انٹرویو: مرکزی حکومت 4 فروری کو لداخ کی سرکردہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کرنے جا رہی ہے۔ ستمبر 2025 کے تشدد کے بعد بدلے ہوئے حالات میں لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے ایک مشترکہ مسودے کے ساتھ اس بات چیت میں شامل ہوں گے۔ دی وائر سے بات کرتے ہوئے کے ڈی اے کے کنوینر سجاد کرگلی کہتے ہیں کہ یونین ٹیریٹری ماڈل ناکام ہو چکا ہے اور لداخ کو مکمل جمہوری حقوق چاہیے۔

سجاد کرگلی (فائل فوٹو/ دی وائر )
نئی دہلی: مرکزی حکومت نے 4 فروری 2025 کو لداخ کی سرکردہ تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے لیے وزارت داخلہ میں ایک بیٹھک بلائی ہے۔ یہ بیٹھک ایسے وقت میں ہورہی ہے، جب ستمبر 2025 میں ہونے والے تشدد، گرفتاریوں اور طویل احتجاجی مظاہروں کے بعد لداخ میں سیاسی ماحول انتہائی حساس ہے۔
اس سے پہلے 6 اکتوبر کو بلائی گئی بیٹھک سے لیہہ ایپکس باڈی(ایل اے بی)اور کارگل ڈیموکریٹک الائنس(کے ڈی اے)نے دوری بنالی تھی۔ اب دونوں تنظیموں نے ایک مشترکہ مسودے کے ساتھ مذاکرات میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔
بیٹھک، اس سے متعلق شرائط، مطالبات اور لداخ کے مستقبل کے حوالے سے دی وائر نے کے ڈی اے کے کنوینر سجاد کرگلی سے تفصیل سے بات چیت کی ہے۔
ستمبر کے تشدد کے بعد 6 اکتوبر کی میٹنگ سے آپ لوگ دور رہے۔ اس بار 4 فروری کے اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
چوبیس (24) ستمبر 2025 کے بعد لداخ میں حالات ایسے نہیں تھے کہ بات چیت کی جا سکے۔ چار بے گناہ لوگوں کی جان گئی تھی، 70 سے زائد لوگوں کو گرفتار کیا گیا اور کئی لوگ شدید زخمی ہوئے۔ ایسے ماحول میں ہم نے حکومت سے پہلے جوڈیشل انکوائری شروع کرنے کی درخواست کی تھی۔
اب حالات بدلے ہیں۔ زیادہ تر لوگوں کو ضمانت مل چکی ہے، صرف تین لوگ جیل میں ہیں۔ عدالتی تحقیقات بھی تقریباً مکمل ہو چکی ہیں۔ اس کے علاوہ، 22 اکتوبر کو وزارت داخلہ کی ایک ذیلی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا، جس میں ہم نے شرکت کی تھی۔
اس وقت حکومت کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ہمارے جو مطالبات ہیں ، اس کا ایک ڈرافٹ جمع کریں، جو ہم پہلے ہی کر چکے ہیں۔ اسی بنا پر اب 4 فروری کو بیٹھک کے لیے بلایا گیا ہے اور اس میں شرکت کا ہمارا اجتماعی فیصلہ ہے۔
کیا میٹنگ میں شرکت سے پہلے لیہہ ایپکس باڈی اور کے ڈی اے کے درمیان کوئی مشترکہ حکمت عملی طے پا ئی ہے؟
بالکل، جومسودہ حکومت کو پیش کیا گیا ہے، وہ کے ڈی اے اور لیہہ ایپکس باڈی کامشترکہ مسودہ ہے۔ دونوں تنظیموں کی کور کمیٹیوں کی بیٹھک ہو چکی ہے اور ہم پوری طرح سے ایک پیج پر ہیں۔
وہ کون سے اہم مطالبات ہیں ، جن پر 4 فروری کی بیٹھک میں زور دیا جائے گا؟
چاہے چھٹے شیڈول کا مطالبہ ہو، ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ ہو یا لوک سبھا کی دو نشستوں کا معاملہ، ان سب پر دونوں تنظیموں کا مشترکہ اتفاق ہے۔
اس کے علاوہ متعدد دیگر مسائل بھی ہیں، جیسے سونم وانگچک کی گرفتاری، 24 ستمبر کو زخمی ہونے والوں کے لیے معاوضہ اور جو لوگ ضمانت پر رہا کیے گئے ہیں ان کے لیے غیر مشروط رہائی کی بات کر رہے ہیں ، ان کے خلاف الزامات واپس لیے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ تمام مسائل ہیں جنہیں ہم مذاکرات کے دوران اٹھانے کی کوشش کریں گے۔
اگر مرکزی حکومت ریاست کا درجہ دینے سے انکار کرتی ہے اور آرٹیکل 371 جیسا متبادل تجویز کرتی ہے تو کیا یہ قابل قبول ہوگا؟
سیدھی سی بات ہے کہ ہم جس چیز کا مطالبہ کرنے جا رہے ہیں وہ ایک باوقار اور قابل احترام جمہوری نظام ہے۔ اگر وہ جمہوری سیٹ اپ عوام کو قابل قبول ہو تو ہم اس سے اتفاق کر سکتے ہیں۔
مثال کے طور پر، اگر وہ مقننہ کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو ہم (اپیکس باڈی اور کے ڈی اے) اس پر ساتھ مل کر غورکر سکتے ہیں۔ لیکن اگر یہ صرف آرٹیکل 371 یا کونسل کو بااختیار بنانے والی چیزیں ہیں، تو حکومت یہ تمام تجاویز تین یا چار سال پہلے سے رکھ رہی ہے۔ ایسے میں ہمیں بلا کر میٹنگ کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ اگر حکومت اپنے آپ ان تمام چیزوں کا اعلان کرے، تو اس میں ہماری رضامندی نہیں ہوگی۔ وہ ان کا فیصلہ ہوگا۔ پھر ریاست کے درجے کا مطالبہ، چھٹے شیڈول کا مطالبہ، وہ وہی رہے گا۔ اس میں کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔
اگر آپ لوگوں کا مطالبہ مان لیا جاتا ہے اور جموں- لداخ کو ملا کر صوبہ بنا دیا جاتا ہے، لیکن کشمیر کو یونین ٹیریٹری کے طور پر رکھا جاتا ہے، تو کیا آپ لوگ اس کے لیے بھی آواز اٹھائیں گے؟
ہم لداخ کے لیے الگ ریاست کا مطالبہ کر رہے ہیں، جموں و کشمیر کے ساتھ اسٹیٹ ہڈ کا مطالبہ نہیں کر رہے ہیں ۔ صرف جموں کے ساتھ بھی نہیں، یہ صاف رہنا چاہیے۔ ہمارا ماننا ہے کہ حکومت لداخ جیسے خطے کو سنبھالنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔یوٹی(یونین ٹیریٹری) سیٹ اپ مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ 1947 کے بعد سے لداخ میں کبھی اتنا وسیع تشدد دیکھنے میں نہیں آیا اور نہ ہی اتنے زیادہ احتجاج ہوئے۔ لداخ کے لوگوں کو لیہہ سے دہلی تک مارچ کرنا پڑا۔ یونین ٹیریٹری کا آئیڈیامکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ یہ ایک نوآبادیاتی تصور ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ آگے اور تقسیم کی طرف بڑھنے کے بجائے ایک جامع اور پرامن ماحول کو فروغ دینا بہتر ہے جو وفاقی ڈھانچے کو مضبوط کرے اور ہر علاقے اور ہر طبقے کے لوگوں کو جمہوریت کا حصہ بنایا جائے۔ مجھے یقین ہے کہ یہی ایک بہترین حل ہے۔
‘وائس آف بدھسٹ آف لداخ’ کے نام سے ایک نئی تنظیم سامنے آئی ہے۔ کیا اس سے مذاکرات پر کوئی اثر پڑے گا؟
لداخ میں تحریک کی قیادت لیہہ اپیکس باڈی کر رہی ہے، جس کے مرکز میں لداخ بدھسٹ ایسوسی ایشن ہے۔ یہ تحریک برسوں پرانی ہے۔
نئی تشکیل شدہ تنظیم نسبتاً نئی ہے، غیر رجسٹرڈ ہے اور اس کی مقبولیت کا کوئی اندازہ نہیں ہے۔ لداخ کے ہر علاقے میں متعدد تنظیمیں ہیں۔ تاہم، وسیع تر عوامی جذبات کی نمائندگی لیہہ اپیکس باڈی ہی کرتی ہے۔
لیہہ اپیکس باڈی میں بدھ سنگھ کا غلبہ ہے۔ کیا کارگل مسلم قیادت کو لیہہ کی بدھ مت پر مبنی سیاست سے خطرہ محسوس ہوتا ہے؟
ہمیں کسی سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ ہم صدیوں سے ساتھ رہتے آئے ہیں، ساتھ جیتے آئے ہیں، اور ایک ہی زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہمارا مستقبل مشترکہ ہے۔ نہ لیہہ کے لوگوں کو کرگل کے لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی کرگل کے لوگوں کو لیہہ کے لوگوں سے۔ ہاں، پالیسی یا بعض مسائل پر اختلاف رائے ہو سکتا ہے، لیکن اس وقت جو ریاست کا درجہ اور چھٹے شیڈول کی لڑائی ہے، یہ ہمارے وجود کی لڑائی ہے۔ اس لڑائی میں ہمارا موقف واضح ہےاور ہم متحد ہیں۔
آپ اکثر کہتے ہیں کہ لداخ میں ‘ہاف ڈیموکریسی’ ہے۔ اس کا کیا مطلب ہے؟
آج لداخ میں نہ تو اسمبلی ہے اور نہ ہی منتخب حکومت ہے۔ یہاں تک کہ لیہہ میں کونسل کے انتخابات بھی نہیں ہوئے ہیں۔ پورا نظام مرکزی حکومت کے ذریعے مقرر کردہ لیفٹیننٹ گورنر کے کنٹرول میں ہے۔ ہمارا کسی افسر سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں لیکن جو نظام ہم پر زبردستی مسلط کیا گیا ہے وہ ناقابل قبول ہے۔
ہم 1947 میں آزادہوئے۔ حکومت روزانہ اپنی تقاریر میں اعلان کرتی ہے کہ ہم نوآبادیاتی میراث کو پیچھے چھوڑ رہے ہیں، تو پھر لداخ میں یہ نوآبادیاتی ذہنیت کیوں نافذ کی جا رہی ہے؟ کونسلوں کو بااختیار بنانے اور پنچایتوں کو مضبوط کرنے کی بات کی جا رہی ہے، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آدھی ادھوری جمہوریت (ہاف ڈیموکریسی)ہے۔ ایسا آدھا جمہوری نظام ہمیں نہیں چاہیے۔
لداخ چین اور پاکستان دونوں کی سرحدوں سے ملتا ہے۔ کیا خود مختاری کا مطالبہ قومی سلامتی کا مسئلہ ہے؟ مرکزی حکومت کی جانب سے آپ کی تحریک کو ’قومی سلامتی کے لیے خطرہ ‘ قرار دینا کیا صحیح ہے؟
یہ بالکل غیر منطقی بات ہے اور کسی بھی طرح سے عملی نہیں ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ سرحدی علاقوں کی وجہ سے ریاست کا درجہ نہیں دیا جا سکتا تو اسے پورے ملک میں نافذ کرنا پڑے گا۔ کیا پنجاب سے ریاست کا درجہ چھین لیا جائے گا؟ کیا راجستھان سرحد سے متصل نہیں ہے؟ اس دلیل کا کوئی جواز نہیں ہے۔
میرا ماننا ہے کہ وفاقی ڈھانچہ جتنا مضبوط ہوگا لوگوں کا نظام پر اعتماد اتنا ہی بڑھے گا۔
فرض کیجیے کہ کچھ مطالبات پورے ہو جائیں تو کیا مستقبل میں بھی کے ڈی اے اور ایل ایف بی مل کر کام کرتے رہیں گے؟
میرا خیال ہے کہ لداخ کے مستقبل کے لیے، لداخ کی ترقی کے لیے، لیہہ اور کارگل کو، یہاں کی تنظیموں کو اور مذہبی گروہوں کوایک ساتھ مل کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کا درجہ ملنے کے بعد بھی ہمیں بہت کام کرنا ہے۔
ایک ایسی پالیسی بنانی چاہیے جو لداخ کے ماحولیاتی تحفظ کو، اپنے ماحول کومحفوظ رکھنے میں ایک کردار ادا کرے اور جامع ترقی کی طرف گامزن ہو سکے۔ اس کے حصول کے لیے ہمیں مل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ لیکن صرف میرے خیال سےکچھ نہیں ہوگا۔اس کےلیے سب کا راضی ہونا ضروری ہے۔