ایس آئی آر الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں،’مشتبہ شہریت‘ کی بنیاد پر ہٹائے گئے ووٹر کی نشاندہی کریں: سپریم کورٹ

04:18 PM May 27, 2026 | دی وائر اسٹاف

سپریم کورٹ نے گزشتہ سال جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے سے متعلق الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کرنے والی درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر عمل کے قانونی جواز کی توثیق کر دی ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں آتا ہے اور منصفانہ انتخابات کے لیے ضروری ہے۔

سپریم کورٹ۔ (فائل فوٹو: پی ٹی آئی)

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بدھ (27 مئی) کو ووٹر لسٹ کے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر)کرنے کے الیکشن کمیشن کے اختیار کو درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آرکا براہ راست تعلق آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے سے ہے۔

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ہدایت دی ہے کہ وہ چار ہفتے کے اندر مشتبہ شہریت کی بنیاد پر ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے لوگوں کے نام مرکزی حکومت کو بھیجے۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت اور جسٹس جوائے مالیہ باگچی کی بنچ نے یہ فیصلہ ان درخواستوں پر سنایا، جن میں گزشتہ سال جون میں بہار میں ایس آئی آر کرانے کے لیے جاری کیے گئے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا گیا تھا۔

بنچ نے اس سال 29 جنوری کو لمبی سماعت کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو بدھ کو سنایا گیا۔

سماعت کے دوران عدالت نے اس بات کی جانچ کی کہ کیا آئین کے آرٹیکل 326، ’عوامی نمائندگی ایکٹ 1950‘اور اس کے تحت بنائے گئے قوانین کے تحت الیکشن کمیشن کے پاس ایس آئی آر کو اس کی موجودہ صورت میں نافذ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سلسلے میں چیف جسٹس سوریہ کانت نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا،
’قانون خود کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن کسی بھی وقت وجوہات درج کرکے ووٹر لسٹ میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ اس لیے اسے غلط نہیں کہا جا سکتا، صرف اس بنیاد پر کہ یہ عام نظر ثانی کے عمل سے مختلف ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا،’ہمارے خیال سے متنازعہ ایس آئی آر، عوامی نمائندگی ایکٹ اور اس کے قواعد کی جگہ نہیں لیتا، بلکہ یہ دفعہ 21(3) کے تحت مقرر کردہ قانونی حدود کے اندر رہتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 324 کے تحت دیے گئے آئینی مینڈیٹ کو مزید مؤثر اور مضبوط بناتا ہے۔ لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کمیشن نے اپنے اختیارات سے باہر جاکر کام کیا ہے۔‘

سپریم کورٹ نے کہا کہ ایس آئی آرکا ’آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کو یقینی بنانے کے آئینی مقصد سے براہ راست تعلق‘ہے۔

بنچ نے یہ بھی کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطلب صرف ووٹ ڈالنے کا عمل نہیں، بلکہ یہ بنیادی طور پر’ووٹر لسٹوں کی سالمیت، درستگی اور قابل اعتماد ہونے‘پر منحصر ہے، جو جمہوری عمل کی بنیاد ہیں۔

اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی وجوہات – جیسے پچھلے ایس آئی آرکو چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانا، گزشتہ برسوں میں بڑے پیمانے پر ناموں کا شامل اور حذف ہونا، اور تیز شہری کاری و نقل مکانی کے باعث ووٹر لسٹ میں ناموں کی تکرار اور غلطیوں کا امکان — یہ سب’اس بنیادی سالمیت کو برقرار رکھنے‘کے مقصد سے جڑے ہوئے ہیں۔

غور طلب  ہے کہ زیادہ تر درخواستیں گزشتہ سال جون میں دائر کی گئی تھیں، جب الیکشن کمیشن نے بہار میں ایس آئی آرکرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ درخواست گزاروں میں ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز، سوراج انڈیا کے سربراہ یوگیندر یادو، ٹی ایم سی رکن پارلیامنٹ مہوا موئترا، آر جے ڈی ایم پی منوج کمار جھا، کانگریس ایم پی کے سی وینوگوپال، اور این سی پی ایم پی سپریا سولے شامل ہیں۔

خاص بات یہ ہے کہ ایس آئی آرکے ابتدائی دو مراحل تنازعات میں گھرے رہے۔ مغربی بنگال میں 27 لاکھ ووٹروں کو انتخابات سے دو ہفتے سے بھی کم وقت پہلے 19 عدالتی ٹریبونل کے فیصلے کا انتظار کرنا پڑا؛ یہاں تک کہ سپریم کورٹ نے بھی عبوری راحت دینے سے انکار کر دیا۔ آخرکار، ووٹنگ کے دن سے پہلے ٹریبونل نے بہت کم معاملوں پر فیصلہ سنایا۔

ایس آئی آرکے عمل پر تبصرہ کرتے ہوئے انتخابی تجزیہ کار یوگیندر یادو نے 4 مئی کو ’دی وائر‘سے کہا تھا کہ،’ایس آئی آرنے ووٹر لسٹ کو چھانٹنے کا ایک ماڈل پیش کیا ہے۔ اس ملک میں ہم جانتے تھے کہ ووٹر حکومت منتخب کرتے ہیں، مگر ایس آئی آر نے اس عمل کو الٹ دیا ہے۔ اب حکومت یہ طے کر سکتی ہے کہ ووٹر کون ہوں گے۔ ایک بار اگر یہ بات تسلیم کر لی جائے تو یہ جمہوریت کے بنیادی تصور کو مکمل طور پر بدل دیتی ہے۔‘

گزشتہ14 مئی کو الیکشن کمیشن نےایس آئی آرکے تیسرے مرحلے کا حکم دیا ہے، جس میں 16 ریاستیں اور 3 مرکز کے زیر انتظام علاقے شامل ہیں — آندھرا پردیش، اروناچل پردیش، چندی گڑھ، دادرا و نگر حویلی اور دمن و دیو، ہریانہ، جھارکھنڈ، کرناٹک، مہاراشٹر، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، دہلی، اڑیسہ، پنجاب، سکم، تریپورہ، تلنگانہ اور اتراکھنڈ۔

اس عمل میں 3.94 لاکھ زمینی سطح کے افسران تقریباً 36 کروڑ ووٹروں کی جانچ کریں گے۔