مارک ٹلی: ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے …

مارک ٹلی نے بی بی سی میں اپنی تقریباً تین دہائیوں (1964-94) کی صحافت کے دوران بر صغیر کا شاید ہی کوئی ایسا بڑا واقعہ ہو جس کی کوریج نہ کی ہو۔ انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے جو ساکھ بنائی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو پاتی ہے۔

مارک ٹلی نے بی بی سی میں اپنی تقریباً تین دہائیوں (1964-94) کی صحافت کے دوران بر صغیر کا شاید ہی کوئی ایسا بڑا واقعہ ہو جس کی کوریج نہ کی ہو۔ انہوں نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے جو ساکھ بنائی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو پاتی ہے۔

مارک ٹلی 1991 میں نئی ​​دہلی میں ایک سیاسی ریلی میں۔ تصویر: پارتھو شاہ۔

بی بی سی کی عہد ساز شخصیت  مارک ٹلی کا جانا میرے لیے ذاتی صدمہ  ہے،جبکہ ان کے لاکھوں-کروڑوں مداحوں کے لیےایک تکلیف دہ خبر۔ ان کا جانا صحافت بالخصوص ‘ریڈیو جرنلزم’ کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان ہے۔

مارک ٹلی 90 سال قبل کلکتہ میں پیدا ہوئے تھے، لیکن آزادی کے بعد جب ان کے والدین انگلینڈ واپس چلے گئے تو ان کی تعلیم لندن میں ہی ہوئی۔ ابتدا میں وہ عیسائی پادری بننا چاہتے تھے، لیکن چرچ کی پابندیاں انہیں راس نہیں آئی، اس لیے انھوں نے بی بی سی سے منسلک ہو کر اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا۔

مارک ٹلی نے 1964 میں بی بی سی میں کام کرنا شروع کیا۔ وہ پہلے بی بی سی ہندی سروس کے پروگرام آرگنائزر بنے اور پھر 1971 میں اس کے جنوبی ایشیا کے نامہ نگار اور دہلی میں بیورو چیف۔ دراصل، جنوبی ایشیا، خاص طور پر ہندوستان-پاکستان اور بنگلہ دیش کے گھر گھر میں مارک ٹلی  کی پہچان  1971 کی بنگلہ دیش جنگ کی ‘کوریج’ کی وجہ سے بنی۔

رپورٹنگ کے استاد

مارک ٹلی نے بی بی سی میں اپنی تقریباً تین دہائیوں  (1964-94) کی صحافت میں برصغیر کا شاید ہی کوئی ایسا بڑا واقعہ ہو جسے کور نہ کیا ہو۔ 1974-75 کی جے پی تحریک کی انہوں نے خوب رپورٹنگ کی،جس کے نتیجے میں جون 1975 میں ایمرجنسی نافذ ہوئی اور پریس سنسرشپ کانفاذ بھی عمل میں آیا۔ جب مارک ٹلی نے حکومت کی  ہدایات  کوماننے سے انکار کر دیا تو انہیں 24 گھنٹے کے اندر ملک چھوڑنے کو کہا گیا۔

یوں1971سے 1994 تک 23 سال کےعرصے میں ایمرجنسی کے 17-18 مہینے ایسے تھے، جب مارک ٹلی کو ہندوستان سے دور رہنا پڑا۔ تاہم، جیسے ہی ایمرجنسی ختم ہوئی اور لوک سبھا انتخابات کا اعلان ہوا مارک دہلی واپس آگئے۔ انہوں نے ان انتخابات کی خوب رپورٹنگ کی اور اندرا گاندھی کو اقتدار سے بے دخل ہوتے اور جنتا پارٹی کی حکومت کو بنتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے ڈھائی سالوں (1977-1980) کے دوران جنتا پارٹی اور اس کی حکومت کے خاتمے اور اندرا گاندھی کی اقتدار میں واپسی کو بھی دیکھا۔

اس دوران انہوں نے پاکستان میں جمہوری طور پر منتخب حکومت کا تختہ پلٹ، ضیاء الحق کی فوجی آمریت اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے واقعات کو بھی کور کیا۔

قابل ذکر ہے کہ 1980-84کے دوران مارک ٹلی نے ہندوستان کےتقریباً تمام اہم واقعات کو اپنے معاون ستیش جیکب کے ساتھ کور کیا، جن میں آسام کا تشدد اور نیلی قتل عام (1983)، پنجاب میں دہشت گردی اور ‘آپریشن بلیو اسٹار’، دارالحکومت دہلی میں وزیر اعظم اندرا گاندھی کا قتل اور اس کے بعد ہوئے تشدد اور سکھوں کاقتل عام (1984)، دسمبر (1984) کا بھوپال گیس سانحہ اور لوک سبھا انتخابات نمایاں طور پر قابل ذکر  ہیں۔

‘آپریشن بلیو اسٹار’ کے دوران مارک ٹلی سمیت دیگر غیر ملکی صحافیوں کو پنجاب چھوڑنے کو کہا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے اپنے ساتھی ستیش جیکب کو امرتسر میں تعینات کر دیا اور خود دہلی میں مورچہ سنبھال لیا اور کئی مہینوں تک اس کی رپورٹنگ کی۔ بعد میں مارک ٹلی اور ستیش جیکب کی جوڑی  نے مل کر ایک شاندار کتاب لکھی -‘امرتسر مسز گاندھیز لاسٹ بیٹل‘۔

یوں تومیں 1974-75 سے مارک ٹلی کاسامع اور شیدائی تھا، جب وہ جے پی تحریک اور ایمرجنسی  کے واقعات کی رپورٹنگ بی بی سی کے لیے کر رہے تھے، لیکن ان سے میری  ملاقات 1980 کی دہائی میں اس وقت  ہوئی جب میں لکھنؤ میں ہفتہ وار ‘رویوار’ کا نامہ نگار تھا اور انھوں نے مجھے اتر پردیش میں بی بی سی کا ‘اسٹرنگر’ مقرر کیا تھا۔ اس کے بعد  ان سےمسلسل رابطے میں رہا۔ 1989 کے لوک سبھا اور اتر پردیش کے اسمبلی انتخابات، 1991 کے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات، 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد کے انہدام اور پھر 1993 کے اتر پردیش اسمبلی انتخابات ہم نے ساتھ-ساتھ کور کیے۔

چھ دسمبر کی یاد

ان میں سب سے یادگار واقعہ 6 دسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد گرائے جانے اور اس دن ہمارے ساتھ جو کچھ ہوا اس سے معلق ہے۔ آپ کی زندگی میں کچھ واقعات ایسے ہوتے ہیں جن کے آپ چشم دید گواہ ہوتے ہیں، اور جو آپ کے دل و دماغ سے کبھی محو نہیں ہوتے ہیں اور مسلسل آپ کے ذہن میں کوندتے رہتے ہیں۔ 6 دسمبر 1992 کو دن کے اجالے میں ایودھیا میں بابری مسجد کا انہدام میری زندگی کا ایک ایسا ہی واقعہ ہے، جس کا میں، مارک ٹلی کے ساتھ، خاموش تماشائی تھا، اور جو ایک ‘فلیش بیک’ کی طرح میرے ذہن میں چلتا رہتا ہے۔

اس وقت میں ‘ہندی سنڈے آبزرور’ کے لیے کام کر رہا تھا اور بی بی سی کا اسٹرنگر بھی تھا۔ ساتھ ہی  بی بی سی ہندی اور اردو سروسز کے لیے ‘فونو’ بھی کیا کرتا تھا۔ اسی سلسلے میں 5 دسمبر کو میں فیض آباد پہنچا اور مارک ٹلی کے ساتھ ہوٹل شانِ اودھ میں ٹھہرا، جو ایودھیا کو کور کرنے والے صحافیوں کا پسندیدہ ٹھکانہ ہوا کرتا تھا۔

چھ دسمبر کی صبح،  ٹھیک 10 بجے ایودھیا میں سنگھ پریوار کے کارسیوک بڑی تعداد میں جمع ہونا شروع ہوگئے۔ ملک اور بیرون ملک کے سینکڑوں صحافیوں نے بھی بابری مسجد کے سامنے ایک چھت پر خود کو تعینات کر لیا۔ کار سیوک آہستہ آہستہ مسجد کے قریب جمع ہونے لگے اور حفاظتی حصار کی خاردار تاریں توڑ کر مسجد میں داخل ہونے لگے۔ اب انہیں مسجد کی دیواروں پر چڑھتے اور گنبدوں پر بیٹھے دیکھا جا سکتا تھا۔

میں اس وقت مارک ٹلی کے ساتھ تھا۔ 11:20 پر جیسے ہی بابری مسجد کا ایک گنبد گرا، مارک نے بابری مسجد پر حملے کی پہلی خبر سنانے کے لیے فیض آباد جانے کا فیصلہ کیا۔ اس وقت موبائل فون نہیں تھے اور لندن میں بی بی سی کے ہیڈکوارٹر سے رابطہ کرنے کا واحد طریقہ فیض آباد میں سینٹرل ٹیلی گراف آفس (سی ٹی او) تھا۔

مارک اور میں دوپہر 12 بجے کے قریب فیض آباد پہنچے، جہاں مارک نے اپنی پہلی رپورٹ فائل کی۔ دوپہر 1 بجے، ہم ایودھیا واپس آنے لگے، جہاں مسجد کا بڑا حصہ گرایا جا  چکا تھا۔ ہمیں شہر کے مضافات میں ایک ہجوم نے روک لیا۔ ہم فیض آباد واپس آئے اور پیرا ملٹری فورس یعنی آر اے ایف اور سی آر پی ایف کے ایودھیا جانے کاانتظار کرنے لگے۔ تاہم، مشتعل ہجوم نے ان نیم فوجی دستوں کو ایودھیا اور فیض آباد کے درمیان ریلوے کراسنگ پر روک دیا۔ کراسنگ بند کر دی گئی اور سڑک پر جلے ہوئے ٹائر ڈال دیے گئے۔

جب ایودھیا پہنچنے کی ہماری تمام کوششیں ناکام ہوگئیں، تو ایک صحافی دوست ونود شکلا کی مدد سے ہم دوپہر دو بجے کے قریب بابری مسجد کے عقب تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے، لیکن تب تک بابری مسجد کے تینوں گنبد گرائے جا چکے تھے۔ جیسے ہی ہم اپنی گاڑی سے باہر نکلے، ترشول اور لاٹھیوں سے لیس تشدد پر آمادہ کارسیوکوں کے ایک گروپ نے ہم پر حملہ کردیا۔ ان میں سے زیادہ تر مقامی باشندے تھے اور مارک ٹلی کو ہمارے ساتھ دیکھ کر بے حد ناراض تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مارک بی بی سی کے صحافی ہیں اور وہ  ایودھیا کی ان کی کوریج سے ناخوش تھے۔

جب ہجوم ہم پر حملہ کرنے اور ممکنہ طور پر ہمیں مارنے کے لیے اکٹھا ہوا تو مشتعل کارسیوکوں میں سے ایک نے کہا کہ ہمیں مارنے سے جاری کار سیوا میں خلل پڑ سکتا ہے اور یہ بہتر ہوگا کہ ہمیں بند کر دیا جائے اور  بعد میں مارا جائے۔ ہم پانچ لوگوں کو پاس کی  ایک عمارت کے کمرے میں بند کر دیا گیا۔

اگلے دو گھنٹوں میں، ہم جذبات سے مغلوب ہو گئے کیونکہ ایک طرف تو ہم مسجد کے انہدام کو کور نہیں کر پا رہے تھے اور دوسری طرف موت کا خطرہ سر پرمنڈلا رہا تھا۔

کسی طرح ایودھیا میں ایک مہنت کے ذریعے شام 6 بجے کے قریب ہمیں آزاد کرایا گیا۔ ہمیں مقامی وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کے دفتر لے جایا گیا، جہاں اشوک سنگھل، پروین توگڑیااور بھارتیہ جنتا پارٹی کے کچھ لیڈروں سمیت وی ایچ پی کے سرکردہ لیڈران انہدام کا جشن منا رہے تھے۔ مسجد سے ہٹا ئی گئی’ رام للا’ کی مورتی اب وی ایچ پی کے دفتر میں تھی، جہاں لیڈران ‘رام للا’ کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے قطار میں کھڑے تھے۔ وشو ہندو پریشد کے مقامی دفتر میں ہمارے سر پر’کار سیوکوں’والی پٹی باندھی گئی اور ہمیں اتر پردیش پولیس کے ایک ٹرک میں بٹھا کر رات 8 بجے فیض آباد کے ہوٹل شانِ اودھ پر اتار  دیا گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اس واقعے کے بعد بھی مارک ٹلی نے ایودھیا چھوڑنے کا فیصلہ نہیں کیا، جبکہ ہم میں سے بہت سے صحافی اسی رات ایودھیا سے روانہ ہو گئے۔

‘بہت اعلیٰ انسان ہےصاحب! بڑھیا خبریں دیتا ہے’

مارک ٹلی، برصغیر میں کس طرح بی بی سی کے مترادف تھے یہ جاننے  کے لیے 1990 میں بی بی سی ہندی سروس کے پچاس سال مکمل ہونے پر بی بی سی ایسٹرن سروس کے ڈپٹی ہیڈ ڈیوڈ پیج کے ایک مضمون کا حوالہ دینا مناسب ہوگا۔

اپنے دہلی کے دفتر کا حوالہ دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں،’بی بی سی ہندی سروس کا چرچہ دہلی دفتر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔ ہمارے دہلی کے نامہ نگاروں کا کام مرکزی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا صدر دفتر حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کی درگاہ  کے پاس نظام الدین ایسٹ میں ہے اور پاس ہی مغل بادشاہ ہمایوں کا شاندار مقبرہ ہے۔ دفتر کی عمارت مرکزی سڑک سے ہٹ کر ایک  پیٹرول اسٹیشن اور ٹیکسی اسٹینڈ کے پیچھےہے، جہاں ٹیکسی ڈرائیور دھندے کے انتظار میں دھوپ سینکتے اور اونگھتے رہتےہیں۔ یہ عمارت ایک گھر سے مشابہت رکھتی ہے، بس باہر لگے ایک سائن بورڈ سے بھید کھل جاتا ہے جس پر لکھا ہے’مارک ٹلی!’

ایک سینئر برطانوی صحافی ایان جیک نے لکھا ہے کہ ایک بار ایک ٹیکسی ڈرائیور نے مجھ سے پوچھا کہ ‘کیا آپ مارک ٹلی کو جانتے ہیں؟ میرے ہاں کہنے پر ایسا لگا مانودن میں پہلی بار اس پر میرا کچھ رعب پڑا ہو۔کہنے لگا،’ بہت اعلیٰ انسان ہے صاحب!بڑھیا  خبریں دیتا ہے، نوے فیصد صحیح۔’

مارک ٹلی نے اپنی رپورٹنگ کے ذریعے جو ساکھ حاصل کی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو پاتی ہے۔ ان کے نام کے ساتھ بی بی سی کی کسی بھی زبان میں پڑھا گیا ان کا ڈسپیچ یا ان کا ٹریڈ مارک سائن آف’مارک ٹلی بی بی سی ڈیلہی’ دنیا کو یہ باور کرانے کے لیے کافی ہوتا تھا کہ خبر بالکل درست، کھری  اور سچی ہے۔ اس چوں و چرا  کی ذرا بھی گنجائش نہیں  ہے۔ ایسی ساکھ شاید اب شاید کسی اور صحافی کو نصیب  نہیں ہوگی۔

بقول مرزا غالب؛

آئینہ کیوں نہ دوں کہ تماشا کہیں جسے

ایسا کہاں سے لاؤں کہ تجھ سا کہیں جسے

مارک صاحب آپ کی بہت یاد آئے گی!

(قربان علی سینئر صحافی ہیں اور ان دنوں ملک میں سوشلسٹ تحریک کی تاریخ کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں۔)