راہل گاندھی کے سابق آرمی چیف کی غیرمطبوعہ کتاب کا حوالہ دینے پر لوک سبھا میں ہنگامہ

لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ ہوگیا، جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں میگزین کی ایک رپورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیا۔ حکومت اور لوک سبھا اسپیکر نے اسے پارلیامانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’اس میں ایسا کیا ہے جس سے آپ لوگ اتنا ڈررہے ہیں؟‘

‘لوک سبھا میں صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ ہوگیا، جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں میگزین کی ایک رپورٹ اور سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب کا حوالہ دیا۔ حکومت اور لوک سبھا اسپیکر نے اسے پارلیامانی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا، جبکہ راہل گاندھی نے سوال اٹھایا کہ ’اس میں ایسا کیا ہے جس سے آپ لوگ اتنا ڈررہے ہیں؟‘

فوٹوبہ شکریہ: سنسد ٹی وی

نئی دہلی: لوک سبھا میں سوموار (2 فروری) کو صدر کے خطاب پر شکریے کی تحریک پر بحث کے دوران اس وقت زبردست ہنگامہ ہوگیا، جب قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دی کارواں میگزین کی ایک رپورٹ کا حوالہ دے کر اپنی تقریر شروع کی۔

دی کارواں کی یہ رپورٹ سابق آرمی چیف جنرل منوج نرونے کی غیر مطبوعہ کتاب ‘ فور اسٹارز آف ڈیسٹینی‘ کوموضوع بنا کر لکھی گئی ہے۔

رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ 2017 کے ڈوکلام تعطل کے دوران چینی ٹینک ہندوستانی علاقے میں داخل ہوگئے تھے۔ گاندھی نے کہا،’چینی ٹینک کیلاش رینج پر ہندوستانی ٹھکانوں سے چند سو میٹر کی دوری تک آ گئے تھے۔’

اپوزیشن لیڈر نے جیسے ہی یہ کہا ایوان میں زبردست ہنگامہ شروع ہو گیا۔ راہل گاندھی کی تقریر پر اعتراضات اٹھائے گئے اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ اور وزیر داخلہ امت شاہ نے انہیں بیچ میں ہی ٹوک دیا۔

وزیر دفاع نے کہا ، ‘میں چاہتا ہوں کہ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی ایوان کے سامنے وہ کتاب پیش کریں، جس کا وہ حوالہ دے رہے ہیں، کیونکہ وہ جس کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں وہ ابھی تک شائع نہیں ہوئی ہے۔’

لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے واضح کیا کہ پارلیامانی قواعد کے تحت ایوان کی کارروائی سے غیرمتعلق کسی بھی میگزین یا اخبار کے مضمون کا حوالہ نہیں دیا جا سکتا۔ اس پر وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کہاکہ ہندوستان اور چین تعلقات سے متعلق ایک مضمون کا حوالہ دینا ایوان کے قواعد کی خلاف ورزی ہے۔

راہل گاندھی نے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کاماخذ مستند ہے اور انہوں نے جن نکات کا حوالہ دیا ہے وہ سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کی غیر مطبوعہ سوانح عمری سے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس میں کوئی غلط معلومات نہیں ہیں۔

تاہم راہل گاندھی کو آگے پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اس پر انہوں نے سوال کیا،’اس میں ایسا کیا ہے، جس سے آپ لوگ اتنے ڈررہے ہیں، اگر ڈر نہیں ہے  تو مجھے پڑھنے کی اجازت دی جانی چاہیے۔’

راہل گاندھی نے یہ بھی پوچھا کہ کیا وہ جنرل نرونے کا براہ راست حوالہ دیے بغیرمضمون کی بات کرسکتے ہیں، لیکن اس کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

اس دوران ایوان میں ہنگامہ آرائی تیز ہوگئی جس سے کارروائی میں خلل پڑا۔ ایوان چار بجے دوبارہ شروع ہوا، لیکن دس منٹ میں منگل کی صبح تک ملتوی کر دیا گیا۔

اس پورے واقعہ نے پارلیامنٹ میں اظہار رائے کی حدود، پارلیامانی قواعد اور قومی سلامتی سے متعلق مسائل پر ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔

کتاب کی اشاعت روکی گئی تھی

قابل ذکر ہے کہ جنرل ایم ایم نرونے کی سوانح عمری کی اشاعت کو فی الحال روک دیا گیا ہے۔

کتاب کو ابتدائی طور پر دسمبر 2023 میں شائع ہونا تھا، پھر 15 جنوری 2024 کو ریلیز کرنے کا اعلان کیا گیا، لیکن جنوری 2024 میں امیزون کی ویب سائٹ نے 30 اپریل کی ریلیز کی تاریخ دکھانی شروع کی تھی۔ اس وقت دی وائر نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ کتاب میں کئی انکشافات ہیں اور اس لیے وزارت دفاع اور خارجہ امور کی طرف سے اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

خبروںکے مطابق، کتاب میں کئی انکشافات ہیں، جن میں سابق آرمی چیف نرونے نے تفصیل دی ہے کہ انہیں اگست 2020 میں چینی فوج کی نقل و حرکت سے نمٹنے کی مشکل صورتحال کیسے سونپی گئی اور اگنی پتھ کے منصوبے نے   مسلح افواج کو کس طرح حیران کیا تھا۔

جنرل نرونے 30 اپریل 2022 کو چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر ریٹائر ہوئے، اور اس کے بعد انہوں نے پنجابی یونیورسٹی، پٹیالہ سے ڈیفنس اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی مکمل کی ہے۔