جے این یو وی سی نے دلتوں کے خلاف متنازعہ تبصرہ کیا، تنازعہ کے بعد کہا – میں خود بہوجن ہوں

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں جے این یو کی وی سی کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ آپ ہمیشہ  مظلوم بن کر یا وکٹم ہڈ کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتے۔ ایسا ہی سیاہ فاموں کے ساتھ ہوا، یہی دلتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس بیان پر ہر طرف سے تنقید کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ خود بہوجن سماج سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے کسی بھی کمیونٹی کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں جے این یو کی وی سی کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ آپ ہمیشہ  مظلوم بن کر یا وکٹم ہڈ کے ساتھ ترقی نہیں کر سکتے۔ ایسا ہی سیاہ فاموں کے ساتھ ہوا، یہی دلتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ اس بیان پر ہر طرف سے تنقید کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ خود بہوجن سماج سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے کسی بھی کمیونٹی کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

جے این یو کی وی سی شانتی شری دھولی پوڑی پنڈت، فوٹو بہ شکریہ: فیس بک /آفیشیل جے این یو

نئی دہلی:جواہر لعل نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کی وائس چانسلر پروفیسر شانتی شری دھولی پوڑی پنڈت ایک بار پھر اپنے متنازعہ بیان کو لے کر سرخیوں میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں وہ ایک انٹرویو کے دوران یہ کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ دلت اور سیاہ فام کمیونٹی (بلیک) ’وکٹم ہُڈ یعنی مظلوم ذہنیت‘ میں مبتلا ہیں۔

وہ مزید کہتی ہیں کہ آپ ہمیشہ اپنے آپ  کومظلوم ظاہر کر کے یا وکٹم کارڈ کھیل کر ترقی نہیں کر سکتے۔

خبروں کے مطابق، اس انٹرویو کے دوران وائس چانسلر نے کہا کہ کسی بھی معاشرے یا برادری کے لیے ہمیشہ خود کو مظلوم مانتے رہنا ترقی میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ یہ ایک عارضی ’ڈرگ‘ کی طرح ہے۔ آپ یہ بار بار کہتے رہیں کہ یہ دشمن ہے، آپ اس پر چلاتےہیں اور پھر آپ کو اچھا لگتاہے۔

وہ مزید کہتی ہیں، ’… ایسا ہی سیاہ فاموں کے لیے کیا گیا تھا۔ یہی چیز دلتوں کے لیے لائی گئی تھی اور کسی کو شیطان بنا کر ترقی کرنا آسان نہیں ہے۔ جب کسی گروہ کو بار بار یہ بتایا جاتا ہے کہ اس کے مسائل کی وجہ کوئی ’دشمن‘ ہے، تو یہ سوچ لمبے وقت تک حل فراہم نہیں کر سکتی۔‘

بتایا گیا ہے کہ اس انٹرویو میں وائس چانسلر سماجی انصاف، شناخت پر مبنی سیاست اور یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے نئے ضوابط پر اپنے خیالات کا اظہار کر رہی تھیں اور وائرل ویڈیو اسی انٹرویو کا ایک حصہ ہے۔

رنگ اور نسل پر مبنی ان کا یہ تبصرہ یو جی سی کے نئے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کے فروغ سے متعلق ضوابط پر جاری بحث کے دوران سامنے آیا ہے، جس میں تعلیمی پالیسی، سماجی انصاف اور شناخت پر مبنی سیاست جیسے موضوعات شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں مستقل تبدیلی کے لیے مثبت سوچ، خود اعتمادی اور ذمہ داری کا احساس ضروری ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صرف کسی ایک فریق کو مورد الزام ٹھہرانے سے مسئلے کا حل ممکن نہیں ہوتا۔

وی سی کے اس بیان پر سوشل میڈیا پر کئی طلبہ، اساتذہ، صحافیوں، سیاستدانوں اور دیگر نے اعتراض ظاہر کیا ہے۔

اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا (ایس ایف آئی) نے وائس چانسلر کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، ’جے این یو کی وائس چانسلر اب وہی باتیں سب کے سامنے دہرا رہی ہیں جو ریزرویشن مخالف تحریک کی حمایت کرنے والے لوگ کرتے رہے ہیں۔ یہ بہت شرمناک ہے اور جس کیمپس کی وہ سربراہ ہیں، وہاں طلبہ محفوظ نہیں ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان کے کیمپس کو فوراً ایک مضبوط اینٹی ڈسکریمینیشن فریم ورک کی ضرورت کیوں ہے۔ جے این یو کی وی سی کو فوراً استعفیٰ دے دینا چاہیے!‘

جے این یو طلبہ یونین نے بھی ان کے تبصرے کی مذمت کرتے ہوئے ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا ہے۔

وی سی کی وضاحت

معاملہ کے طول پکڑنے کے بعد وائس چانسلر کی صفائی بھی سامنے آئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایسا کوئی لفظ استعمال نہیں کیا، جس سے کسی برادری کی توہین ہو۔

ان کے مطابق، ان سے ’ووک ازم‘ یعنی سماجی انصاف سے متعلق آزاد خیال نظریات پر سوال کیا گیا تھا۔ اس تناظر میں انہوں نے کہا تھا کہ بعض تحریروں اور نظریات میں وکٹم ہڈ پر زیادہ زور دیا جاتا ہے، جس سے ایک خیالی دنیا کی تصویر بنتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے بیان کا غلط مطلب نکالا گیا ہے۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ انہوں نے مساوات کے ضوابط پر رائے دیتے ہوئے کہا تھا کہ کئی بار ان ضوابط میں حقیقی برابری نظر نہیں آتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ خود بہوجن سماج سے تعلق رکھتی ہیں، اس لیے کسی بھی برادری کے خلاف توہین آمیز تبصرہ کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔

ان کے مطابق، ان کے خیالات کو سیاق و سباق سے ہٹا کر پیش کیا گیا۔

واضح ہو کہ اس سے قبل 2022 میں بھی ان کا ایک بیان سرخیوں میں آیا تھا۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ کوئی بھی ہندو دیوی دیوتا اعلیٰ ذات کا نہیں ہو سکتا اور بھگوان شیو کو درج فہرست ذات یا قبیلے سے جوڑا تھا۔ ساتھ ہی منواسمرتی کا حوالہ دیتے ہوئے خواتین کو شودر بتائے جانے کہی بات کی تھی۔ ان بیانات پر بھی کافی تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔