آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا ہے کہ آج ذات پات صرف سیاسی مقاصد کو پورا کرنے کے لیے موجود ہے، کیونکہ اس کی روایتی پیشہ ورانہ بنیاد اب ختم ہو چکی ہے۔ سماج کے اندر یہ ذہنیت موجود ہے، اسی لیے سیاستداں ذات پات کے مسئلے کو اچھالتے ہیں۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت ممبئی میں تنظیم کے صد سالہ جشن کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے ۔(تصویر: پی ٹی آئی)
نئی دہلی: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سربراہ موہن بھاگوت نے اتوار کو کہا کہ آج کے وقت میں ذات پات صرف سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے موجود ہے، کیونکہ اس کی روایتی پیشہ ورانہ بنیاد اب ختم ہو چکی ہے۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس ) کے سربراہ موہن بھاگوت بامبے میں آر ایس ایس کے 100 برس مکمل ہونے پر منعقدہ دو روزہ پروگرام میں خطاب کر رہے تھے۔ آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ سیاستداں صرف ووٹ حاصل کرنے کے لیے ذات پات کا سہارا لیتے ہیں۔
انہوں نے کہا،’ (ایک سیاستداں) ذات کی بنیاد پر ووٹ حاصل کرتا ہے۔’ بھاگوت نے کہا،’اگر میں کہوں کہ ‘میں برہمن ہوں، ہر برہمن مجھے ووٹ دے،’ تو مجھے نتیجے مل جائیں گے۔’
انہوں نے مزید کہا،’سماج کے اندر ذات پات ہے، اسی لیے سیاستداں ذات پات کو اچھالتے ہیں۔’ بھاگوت نے کہا کہ اگر سماج اس طرح کی اپیلوں پر ردعمل دینا بند کر دے، تو سیاستداں خود بخود بدل جائیں گے۔
آر ایس ایس سربراہ نے یہ بھی کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہےکہ سیاستداں ذات پرست ہوتے ہیں یا مساوات پسند۔ انہوں نے کہا،’وہ ووٹ سے چلتے ہیں۔’
بھاگوت نے یہ بھی کہا کہ آر ایس ایس نے تعلیمی اداروں اور سرکاری نوکریوں میں آئین کے تحت طے شدہ تمام ریزرویشن کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک ذات پر مبنی امتیاز ختم نہیں ہوتا، تب تک مثبت امتیاز (ریزرویشن) جاری رہنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ذات پر مبنی امتیاز اس وقت ختم ہوگا، جب جو لوگ اس کو جھیلتے ہیں، وہ خود کہیں کہ اب انہیں امتیاز کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور انہیں ریزرویشن کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا،’یہ ہو رہا ہے۔ لوگ کہنا شروع کر چکے ہیں کہ وہ ریزرویشن نہیں چاہتے اور یہ فائدہ کسی اور ضرورت مند کو ملنا چاہیے۔ یہ عمل شروع ہو چکا ہے۔’
انہوں نے مزید کہا کہ صرف قوانین یا ضابطوں سے ذات پر مبنی امتیاز ختم نہیں ہوگا، بلکہ تبدیلی تب آئے گی جب سماج میں حساسیت اور ہمدردی پیداہوگی۔
سنگھ سربراہ نے یہ بھی دہرایا کہ 75 سال کی عمر پوری کرنے کے بعد کسی لیڈر کو مثالی طور پر عہدے پر رہتے ہوئے کام نہیں کرنا چاہیے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور بھاگوت—دونوں—گزشتہ سال 75 برس کے ہو چکے ہیں۔
اگلا آر ایس ایس سربراہ
بھاگوت نے کہا کہ اگلا آر ایس ایس سربراہ صرف کوئی ہندو ہی ہو سکتا ہے، اس کی ذات چاہے جوبھی ہو۔
انہوں نے کہا،’ایس سی یا ایس ٹی (برادری) سے ہونا کوئی نااہلی نہیں ہے، اسی طرح برہمن ہونا بھی کوئی اہلیت نہیں ہے۔ مستقبل میں کوئی ایس سی/ایس ٹی بھی آر ایس ایس کا سربراہ بن سکتا ہے۔ ہمارا تصور یہ ہوتا ہے کہ سب سے زیادہ اہل شخص کون دستیاب ہے… شخص کا سب سے اہل ہونا ضروری ہے… اور دستیاب بھی ہونا چاہیے۔ میرے معاملے میں (جب میں سربراہ بنا)، کئی لوگ اہل تھے، لیکن دستیاب نہیں تھے۔ میں وہ شخص تھا جسے ذمہ داریوں سے آزاد کر کے مقرر کیا جا سکتا تھا۔’
’اچھے دن‘پر تبصرہ
آر ایس ایس کے لیے’اچھے دن’ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر بھاگوت نے کہا،’…اچھے دن بی جے پی کی وجہ سے نہیں آئے، بلکہ بات الٹی ہے… ہمارے اچھے دن ہماری محنت سے آئے… ہم رام مندر کی تعمیر کے لیے پرعزم رہے۔ جنہوں نے ہمارا ساتھ دیا، انہیں فائدہ ہوا۔’
آر ایس ایس سربراہ نے کہا کہ وشو ہندو پریشد، بجرنگ دل اور بی جے پی جیسے ادارے سب سنگھ پریوار کا حصہ ہیں، لیکن آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا،’یہ سب آزاد ادارے ہیں، لیکن ان میں کئی سویم سیوک کام کرتے ہیں… ضرورت پڑنے پر ہم انہیں مشورہ دیتے ہیں، اور اگر ضروری ہو تو خبردار بھی کرتے ہیں… فیصلے ان کے ہوتے ہیں… لیکن کبھی کبھی ان کے گناہ ہمارے اوپر ڈال دیے جاتے ہیں، کیونکہ وہ ہمارے ہی سویم سیوک ہوتے ہیں۔’
بھاگوت نے کہا، ‘یہ صاف سمجھ لینا چاہیے کہ سیاسی دباؤ ووٹروں سے آتا ہے، آر ایس ایس سے نہیں… ہمارانظام ووٹ -وادی نظام بن گیا ہے… اسے بدلنے کی ضرورت ہے۔’
75 سال کی عمر پر’چٹکی’
بھاگوت نے ایک بار پھر کہا کہ رہنماؤں کو یہ جاننا چاہیے کہ 75 سال کی عمر کے بعد انہیں پیچھے ہٹ کر ‘مارگ درشک’ کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اس لیے عہدے پر بنے ہوئے ہیں کیونکہ آر ایس ایس نے ان سے ایسا کرنے کو کہا ہے۔
انہوں نے کہا،’عام طور پر کہا جاتا ہے کہ 75 سال کے بعد بغیر کسی عہدے کے کام کرنا چاہیے… میں نے 75 سال پورے ہونے پر آر ایس ایس کو مطلع کیا، لیکن تنظیم نے مجھ سے کام جاری رکھنے کو کہا۔ جب بھی آر ایس ایس مجھ سے عہدہ چھوڑنے کو کہے گا، میں ایسا کر دوں گا، لیکن کام سے ریٹائرمنٹ کبھی نہیں لوں گا… سنگھ اپنے سویم سیوکوں سے آخری سانس تک کام لیتا ہے… اور آر ایس ایس کی تاریخ میں اب تک ایسی صورت حال نہیں آئی کہ کسی کو ریٹائر کرنا پڑا ہو۔’
غورطلب ہے کہ گزشتہ سال جولائی میں ایک کتاب کی رسمِ اجرا کے دوران بھاگوت کے تبصروں نے مودی کی ریٹائرمنٹ پر بحث چھیڑ دی تھی اور کئی لوگوں نے اسے وزیر اعظم کو عہدہ چھوڑنے کا اشارہ سمجھا تھا۔
‘تمام ہندوستانی ایک ہیں’
بھاگوت نے کہا کہ تمام ہندوستانی ایک ہیں، اور ہندو اور سکھ سماج ایک ہیں۔ آر ایس ایس طویل عرصے سے سکھ مذہب کو ہندو مذہب کے اندر ایک فرقہ مانتا رہا ہے—ایک ایسا نظریہ جس کی سکھ برادری مخالفت کرتی ہے۔ سکھ رہنماؤں نے یہاں تک کہ آر ایس ایس پر پابندی لگانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
اسلام اور عیسائیت کا ذکر کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا،’اسلام کو امن کا مذہب کہا جاتا ہے، لیکن امن نظر نہیں آتا۔ اگر مذہب میں روحانیت نہ ہو تو وہ بالادستی کا رخ اختیار کر لیتا ہے اور جارح ہو جاتا ہے۔ آج اسلام اور عیسائیت میں جو دیکھا جا رہا ہے، وہ عیسیٰ مسیح اور پیغمبر محمد کی تعلیمات کے مطابق نہیں ہے۔ ہمیں سچے اسلام اور سچی عیسائیت پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔’