نجی کمپنیوں کے لیے ایٹمی توانائی کا شعبہ کھولنے والے مودی حکومت کے ’شانتی‘ ایکٹ کی منظوری کے صرف دو ماہ بعد ہی اڈانی گروپ نے اس سیکٹر میں انٹری کا اعلان کیا ہے۔ اڈانی پاور نے ’اڈانی اٹامک انرجی لمیٹڈ‘ کے نام سے ایک ذیلی کمپنی تشکیل دی ہے۔ اپوزیشن نے مذکورہ قانون کو اپنے ’پسندیدہ افراد کو فائدہ پہنچانے والا‘ بتایا ہے۔

السٹریشن : دی وائر
نئی دہلی: ہندوستان میں نجی کمپنیوں کو ایٹمی توانائی کے پلانٹ چلانے کی اجازت دینے والے’سسٹینیبل ہارنیسنگ اینڈ ایڈوانسمنٹ آف نیوکلیئر انرجی فار ٹرانسفارمنگ انڈیا (شانتی) ایکٹ‘ کے لاگوہونے کے دو ماہ بعد اڈانی گروپ نے ایٹمی توانائی کے سیکٹر میں انٹری ماری ہے۔
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق، گروپ نے جمعرات (12 فروری) کو ریگولیٹری فائلنگ کے ذریعے اس کا باضابطہ اعلان کیا۔
نیشنل اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں اڈانی پاور لمیٹڈ (اے پی ایل) نے بتایا کہ اس نے اپنی مکمل ملکیت والی ذیلی کمپنی ’اڈانی اٹامک انرجی لمیٹڈ ‘کی تشکیل کی ہے۔

دسمبر میں پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظور کیے گئے شانتی ایکٹ نے پرانے ایٹمی توانائی ایکٹ کی جگہ لی ہے۔ نیا قانون نجی کمپنیوں کو ملک میں ایٹمی توانائی کے پلانٹس کے قیام، ملکیت اور آپریشن کی اجازت دیتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، انہیں تکنیکی تعاون کے لیے غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے بنانے کا راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔
قانون کے تحت نجی شعبے کو ایٹمی ری ایکٹروں کی تعمیر، آپریشن اور ڈی-کمیشننگ تک کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ، یورینیم-235 کی تبدیلی، تطہیر اور مقررہ حد تک افزودگی سمیت ایٹمی ایندھن کی تیاری اور مرکزی حکومت کی جانب سے نوٹیفائی کیے گئے دیگر مادوں کی پیداوار، استعمال اور تصفیہ کا اہتمام بھی اس میں شامل ہے۔
اڈانی گروپ کے اس قدم پر کانگریس نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ شانتی ایکٹ اپنے ’پسندیدہ افراد کو فائدہ پہنچانے‘ کے لیے لایا گیا تھا۔
In the last session, the SHANTI Bill was rushed through Parliament to allow private companies to own and operate nuclear power plants. In my speech in the Rajya Sabha, I had said that the SHANTI Bill was being enacted to favour the favourite. Now we now the real meaning of… pic.twitter.com/WVps9kT1ag
— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) February 13, 2026
کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی جئے رام رمیش نے ایکس پر لکھا کہ گزشتہ اجلاس میں بل کو جلدبازی میں منظور کرایا گیا تاکہ نجی کمپنیوں کو ایٹمی پلانٹس کی ملکیت اور آپریشن کی اجازت دی جا سکے۔ انہوں نے طنزکرتے ہوئے کہا کہ اب شانتی کا مطلب واضح ہو گیا ہے -شریمان اڈانی کا نیوکلیئر ٹیک انیشیٹو۔
رپورٹ کے مطابق، دی ہندو نے اس سلسلے میں مزید معلومات کے لیے اڈانی پاور سے رابطہ کیا، لیکن خبر کی اشاعت تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔
واضح ہو کہ 15 دسمبر 2025 کو بل پیش کیے جانے کے دوران ہی اپوزیشن نے اعتراض کیا تھا۔
کانگریس کے رکن پارلیامنٹ منیش تیواری نے اُس وقت کہا تھا کہ ’انتہائی خطرناک ایٹمی سرگرمیوں میں منافع کمانے کے مقصد سے نجی شعبے کی شرکت کی اجازت دینا، اور ساتھ ہی ان کی جوابدہی محدود کرنا، انہیں قانونی تحفظ دینا اور عدالتی چارہ جوئی کو محدود کرنا — زندگی، صحت اور ماحول کے تئیں ریاست کی اس عوامی ذمہ داری کو کمزور کرتا ہے، جسے وہ کسی اور کو سونپ نہیں سکتا۔‘