوگیا تھا۔ اس واقعہ میں گولی لگنے سے چار افراد کی موت ہو گئی تھی اور 90 زخمی ہو گئے تھے۔
سپریم کورٹ میں اس کیس کی آخری سماعت 8 دسمبر کو ہوئی تھی اور اگلی سماعت 15 دسمبر کو ہونی تھی۔ تاہم وقت کی قلت کے باعث سماعت نہیں ہو سکی اور ان کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو کی طرف سے دائر اپیل پر اگلی سماعت 7 جنوری کو طے کی گئی ہے۔
گیتانجلی آنگمو نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا، ‘یہ وقت انتہائی صبرآزما رہا ہے۔ یہ پہلی بار ہے کہ میں اتنے بڑے معاملے سے نبردآزما ہوں، جہاں ہندوستانی حکومت کے ساتھ براہ راست تصادم ہےاور ملک کے دو اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ اختلافات ہیں۔’
این ایس اے کے تحت زیادہ سے زیادہ حراستی مدت 12 ماہ ہے، لیکن آنگمو کا کہنا ہے کہ حکومت کو اتنا زیادہ وقت لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے کہا،’اس کیس پر فیصلہ کرنے میں حکومت کو 100 دن نہیں لگانے چاہیے تھے۔’
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ پہلے ہی حکومت کی تاخیر کی نشاندہی کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا،’حکومت کے لیے، یہ صرف ایک اور دن ہے، لیکن سونم کے لیے، اس کا مطلب ایک اور ہفتہ، ایک اور مہینہ ہے۔’
آنگمو نے مختلف سطحوں سے ملنے والی حمایت کا بھی ذکرکیا اور کہا،’سونم، ہماری تنظیم اور ہمارے لیے لوگوں میں بے پناہ خیر سگالی ہے… زمینی سطح پر حمایت، یہاں تک کہ جیل کے اندر سے بھی۔‘ اس کے علاوہ ،انہوں نے سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل اور وویک تنکھا کی جانب سےسے مفت قانونی تعاون کے بارے میں بھی بات کی۔
ہمالین انسٹی ٹیوٹ آف آلٹرنیٹو لرننگ (ایچ آئی اے ایل) کو درپیش چیلنجزکے بارے میں بات کرتے ہوئےآنگمو نے کہا، ‘میں صرف سپریم کورٹ کے کیس میں ہی مصروف نہیں ہوں، بلکہ محکمہ انکم ٹیکس، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) اور جی ایس ٹی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے آئے سمن اور سوالوں سے بھی نمٹ رہی ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں دور سے ایچ آئی اے ایل کو رہنمائی بھی فراہم کر رہی ہوں۔ادارے میں میں قیادت کی دوسری لائن مضبوطی سے ذمہ داری سنبھال ر ہے ہیں۔’
سوموار کو وانگچک کے وکیل مصطفیٰ حاجی نے کہا،’ان کا جرم کیا ہے؟ حکومت کو اس کا ہی وعدہ یاد دلانا – لداخ کے لوگوں کو چھٹے شیڈول کے تحت تحفظ اور آئینی حقوق فراہم کرنے کا وعدہ۔ موجودہ حکومت لداخ اور وہاں کے امن پسند لوگوں کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔’
وانگچک کی حمایت میں ایپکس باڈی لیہہ (اے بی ایل) اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس (کے ڈی اے) نے مرکزی حکومت سے ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول پر بات چیت کے لیے ان کی رہائی کو ایک اہم شرط بنایا ہے۔ ان تنظیموں نے 24 ستمبر کے احتجاج کے بعد حراست میں لیے گئے تمام افراد کو معافی دینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
حراست میں لیے گئے افراد کے تئیں مرکزی حکومت کی بے حسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کے ڈی اے کے نمائندے سجاد کرگیلی نے کہا،’گزشتہ تین ماہ سے ہم تمام قیدوں کی رہائی اور مہلوک کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کر رہے ہیں، اس امید میں کہ حکومت سمجھداری اور حساسیت کا مظاہرہ کرے گی، لیکن اب تک حکومت کا رویہ بے حسی کا ہے۔’
کرگیلی نے کہا کہ کے ڈی اے اور اے بی ایل نے مشترکہ طور پر ریاست کا درجہ اور دیگر مطالبات کے حوالے سے مرکزی وزارت داخلہ کو اپنا مسودہ سونپ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا، ‘ہمیں بتایا گیا تھا کہ مسودہ پیش ہونے کے بعد مذاکراتی عمل آگے بڑھے گا، لیکن حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مرکزی حکومت کو لداخ کے لوگوں کو مجبور نہیں کرنا چاہیے۔’
آٹھ دسمبر کو سپریم کورٹ میں وانگچک کی جانب سے ورچوئل ذرائع سے شنوائی میں شامل ہونے کی درخواست کی مرکزی حکومت نے مخالفت کی تھی۔ حکومت نے استدلال کیا تھا کہ اس طرح کی اجازت دینا ایک ‘غیر صحت بخش مثال’ قائم کرے گا اور دوسرے ‘مجرم’ بھی اسی طرح کے مطالبات کرکریں گے۔
مرکزی حکومت نے بھی وانگچک کے ورچوئل پیشی کے مطالبے کی مخالفت کی۔