ایسا لگ رہا ہے حکومت خود ذات کی بنیاد پر تقسیم کو بڑھاوا دے رہی ہے: مدراس ہائی کورٹ

07:57 PM Aug 28, 2019 | دی وائر اسٹاف

تمل ناڈو کے ویلور ضلع‎ میں دلتوں کے ایک شمشان گھاٹ تک جانے والے راستے کو روکے جانے کے معاملے کا ہائی کورٹ نے از خود نوٹس لیا ہے۔ راستہ روکنے سے کمیونٹی کے لوگ اپنے رشتہ داروں کی لاش کو ایک ندی پر واقع پل سے نیچے گرانے کے لئے مجبور ہیں۔

مدراس ہائی کورٹ۔ (فوٹو بہ شکریہ : فیس بک / Chennaiungalkaiyil)

نئی دہلی: مدراس ہائی کورٹ نے دلتوں کے لئے الگ قبرستان مختص کئے جانے کی روایت کی تنقید کرتے ہوئے  کہا کہ ایسا لگ رہا ہے کہ حکومت خودہی ذات کی بنیاد پر تقسیم کو بڑھاوا دے رہی ہے۔ تمل ناڈو کے ویلور ضلع میں دلتوں کے ایک شمشان گھاٹ جانے والے راستے کو روکے جانے کے بعد عدالت نے اس معاملے کااز  خودنوٹس لیا تھا۔

غور طلب ہے کہ شمشان گھاٹ جانے والے راستے میں رکاوٹ پیدا  کئے جانے کی وجہ سےکمیونٹی کے ممبر اپنے رشتہ داروں کی لاش کو ایک ندی پر واقع پل سے نیچے گرانے کے لئے مجبور ہیں۔ ایسا اس لئے کیونکہ اونچی ذات کے لوگ مبینہ طور پر ان کو شمشان گھاٹ تک جانے کا راستہ نہیں دے رہے ہیں۔ اس راستے پر مبینہ طور غیرقانونی قبضہ کیا گیا ہے۔

جسٹس ایس منی کمار اور جسٹس سبرامنیم پرساد کی بنچ نے اپنے زبانی تبصرہ میں اس بات کا ذکر کیا کہ سبھی لوگ چاہے وہ کسی بھی ذات یا مذہب کے ہوں، ان کو  عوامی مقامات پر داخلہ کی اجازت ہے۔ ہائی کورٹ نے کہا کہ ‘ آدی دراوڑ ‘ (ایس سی) کو الگ قبرستان مختص کر کے حکومت خودہی ایسی روایت کو بڑھاوا دیتی نظر آ رہی ہے۔

بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ کیوں کچھ اسکولوں کو آدی دراوڑوں  کے لئے الگ اسکول کہا جانا جاری ہے، جبکہ ریاستی حکومت نے سڑکوں سے ذات کے نام ہٹا دئے ہیں۔ اس کے بعد عدالت نے ویلور ضلع کلکٹر اور ونیامبڈی تحصیل دار کو قبرستان کے آس پاس گاؤں والوں کے ذریعے استعمال کی گئی زمین کی تفصیل سونپنے کی ہدایت دی۔

خبروں کے مطابق، چنئی سے 213 کلومیٹرمغرب کی طرف ویلور ضلع کے ونیامبڈی قصبے کے پاس واقع نارائن پورم گاؤں کی دلت کمیونٹی کے لوگ اپنے رشتہ داروں کی لاشوں کو ندی پر واقع پل سے نیچے گرانے کے لئے مجبور ہیں کیونکہ ندی کے کنارے واقع قبرستان تک جانے کا راستہ دو لوگوں کے مبینہ غیرقانونی قبضہ کی وجہ سے مسدود ہو گیا ہے۔

مدراس ہائی کورٹ نے ایک انگریزی اخبار میں اس بارے میں ایک خبر شائع ہونے پر پچھلے ہفتہ اس مدعے کا نوٹس لیا۔ بنچ نے پچھلے ہفتے تمل ناڈو کے ہوم سکریٹری، ویلور ضلع کےکلکٹر اور تحصیل دار کو نوٹس جاری کر کے اس مدعے پر ان سے جواب مانگا تھا۔ خبروں کے مطابق، گاؤں کے دلت باشندوں کی لاشوں کو پچھلے چار سال سے پل سے نیچے ندی کے کنارے پر اتارتے ہیں۔

حالانکہ، دلتوں کا کہنا ہے کہ وہ دیگر کمیونٹی سے براہ راست طور پر نسلی امتیازی سلوک یا دھمکیوں کا سامنا نہیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے غیرقانونی قبضہ نہیں ہٹانے کے لئے ضلع انتظامیہ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ غور طلب ہے کہ 17 اگست کو تمل ناڈو میں اشرافیہ کے ذریعے دلتوں کو اپنی زمین سے گزرنے کا راستہ نہ دینے کی وجہ سے دلتوں کو اپنے رشتہ دار کی لاش کو 20 فٹ اونچے پل سے نیچے گراکر آخری رسومات کی ادائیگی کرنی پڑی تھا۔ واقعہ ویلور ضلع کے ونیمباڑی کاتھا۔

(خبر رساں ایجنسی بھاشا کے ان پٹ کے ساتھ)